Karachi Youth Group KYG

Karachi Youth Group  KYG We are the Youth. We are trying to change somethings which will be impossible.

حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ ولی اللہ معروف کے کام کو دیکھ کر اس کو پرائد اف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازے ساتھ ساتھ پور...
27/07/2026

حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ ولی اللہ معروف کے کام کو دیکھ کر اس کو پرائد اف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازے ساتھ ساتھ پورے پاکستان کے شیلٹر ہومز کی نگرانی کا سربراہ مقرر کرے
انشاء اللہ پاکستان میں کوئی بھی شخص اپنے خاندان سے نہیں بچھڑے گا !

ثبوت کیلئے اس تحریر کو لازمی پڑھیں ،،👇👇👇

الحمدللہ آج نجلہ اپنے خاندان کو مل گئی
سال 2008 کے جون 26 جون میں نجلہ کورنگی سے اپنی والدہ کے ساتھ چچا کے ہاں نیو کراچی آئی تھی۔ چار سال عمر تھی۔ضد کرکے پیسے لئے باہر چیز لینے نکلی۔
چیز لیکر جب واپس گھر آنے لگی تو سارے دروازے ایک رنگ کے لگے تو سمجھ نہیں آیا چچا کا گھر کونسا تھا۔ جاتی رہی جاتی رہی کھو گئی۔
شادمان کی یوسی میں کسی نے لاکر دیا کہ یہ بچی لاوارث ملی ہے۔ ایک ہفتے تک یوسی نے کوشش کی فیملی نہیں ملی۔
یوسی نے کسی کے پاس امانت رکھوایا۔
نجلہ کو ایک بےاولاد جوڑنے اپنے پاس رکھا۔ایک سال تک نجلہ روتی رہی امی ابو اور بھائیوں کو یاد کرتی۔
پھر آہستہ آہستہ بھول کر نارمل ہوگئی۔
جس فیملی نے رکھا تھا انہوں نے انٹر تک پڑھایا وہ اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن نجلہ نے دینی تعلیم کی طرف آنے کا از خود فیصلہ کیا۔ عالمہ بنی ۔عربی کے کورسز اور مختلف تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رہی۔
اس جوڑے نے آج تک نجلہ کو یہ احساس ہونے نہیں دیا کہ وہ کسی اور کی بیٹی ہو۔ بلکہ نجلہ کی پرورش کرنے والے جوڑے کے خاندان تک کو کل ہماری ویڈیو سوشل میڈیا پر دیکھ کر معلوم ہوا کہ یہ انکی سگی بیٹی نہیں ہے۔ پڑوسیوں تک کو آج پتہ چلا۔ خیر نجلہ کو اپنوں کی جدائی چین سے رہنے نہیں دے رہی تھی۔وہ ہر طرح سے خوشحال تھی لیکن سال 2024 میں انکو ذہنی مسئلہ شروع ہوا۔پریشان ہونے لگی۔ڈراونے خواب دیکھتی۔اچانک نیند میں اٹھ جاتی۔خواب میں اپنے گمشدگی والا دن آتا تھا۔
وہ ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے نجلہ سے دل کی بات پوچھی کہ سچ سچ بتاو کیا پریشانی ہے؟ نجلہ نے اپنی ساری داستان سنائی کہ یہ یہ ماجرا ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے پرچی پر میڈیسن کے بجائے "ولی اللہ معروف کا پیج " لکھا کہ آپ ان سے رابطہ کریں۔
نجلہ سمجھی ولی اللہ شاید کسی بزرگ کا ذکر ہوگا شاید ڈاکٹر نے اس بزرگ کے مزار پر حاضری کا کہا ہو۔ خیر ڈاکٹر صاحب نے سمجھا دیا کہ ایسے ایسے ایسے لوگ ملاتے ہیں۔
وہ گھر آئی دو ماہ تک ہمارے کام کو سوشل میڈیا پر فالو کیا پھر جب تسلی ہوئی کہ ہاں رابطہ کرلینا چاہئے۔فروری دوہزار پچیس کو رابطہ کیا۔ ہم نے پوسٹ لکھی۔ کافی سارے ڈی این اے ٹیسٹ ہوئے۔ کوئی میچ نہیں ہوا۔ پھر 30 جون 2026 کو ہم نے دوبارہ پوسٹ لگائی۔خاندان مل گیا۔ ڈی این اے میچ ہوا۔
دوسری طرف!
خاندان پر جو گزری وہ اللہ کسی کو نا دکھائے ۔ دل تھام کے رکھیں۔
نجلہ پاکستانی بنگالی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت ہنستا کھلتا خوشحال گھرانا تھا۔سب سے چھوٹی اور بہت لاڈلی بچی تھی۔
جس چچا کے ہاں سے گم ہوئی تو سب نے الزام لگایا کہ اسکو چچا نے بیچ دیا ہے۔جوان چچا اس الزام کا صدمہ برداشت نا کرسکا چھ ماہ بعد وفات پاگیا۔نجلہ کے والدین الگ ہوگئے۔
ماں بیٹیاں الگ ہوگئیں۔ بھائی اور والد الگ ہوگئے۔
بہنوں کے رشتے ہونے میں مشکلات تھیں ۔ یہ داغ لگ گیا تھا کہ انکے ابو نے بیٹی بیچی ہے۔سب دربدر تھے۔
کل جب نجلہ کی رپورٹ آئی سب کی آنکھیں کھل گئیں۔ اللہ نے باطل کو ختم کیا اور حق کو واضح کردیا۔
اللہ نے بدگمانی کو قرآن میں گناہ قرار دیا ہے۔ اس گناہ نے گئی خاندان تباہ کردیئے۔
الحمدللہ گزشتہ کل ہم نے جاکر نجلہ کے سارے خاندان کو کورنگی میں اکھٹا کیا۔ 17 سال بعد ماں اور بیٹوں کو ملایا۔ بیٹے ماں کے پاؤں میں پڑے سب نے ایک دوسرے سے معافی مانگی۔ بہن بھائیوں کو ملایا۔ بکھرا ہوا گھر پھر سے اکھٹا کیا۔
اور آج الحمدللہ وہ سب ایک بس میں نجلہ کے گھر آئے اور نجلہ سے ملاقات ہوئی۔
کیسی ملاقات تھی۔کیا کیا ہوا؟ یہ سب الفاظ میں ہم نہیں بتاسکیں گے۔ بس آپ کل ان شاءاللہ ویڈیو دیکھ کر محسوس کرسکیں گے کہ یہ کس قدر خطرناک کیس تھا۔ اور اللہ نے پھر سے سب کو سرخ رو کیا۔

کراچی والوں کو صبح شام چلان جاری کرنے والے کیمرے کسی جرم کو پکڑتے وقت ستو پی کر سو جاتے ہیں۔بچہ گھر کے باہر سے اغواء ہوا...
19/07/2026

کراچی والوں کو صبح شام چلان جاری کرنے والے کیمرے کسی جرم کو پکڑتے وقت ستو پی کر سو جاتے ہیں۔
بچہ گھر کے باہر سے اغواء ہوا اور ابھی تک کوئی پیش رفت پولیس کی جانب سے نہیں دیکھائی گئی ہے۔

لوگوں پر رحم کرو ۔۔جو کیمرے عوام کے کام نہیں آئے اسے لگانے کا کیا فائدہ ہے پھر؟؟؟؟

19/07/2026

کراچی یوتھ گروپ کی شجر کاری مہم ۔
منزل پمپ پر

مجتبی نامی نوجوان صبح سے گھر سے  نکلا ہے۔نا کام کی جگہ پہ پہنچا ہے نا واپس گھر آیا ہے۔عبداللہ گوٹھ 7 نمبر گلی کا رہائشی ...
19/07/2026

مجتبی نامی نوجوان صبح سے گھر سے نکلا ہے۔
نا کام کی جگہ پہ پہنچا ہے نا واپس گھر آیا ہے۔
عبداللہ گوٹھ 7 نمبر گلی کا رہائشی مجتبیٰ اگر یہ پوسٹ دیکھ رہا ہے تو جلدی سے گھر اجائے ۔
اگر کوئی دوست اسے دیکھے تو اس نمبر پر گھر والوں سے رابط کریں
03127102121
تاریخ گمشدگی 19 جولائ بروز اتوار

18/07/2026

مرغی خانہ کو دو دن کے لئے بند کیا گیا تھا ۔ اس وقت جو گاڑیاں شاہرہ فیصل سے قائد آباد پورٹ قاسم کی طرف جا رہی ہے تو وہ ملیر ندی پل سے گزرنے کے بجائے کرونگی کے راستے قائد آباد تک جائے ۔

پورٹ قاسم شاہ لطیف ٹاؤن کی طرف سے جو گاڑیاں شہر کی طرف جا رہے ہے وہ ملیر ندی پل سے شاہرہ بھٹو پر موڑ لیتے ہیں اور آگے سے ٹول ٹیکس والی جگہ سے کٹ لیکر واپس انور بلوچ ہوٹل کے پاس روڈ پر اتر جاتے ہیں۔
مگر جو گاڑیاں شہر سے قائد آباد کی طرف آ رہی ہے ان کے لئے شدید مشکلات ہے۔
وہ گاڑیاں اس طرف کا رخ نا کرے بلکہ کورنگی والے راستے سے جائیں ۔

اس پوسٹ کو شئیر کریں تا کہ مزید لوگ خواری سے۔ بچ جائیں

17/07/2026

سوال کیا تھا، جواب میں تشدد ملا!

آج تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران میں موقع پر موجود تھا۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں سڑکوں سے تجاوزات ہٹانے کے خلاف نہیں تھا۔ اگر روڈ کھولنے اور عوام کی سہولت کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے تو یہ ایک اچھا اور قابلِ تعریف عمل ہے۔

لیکن میرا اعتراض صرف اس بات پر تھا کہ غریب ریڑھی والوں، پھل فروشوں اور محنت کش لوگوں کا سامان گرا دینا، ان کی روزی روٹی تباہ کر دینا اور انہیں مالی نقصان پہنچانا آخر کہاں کا انصاف ہے؟ میں نے صرف اتنا سوال کیا کہ اگر قانون پر عملدرآمد کرنا ہے تو پھر وہ سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

میں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی تجاوزات کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے تو ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جو ان ریڑھی والوں کو یہاں کھڑا کرتے ہیں، ان سے مبینہ طور پر بھتے اور وصولیاں لیتے ہیں، اور پھر آپریشن ختم ہونے کے بعد یہی ریڑھیاں دوبارہ آ کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔

میرے انہی سوالات کے جواب میں یوسی چیئرمین ڈاکٹر عظمت اللہ اور ان کے ساتھی مشتعل ہوگئے اور مجھ پر حملہ کر دیا۔ مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، میرے کپڑے پھاڑ دیے گئے، میرا موبائل فون توڑ دیا گیا اور میری عزتِ نفس مجروح کی گئی۔ یہ سب اس وقت ہوا جب سرکاری عملہ اور پولیس بھی موقع پر موجود تھی۔

واقعے کی ویڈیو موجود ہے، جو پوری حقیقت عوام کے سامنے رکھتی ہے۔

میرا جرم صرف یہ تھا کہ میں نے سوال کیا:
غریب کا نقصان کیوں؟
قانون صرف کمزور کے لیے کیوں؟
جو لوگ اس نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے کوئی سوال کیوں نہیں؟

اگر عوامی نمائندے اور ذمہ دار افسران سوال سننے کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کریں گے تو یہ نہ صرف آزادیِ اظہار بلکہ انصاف کے بنیادی اصولوں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

میں آج بھی تجاوزات کے خلاف ہوں، لیکن ظلم، ناانصافی اور دوہرے معیار کے خلاف اس سے بھی زیادہ آواز اٹھاؤں گا۔

کل ولی اللہ معروف صاحب کی پوسٹ دیکھی جو انہوں نے بلال نامی لڑکے کے لیے لگائی اور ساتھ میں ڈیٹیلز لکھیں۔یعنی جو جو بلال ک...
17/07/2026

کل ولی اللہ معروف صاحب کی پوسٹ دیکھی جو انہوں نے بلال نامی لڑکے کے لیے لگائی اور ساتھ میں ڈیٹیلز لکھیں۔
یعنی جو جو بلال کو یاد تھا والد کا نام،والدہ کا، والد کیا کرتے تھے، بہن کا نام۔
اور حیرت کی بات کے چوبیس گھنٹے بھی نا گزرے اور بلال کی فیملی مل گئی۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلال کا نام بلال شیلٹر والوں نے رکھا۔
جس بچے کو والدین کے نام کے ساتھ ساتھ ان کی اور گھر کی کچھ نشانیاں بہن بھائیوں کے نام سب معلوم تھے تو کیا اس بچے کو اپنا نام نہیں معلوم ہوگا جو شیلٹر والوں نے تبدیل کر دیا!
اورشیلٹرز والے بچوں کو ان کے آبائی شہر سے دوسرے شہر کیوں منتقل کرتے ہیں؟
اور شیلٹر والے یہ کام کیوں نہیں کر رہے کہ جو بچہ بھی ملے اس کی ساری ڈیٹیلز سوشل میڈیا پر شئیر کریں۔
اگر بیس بائیس سال بعد گمشدہ بچے مل سکتے ہیں تو سوشل میڈیا کے دور میں اب گمے بچے کیوں نہیں مل سکتے؟

تھوڑا نہیں پورا سوچئیے۔

✍عاصمہ بِنْت شریف

حکومت سندھ نے نئی ڈیوائس ایجاد کر لی ہے جس کے ذریعے حالیہ مونسون میں مین ہول پہ گرنے کے زیرو پرسنٹ چانسز ہیں کے چانسز اپ...
15/07/2026

حکومت سندھ نے نئی ڈیوائس ایجاد کر لی ہے جس کے ذریعے حالیہ مونسون میں مین ہول پہ گرنے کے زیرو پرسنٹ چانسز ہیں کے چانسز اپ کے زیرو پرسنٹ ہیں

سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ جب تک غلط فیصلہ کرنے والے ججز کو سزا نہیں ملے گی اس وقت تک قانون پر اعتماد بحال ...
15/07/2026

سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ جب تک غلط فیصلہ کرنے والے ججز کو سزا نہیں ملے گی اس وقت تک قانون پر اعتماد بحال نہیں ہوگا،ان ججز کے فصلوں سے بھٹو صاحب بھی گئے، غریب بھی گیا، منال ریسٹورنٹ اور نسلہ ٹاور بھی گرگیا، جن ججز نے نسلہ ٹاور کا فیصلہ دیا تھا ان کو سپریم کورٹ بلا کر پوچھیں، جواب نہیں دے پاتے تو تنخواہیں اور پنشن روکیں اور دیواروں پر ان کے نام لکھیں

Address

Karachi
75020

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karachi Youth Group KYG posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Karachi Youth Group KYG:

Shortcuts

Share