دنیا کی چند دلچسپ معلومات جن سے شاید آپ ناواقف ہوں

  • Home
  • Pakistan
  • Karachi
  • دنیا کی چند دلچسپ معلومات جن سے شاید آپ ناواقف ہوں

دنیا کی چند دلچسپ معلومات جن سے شاید آپ ناواقف ہوں دنیا بھر کی انوکھی و غیر انوکھی معلومات سے مزین ایک خوب? It is 1 of d noblest passions of human nature.

فیس بک پہﺍﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﻋﺎﻣﮧ ﮐﺎ
ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﭘﯿﺞ ﮨﮯ.
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﮧ ﺍﺳﻼﻣﯽ ، ﭘﺎﻟﺴﺘﺎﻧﯽ ،
ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ، ﺍﻧﻔﺎﺭﻣﯿﺸﻦ ﭨﯿﮑﻨﺎﻟﻮﺟﯽ ،
ﺁﺋﯽ ﮐﯿﻮ، ﺳﺎﺋﻨﺲ ، ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ،
ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ، ﻓﯿﮑﭩﺰ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ
ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺁﭖ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﮞ.
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﻋﺎﻣﮧ ﮐﮯ
ﺣﺼﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ
ﺁﺝ ﮨﯽ ﺍﺱ ﭘﯿﺞ ﮐﻮ ﻻﺋﮏ ﮐﺮﯾﮟ. Patriotism''Patriotism means love and regard for the country.It is a ntrl instin

ct dat men luvs da place wer he gets birth and wher he is brought up. The luv ov country is natural and essential fo evry1''
Mission
Love Pakistan
ربِّ زدنی علماً

17/06/2026
فرعونوں کی تاریخ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے وقت میں ان کے پاس کتنی طاقت تھی۔وہ کوئی عام بادشاہ نہیں تھے، بلکہ اپنے ...
23/05/2026

فرعونوں کی تاریخ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے وقت میں ان کے پاس کتنی طاقت تھی۔
وہ کوئی عام بادشاہ نہیں تھے، بلکہ اپنے دور کے “خدا” سمجھے جاتے تھے۔ ان کی باقاعدہ پرستش ہوتی تھی۔
ان کے غلاموں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک تو دور کی بات، جانوروں جیسا بھی نہیں ہوتا تھا۔
ان کا کھانا بھی ایک خاص نظام کے تحت تیار ہوتا تھا۔ شاہی باورچی اور پجاری اسے مخصوص طریقے سے بناتے تھے۔ پھر کھانے کو چکھا جاتا، اس کی نگرانی ہوتی، اور سخت پروٹوکول کے بعد فرعون تک پہنچایا جاتا۔
زیادہ تر وہ اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھاتے تھے، کیونکہ انہیں خدا سمجھا جاتا تھا ۔ اس لیے کھانا کھلانے سے لے کر ان کے ہاتھ اور منہ صاف کرنے تک سب کام غلام کرتے تھے (واش روم کے بارے میں پتہ نہیں کیا صورتحال تھی 😜)
صرف یہی نہیں
کھانے کے دوران اگر کوئی مکھیاں یا کیڑے مکوڑے ان کی طرف آنے کا خدشہ ہوتا، تو بعض روایات کے مطابق غلاموں کے جسم پر شہد لگا کر انہیں پاس کھڑا کر دیا جاتا تاکہ مکھیاں ان کی طرف جائیں۔
اسی طرح جب ان جھوٹے خداؤں کے سونے کا وقت ہوتا تو بھی غلاموں کے جسموں پہ شہد لگا کے ساری رات ان کے پاس کھڑا کیا جاتا تاکہ کیڑے مکوڑے فرعون کی طرف نہ جائے
اور غلاموں کو اپنی جگہ سے ایک انچ ہلنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی اگر وہ ہلتے تو ان کو سخت ترین سزائیں دی جاتی مطلب وہ اپنا جسم کھجا بھی نہیں سکتے تھے جب ان کے اوپر مکھیاں بیٹھتی
خود کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے وہ اپنی زندگی میں ہی “ہمیشہ کی زندگی” کی تیاری شروع کر دیتے تھے۔ جب کوئی فرعون یا اس کا قریبی مر جاتا تو ان کے جسم کو ممی بنا کر محفوظ کیا جاتا، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ روح دوبارہ جسم میں واپس آتی ہے، اور اگر جسم ضائع ہو جائے تو ہمیشہ کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔
کچھ فرعون کے مرنے پر اس کے ساتھ ان کے خاص خادموں کو بھی دفن کر دیا جاتا تاکہ وہ اگلی زندگی میں بھی اس کی خدمت کریں۔ ساتھ ہی سونا، زیورات، کھانا اور ہر قسم کی آسائش کا سامان بھی دفن کیا جاتا تھا۔
فرعونوں کو کیونکہ سورج کا بیٹا سمجھا جاتا ہے اس لیے وہ باقی لوگوں کے لیے مقدس ترین ہستیاں تھیں اور اپنی جھوٹی خدائی اور بادشاہت کو قائم رکھنے کے لیے فرعون صرف خاندان میں ہی شادیاں کرتے تھے تاکہ ان کا خون پاک رہے اور اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو یہاں تک جب خاندان میں کوئی اور لڑکی نہ ہوتی تو پھر انہوں نے اپنی بہنوں سے شادیاں کی اس کا نتیجہ اہستہ یہ ہوا بہت ساری جنیاتی بیماریوں نے جنم لینا شروع کر دیا

ایک مشہور فرعون توتنخامن جو کہ جسمانی معذوری کے ساتھ پیدا ہوا تھا کیونکہ اس کے ماں باپ بہن بھائی تھے ۔
یہ فرعون 9 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور 19 سال کی عمر میں دنیا سے دنیا سے رخصت ہو گیا
جب اس کا اہرام دریافت ہوا تو تو وہ اج تک دریافت ہونے والے سب فرعونوں کے مقبروں سے زیادہ خزانہ تھا اس میں
اس فرعون کی شہرت کی وجہ بھی اس کی بادشاہت نہیں بلکہ اس کے مقبرے کی حالت تھی جب کثیر قسم کے سونے کی اور قیمتی ایشیاء اس کے مقبرے سے برامد ہوئی جو دنیا کو حیران کرنے کے لیے کافی تھی
اور اس کے ساتھ ڈھیر ساری لاٹھیاں بھی کیونکہ وہ معذور تھا تو لاٹھیوں کے ساتھ اس کے دفن کیا گیا کہ مرنے کے بعد بھی اس کو اس کی ضرورت پڑے گی
فرعونوں کے جانوروں کو بھی ان کی رعایا سے زیادہ پروٹوکول ملتا تھا جانوروں کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ بلیوں کے لیے خاص کھانا، ان کی حفاظت، اور مرنے کے بعد ان کے لیے مقبرے تک بنائے جاتے تھے ان کو سونے کے تابوتوں میں دفن کیا جاتا ۔۔

یہ تھے وہ لوگ…
جو اپنے وقت کے خدا بنے بیٹھے تھے، طاقت کے نشے میں گم۔
جن کی اجازت کے بغیر کوئی انہیں چھو بھی نہیں سکتا تھا یہاں تک کہ ان کی رعایا میں سے کسی کو اجازت نہیں تھی کہ نظریں اٹھا کے ان کی طرف دیکھ لے لیکن اج ان ہی کی لاشوں پہ مختلف تجربات ہو رہے ہیں ان کی مرضی کے بغیر کبھی ایک جگہ سے دوسری جگہ ان کو شفٹ کیا جاتا ہے اور اب وہ ایک ملک کی قدیم تاریخ کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔۔۔

کیونکہ ہمیشہ رہنے والی ذات اور بادشاہت صرف اور صرف اللہ کی ہے ۔۔
اسی طرح اج سے 100 سال بعد تک اس روئے زمین پر موجود ہر ذی روح فنا ہو جائے گی چاہے کوئی نیک ہے یا بد زمانے کا ولی ہے یا وقت کا فرعون سب مٹ جائیں گے
دنیا کی طاقت دولت ہر چیز کو زوال ہے
باقی رہنے والا کوئی ہے تو وہ میرا رب

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍﭕ(26) وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ

زمین پر جتنی مخلوق ہے سب فنا ہونے والی ہے۔ اور تمہارے رب کی عظمت اور بزرگی والی ذات باقی رہے گی۔
سابقہ فرعونوں کی طرح آج کے فرعون بھی سونے چاندی کے دیوانے ہیں ۔ہمارے کچھ سابقہ وزیراعظم پاکستان کے محل کے واش روم کے کموڈ سونے کے ۔نلکے سونے کے لوٹے سونے کے ۔۔ان فرعونوں نے اپنے سابقہ فرعونوں کی طرح پاکستانی عوام کا جینا حرام کیا ہوا ہے

*پوسٹ اچھی لگے تو زیادہ سے زیادہ شئیر کیا کریں اور ری ایکٹ کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دیں۔

17/05/2026

*ذوالحجہ کے پہلے 10 دن کیسے گزاریں؟* 🌙✨

نبی ﷺ نے فرمایا: *"اللہ کو کوئی دن ان 10 دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب نہیں"*

یہ سیل ہے نیکیوں کی... لوٹ لیں

*1. نیت کرلیں ابھی*

سب سے پہلے دل میں پکا ارادہ: *"یا اللہ، اس سال ذوالحجہ ضائع نہیں ہونے دوں گی"*

نیت سے ہی اجر شروع ہو جاتا ہے

*2. روزے رکھیں، خاص کر 9 ذوالحجہ کا*

*1 سے 9 ذوالحجہ:* جس سے ہو سکے روزہ رکھے۔

*9 ذوالحجہ یعنی یومِ عرفہ:* اس کا روزہ *2 سال کے گناہوں کا کفارہ* ہے۔ پچھلے سال + اگلے سال۔🌸

*3. تکبیرات پڑھتے رہیں*

*اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ*

*4. نماز + قرآن + ذکر*

*نماز:* 5 وقت + تہجد اور دیگر نوافل کی کوشش

*قرآن:* روز 1 پارہ = 10 دن میں 10 پارے = تہائی قرآن مکمل

یا ہو سکے تو ایک قرآن مکمل کرلیں

*ذکر:* صبح شام 100 بار *سبحان الله، الحمد لله، لا إله إلا الله، الله أكبر*

*5. صدقہ اور نیکی*

ان 10 دنوں کا صدقہ عام دنوں کے ہزار صدقے پر بھاری ہے۔

*6. توبہ اور استغفار*

عرفہ کا دن = دعاؤں کی قبولیت کا دن

زیادہ سے زیادہ دعاؤں کا اہتمام کریں

*8. گناہوں سے بچیں*

یہ حرمت والے دن ہیں۔ جھوٹ، غیبت، گانے، فلمیں حرام تعلق سب چھوڑ دیں... 10 دن کے لیے بلکل چھٹی۔

جس طرح رمضان میں پرہیز کرتے ہیں ۔۔ ویسے ہی کریں

نیکی کا اجر دوگنا ۔۔۔گناہ کا وبال بھی دوگنا۔۔

ابھی سے ان دس دنوں کو خاص بنانے کی کوشش میں لگ جائیں 🤌✨

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ڈالر کا نشان ($) کہاں سے آیا؟ یہ صرف ایک علامت نہیں بلکہ ایک دلچسپ تاریخی کہانی ہے۔ یہ نشان وق...
11/05/2026

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ڈالر کا نشان ($) کہاں سے آیا؟ یہ صرف ایک علامت نہیں بلکہ ایک دلچسپ تاریخی کہانی ہے۔
یہ نشان وقت کے ساتھ بدلتا گیا اور آج کی موجودہ شکل اختیار کر گیا۔
اصل میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی ابتدا "U" اور "S" یعنی United States کو ایک دوسرے کے اوپر لکھنے سے ہوئی۔ وقت کے ساتھ یہ تحریر مختصر ہوتی گئی اور ایک سادہ سا نشان بن گئی۔
ایک حیران کن بات یہ ہے کہ اس زمانے کے تاجروں اور اکاؤنٹنٹس حساب کتاب آسان بنانے کے لیے مختلف علامتیں استعمال کرتے تھے، اور ڈالر کا یہ نشان بھی اسی سادگی کی مثال ہے۔
آج یہ نشان دنیا بھر میں طاقتور کرنسی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
آپ کو یہ U اور S ہی لگتا یا کچھ اور؟؟؟؟

“کپڑے پہنے ہوتے ہیں… پھر بھی محسوس کیوں نہیں ہوتے؟” ہماری جلد میں لاکھوں حسی ریسپٹرز ہوتے ہیں جو دباؤ، رگڑ اور درجہ حرار...
21/04/2026

“کپڑے پہنے ہوتے ہیں… پھر بھی محسوس کیوں نہیں ہوتے؟” ہماری جلد میں لاکھوں حسی ریسپٹرز ہوتے ہیں جو دباؤ، رگڑ اور درجہ حرارت کو محسوس کرتے ہیں، جب آپ کپڑے پہنتے ہیں تو یہ ریسپٹرز فوراً دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں کہ کچھ جسم کو چھو رہا ہے، مگر دماغ ہر لمحے آنے والے بے شمار سگنلز میں سے غیر ضروری اور غیر خطرناک احساسات کو فلٹر کر دیتا ہے، اس عمل کو Sensory Adaptation کہا جاتا ہے، اسی وجہ سے کچھ دیر بعد آپ کپڑوں کا لمس بھول جاتے ہیں اور صرف نئی یا بدلتی ہوئی چیزیں جیسے گرمی، سردی یا اچانک چھونا ہی محسوس ہوتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے نہاتے وقت شروع میں پانی ٹھنڈا یا گرم زیادہ محسوس ہوتا ہے لیکن چند منٹ بعد وہی احساس کم ہو جاتا ہے کیونکہ دماغ اسے “نارمل” مان لیتا ہے۔

⚠️ ڈسکلیمر: یہ وضاحت بنیادی نیورو سائنس کے اصولوں پر مبنی ہے، اصل دماغی عمل اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔

11/04/2026

ایرانی وفد کو اسلام آباد ڈراپ کرنے کے لئے تین طیارے آئے لیکن ان میں سے صرف ایک میں اصل وفد تھا۔ باقی دو دجال کے پرسنل اسسٹنٹ کو دھوکا دینے کے لئے ہوا میں موجود تھے

یہ ھے وہ یورینیئم جس سے دنیاء خائف ھے لیکن مجھے  اس یورینیم کو 2 بار قریب سے دیکھنے  کا اتفاق ھوا ھے ،  ایک بار ملتان می...
06/04/2026

یہ ھے وہ یورینیئم جس سے دنیاء خائف ھے لیکن مجھے اس یورینیم کو 2 بار قریب سے دیکھنے کا اتفاق ھوا ھے ، ایک بار ملتان میں اور دوسری بار ڈیرہ غازی خان میں ۔
اس یورینیم کو جب گیس میں تبدیل کیا جاتا ھے تو آپ چاھیں تو شہر روشن کرلیں ، علاج میں استعمال کرلیں اور اگر سینٹرفیوج مشینوں میں ڈال کر افزودہ کرکے U - 35 میں تبدیل کرلیں اور ایٹم بم بنا لیں ۔ اپنی اپنی ترجیحات کی بات ھے لیکن ھے یہ ایک معمولی دھات ۔ جب تک آپ اس دھات کو پراسس سے نھیں گزارتے یہ کسی کام کی نھیں ۔

یہ بات  #تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ ایک اہم آبی گزرگاہ کا نام ایک ایسے فارسی کمانڈر “ #ہرمز” کے نام پر رکھا گیا، جسے تاری...
26/03/2026

یہ بات #تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ ایک اہم آبی گزرگاہ کا نام ایک ایسے فارسی کمانڈر “ #ہرمز” کے نام پر رکھا گیا، جسے تاریخ کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک فردی مقابلے میں شکست دی—ایک ایسی شکست جس نے فارسی لشکر کو ذلت سے دوچار کیا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی پسپائی کا سبب بنی۔
تو کیا یہ عجیب نہیں کہ اس تاریخی مقابلے کے باوجود اس مقام کو حضرت خالد بن ولیدؓ کے نام سے منسوب نہیں کیا گیا؟

تفصیلی بیان:

فارسی لشکر کا سپہ سالار #ہرمز اپنے گھوڑے پر سوار میدان میں نکلا اور مبارزت (دو بدو جنگ) کا مطالبہ کرتے ہوئے پکارا: “خالد کہاں ہے؟!”

یہ آواز سن کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی اپنے گھوڑے پر سوار میدان میں تشریف لائے تاکہ اس سرکش کے چیلنج کا جواب دیں۔

دونوں لشکروں کے قریب پہنچ کر—اور خاص طور پر فارسی فوج کے زیادہ قریب—یہ دونوں جرنیل آمنے سامنے ہوئے۔
#ہرمز اپنے گھوڑے سے اترا اور حضرت خالدؓ کو اشارہ کیا کہ اگر تم واقعی بہادر ہو تو زمین پر اتر کر مقابلہ کرو۔

حضرت خالد بن ولیدؓ نے یہ چیلنج قبول کیا اور اپنے گھوڑے سے اتر آئے۔
ہرمز نے اپنے گھوڑے کو واپس لشکر کی طرف بھیج دیا، اور حضرت خالدؓ نے بھی یہی کیا۔

میدان میں ایک سنسنی خیز خاموشی طاری ہوگئی…
دونوں لشکر اضطراب اور بے چینی کے عالم میں یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
یہ ایک غیر معمولی موقع تھا کہ مسلمانوں کا سپہ سالار اور فارس کا عظیم کمانڈر آمنے سامنے تھے—ایسا منظر تاریخ میں ش*ذ و نادر ہی پیش آتا ہے۔

دونوں پیدل حالت میں لڑ رہے تھے، اور اس کا مطلب یہ تھا کہ اب واپسی یا فرار کا کوئی راستہ نہیں—یقیناً ان میں سے ایک کی موت مقدر تھی۔

چند ہی لمحوں میں حضرت خالدؓ نے ہرمز کے ساتھ گھمسان کا رَن باندھا اور اپنی غیر معمولی جنگی مہارت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ خود ہرمز بھی حیران رہ گیا۔

کچھ ہی دیر بعد…
حضرت خالد بن #ولیدؓ اپنے قدموں پر قائم تھے—اور ان کے ہاتھ میں تلوار تھی جو فارسی کمانڈر کے خون سے تر تھی۔

یہ منظر دیکھ کر #فارسی لشکر پر سکتہ طاری ہوگیا، جبکہ مسلمانوں کے دل خوشی سے بھر گئے۔
ہرمز کی ہلاکت نے فارسیوں کو شدید صدمے میں ڈال دیا—کیونکہ وہ عربوں کو اپنی سلطنت، تہذیب اور عسکری قوت کے مقابلے میں حقیر سمجھتے تھے۔

مگر “سیفُ اللہ المسلول” نے انہیں سنبھلنے کا موقع نہ دیا، فوراً عام حملے کا حکم صادر فرمایا۔

سپہ سالار کی ہلاکت اور تنظیم کے فقدان کے باعث فارسی لشکر زیادہ دیر ٹھہر نہ سکا۔
ان کی صفیں منتشر ہوگئیں، اور مسلمان ان کے درمیان گھس گئے، یہاں تک کہ انہیں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ عظیم معرکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں “ #کاظمہ” کے مقام پر پیش آیا، اسی نسبت سے اسے معرکۂ کاظمہ کہا جاتا ہے، اور فارسیوں کی طرف سے لشکر کو زنجیروں سے باندھنے کے سبب اسے معرکۂ ذات السلاسل بھی کہا جاتا ہے۔

یہ ہیں حضرت خالد بن ولید رض اللہ عنہ—اور یہ تھا ان کا اندازِ جنگ۔
ایک ایسا سپہ سالار جس پر مسلمانوں کو بجا طور پر فخر ہے۔
۔

کیا اسے بالوں سے نکال کر عام استعمال میں لایا جا سکتا ہے؟ بالوں میں سونے کی مقدار بہت کم ہوتی ہے عام طور پر 0.1 سے 0.2 p...
18/03/2026

کیا اسے بالوں سے نکال کر عام استعمال میں لایا جا سکتا ہے؟ بالوں میں سونے کی مقدار بہت کم ہوتی ہے عام طور پر 0.1 سے 0.2 ppm تک، بچوں میں بھی چند گنا زیادہ ہونے پر بھی انتہائی معمولی اسے نکالنے کے لیے کیمیائی عمل درکار ہوتا ہے، لیکن لاگت بہت زیادہ پڑتی ہے اور معاشی فائدہ بالکل نہیں ہوتا۔
یہ سائنسی تحقیق میں ممکن تو ہے جیسے لیبارٹری میں بالوں سے میٹل ریکوری، مگر عام استعمال یا کمائی کے لیے بالکل ناممکن ہے۔ یہ محض دلچسپ سائنسی حقیقت ہے، کوئی خزانہ نہیں! 😄

 #ہُک  #ورم جب جسم میں داخل ہوتے ہیں تو آخرکار آنتوں میں جا کر رہنے لگتے ہیں۔ وہاں یہ خون چوستے ہیں، جس سے انسان میں کمز...
18/03/2026

#ہُک #ورم جب جسم میں داخل ہوتے ہیں تو آخرکار آنتوں میں جا کر رہنے لگتے ہیں۔ وہاں یہ خون چوستے ہیں، جس سے انسان میں کمزوری، خون کی کمی انیمیا، تھکن اور پیٹ کی تکلیف ہو سکتی ہے۔
جہاں تک ننگے پاؤں چلنے کی بات ہے، ہر جگہ کی مٹی میں یہ کیڑے نہیں ہوتے۔ یہ زیادہ تر گندی یا آلودہ مٹی میں پائے جاتے ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں انسانی فضلہ مٹی میں ملا ہو۔ اسی لیے ہر ننگے پاؤں چلنے والے کو لازماً یہ بیماری نہیں ہوتی۔
بہت سے لوگوں میں اگر یہ کیڑے ہوں بھی تو علامتیں ہلکی یا نظر نہیں آتیں، اس لیے لوگوں کو پتا بھی نہیں چلتا۔ اسی وجہ سے پہلے زمانے میں بھی بعض علاقوں میں یہ مسئلہ عام تھا، لیکن سب میں واضح طور پر نظر نہیں آتا تھا۔
اسی لیے ڈاکٹر عام طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ گندی جگہوں پر ننگے پاؤں نہ چلیں اور صفائی کا خیال رکھیں۔
-lifestyle

Address

Karachi
0000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دنیا کی چند دلچسپ معلومات جن سے شاید آپ ناواقف ہوں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share