02/06/2026
کراچی بار الیکشن کا بحران: پیر سید اسد اللہ راشدی کا الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد اور کڑی تنقید
صدارتی امیدوار پیر سید اسد اللہ راشدی نے کراچی بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ الیکشن کمشنر ذوالفقار جلبانی کی آئینی و قانونی حیثیت اور ان کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں اس بات پر گہرے دکھ اور شرمندگی کا اظہار کیا کہ جنرل باڈی کے اجلاس میں انہوں نے ہی الیکشن کمشنر کے لیے ذوالفقار جلبانی کا نام تجویز کیا تھا، مگر ان کے بقول، آج انہیں اپنے اس فیصلے پر پچھتاوا ہے۔ اپنی اس کیفیت کو انہوں نے ایک خوبصورت شعر کی صورت میں بیان کیا کہ: "رشک کرتا ہے کعبہ میرے کفر پر، میں نے جس بت کو پوجا خدا ہو گیا"۔
پیر اسد اللہ راشدی نے الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جس آرڈر کی بنیاد پر وہ اس معزز ایوان سے خطاب کر رہے ہیں، وہ انہیں اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔ ان کا مؤقف تھا کہ 7 اپریل کو پاکستان بار کونسل نے الیکشن کروانے کے تمام اختیارات اپنے پاس رکھ لیے تھے۔ چونکہ سندھ بار کونسل 7 مئی کو خود ایک الیکشن کمیشن کی حیثیت رکھتی تھی، اس لیے قانون کی رو سے ایک الیکشن کمیشن کسی دوسرے الیکشن کمیشن کو تشکیل دینے کا مجاز نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر ذوالفقار جلبانی نے اس شرط پر عہدہ قبول کیا تھا کہ جب تک پاکستان بار کونسل اس کی منظوری نہیں دے گی، ان کی تعیناتی عبوری رہے گی۔ لیکن چونکہ تاحال پاکستان بار کونسل کی جانب سے کوئی باقاعدہ منظوری نہیں آئی، اس لیے ان کا گزشتہ بائیس روز سے بطور الیکشن کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر کام کرنا سراسر غیر قانونی ہے۔ انہوں نے موجودہ کمیشن کو 'فارم 47' کی پیداوار قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے پاس ان آئینی خامیوں کا کوئی معقول جواب نہیں ہے، تو انہیں اخلاقی طور پر فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
اپنی تقریر کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے الیکشن کمشنر کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عید کی تین چھٹیوں کو نکال کر بھی باقی ماندہ 15 سے 20 دنوں میں الیکشن کمشنر نے نادرا یا کسی دوسرے متعلقہ ادارے کے ساتھ کوئی تحریری خط و کتابت نہیں کی۔ بغیر کسی ٹھوس دستاویزی ثبوت کے قیمتی دن ضائع کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمشنر کی نیت صاف ہوتی تو وہ عہدہ سنبھالتے ہی پہلے دن پاکستان بار کونسل کو خط لکھ کر اپنی پوزیشن واضح کرتے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس وہ سندھ بار کونسل سے توسیع مانگ رہے ہیں جس کا پاکستان بار کونسل کے 7 اپریل کے آرڈر کے بعد کوئی جواز نہیں بنتا۔
پیر اسد اللہ راشدی نے خدشہ ظاہر کیا کہ الیکشن کمشنر ان مخصوص عناصر کے زیرِ اثر آ چکے ہیں جو الیکشن کے انعقاد میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ 13 تاریخ کو ختم ہو چکا ہے۔ الیکشن میں تاخیر کے حوالے سے انہوں نے تجویز دی کہ اگر بائیو میٹرک نظام میں رکاوٹیں ہیں تو اسے ترک کر کے پرانے طرز پر بیلٹ پیپرز کے ذریعے الیکشن کروائے جائیں، جو کہ دس دن کے اندر ممکن ہے۔
آخر میں، انہوں نے فنڈز کے معاملے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا کہ وائس چیئرمین اشتیاق میمن کے مطابق الیکشن کمشنر کو ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کے فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود الیکشن کے معاملات التوا کا شکار ہیں۔ اپنی تقریر کے اختتام پر پیر اسد اللہ راشدی نے واضح اعلان کیا کہ بطور صدارتی امیدوار، وہ موجودہ الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر غیر قانونی سمجھتے ہیں اور انہیں اس پر رتی برابر بھی اعتماد نہیں ہے۔
Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.