Kuch Khaas کچھ خاص

Kuch Khaas  کچھ خاص Its every one

خرد کو غلا می  سے آزاد کر جوانوں کو پیروں کا استاد کرعلامہ محمد اقبال نے یہ دعا اس وقت کی تھی جب برصغیر کے مسلمان غلامی ...
13/08/2026

خرد کو غلا می سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر

علامہ محمد اقبال نے یہ دعا اس وقت کی تھی جب برصغیر کے مسلمان غلامی کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ تعلیم، روزگار اور ترقی سے کوسوں دور، انگریزوں اور ہندوؤں کی مشترکہ غلامی کے زیرِ سایہ پلنے والی اس غلام قوم کی قسمت اس وقت جاگی جب اس کے اہلِ علم و دانش نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیا اور یہ احساس 1857 کی جنگِ آزادی کی وجہ بنی۔ اس تحریک کے روحِ رواں علماء، اساتذہ اور طالب علم تھے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کی لائبریریوں اور سندھ مدرسۃ الاسلام کے درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھے بیدار مغز مسلم نوجوانوں نے
٬تحریکِ پاکستان کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا کام کیا، گھر گھر، شہر گاؤں مسلمانوں میں یہ احساس دلانے کے لیے کہ وہ ایک الگ قوم ہیں، ان کو اپنے جداگانہ تشخص کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان طلباء نے دن رات ایک کر دیے۔ تحریکِ پاکستان میں یہ نوجوان قائدِاعظم محمد علی جناح کے سب سے زیادہ مخلص ساتھی ثابت ہوئے، کیونکہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے
ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ نوجوان صرف کسی ملک کی آبادی کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ اس قوم کی توانائی، امید اور مستقبل کی علامت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ صرف سات سال کے مختصر عرصے میں ان باصلاحیت، تعلیم یافتہ، باکردار نوجوانوں کے ساتھ محنت اور دن رات کی قربانیوں سے مملکتِ خداداد پاکستان وجود میں آیا۔

آج جب پاکستان کے نام کے ساتھ مسائل، ناامیدی، کرپشن اور فتنہ و فساد کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے کھڑی ہے تو اس وقت بھی پاکستان کو ضرورت ہے ایسے دلیر، تعلیم یافتہ، باکردار اور مخلص نوجوانوں کی جو اس ملک کو ان تمام مسائل سے نکال سکیں۔ پاکستان کا مستقبل کسی ایک حکمران، کسی ایک ادارے، ایک فرد کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ 1947 کی نوجوان نسل کے مقابلے میں آج کی نوجوان نسل کو تعلیم، ٹیکنالوجی اور ترقی کے بہتر مواقع فراہم کئیے جا سکتے ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان نوجوانوں کو ان کی اہمیت اور ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے، جیسا کہ قائدِاعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ پاکستان کو اپنے نوجوانوں پر خصوصاً طلبہ پر فخر ہے جو ہمیشہ آزمائش اور ضرورت کے وقت صفِ اول میں رہے۔ آپ کل کی قوم کے معمار ہیں۔

مارچ 1946ء میں قائدِاعظم نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ خود کو سرکاری نوکریوں کے حصول تک محدود نہ کریں بلکہ تجارت، صنعت، سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف آنے کی کوشش کریں۔ آج بھی اگر پاکستانی نوجوانوں کو صحیح سمت فراہم کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ ملک کی عظمت، ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا نہ کریں۔

علامہ اقبال نے کہا تھا کہ

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

الحمدللہ، آج کے پاکستان کا نوجوان مشکلات کے باوجود اپنی زمین سے نہ صرف وفادار ہے بلکہ اس کے مسائل کے حل کے لیے سوال بھی کرتا ہے اور اپنے زورِ بازو پر مسائل کو حل کرنے کا جذبہ بھی رکھتا ہے۔ آج کا نوجوان کسی معجزے کے انتظار کے بجائے اپنی کوششوں پر یقین رکھتا ہے۔ اب ہم والدین، اساتذہ اور اہلِ اقتدار کا فرض ہے کہ ان نوجوانوں کی صورت میں جو قیمتی خزانہ قدرت نے ہمیں دیا ہے، ہم اس کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اسے امید کی نئی روشنیاں دکھائیں جن پر چل کر یہ اپنی منزلِ مقصود حاصل کریں اور پاکستان کو اقوامِ عالم میں بلند مقام دلوائیں۔
خیر النساء بلوچ

ایمان اتحاد تنظیم آج پاکستان کو سنوارنے اور مسائل سے نکالنے کے لیے قائدکا فرمان ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔
13/08/2026

ایمان
اتحاد
تنظیم
آج پاکستان کو سنوارنے اور مسائل سے نکالنے کے لیے قائدکا فرمان ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔

جب تک مسلمان ریاست، سیاست، معیشت اور معاشرت سمیت زندگی کے ہر دائرے میں اللّٰہ کے احکامات کو غالب کرنے کی جدوجہد نہیں کری...
13/08/2026

جب تک مسلمان ریاست، سیاست، معیشت اور معاشرت سمیت زندگی کے ہر دائرے میں اللّٰہ کے احکامات کو غالب کرنے کی جدوجہد نہیں کریں گے، پاکستان اپنے مقصدِ وجود کو مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکے گا۔






آئیں اس بات کا عہد کریں کہ نئی نسل کو مسائل نہیں، ان کا حل دیں گے، مایوسی نہیں امید دیں گے، انھیں صرف جذباتی نہیں بلکہ ا...
13/08/2026

آئیں اس بات کا عہد کریں کہ نئی نسل کو مسائل نہیں، ان کا حل دیں گے، مایوسی نہیں امید دیں گے، انھیں صرف جذباتی نہیں بلکہ اس ملک کا باشعور شہری بنائیں گے۔






آزادی۔جشن سے آگے کی حقیقت۔۔وطن عزیز پاکستان دو روز بعد اپنا اناسی یوم آزادی منانے جارہا ہے۔ہر سال کی طرح اس خصوصی دن کی ...
13/08/2026

آزادی۔جشن سے آگے کی حقیقت۔۔

وطن عزیز پاکستان دو روز بعد اپنا اناسی یوم آزادی منانے جارہا ہے۔ہر سال کی طرح اس خصوصی دن کی خوشیاں منانے کے لیے ملک بھر میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔
جگہ جگہ لہراتے ہوئے سبز ہلالی پرچم دل میں ایک منفرد جذبوں کی گرمائش کر رہے ہیں جو اس موقع کا خاصہ ہیں۔
یوم آزادی پر جشن کے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔
تقریبات کا اہتمام،پرچم کشائ،کیک کاٹنے کی تقریب منقعد کی جاتی ہیں۔
کچھ سالوں سے یہ مشاہدہ منظر عام پر آیا ہے کہ اس دن کو منانے کے کچھ نئے انداز ہمارے معاشرے کا حصہ بن گئے ہیں جس میں کہ پٹاخے بازی،آتش بازی،یوم آزادی والے دن سبز اور سفید کپڑے زیب تن کرکے ہلڑ بازی کرنا،تفریحی مقامات پر جاکر سوشل میڈیا کانٹینٹ بنانا شامل ہیں جو بظاہر تو خوشی بنانے کے انداز لگتے ہیں مگر ایک سوال ذہن کے دریچے پر اٹھتا ہے کہ کیا آزادی کا دن مخص اس انداز سے جشن منانے کا ہے یا پھر جو اس ملک کے قیام کی بنیادی وجہ تھی،جو نظریہ تھا،جس ضرورت کے تحت ایک الگ خطے کا مطالبہ مسلمانوں کی طرف سے کیا گیا تھا،کیا آج ہم بطور قوم اس نظریہ کی اہمیت سمجھ رہے ہیں؟کیا ہم اپنے ملک کے اقدار کی حفاظت کر رہے ہیں؟کیا ہم واقعی دل سے خوش اور مطمئن ہوتے ہیں اس دن یا فقط ایک رسم کے طورپر جشن آزادی کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنے دل ناتواں کو تسلی دیتے ہیں؟

چاروں طرف لہراتے ہوئے سبز ہلالی پرچم،جھنڈیوں سے سجے گلی محلے،سڑکوں پر قومی ترانوں کی گونج،بیکریوں پر سفید اور ہرے کیک کی بھرمار،سوشل میڈیا پر حب الوطنی سے بھرے جذباتی پیغامات مگر کیا جشن کی حقیقت بس ان دنیاوی اور مادی چیزوں تک محدود رہ گئ ہے؟
کیا ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر رہے ہیں؟
کیا ہم اس ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے کوئ اقدامات کر رہے ہیں؟
کیا ہم معاشرے میں پھیلے ظلم و ستم کے اندھیروں کو دور کرنے کے لیے کوئ جدوجہد کر رہے ہیں؟
کیا ہم نے اقتدار کی کنجیاں نیک لوگوں کے ہاتھوں میں تھمائ ہوئ ہیں یا پھر ظالم حکمرانوں کے تسلط میں عمر رواں کاٹ رہے ہیں؟۔
خوشی کا بہترین اظہار تو عملی اور دلی طور پر ایسا رویہ اختیار کرنا ہے جس سے ہم یہ پیغام دے سکیں کہ ہم صرف جسمانی طور پر آزاد نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی آزاد ہیں۔
ہم اپنے نظریہ کی حفاظت کرتے ہیں،ہم اس وطن کی اساس ”کلمہ طیبہ“ کی پاسداری کرتے ہیں،ہم اپنی اخلاقی و سماجی ذمہ داریوں کی احسن ادائیگی کرتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بار یوم آزادی جشن ایک الگ طریقے سے منایا جائے۔تجدید وفا کیا جائے۔اپنے عہد و پیمان کو پورا کیا جائے۔
گھروں سے نکلیں تو صرف ظاہری طور پر ہی جشن مناتے ہوئے محسوس نہ ہوں،بلکہ اندورنی طور پر ہمارا دل اس ملک کے حالات کا دھارا بدلنے کا عزم رکھتا ہو،ہمارے حوصلے بلند ہوں اور جذںے جوان ہوں۔

اس بار یوم آزادی،ایک الگ طرح جشن منایا جائے
جو کیے ہیں وعدے مٹی سے،ان کو اب نبھایا جائے۔

ہادیہ

13/08/2026


12/08/2026

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kuch Khaas کچھ خاص posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Kuch Khaas کچھ خاص:

Shortcuts

Share