Voice of Mauripur

Voice of Mauripur Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Voice of Mauripur, Youth Organization, Tikri Village Mauripur Hawksbay Road Karachi, Karachi.

وائس آف ماڑی پور ایک غیر جانبدار، عوامی اور مثبت سوچ رکھنے والا پلیٹ فارم ہے جو ماڑی پور اور اس کے گرد و نواح کے لوگوں کی آواز بننے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد ہے علاقے کے مسائل کو اُجاگر کرنا، مثبت پہلوؤں کو فروغ دینا،

یہ ہوتا ہے انصاف۔۔ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی...
29/08/2022

یہ ہوتا ہے انصاف۔۔
ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔

جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"

"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔

"کیوں؟"

"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔

"خرید لیتے"

"پیسے نہیں تھے"

"گھر والوں سے لے لیتے"

"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"

"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"

"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"

"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"

"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"

جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔

"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔
"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"

فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"
فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔
("کفر" کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں)

ٹکری ولیج واٹر کرائسسیہ ہم سب ہی بخوبی جانتے ہیں کہ پانی ہر جاندار کی بنیادی ضرورت ہے، اور پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں ...
18/11/2021

ٹکری ولیج واٹر کرائسس

یہ ہم سب ہی بخوبی جانتے ہیں کہ پانی ہر جاندار کی بنیادی ضرورت ہے، اور پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں ہے، دور حاضر کی ضروریات میں بھی پانی ہی اوّل درجے پر فائز ہے، دنیا بھر میں لو گ پینے کے صاف پانی کے حصول کیلئے شدید محنت اور کوششیں کر رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں ایک ہے جس کے شہری پینے کے صاف پانی سے عمومی طور پر محروم ہی رہتے ہیں اس کی وجہ قدرتی آفات یا پانی کا موجود نہ ہونا نہیں ہے بلکہ اس کی بنیادی وجہ وہ بے حسی و بے ایمانی ہے جس کے مرتکب اس محکمہ سے وابسطہ ادارے اور ٹینکر مافیا ہیں۔

جہاں متعلقہ اداروں اور مافیاز کی ملی بھگت سے ٹکری ولیج کے ہر گھر کو پانی خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ کمال حیرت بات یہ ہے کہ ماری پور کے سب سے پوش علاقے ٹکری ولیج میں ٹینکر کے بغیر گزارہ ہی نہیں ہے۔ عمومی طور پر گرمیاں شروع ہوتے ہی ٹکری ولیج کے رہائیشیوں کی پانی کے حصول کی اذیت ناک آزمائش شروع ہوجاتی ہے۔ کراچی ایک میٹروپولیٹن شہر ہے جس کی آبادی قریب پچیس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔
کراچی میں جب پانی کا بحران آتا ہے تو اس سے بلا تفریق سب ہی علاقے متاثر ہوتے ہیں مگر ماری پور ٹکری ولیج تو بوند بوند پانی کو ترس جاتی ہیں۔ شدید گرمی اور پانی کا نہ ہونا، نہ صرف گرمی کی تمازت کو دوگنا کردیتا ہے بلکہ زندگی کو ایک بڑی تکلیف دہ آزمائش کی شکل بنا دیتا ہے۔
ایسے میں مافیاز اور ادارے کے بے ایمان اہلکاروں کی لاٹری نکل جاتی ہے اور آپس کی ملی بھگت سے پانی کی فروخت کا دھندہ عروج پر پہنچ جاتا ہے اور پانی کی ایک ایک بوند کی قیمت وصول کی جاتی ہے ایک ایک بوند کا خراج وصول کیا جاتا ہے۔
آخر کار مجبور لوگ کس طرح گزارہ کریں، انہیں پینے کیلئے، صاف صفائی کیلئے، نہانے دھونے کیلئے غرض ہر کام کیلئے پانی درکار ہوتا ہے جو گرمیوں میں ناپید ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ان اداروں نے ہر علاقے میں اپنے ایجنٹ چھوڑے ہوئے ہوتے ہیں اور مجبور لوگ پانی کے حصول کیلئے ان سے رابطہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ ایجنٹ دو قسم کا پانی فروخت کرتے ہیں ، صاف اور مہنگا پانی اور آلودہ اور کم قیمت پانی، ان کچی بستیوں میں گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے بڑے ٹینکر نہیں جاسکتے تو یہ ایجنٹس گدھا گاڑیوں اور چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے پانی سپلائی کرتے ہیں۔
ان مافیاز کے پاس ہر طرح کی سہولیات موجود ہیں یہ ایک ایک بوند پانی سے پیسہ بنانے کی فکر میں رہتے ہیں، جو لوگ چھوٹی گاڑیوں سے بھی پانی خریدنے کے قابل نہیں ہوتے ان کے کیلئے علاقے میں موجود پرچون کی دکانوں پر بارہ بارہ لٹر کے کین بکنے کیلئے رکھے ہوتے ہیں۔ گویا مافیا کے پنجے بہت گہرائی تک عوام کی زندگی میں گڑے ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک دہائی پہلے تک ان کے علاقے کی پانی کی لائنوں میں پانی آیا کرتا تھا پھر مافیا سرگرم ہوگئے اور ہماری لائینیں خشک ہوگئیں انہوں نے ہمارا پانی چرا کر ہمیں ہی غیر قانونی طورپر بیچنا شروع کردیا، کیونکہ یہ ایک نہایت زبردست آمدنی والا دھندہ ہے لہذا اس کی پشت پناہی ایسے سب ہی ادارے کرتے ہیں جو ان کو روک سکتے ہیں یا اس عمل قبیحہ پر سزا دے سکتے ہیں۔
ماری پور میں پانی کی فروخت کا دھندہ بڑے پیمانے پر چل رہا ہے، اس کی ایک جہ یہ بھی ہے کے ماری پور کو اس کی آبادی کی ضرورت کے مطابق پانی کی مقدار مہیا نہیں کی جاتی۔ 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی کیلئے روزانہ 750 ملین گیلن پانی کی منظوری دی گئی تھی جبکہ کراچی کی موجودہ آبادی کے حساب سے قریب 1200 MGD کی ضرورت ہے دھابیجی اور حب ڈیم دونوں سے ملا کر بھی بہ مشکل 580 MGD ملین گیلن پانی کراچی کو مل پاتا ہے۔
اس پر (KWSB) کے پانی کی فراہمی کے نظام کی خرابی اور دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی کم صلاحیت کی وجہ سے کراچی کوضرورت کے مطابق پانی نہیں مل پاتا ۔ اس کمی کی رہی سہی کسرپرانی لائینو ں میں ٹوٹ پھوٹ کی جہ سے بڑے پیمانے پر پانی کے رساؤ سے ظائع ہوجانا پوری کردیتا ہے ، راقم خود اس بات کا گواہ ہے کہ کراچی کے طول و عرض میں بہت بڑے پیمانے پر قیمتی ترین پانی لائینوں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے برباد ہوجاتا ہے۔
اس معاملے کی نشاندہی اگر آپ کسی متعلقہ اعلی افسر کو کرا بھی دیں تب بھی کچھ نہیں ہوتا اور سالوں سال پانی نہ صرف ضائع ہوتا رہتا ہے بلکہ اردگرد کی سڑکوں اور تعمیرات کو بھی سیم یا رساؤ کی وجہ سے نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ ایک اور شدید نقصان کی وجہ پانی کی مین لائنوں میں کئے گئے غیرقانونی شگاف ہیں جو مقامی بستی کے لوگ پانی کے حصول کیلئے کرتے ہیں، جب پانی آتا ہے وہ جتنا استعمال کرسکتے ہیں کرتے ہیں باقی پانی بڑی تعداد میں کسی کے استعمال کے بغیر برباد ہوجاتا ہے۔
یہ پانی عموماً مین شاہراہوں اور راستوں پر بہہ رہا ہوتا ہے، کیا ایسا کبھی ممکن نہیں کہ کسی بڑے صاحب کی اس قیمتی ترین شہ کے ضائع ہونے پر نگاہ نہ پڑی ہو، یا جو روز کنڈیوٹ چلانے والا عملہ ہے اسے اس کی خبر نہ ہو، مگر بے حسی اور مطلب پرستی کی انتہا ہے کہ سالوں سال گزرجانے کے بعد بھی مرمت کا کام نہیں ہو پاتا۔
واٹر بورڈ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہم پانی کی کمی کا شکار ہیں جس کا فائدہ ٹینکر مافیا پوری طرح اٹھاتی ہے، یہ مافیا واٹر بورڈ کی مین لائنز میں سوراخ کر کے وہاں والو لگا لیتے ہیں اور آگے پانی فراہمی روک کر ٹینکر بھر بھر کر بیچتے ہیں۔
یہ غیرقانونی واٹر ہائڈرنٹس شہر بھر میں موجود ہیں اور ارباب اختیار کی ناک کے نیچے مونگ دل رہے ہیں۔ جس کا نقصان صرف عام شہری کو پہنچ رہا ہے باقی سب کو اپنا اپنا حصہ مل رہا ہے لہذا وہ خاموش ہیں۔ گزشتہ سال ایک کمیشن بنایا گیا تھا جس کے تحت غیرقانونی واٹر ہائڈرنٹس کو ختم کرنے کا کام کیا گیا تھا، مگر کمال حیرت امر یہ ہے کہ شہر میں اب بھی لاتعداد غیرقانونی واٹر ہائڈرنٹس نہ صرف موجود ہیں بلکہ پوری تندہی سے اپنا کام بھی کر رہے ہیں۔
یہ چشم کشاء حقائق اس پوشیدہ راز کی طرح سب پر عیاں ہیں جو کسی سے نہ کہنا کہہ کر سب کو بتائے جاتے ہیں۔ اگر بوسیدہ سسٹم کی مرمت کرلی جائے تو بھی بہتر نتائج مل سکتے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ نظام کی ابتری اور دگرگوں حالت سے سب ہی ارباب اختیار بخوبی واقف ہیں مگر کوئی بھی عملی اقدام اس لئے کرنے سے قاصر ہیں کہ ان کے گھر میں کوئی تنگی و پریشانی نہیں دوسرا یہ کہ بہت ممکن ہے کہ ان کو بھی حصہ پہنچ رہا ہو۔
ہم یہ سمجھتے ہیں ہیں کہ اگر صرف زرا سی ایمانداری اور فرض شناسی سے کام کیا جائے اور حالات کے سدھار کی کوشش کی جائے تو نتائج بہت ہی بہتر آ سکتے ہیں اور ارباب اختیار خلق خدا سے دعائیں سمیٹ سکتے ہیں ، ورنہ اگر دنیا میں اس نااہلی کا جواب نا بھی مانگا گیا تو قوی امید ہے کہ آخرت میں ضرور شدید پکڑ ہوگی۔
Tikri Village Youth Organization

Address

Tikri Village Mauripur Hawksbay Road Karachi
Karachi
74780

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of Mauripur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share