09/06/2026
شہادتِ عثمانؓ اور غدیرِ خم کی حقیقت
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ۔ (صَدَقَ اللهُ الْعَظِيْم۔)
18 اٹھارہ ذوالحجہ کو سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کا لقب "ذوالنورین" ہے۔ انہیں رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیوں کا یکے بعد دیگرے شوہر بننے اور آپ ﷺ کا داماد ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر یہاں تک فرمایا تھا کہ اگر میری اور بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیتا۔ آپ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کی شہادت کا اندوہناک سانحہ تاریخ کی کتابوں میں بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
شہادتِ عثمانؓ اور شریعت کا تقاضا
ہماری دین کی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ شریعت میں باقاعدہ کسی کی شہادت کا دن تہوار یا غم کے دن کے طور پر منانا درست نہیں ہے۔ البتہ، یہ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں پر جو مصائب کے پہاڑ ٹوٹے، وہ تصور سے بالاتر ہیں۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بہنوئی اور عشرہ مبشرہ میں شامل صحابی، حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ تم لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک کیا ہے، اگر اس جرم کی پاداش میں اُحد پہاڑ بھی تم پر ٹوٹ کر گر جائے تو تم اس کے حقدار ہو۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تو یقیناً جنتی اور رسول اللہ ﷺ کے داماد ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں خواب میں بشارت دی تھی کہ افطار میں آپ کا انتظار ہے۔ وہ روزے اور تلاوتِ قرآن کی حالت میں شہید ہوئے، جو ان کے درجات کی بلندی کا باعث بنا۔ اس واقعے میں ہمارے لیے یہ پیغام ہے کہ حق اور خلافت کے موقف پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ڈٹے رہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی امانت اور نیابت کو نہیں چھوڑا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ دین کے صحیح موقف اور نظریے پر ثابت قدم رہیں، خواہ اس کے لیے جان کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔
غدیرِ خم: تاریخ کا ایک اہم باب
اٹھارہ ذوالحجہ کو اسلامی تاریخ میں ایک اور مشہور واقعہ پیش آیا جسے "غدیرِ خم" کا واقعہ کہا جاتا ہے۔ اس دن کی بنیاد پر ایک مخصوص طبقہ "عیدِ غدیر" مناتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بعض دین دار مسلمان بھی لاعلمی میں عیدِ غدیر کی پوسٹیں لگا دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے دین کے مسلمہ عقائد، اجماعی نظریات اور صحیح و غلط کا واضح علم ہونا چاہیے، کیونکہ نظریات اور عقائد پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی۔
اس واقعے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ہجرت کے دسویں سال رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے حج کا ارادہ فرمایا۔ یہ آپ ﷺ کا ہجرت اور نبوت کے بعد پہلا اور آخری حج تھا جسے "حجۃ الوداع" کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے اپنی ظاہری جدائی کے اشارے بھی دے دیے تھے۔ اس سے قبل فتحِ مکہ کے موقع پر سورۃ النصر (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ...) نازل ہو چکی تھی، جس کا مفہوم یہ تھا کہ آپ ﷺ کا مشن مکمل ہو چکا ہے اور اب یہ کام آپ ﷺ کے نائبین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سنبھالیں گے۔
حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں جمعہ کے دن جب رسول اللہ ﷺ وقوف فرمائے ہوئے تھے، تو یہ آیت نازل ہوئی: "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا"۔ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا کہ دین مکمل ہو گیا، ہدایت کی نعمت پوری کر دی گئی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا گیا۔ اب اسلام کے علاوہ کوئی دین قابلِ قبول اور کامیابی کا ضامن نہیں۔
غدیرِ خم کا پڑاؤ اور دلوں کی صفائی
جب حج کے مناسک مکمل ہوئے تو 14 ذوالحجہ کو رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہوئے۔ ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام کا مجمع تھا۔ روانگی کے چند دن بعد، 18 ذوالحجہ کو راستے میں "جحفہ" کے قریب "خُم" نامی ایک گاؤں آیا۔ وہاں پانی کا ایک تالاب یا حوض تھا، جسے عربی زبان میں "غدیر" کہا جاتا ہے۔ اسی نسبت سے یہ مقام "غدیرِ خم" کے نام سے مشہور ہو گیا۔
اس مقام پر پڑاؤ ڈالنے کی ایک خاص وجہ تھی۔ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی تھی کہ بعض صحابہ کرام کو کسی بات پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کچھ رنجش یا غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی، آپ کی تربیت یافتہ ہستی، چوتھے خلیفہ اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ ان کے حوالے سے دلوں میں ناراضگی رکھنا کسی طور مناسب نہیں تھا۔
رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے دلوں کو ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف رکھنا چاہتے تھے۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ کوئی بھی معاشرہ اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب دلوں میں جوڑ ہو۔ اگر دلوں میں جوڑ نہ ہو، تو محض تقریبات اور ظاہری مبارکبادوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ چنانچہ دلوں کی صفائی کے لیے رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ واضح کیا۔
فضیلتِ علیؓ اور 'مولا' کا حقیقی مفہوم
صحابہ کرام کی یہ عظیم شان تھی کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی کوئی بات آ جاتی، تو وہ بلا چوں و چراں سر تسلیم خم کر دیتے تھے۔ ان میں انانیت، ضد یا ہٹ دھرمی نہیں تھی، ان کے دل بالکل پاک اور صاف تھے۔ اس خطبے میں رسول اللہ ﷺ نے تین اہم باتیں ارشاد فرمائیں:
۱۔ "مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ" (میں جس کا مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں)۔
۲۔ "اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ" (اے اللہ! جو ان سے دوستی رکھے، تو اس سے دوستی رکھ اور جو ان سے دشمنی کرے، تو بھی اس سے دشمنی رکھ)۔
۳۔ "عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ" (علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں)۔
اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ لفظ "مولا" کا کیا مطلب ہے؟ عربی ایک انتہائی وسعت والی زبان ہے جس میں ایک لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ علماء اور محدثین کے مطابق لفظ "مولا" کے کم از کم سولہ مختلف معنی ہیں۔ جب کسی لفظ کے متعدد معنی ہوں، تو اس کا درست مطلب سیاق و سباق، پس منظر اور پیش منظر کو دیکھ کر طے کیا جاتا ہے۔ یہاں "مولا" سے مراد 'محبوب' اور 'دوست' ہے۔ رسول اللہ ﷺ یہ فرما رہے تھے کہ جس کا میں محبوب اور دوست ہوں، علی بھی اس کے محبوب اور دوست ہیں۔
خلافتِ بلافصل: ایک بے بنیاد دعویٰ
کسی بھی مستند لغت یا ڈکشنری میں "مولا" کے معنی 'حاکم' یا 'خلیفہ' کے نہیں لکھے۔ بعض لوگوں نے یہ من گھڑت بات پھیلا دی کہ اس موقع پر وحی نازل ہوئی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی 'خلافتِ بلافصل' (یعنی اپنے بعد فوری خلافت) کا اعلان کیا تھا۔ یہ بالکل جھوٹ، موضوع اور دین میں تحریف ہے۔ عقیدۂ امامت کو اسی بنیاد پر گھڑا گیا تاکہ ختمِ نبوت کے عقیدے کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
خود رسول اللہ ﷺ کے بعد جب جانشینی کا مسئلہ آیا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جو بھی مذاکرے ہوئے، کسی ایک صحابی نے بھی یہ نہیں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے غدیرِ خم کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کر دیا تھا۔ جو بات خود صحابہ کرام کو معلوم نہ ہو، وہ صدیوں بعد بعد میں آنے والوں کو کیسے معلوم ہو سکتی ہے؟ یہ عقیدہ تین سو چالیس سال بعد گھڑا گیا، اس سے قبل اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔
یاد رکھیں، اسلامی عقائد ہمیشہ قطعی نصوص، واضح قرآنی آیات اور متواتر احادیث سے ثابت ہوتے ہیں، جن میں کوئی ابہام یا شک نہ ہو۔ ہمارا اہل السنۃ والجماعۃ کا متفقہ اور واضح عقیدہ یہی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ راشد، رسول اللہ ﷺ کے محبوب اور عشرہ مبشرہ میں چوتھے درجے پر فائز عظیم ہستی ہیں۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت ہوئی، تو بعض تحفظات پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرمائی کہ اس وقت صورتحال ایسی تھی کہ اچانک بیعت کرنی پڑی۔