عام پاکستانی

عام پاکستانی Enjoying Life

مراد علی شاہ کی وزارت اعلیٰ کیوں جارہی ہے؟ تحریر شکیل نائچ پی پی قیادت نے جب 2013ء میں دوسری بار سید قائم علی شاہ کو وزا...
07/09/2025

مراد علی شاہ کی وزارت اعلیٰ کیوں جارہی ہے؟
تحریر شکیل نائچ
پی پی قیادت نے جب 2013ء میں دوسری بار سید قائم علی شاہ کو وزارت اعلیٰ کے لئے نامزد کیا تو اس وقت بھی مراد علی شاہ وزیر خزانہ بنے اور اس وقت وہ انور مجید کے قریب ہو گئے ٹھٹھہ اور دادو شگر ملز انور مجید کو دیں اور انہیں دونوں شگر ملز چلانے کیلئے اربوں روپے بھی دیئے انور مجید نے شگر ملز تو نہ چلائیں الٹا شگر ملز کی مشینری بھی فروخت کردی اور جو پیسے مراد علی شاہ نے انہیں دیئے تھے وہ بھی ہڑپ کرگئے اس وجہ سے انور مجید نے آصف علی زرداری سے کہہ کر مراد علی شاہ کو وزیر اعلیٰ بنوادیا یعنی قائم علی شاہ کے دور میں مراد علی شاہ وزارت اعلیٰ کے حصول کیلئے انور مجید کے قریب گئے اور وزارت اعلیٰ کا عہدہ لینے میں کامیاب ہوگئے یہی مکافات عمل اب ان کے ساتھ بھی ہورہا ہے ان کی وزارت اعلی کے دور میں شرجیل انعام میمن اور سید ناصر شاہ بھی وزارت اعلیٰ کے حصول کیلئے صدر آصف زرداری ، فریال ٹالپر اور جرنیلوں کی خوشنودی حاصل کررہے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مراد علی شاہ کی وزارت اعلیٰ کیوں جارہی ہے ؟ اس کا جواب تفصیلی ہے مراد علی شاہ وزیر بنے تو ایک طرف صدر آصف زرداری کو خوش کرتے رہے دوسری جانب انور مجید کو خوش کرتے رہے تیسری جانب ملک ریاض کو خوش کرتے رہے چوتھی جانب منظور کاکا کو خوش کرتے رہے پانچویں جانب ڈاکٹر عاصم کو خوش کرتے رہے اور چھٹی جانب مقتدرہ قوتوں کو بھی خوش کرتے رہے طاقت کے تئن مراکز صدر زرداری ، انور مجید اور مقتدرہ قوتوں کو خوش رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی صدر زرداری کی مرضی پر پوری بیوروکریسی ، ٹھیکے ، زمینیں سب قربان کردیئے انور مجید اور ان کے بیٹے غنی مجید کے کہنے پر سسٹم کے معاملات پر آنکھیں بند کرلیں اور مقتدرہ قوتوں کے کہنے پر گرین انیشیئٹو کے نام پر سندھ کی 30 لاکھ ایکڑ زمین الاٹ کردی سب مطمئن تھے کیونکہ سب کو راضی رکھا ہوا تھا بات یہاں سے بگڑی کہ آرمی چیف کراچی آئے تاجروں سے ملے تو تاجروں نے شکایت کی کہ کراچی میں زمینوں پر کھلے عام قبضے ہورہے ہیں اس لئے وہ کوئی بھی صنعت نہیں لگاسکتے آرمی چیف نے صدر زرداری کو تاجروں کی شکایت بتائی اب یہاں سے شک پیدا ہوگیا مقتدرہ قوتوں نے سوچا کہ مراد علی شاہ ان کے ساتھ ڈبل گیم کررہا ہے اور صدر زرداری نے سوچا کہ مراد علی شاہ ان کے ساتھ ڈبل گیم کررہا ہے جبکہ باجاری سسٹم اور راہپوٹو سسٹم بھی مراد علی شاہ کی چھتری کے نیچے کرپشن کررہے تھے اس کے صرف دو مثال سامنے ہیں جامشورو کے انسپیکٹر سرور راہپوٹو نے پولیس موبائل میں کروڑوں روپے کی چرس کراچی بھیجی جو رینجرز نے پکڑ لی اور دوسری جانب نئے بھرتی ہونے والے ڈی ایس پی عمیر باجاری نے پولیس موبائل میں جاکر اورنگی ٹاؤن میں ایک گھر سے دو کروڑ روپے کی ڈکیتی کی وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے دونوں کیسز میں اسٹینڈ لینے یا غیر جانبدار رہنے کے بجائے دونوں پولیس افسران سرور راہپوٹو اور عمیر باجاری کو نہ صرف بچایا بلکہ انہیں پوسٹنگ بھی دے دی دوسری جانب ان کے وزیر بھی اوپر تک کرپشن کی رہورٹیں دیتے رہے اب مراد علی شاہ بیک وقت صدر زرداری اور مقتدرہ قوتوں کے سامنے مشکوک بن گئے تبھی ان کی تبدیلی کی باتیں زور پکڑ گئی ہیں کیونکہ مراد علی شاہ کی اس کرپشن کو دیکھ کر ان کے وزراء بھی کرپشن میں آگے بڑھ گئے اس کی تفصیلات پھر بتائیں گے کہ کس طرح سندھ کے وزراء نے الگ الگ مافیا بنا رکھی ہے اور کس طرح ایک متوازن مسلح فورس بنارکھی ہے جو ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو اسلحہ کے زور پر اٹھا لیتے ہیں پھر انہیں سبق سکھاتے ہیں یا پھر ان پر مقدمات کردیتے ہیں تاکہ وہ مقدمات میں الجھا رہے مراد علی شاہ اتنے بااثر تھے کہ پارٹی قیادت کو نیب مقدمات میں رلیف دلایا ورنہ نیب ریفرنسز میں پارٹی قیادت کو سزا ملنے کا خطرہ تھا مراد علی شاہ کو اطمنیان تھا کہ مقتدرہ قوتیں ان سے خوش ہیں لیکن جب چھ کینالوں کا مسئلہ آیا تو مراد علی شاہ اس مسئلہ پر نہ صرف کینالوں کے خلاف وکلاء کے احتجاج کی حمایت کی بلکہ احتجاج کرنے والے وکلاء کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے سے انکار کردیا حالانکہ جب صدر زرداری جے کینالوں کی منظوری دی تھی تو کراد علی شاہ نے کقتدرہ قوتوں کو حمایت کا یقین دلایا تھا لیکن جب وکلاء کی تحریک زور پکڑ گئی تو مراد علی شاہ حمایت سے پیچھے ہٹ گئے اور بلاول بھٹو زرداری کو آگے کردیا اور پھر بلاول نے وزیر اعظم سے مل کر کینالوں کا منصوبہ ملتوی کرایا اور پھر ان کی مقتدرہ قوتوں سے دوریاں شروع ہوگئیں مراد علی شاہ کے بارے میں صدر زرداری اور مقتدرہ قوتوں کے سامنے یہ بات بھی کھل گئی کہ ایک طرف راہپوٹو سسٹم اور باجاری سسٹم کے ذریعہ کرپشن ہورہی ہے تو دوسری جانب افسران کا ایک گروپ ہے جو اربوں روپے کی کرپشن کررہا ہے سب سے بڑا اسکینڈل پنشن فنڈز میں 80 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن کا ہے پھر کچھ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوئی اور یہ معاملہ نیب میں گیا لیکن بعد میں محکمہ خزانہ کے ان سب افسران کو محکمہ خزانہ سے نکال دیا گیا جنہوں نے پنشن فنڈز میں کرپشن پکڑی تھی اب مراد علی شاہ کی مسٹر کلین والی پوزیشن نہیں رہی اس لئے صدر زرداری اور مقتدرہ قوتوں نے مراد علی شاہ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے اب انہیں کب گھر بھیجا جائے گا یہ فیصلہ چند روز میں ہونے کا امکان ہے

05/08/2024

Situation 😂🙏


Address

Gulshan E Iqbal
Karachi

Telephone

+923142477389

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عام پاکستانی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share