08/09/2026
کراچی: شہر کی تاریخی عمارتیں تیزی سے اپنی اصل شناخت کھو رہی ہیں، کہیں مبینہ طور پر توڑ پھوڑ، کہیں غیر قانونی تعمیرات اور کہیں تاریخی عمارتوں کو کمرشل مقاصد کے لیے تبدیل کرنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کراچی کے تاریخی ورثے کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی ہے؟
اسسٹنٹ کمشنر سے سوال ہے کہ ان کے زیرِ انتظام علاقوں میں اگر تاریخی عمارتوں میں غیر قانونی تبدیلیاں ہو رہی ہیں تو انتظامیہ کو اس کا علم کیوں نہیں؟
ڈی جی ہیریٹیج اور متعلقہ حکام سے سوال ہے کہ تاریخی عمارتوں کی حفاظت کے لیے قوانین اور ادارے موجود ہونے کے باوجود یہ صورتحال کیوں پیدا ہو رہی ہے؟
کیا تاریخی عمارتوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جاتی ہے؟
اگر کی جاتی ہے تو پھر مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور توڑ پھوڑ حکام کی نظروں سے کیسے اوجھل رہتی ہے؟
سوال یہ بھی ہے کہ اگر سرکاری ادارے ہی کراچی کے تاریخی ورثے کو تحفظ نہیں دے سکتے تو گڈ گورننس کے دعوے کیسے درست ثابت ہوں گے؟
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے صرف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور کراچی کے تاریخی ورثے کو مزید نقصان سے بچایا جائے۔