Law Society

Call Directions Contact the organization

Law Society The Law Society This idea was gleaned from the lawyers’ experience working on the ineffectual Judicial Reform.

The Law Society Pakistan (TLSP) is a registered independent not-for-profit, nongovernmental, advocacy, capacity building and legal aid development organization working since its inception in 2010. In winter of 2010, a group of reform-minded lawyers from the Karachi Bar Association decided to found The Law Society based on the belief that judicial reform must come from the bottom up rather than the top down. After restoration of Judiciary 2008 in Pakistan, the lawyers came to see that the dream of judicial reform could only become reality by combining the power of civil society to push for change. As such, these lawyers gathered and united the power of the people, giving birth to The Law Society.

09/06/2026
کراچی بار الیکشن کا بحران: پیر سید اسد اللہ راشدی کا الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد اور کڑی تنقید​صدارتی امیدوار پیر سید اسد...
02/06/2026

کراچی بار الیکشن کا بحران: پیر سید اسد اللہ راشدی کا الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد اور کڑی تنقید
​صدارتی امیدوار پیر سید اسد اللہ راشدی نے کراچی بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ الیکشن کمشنر ذوالفقار جلبانی کی آئینی و قانونی حیثیت اور ان کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں اس بات پر گہرے دکھ اور شرمندگی کا اظہار کیا کہ جنرل باڈی کے اجلاس میں انہوں نے ہی الیکشن کمشنر کے لیے ذوالفقار جلبانی کا نام تجویز کیا تھا، مگر ان کے بقول، آج انہیں اپنے اس فیصلے پر پچھتاوا ہے۔ اپنی اس کیفیت کو انہوں نے ایک خوبصورت شعر کی صورت میں بیان کیا کہ: "رشک کرتا ہے کعبہ میرے کفر پر، میں نے جس بت کو پوجا خدا ہو گیا"۔
​پیر اسد اللہ راشدی نے الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جس آرڈر کی بنیاد پر وہ اس معزز ایوان سے خطاب کر رہے ہیں، وہ انہیں اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔ ان کا مؤقف تھا کہ 7 اپریل کو پاکستان بار کونسل نے الیکشن کروانے کے تمام اختیارات اپنے پاس رکھ لیے تھے۔ چونکہ سندھ بار کونسل 7 مئی کو خود ایک الیکشن کمیشن کی حیثیت رکھتی تھی، اس لیے قانون کی رو سے ایک الیکشن کمیشن کسی دوسرے الیکشن کمیشن کو تشکیل دینے کا مجاز نہیں ہے۔
​انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر ذوالفقار جلبانی نے اس شرط پر عہدہ قبول کیا تھا کہ جب تک پاکستان بار کونسل اس کی منظوری نہیں دے گی، ان کی تعیناتی عبوری رہے گی۔ لیکن چونکہ تاحال پاکستان بار کونسل کی جانب سے کوئی باقاعدہ منظوری نہیں آئی، اس لیے ان کا گزشتہ بائیس روز سے بطور الیکشن کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر کام کرنا سراسر غیر قانونی ہے۔ انہوں نے موجودہ کمیشن کو 'فارم 47' کی پیداوار قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے پاس ان آئینی خامیوں کا کوئی معقول جواب نہیں ہے، تو انہیں اخلاقی طور پر فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
​اپنی تقریر کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے الیکشن کمشنر کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عید کی تین چھٹیوں کو نکال کر بھی باقی ماندہ 15 سے 20 دنوں میں الیکشن کمشنر نے نادرا یا کسی دوسرے متعلقہ ادارے کے ساتھ کوئی تحریری خط و کتابت نہیں کی۔ بغیر کسی ٹھوس دستاویزی ثبوت کے قیمتی دن ضائع کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمشنر کی نیت صاف ہوتی تو وہ عہدہ سنبھالتے ہی پہلے دن پاکستان بار کونسل کو خط لکھ کر اپنی پوزیشن واضح کرتے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس وہ سندھ بار کونسل سے توسیع مانگ رہے ہیں جس کا پاکستان بار کونسل کے 7 اپریل کے آرڈر کے بعد کوئی جواز نہیں بنتا۔
​پیر اسد اللہ راشدی نے خدشہ ظاہر کیا کہ الیکشن کمشنر ان مخصوص عناصر کے زیرِ اثر آ چکے ہیں جو الیکشن کے انعقاد میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ 13 تاریخ کو ختم ہو چکا ہے۔ الیکشن میں تاخیر کے حوالے سے انہوں نے تجویز دی کہ اگر بائیو میٹرک نظام میں رکاوٹیں ہیں تو اسے ترک کر کے پرانے طرز پر بیلٹ پیپرز کے ذریعے الیکشن کروائے جائیں، جو کہ دس دن کے اندر ممکن ہے۔
​آخر میں، انہوں نے فنڈز کے معاملے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا کہ وائس چیئرمین اشتیاق میمن کے مطابق الیکشن کمشنر کو ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کے فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود الیکشن کے معاملات التوا کا شکار ہیں۔ اپنی تقریر کے اختتام پر پیر اسد اللہ راشدی نے واضح اعلان کیا کہ بطور صدارتی امیدوار، وہ موجودہ الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر غیر قانونی سمجھتے ہیں اور انہیں اس پر رتی برابر بھی اعتماد نہیں ہے۔

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

31/05/2026

‏یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
برصغیر پاک و ہند کے عہد ساز شاعر و دانش ور
‏پروفیسربشیر بدر
‏آج دنیا سے رخصت ہو گئے
‏ان کا یہ شعر زندگی کی بے ثباتی ، دنیاوی شہرت اور آج کل کی پراگندہ سیاست کی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے
‏یہی وجہ ہے کہ یہ شعر سیاسی تقاریر، ادبی محفلوں اور عام گفتگو میں ایک استعارے کے طور پر سنائی دیتا ہے
‏ شہرت کیا ہے
‏شہرت کی بلندی بھی اک پل کا تماشا ہے،
‏جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
‏“لوگ ٹوٹ جاتے ہیں”
‏لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں،
‏تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
‏بدلتے ہوئے سماج، کمزور ہوتے رشتوں اور انسانوں کے درمیان بڑھتی دوریوں کو پیش کرنے کا خوبصورت انداز سنئیے
‏کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
‏یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

28/05/2026

ارشد شر ایڈووکیٹ امیدوار جنرل سیکرٹری کراچی بار ایسوسی ایشن

27/05/2026
24/05/2026
لاء سوسائٹی پاکستان (TLSP) ایک ایسا معتبر اور فعال ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو کراچی بار ایسوسی ایشن کے انتظامی، تنظیمی اور ق...
24/05/2026

لاء سوسائٹی پاکستان (TLSP) ایک ایسا معتبر اور فعال ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو کراچی بار ایسوسی ایشن کے انتظامی، تنظیمی اور قانونی مسائل پر گہری نظر رکھتا ہے اور ان پر تعمیری بحث کا انعقاد کرتا ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد کراچی بار کی منتخب قیادت اور قانونی برادری کے مابین ایک مؤثر مکالمے کا پل بننا ہے، تاکہ وکلاء کو درپیش دیرینہ چیلنجز اور انتظامی مسائل کو نہ صرف اجاگر کیا جائے بلکہ قیادت کے اشتراک سے ان کے مستقل اور عملی حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
​میزبان (لبنیٰ احمد): السلام علیکم۔ لاء سوسائٹی پاکستان (TLSP) کے ساتھ میں ہوں آپ کی میزبان لبنیٰ احمد۔ آج ہمارے ساتھ جو معزز شخصیت موجود ہیں، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ ہیں عمران عزیز صاحب، جو پچھلی کابینہ میں جوائنٹ سیکرٹری کی حیثیت سے گراں قدر خدمات انجام دے چکے ہیں اور اس بار کراچی بار ایسوسی ایشن کے الیکشن میں جنرل سیکرٹری کے اہم عہدے کے لیے امیدوار ہیں۔ عمران صاحب، کیا حال ہیں آپ کے؟
​مہمان (عمران عزیز ایڈوکیٹ): وعلیکم السلام جی الحمدللہ، میں بالکل بہت زبردست اور خیریت سے ہوں۔ آپ کیسی ہیں؟
​میزبان: میں بھی بالکل ٹھیک، بہت شکریہ۔ عمران صاحب، مجھے یہ بتائیے کہ پچھلی کابینہ میں آپ جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھے۔ اس بار آپ نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے جنرل سیکرٹری کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اس کے پیچھے کیا سوچ کارفرما ہے؟
​مہمان: جی بہت شکریہ لبنیٰ صاحبہ۔ بات دراصل یہ ہے کہ 2021 میں جب مجھے وکلاء دوستوں نے بھاری اکثریت سے مینجنگ کمیٹی کا ممبر منتخب کیا، تو مجھے کراچی بار ایسوسی ایشن میں کرمنل کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا۔ جب میں پہلی بار منتخب ہو کر اس عہدے پر آیا تو مجھے یہ شدت سے احساس ہوا کہ وکیل بھی اسی معاشرے کا ایک حصہ ہے۔ ایک عام شہری کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وکیل بھی ان سے مبرا نہیں ہے۔ وکیل کو راہ چلتے ہوئے حادثات یا مسائل پیش آ سکتے ہیں، عدالتوں میں کام کے دوران مشکلات ہو سکتی ہیں، مختلف سرکاری اداروں میں اپنی پروفیشنل ڈیوٹی کے دوران بدتمیزی یا رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور یہاں تک کہ اسپتالوں میں صحت کی بنیادی سہولیات حاصل کرنے کے لیے بھی ہمارے وکلاء کو دھکے کھانے پڑتے ہیں۔
​میں نے اسی وقت یہ پختہ عزم کر لیا تھا کہ مجھے الیکشن یا کسی مخصوص سیٹ کی پرواہ کیے بغیر، خود کو اپنے ساتھی وکلاء کی بے لوث خدمت کے لیے وقف کرنا ہے۔ چنانچہ 2021 کے بعد سے خدمت کا یہ سلسلہ شروع ہوا، جس میں، میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ کسی بھی وکیل بھائی کی غمی ہو، پریشانی ہو، تکلیف ہو یا خوشی کا موقع ہو، میں خود کو سب سے آگے رکھوں۔ اگر آدھی رات کو بھی کوئی وکیل آواز دیتا ہے تو میں اس کی مدد کے لیے پہنچتا ہوں۔ اس دوران میں نے جوائنٹ سیکرٹری کے لیے دو بار الیکشن لڑا لیکن کامیابی نہ مل سکی، مگر میں مایوس نہیں ہوا اور خدمت کا کام جاری رکھا۔ پھر 2024 کے آخر میں جو الیکشن ہوا، اس میں اللہ پاک نے مجھے جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر ایک بہت بڑی لیڈ کے ساتھ تاریخی کامیابی سے نوازا۔
​دیکھیں، بنیادی بات یہ ہے کہ ایک وکیل قانون اور آئین کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اپنے حقوق کے لیے کس طرح آواز بلند کرنی ہے۔ لیکن اگر آپ ایک وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ بار کے کسی اہم عہدے پر فائز ہوں، تو آپ کے پاس قانونی اور تنظیمی اختیارات آ جاتے ہیں۔ آپ زیادہ طاقت، توانائی اور اختیار کے ساتھ اپنے ساتھی وکلاء کے حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ اسی سوچ اور خدمت کے تسلسل کو مزید وسعت دینے کے لیے، جوائنٹ سیکرٹری کی مدت ختم ہونے کے بعد، اب میں نے خود کو جنرل سیکرٹری کے عہدے کے لیے پیش کیا ہے۔
​میزبان: بالکل درست۔ نئے عہدے اور مستقبل کے پلانز کی طرف تو ہم بعد میں جائیں گے، لیکن جوائنٹ سیکرٹری اور چیئرمین کرمنل کمیٹی کے طور پر جو خدمات آپ نے انجام دیں، اس سے آپ کا تجربہ کیسا رہا؟ آپ نے اس دوران کیا سیکھا اور کیا اہم اقدامات کیے؟
​مہمان: تجربے کی بات کی جائے تو جب میں نے 2021 میں چیئرمین کرمنل کمیٹی کا چارج لیا، تو سب سے بڑا اور بھیانک مسئلہ جو میرے سامنے آیا، وہ عدالتوں کے اندر جعلی وکلاء اور ٹاؤٹس کا راج تھا۔ آپ خود سوچیں کہ ایک مڈل کلاس گھرانے کا بچہ 17 سے 18 سال اپنے والدین کے خون پسینے کی کمائی پر تعلیم حاصل کرتا ہے، پھر چھ مہینے کی سینئر کے ساتھ اپرنٹس شپ کا کٹھن دور گزارتا ہے، لا گیٹ پاس کرتا ہے، بار کا ووکیشنل کورس مکمل کرتا ہے اور سخت انٹرویوز کے مراحل سے گزرنے کے بعد سندھ بار کونسل میں انرول ہوتا ہے۔ جب وہ اتنی محنت کے بعد اپنی متعلقہ ڈسٹرکٹ کورٹس چاہے وہ سٹی کورٹ ہو یا ملیر کورٹ میں پریکٹس کے لیے آتا ہے، تو اسے سب سے بڑا دھچکا ان جعلی وکلاء اور ٹاؤٹس کی وجہ سے لگتا ہے۔
​ہوتا یہ ہے کہ اگر کوئی حقیقی کلائنٹ آتا ہے اور ایک وکیل جائز فیس مثلاً 50 ہزار روپے مانگتا ہے، تو یہ ٹاؤٹس کلائنٹ کو گمراہ کر کے کہتے ہیں کہ ہم آپ کا کام 10 ہزار میں کروا دیں گے۔ وہ کلائنٹ سے پیسے پکڑتے ہیں، اپنی دہاڑی بناتے ہیں اور کیس کسی تیسرے بندے کو دے دیتے ہیں جس سے کیس خراب ہو جاتا ہے۔ پھر وہ کلائنٹ سے پیشکار، جج، پبلیکیشن اور پیسٹنگ کے جھوٹے اخراجات کے نام پر ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک بٹور لیتے ہیں، جس سے پورے وکلاء برادری بدنام ہوتی ہے۔ میں نے عہد کیا تھا کہ میں ایسے عناصر کا کلا قمع کروں گا۔
​میں آپ کو ایک سنسنی خیز واقعہ بتاتا ہوں۔ مجھے لاڑکانہ سے ایک وکیل صاحب کا فون آیا کہ عمران بھائی، میں تو کراچی سٹی کورٹ میں وکلات ہی نہیں کرتا، لیکن میرے موبائل پر روزانہ میسجز آتے ہیں کہ کل آپ کی فلاں جج کے پاس ضمانت کی درخواست لگی ہوئی ہے۔ میں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور اس کی باقاعدہ ریکی شروع کی کہ آخر وہ کون سا بندہ ہے جو دوسرے شہر کے وکیل کا سیریل اور انرولمنٹ نمبر استعمال کر رہا ہے۔
​ایک دن ڈی جے ساؤتھ کی کورٹ میں جب وہ کیس کال ہوا، تو میں چپکے سے پیچھے جا کر بیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص، جو مکمل وکیل کے یونیفارم میں ملبوس تھا، کھڑا ہوا اور جج صاحب کے سامنے باقاعدہ دلائل دینے لگا۔ جیسے ہی جج صاحب نے کہا کہ ضمانت منظور کی جاتی ہے، میں فوراً کھڑا ہو گیا اور جج صاحب سے عرض کیا کہ جناب میری درخواست پر اس شخص سے کراچی بار یا سندھ بار کونسل کا اصل کارڈ طلب کیا جائے، کیونکہ میری معلومات کے مطابق یہ وکیل نہیں ہے۔ وہ شخص وہاں آئیں بائیں شائیں کرنے لگا اور موقع پر ہی پکڑا گیا کہ وہ ایک عام شہری تھا جو وکیل کا لبادہ اوڑھ کر عدالت کو دھوکہ دے رہا تھا۔
​اسی طرح ایک خاتون تھی، جس کا نام کمل تھا۔ وہ ایک دوسری خاتون وکیل کا لیجر نمبر غیر قانونی طور پر استعمال کر رہی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ 2020 میں جب کووڈ آیا، تو اس نے سندھ بار کونسل، ہائی کورٹ بار اور کراچی بار تینوں جگہوں سے اس جعلی لیجر نمبر پر کووڈ فنڈز کے پیسے وصول کیے۔ یہاں تک کہ جب ہائی کورٹ بار نے خواتین وکلاء کو مراعات میں اسکوٹیاں دیں، تو اس نے وہ اسکوٹی بھی اپنے نام کروا لی۔ جب ہماری حقیقی خاتون وکلاء نے اس کی نشاندہی کی، تو میں نے ذاتی طور پر کھڑے ہو کر اس کو گرفتار کروایا اور اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔ میں نے اپنے دور میں ایسی 15 ایف آئی آرز درج کروائیں، جن میں سے 10 سے 12 لوگوں نے تحریری معافی نامے جمع کروائے، لیکن اب بھی کچھ کالی بھیڑیں دوبارہ سٹی کورٹ کا رخ کر رہی ہیں جن پر ہماری نظر ہے۔
​جہاں تک جوائنٹ سیکرٹری کے طور پر تجربے کا سوال ہے، تو جب آپ کے پاس بار کا عہدہ ہوتا ہے، تو ادارے آپ کی بات سنتے ہیں۔ جب آپ اپنے کسی ساتھی وکیل کے جائز کام یا اس پر ہونے والی کسی زیادتی کے خلاف تھانے یا کسی بھی سرکاری پلیٹ فارم پر کھڑے ہوتے ہیں، تو آپ کی پشت پر کراچی بار کی طاقت ہوتی ہے۔
​میں نے جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہونے کے فوراً بعد ہاؤسنگ کمیٹی کی وہ پرانی فائلیں نکلوائیں جو پچھلے 40 سالوں سے دبی ہوئی تھیں۔ کراچی بار کے وکلاء کو گزشتہ 40 سال سے حکومت کی طرف سے کوئی ہاؤسنگ پلاٹ الاٹ نہیں ہوا تھا، جبکہ صحافیوں اور آرٹس کونسل کے ممبران کو باقاعدگی سے پلاٹس ملتے ہیں۔ میں نے پچھلی کابینہ کے کام کو آگے بڑھایا اور دن رات کی محنت سے اتحاد ٹاؤن میں وکلاء کے لیے 200 ایکڑ زمین الاٹ کروائی۔ میں نے خود مختیار کار کے ساتھ زمین کا دورہ کیا، یہاں تک کہ سرکاری چالان کا مرحلہ بھی آ گیا تھا۔ ہماری پوری کابینہ اس بات پر متفق تھی کہ ہم چالان کی رقم مزید کم کروانے کے لیے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سے فائنل میٹنگ کریں تاکہ ہمارے وکلاء کو انتہائی آسان اقساط پر 80 اور 120 گز کے پلاٹس مل سکیں۔
​میزبان: یہ تو بہت بڑا اور شاندار منصوبہ تھا، لیکن پھر اس میں رکاوٹ کہاں آئی؟ یہ پروجیکٹ رول بیک کیوں ہوا؟
​مہمان: جی، بدقسمتی سے اسی دوران حیدرآباد میں ہمارے ایک وکیل بھائی کے ساتھ پولیس کی جانب سے شدید زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے ردعمل میں وکلاء برادری نے وہاں ایس ایس پی حیدرآباد فاروق لنجار کے تبادلے اور کارروائی کے لیے ایک جائز احتجاجی دھرنا شروع کیا۔ اب دیکھیں، دھرنا یا احتجاج کرنا ایک آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن بدقسمتی سے اس دھرنے میں کچھ شرپسند عناصر شامل ہو گئے جن کے سیاسی مائلات مختلف تھے۔ انہوں نے اس دھرنے کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی قیادت، وزیر داخلہ اور وزیر قانون اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف سخت نعرے بازی اور ذاتی حملے شروع کر دیے۔
​اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صوبائی حکومت کراچی بار سے سخت ناراض ہو گئی اور حکومت کو یہ تاثر گیا کہ شاید کراچی بار کے عہدیداران ہی اس سیاسی نعرے بازی کے پیچھے ہیں۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے سندھ حکومت نے بیک آف کر لیا اور وکلاء کی زمینوں کا وہ عظیم الشان پروجیکٹ عارضی طور پر روک دیا گیا۔ اس کے علاوہ، اسی دوران کراچی بار نے سندھ کے عوام کے لیے کچھ بڑے آئینی مقدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جیسے دریائے سندھ کے پانی کی چوری کے خلاف دھرنا اور کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سندھ کی زمینوں کی بندر بانٹ کے خلاف آواز اٹھانا۔ ہم تو آئینی اور عوامی جنگ لڑ رہے تھے، لیکن حکومت نے اسے اپنے خلاف سمجھا، جس کا خمیازہ وکلاء کے اجتماعی مفادات کو بھگتنا پڑا۔
​تاہم، ان تمام تر حکومتی رکاوٹوں کے باوجود، میں نے انفرادی سطح پر وکلاء کے مسائل حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس پورے سفر نے مجھے ایک بہترین تجربہ، پختگی اور وکلاء کی خدمت کا ایک نیا اور وسیع تر ویژن دیا ہے، اور اسی عزم کے ساتھ اب میں جنرل سیکرٹری کے عہدے کا امیدوار ہوں۔
​میزبان: بہت بہت شکریہ عمران عزیز ایڈوکیٹ صاحب، آپ نے بہت تفصیلی اور سچائی پر مبنی حقائق سامنے رکھے۔ ناظرین، یہ تھا عمران عزیز صاحب کا ویژن۔ اگلے سیشن میں ان سے ان کے آئندہ کے لائحہ عمل پر مزید بات چیت ہوگی۔ تب تک کے لیے اپنی میزبان لبنیٰ احمد کو لاء سوسائٹی پاکستان سے اجازت دیجیے۔ اللہ حافظ۔
​ویڈیو کا آفیشل لنک:

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

Address

1725/2963 Baldia Town
Karachi
75760

Telephone

+923343093302

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law Society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Law Society:

Shortcuts

Share