19/04/2026
کراچی:
میٹرک بورڈ کراچی کے تحت نویں جماعت کیمسٹری کے سالانہ پرچے نے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا، پورا سال روایتی پیٹرن اور گزشتہ 10 سالہ پرچوں کی بنیاد پر تیاری کرنے والے طلبہ کو امتحان میں زیادہ تر تصوراتی سوالات دے دیئے گئے، نومیریکلز اور بیلنسنگ ایکویشنز جیسی روایتی مشقیں اس مرتبہ شامل ہی نہیں کی گئیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات جاری ہیں، جمعہ کو صبح کی شفٹ میں نویں جماعت کا کیمسٹری کا پرچہ لیا گیا جس پر طلبہ نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرچہ اس قدر کنسپچوئل اور مشکل تھا کہ انھیں یہ سمجھنے میں بھی دشواری پیش آئی کہ سوال میں پوچھا کیا گیا ہے؟
نویں جماعت کے طلبہ نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پورا سال روایتی پیٹرن اور گزشتہ 10 سالہ پرچوں کی بنیاد پر تیاری کی مگر امتحان میں اچانک اس قدر زیادہ تصوراتی سوالات آگئے کہ ہم ذہنی طور پر اس کے لیے بالکل بھی تیار ہی نہیں تھے ، پرچہ نہایت مشکل تھا جس میں نہ تو وہ نومیریکلز شامل تھے جن کی مسلسل پریکٹس کرتے رہے اور ہمیشہ آتے بھی ہیں اور نہ ہی بیلنسنگ ایکویشنز جیسی روایتی مشقیں آئیں بلکہ زیادہ تر سوالات ایسے تھے جن کے لیے گہری سمجھ اور مختلف انداز میں سوچنے کی ضرورت تھی جس کی انھیں پہلے سے مناسب رہنمائی نہیں دی گئی تھی اس وجہ سے کئی طلبہ پرچہ دیکھ کر شدید دل برداشتہ اور مایوس نظر آئے اور متعدد طلبہ نے کچھ سوالات ہی چھوڑ دیئے۔
شاہ فیصل کالونی میں قائم سینٹر کی طالبہ نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا رمضان کے دوران جاری ہوئے نوٹی فکیشن اور بعدازاں ہونے والی میٹنگز میں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کنسپچوئل پیپرز کا مکمل نفاذ اگلے سال سے ہوگا جبکہ اس سال پیپر زیادہ تر روایتی انداز میں ہی لیا جائے گا مگر عملی طور پر کیمسٹری کے پرچے میں کنسپچوئل سوالات کی شرح کہیں زیادہ نظر آئے جس سے وہ شدید کنفیوژن کا شکار ہوئے، اگر پہلے سے واضح طور پر بتا دیا جاتا، ماڈل پیپرز فراہم کیے جاتے اور اسی طرز پر تیاری کرائی جاتی تو وہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے تھے مگر بغیر پیشگی تیاری کے اس اچانک تبدیلی نے ان کی محنت پر پانی پھیر دیا جس کا ذمہ دار کون ہے؟