13/08/2026
خرد کو غلا می سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
علامہ محمد اقبال نے یہ دعا اس وقت کی تھی جب برصغیر کے مسلمان غلامی کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ تعلیم، روزگار اور ترقی سے کوسوں دور، انگریزوں اور ہندوؤں کی مشترکہ غلامی کے زیرِ سایہ پلنے والی اس غلام قوم کی قسمت اس وقت جاگی جب اس کے اہلِ علم و دانش نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیا اور یہ احساس 1857 کی جنگِ آزادی کی وجہ بنی۔ اس تحریک کے روحِ رواں علماء، اساتذہ اور طالب علم تھے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کی لائبریریوں اور سندھ مدرسۃ الاسلام کے درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھے بیدار مغز مسلم نوجوانوں نے
٬تحریکِ پاکستان کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا کام کیا، گھر گھر، شہر گاؤں مسلمانوں میں یہ احساس دلانے کے لیے کہ وہ ایک الگ قوم ہیں، ان کو اپنے جداگانہ تشخص کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان طلباء نے دن رات ایک کر دیے۔ تحریکِ پاکستان میں یہ نوجوان قائدِاعظم محمد علی جناح کے سب سے زیادہ مخلص ساتھی ثابت ہوئے، کیونکہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے
ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ نوجوان صرف کسی ملک کی آبادی کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ اس قوم کی توانائی، امید اور مستقبل کی علامت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ صرف سات سال کے مختصر عرصے میں ان باصلاحیت، تعلیم یافتہ، باکردار نوجوانوں کے ساتھ محنت اور دن رات کی قربانیوں سے مملکتِ خداداد پاکستان وجود میں آیا۔
آج جب پاکستان کے نام کے ساتھ مسائل، ناامیدی، کرپشن اور فتنہ و فساد کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے کھڑی ہے تو اس وقت بھی پاکستان کو ضرورت ہے ایسے دلیر، تعلیم یافتہ، باکردار اور مخلص نوجوانوں کی جو اس ملک کو ان تمام مسائل سے نکال سکیں۔ پاکستان کا مستقبل کسی ایک حکمران، کسی ایک ادارے، ایک فرد کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ 1947 کی نوجوان نسل کے مقابلے میں آج کی نوجوان نسل کو تعلیم، ٹیکنالوجی اور ترقی کے بہتر مواقع فراہم کئیے جا سکتے ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان نوجوانوں کو ان کی اہمیت اور ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے، جیسا کہ قائدِاعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ پاکستان کو اپنے نوجوانوں پر خصوصاً طلبہ پر فخر ہے جو ہمیشہ آزمائش اور ضرورت کے وقت صفِ اول میں رہے۔ آپ کل کی قوم کے معمار ہیں۔
مارچ 1946ء میں قائدِاعظم نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ خود کو سرکاری نوکریوں کے حصول تک محدود نہ کریں بلکہ تجارت، صنعت، سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف آنے کی کوشش کریں۔ آج بھی اگر پاکستانی نوجوانوں کو صحیح سمت فراہم کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ ملک کی عظمت، ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا نہ کریں۔
علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
الحمدللہ، آج کے پاکستان کا نوجوان مشکلات کے باوجود اپنی زمین سے نہ صرف وفادار ہے بلکہ اس کے مسائل کے حل کے لیے سوال بھی کرتا ہے اور اپنے زورِ بازو پر مسائل کو حل کرنے کا جذبہ بھی رکھتا ہے۔ آج کا نوجوان کسی معجزے کے انتظار کے بجائے اپنی کوششوں پر یقین رکھتا ہے۔ اب ہم والدین، اساتذہ اور اہلِ اقتدار کا فرض ہے کہ ان نوجوانوں کی صورت میں جو قیمتی خزانہ قدرت نے ہمیں دیا ہے، ہم اس کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اسے امید کی نئی روشنیاں دکھائیں جن پر چل کر یہ اپنی منزلِ مقصود حاصل کریں اور پاکستان کو اقوامِ عالم میں بلند مقام دلوائیں۔
خیر النساء بلوچ