JYM Official

JYM Official Founder and Head of this organization Shaikh Yousuf Madni (DB).

Jamia Yahya Al madani (Karachi, Pakistan)
Yahya Al-Madani University is a well-known institution in Karachi that is engaged in the religious service of Ulma and the people.

صفحہ سیرت دوجہاں ﷺدرگزر، حسنِ اخلاق اور نبوی طرزِ معاشرتگھر کی اصل خوبصورتی وہاں بسنے والے دلوں کے سکون، باہمی محبت اور ...
23/08/2026

صفحہ سیرت دوجہاں ﷺ
درگزر، حسنِ اخلاق اور نبوی طرزِ معاشرت

گھر کی اصل خوبصورتی وہاں بسنے والے دلوں کے سکون، باہمی محبت اور ایک دوسرے کے لیے برداشت میں ہے۔

اکثر گھریلو اختلافات کسی بڑے مسئلے سے نہیں بلکہ غصے، سخت مزاجی، معمولی باتوں کو طول دینے اور ایک دوسرے کی لغزشوں کو معاف نہ کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے میں سیرتِ طیبہ ﷺ ہمیں ایک نہایت جامع اصول عطا کرتی ہے: درگزر، نرمی اور حسنِ سلوک۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔"

یہ ایک مکمل خاندانی اخلاقی اصول ہے۔ انسان کی اصل آزمائش اس کے گھر کے اندر ہوتی ہے؛ جہاں اس کے مزاج، صبر، برداشت، محبت اور اخلاق کا حقیقی اظہار ہوتا ہے۔

اگر ہم اپنے گھروں کو سکون کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں سے بدلنے کی توقع رکھنے کے بجائے اپنے رویے سے آغاز کرنا ہوگا۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر غلطی کو یاد رکھنا ضروری نہیں، اور ہر اختلاف کو جیتنا بھی ضروری نہیں۔ بعض اوقات گھر کا سکون ایک قدم پیچھے ہٹنے، معاف کرنے اور درگزر کرنے سے بچ جاتا ہے۔

آئیے! سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف پڑھنے کے بجائے اپنے گھروں میں زندہ کریں؛ کیونکہ بہترین مسلمان وہی ہے جس کے اخلاق کا سب سے خوبصورت اثر اس کے اپنے گھر والوں پر نظر آئے۔

#درگزر #محبت #صبر #برداشت

21/08/2026

گھر خوبصورت ہے، سہولتیں موجود ہیں، مگر اگر سکون نہیں تو آخر کمی کہاں ہے؟

آج ہم اپنے گھروں کے سکون کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے گھروں میں نبوی اصول کتنے زندہ ہیں؟

تلخ کلامی، بے اعتمادی، نسلوں کا فاصلہ، بچوں کی تربیت کے مسائل اور باہمی ناچاقیاں صرف معاشی خوشحالی سے ختم نہیں ہوتیں۔ ایک پُرسکون گھر کے لیے حسنِ اخلاق، باہمی احترام، ذمہ داری، صبر، شفقت اور نبوی طرزِ زندگی کی ضرورت ہے۔

سیرتِ طیبہ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل نبوی منہج ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عبادات ہی نہیں، بلکہ گھر، خاندان، معاشرہ اور باہمی تعلقات کو سنوارنے کے ایسے اصول عطا فرمائے جو ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

اسی مقصد کے تحت جامعۃ الشیخ میں ماہِ ربیع الاول کے دوران ہر اتوار، بعد از نمازِ ظہر "مجالسِ سیرتِ طیبہ" کا خصوصی اہتمام کیا جا رہا ہے، جہاں جید علمائے کرام کی صحبت میں ہم سیکھیں گے:

🔹 حسنِ کردار اور حسنِ معاشرت
🔹 گھریلو زندگی کو پُرسکون بنانے کا نبوی سلیقہ
🔹 مثالی خاندانی تربیت
🔹 معاشرتی مسائل کا اسلامی حل
🔹 نئی نسل کی بہتر تربیت اور رہنمائی

اپنے گھر کا ماحول بدلنے کے لیے صرف حالات بدلنے کا انتظار نہ کریں؛ اپنے کردار اور طرزِ زندگی کو سیرتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کا آغاز کریں۔

آئیے! مجالسِ سیرتِ طیبہ میں شریک ہوں، اپنے گھر، اپنی اولاد اور اپنے معاشرے کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

سیرت پڑھیے نہیں، سیرت کو زندگی میں اتاریے۔ ﷺ



خدا! انسانی نفسیات کی ضرورت کیوں؟انسان صرف جسم کا نام نہیں؛ اس کے اندر جذبات، احساسات، تعلقات، خوف، امیدیں اور اعتماد کی...
21/08/2026

خدا! انسانی نفسیات کی ضرورت کیوں؟

انسان صرف جسم کا نام نہیں؛ اس کے اندر جذبات، احساسات، تعلقات، خوف، امیدیں اور اعتماد کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔ اسی لیے انسانی نفسیات کو سمجھنا انسان کے رویّوں اور اس کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

مشہور ماہرِ نفسیات جان بولبی (John Bowlby) کی Attachment Theory (تعلق/وابستگی کا نظریہ) کے مطابق بچپن میں بچے اور والدین کے درمیان قائم ہونے والا جذباتی تعلق انسان کی آئندہ نفسیاتی زندگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق ایک محفوظ اور پُراعتماد تعلق انسان کے اندر تحفظ، اعتماد اور تعلق کا احساس پیدا کرتا ہے، جبکہ غیر محفوظ تعلقات مستقبل میں مختلف نفسیاتی مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں۔

لیکن اسلامی اور کلامی نقطۂ نظر سے انسان کی فطرت کو محض نفسیاتی تعلقات تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کے اندر خالق کی معرفت، اس سے تعلق، اس پر اعتماد اور اس کی طرف رجوع کی ایک بنیادی ضرورت بھی موجود ہے۔ قرآن انسان کو فطرتِ الٰہی پر پیدا ہونے کی طرف متوجہ کرتا ہے، اور اسلامی تصورِ انسان میں روحانی و اخلاقی پہلو بھی انسانی شخصیت کا بنیادی حصہ ہیں۔

لہٰذا جدید نفسیات انسانی تعلقات اور رویّوں کے بعض پہلوؤں کو سمجھنے میں مفید بصیرت فراہم کرتی ہے، مگر انسان کی مکمل حقیقت سمجھنے کے لیے جسم، عقل، نفس، روح، فطرت اور خالق سے تعلق—ان تمام پہلوؤں کو یکجا دیکھنا ضروری ہے۔

انسان کو صرف یہ نہیں چاہیے کہ کوئی اسے سمجھے؛ اسے اپنے خالق کو پہچاننے اور اس سے صحیح تعلق قائم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

ٰ_مدنی

انسان کی سب سے بڑی ضرورت کیا ہے؟  صرف دنیاوی کامیابی یا کچھ اس سے آگے؟ماہرِ نفسیات ابراہام ماسلو (Abraham Maslow) نے انس...
20/08/2026

انسان کی سب سے بڑی ضرورت کیا ہے؟
صرف دنیاوی کامیابی یا کچھ اس سے آگے؟

ماہرِ نفسیات ابراہام ماسلو (Abraham Maslow) نے انسانی ضروریات کو ایک درجہ بندی کی صورت میں بیان کیا، جسے Hierarchy of Needs کہا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق انسان کی بنیادی ضروریات میں بھوک، پیاس اور جسمانی ضروریات کے بعد تحفظ، تعلق و محبت، عزت و وقار اور پھر اپنی صلاحیتوں کی تکمیل جیسے مراحل آتے ہیں۔

لیکن انسانی وجود کو صرف مادی ضروریات اور نفسیاتی تسکین تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کے اندر ایک ایسی جستجو بھی پائی جاتی ہے جو اسے اپنی ذات کی حدود سے آگے بڑھ کر معنی، مقصد، حقیقت اور کسی بلند تر غایت کی تلاش پر آمادہ کرتی ہے۔ اسی تناظر میں ماسلو کے بعد کے کام میں Self-Transcendence یعنی ذات سے ماورا ہونے کے تصور کا بھی ذکر ملتا ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے انسان کی تکمیل محض اپنی خواہشات پوری کرنے یا دنیاوی کامیابی حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنی زندگی کے مقصد کو پہچاننے، اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے، اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو خیر کے لیے استعمال کرنے میں ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد کس منزل کی طرف بڑھتا ہے؟ اور کیا وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر کسی اعلیٰ مقصد سے وابستہ ہو پاتا ہے؟

ٰ_مدنی

19/08/2026
مقصدیت کی تلاش اور انسان — کیا انسان صرف زندہ رہنے کے لیے پیدا ہوا ہے؟انسان کی ایک گہری داخلی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنی زند...
19/08/2026

مقصدیت کی تلاش اور انسان — کیا انسان صرف زندہ رہنے کے لیے پیدا ہوا ہے؟

انسان کی ایک گہری داخلی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بامعنی اور بامقصد سمجھے۔ مشہور ماہرِ نفسیات Viktor Frankl نے اپنی Logotherapy میں اس حقیقت کو “Will to Meaning” یعنی مقصد و معنی کی تلاش کی خواہش کے عنوان سے بیان کیا۔ ان کے نزدیک انسان کی بنیادی محرک قوت محض لذت حاصل کرنا یا طاقت حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنی زندگی کے لیے معنی تلاش کرنا ہے۔

فرینکل کے نظریے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ انہوں نے انسانی وجود، آزادی، ذمہ داری اور معنی کے سوال کو انتہائی سخت حالات کے تناظر میں دیکھا۔ ان کے نظریے میں انسان حالات کا محض بےبس شکار نہیں؛ وہ اپنے حالات کے اندر اپنے ردِعمل، رویے اور فیصلے کے حوالے سے ایک اخلاقی ذمہ داری رکھتا ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی کلامی سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر انسان کے اندر مقصد اور معنی کی طلب واقعی ایک بنیادی انسانی تقاضا ہے، تو اس مقصد کا حتمی ماخذ کیا ہے؟

اسلامی تصورِ انسان اس سوال کا جواب محض نفسیاتی سطح پر نہیں دیتا، بلکہ اسے توحید، تخلیق، عبودیت، آخرت اور جواب دہی کے پورے تصور سے مربوط کرتا ہے۔ قرآن انسان کے وجود کو عبث اور بے مقصد قرار نہیں دیتا، بلکہ واضح کرتا ہے کہ جن و انس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ہے۔ اسی طرح انسان کو یہ بھی یاد دلایا گیا کہ اسے بے مقصد چھوڑ نہیں دیا گیا اور بالآخر اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔

یہاں “عبادت” کو صرف نماز، روزہ اور دیگر مخصوص اعمال تک محدود سمجھنا بھی درست نہیں۔ اسلامی مفہوم میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق انجام دیا جانے والا پورا طرزِ زندگی، نیت، اخلاق، ذمہ داری اور جائز عمل بھی انسان کے مقصدِ وجود سے مربوط ہو سکتا ہے۔

#توحید #عبادت

18/08/2026
18/08/2026

یومِ آزادی: تجدیدِ عہدِ وفا کا دن ہے | جمعہ کا بیان

یومِ آزادی صرف خوشی منانے، جھنڈے لہرانے اور جشنِ آزادی کی تقریبات کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے وطن سے وفاداری، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرنے اور اپنے قومی کردار کا جائزہ لینے کا دن بھی ہے۔

پاکستان ہمیں ایک عظیم تاریخی جدوجہد، بے شمار قربانیوں اور ایک نظریاتی عزم کے نتیجے میں ملا۔ اس لیے آزادی کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اس نعمت کی قدر کریں اور اپنے کردار، اخلاق اور عمل سے اس ملک کی تعمیر میں حصہ لیں۔

اس جمعہ کے بیان میں یومِ آزادی کی حقیقی روح، تجدیدِ عہدِ وفا، وطن سے ذمہ داری، قومی اتحاد، قانون کی پاسداری، باہمی احترام اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے حوالے سے اہم گفتگو کی جائے گی۔

آئیے اس یومِ آزادی پر صرف یہ نہ کہیں کہ ہمیں پاکستان سے محبت ہے، بلکہ اپنے عمل سے اس محبت کو ثابت کرنے کا عہد کریں۔
اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، ظلم و ناانصافی سے بچیں اور پاکستان کی ترقی و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

🇵🇰 آزادی ایک نعمت ہے، اور نعمت کا شکر اس کی حفاظت اور قدر دانی سے ہوتا ہے۔



#پاکستان





اسلامی تعلیمات کا اصل مقصد انسانی زندگی میں عدل، اعتدال اور ذمہ داری پیدا کرنا ہے۔ اسلام نے عورت کو بھی علم، عزت، وراثت،...
17/08/2026

اسلامی تعلیمات کا اصل مقصد انسانی زندگی میں عدل، اعتدال اور ذمہ داری پیدا کرنا ہے۔ اسلام نے عورت کو بھی علم، عزت، وراثت، ملکیت، نکاح اور دیگر بنیادی حقوق عطا کیے ہیں، لیکن ساتھ ہی معاشرتی زندگی میں شریعت کی حدود اور اسلامی احکام کی پاسداری کی بھی تاکید کی ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھیں کہ کسی فرد کا ذاتی عمل اگر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو تو اسے اسلام کی تعلیم قرار دینا درست نہیں۔ اسلام کے احکام کو سمجھنے کے لیے قرآن و سنت اور معتبر علمی رہنمائی کی طرف رجوع ضروری ہے۔

اسی طرح خواتین کے حقوق اور اسلامی معاشرت سے متعلق گفتگو میں جذبات، غلط فہمیوں اور غیر مستند دعووں کے بجائے علم، دیانت اور صحیح دینی فہم کو بنیاد بنانا چاہیے۔







16/08/2026

اپنے نفس کی ناجائز خواہشات کو ہرگز پورا مت کیجیے!

نفس ہمیشہ وہ نہیں چاہتا جو ہمارے لیے بہتر ہو۔ بعض خواہشات بظاہر خوشی دیتی ہیں، مگر انسان کو آہستہ آہستہ اللہ کی نافرمانی، دل کی سختی اور کردار کی کمزوری کی طرف لے جاتی ہیں۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان اپنی ہر خواہش پوری کر لے؛ بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ جب خواہش اللہ کے حکم کے خلاف ہو تو انسان اپنے نفس کو روک دے۔

یاد رکھیے!
جو شخص ہر خواہش کے پیچھے چلتا ہے، وہ خواہشات کا غلام بن جاتا ہے؛ اور جو اللہ کی رضا کے لیے اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے، وہی حقیقی طور پر آزاد ہے۔

اپنے نفس کو ہر خواہش کا مالک نہ بنائیں، اسے شریعت کا تابع بنائیں۔ 🤍

#تقویٰ

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JYM Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to JYM Official:

Shortcuts

Share