Council of Pakistan Newspaper Editors -CPNE

Council of Pakistan Newspaper Editors -CPNE The Council of Pakistan Newspaper Editors (CPNE) is vibrant, dynamic and sole representative body of the editors community of Pakistan.

Council of Pakistan Newspaper Editors (CPNE) is a registered, voluntary nonprofit organization with a mission to promote and protect human rights, particularly the right to information and freedom of expression. Established in 1957, it is the largest representative platform of professional editors and journalists in the country, consisting of nearly 500 members representing print and electronic me

dia. For more than five decades, CPNE has been mobilizing society to demand universal access to information. CPNE has consistently engaged with the Government of Pakistan and provincial governments on the subject of press freedoms.

تاریخ: 19 اپریل 2025 لاہور(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای)نے میڈیا کی آزادی پر پابندیوں اور پرنٹ می...
20/04/2025

تاریخ: 19 اپریل 2025



لاہور(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای)نے میڈیا کی آزادی پر پابندیوں اور پرنٹ میڈیا کو درپیش چیلنجز پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ۔سی پی این ای اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں صدر ارشاد احمدعارف نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کی ایک مسلمہ اہمیت ہے اور ذمے دارانہ صحافت کا علمبردار ہے ،لیکن سوشل میڈیا سے حکومتی شکایات کا ملبہ بھی مین اسٹریم میڈیا پر پڑ رہا ہے اور اسکی آزادی کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں ۔میڈیا اداروں اور صحافیوں کے خلاف تادیبی کاروائیاں کی جا رہی ہیں ایک طرف حکومتی دعوں کے مطابق ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے لیکن حکومت کی عدم توجہ کے باعث پرنٹ میڈیا مزید زبوں حالی کا شکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجی صنعتی ومعاشی شعبے کے بجٹ سکڑنے کے باعث پرنٹ میڈیا کا زیادہ انحصار سرکاری اشتہارات پر ہے، جس کی وجہ سے اسے دبائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے اخبارات کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اقدامات اٹھانا چاہیئں۔سینئر نائب صدر انور ساجدی نے کہا کہ پرنٹ میڈیا آج انتہائی سنجیدہ بحران سے دوچار ہے، سوشل میڈیا کی یلغار نے روایتی صحافت کو کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ بلوچستان میں پرنٹ میڈیا تاریخ کے انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔سیکریٹری جنرل اعجاز الحق نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کو درپیش بحران کا درست حل اس وقت ممکن ہے جب مسائل کی درست نشاندہی کی جائے۔ سرکاری اشتہارات پرنٹ میڈیا کی ریڑھ کی ہڈی ہیں تاہم تمام حکومتوں کی جانب سے اشتہارات کی بندش کو پرنٹ میڈیا پر دبائو ڈالنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے اخبارات کو براہ راست بینک اکائونٹ میں سرکاری اشتہارات کے واجبات کی ادائیگی شروع کر دی ہے۔پنجاب حکومت بھی اس فارمولے پر کام کر رئی ہے جو خوش آئند ہے انہوں نے کہا سندھ حکومت کی جانب سے 2021 تک گزشتہ 7 سال کے بجٹیڈ / نان بجٹیڈ اشتہارات کا آڈٹ جاری ہے ، جو رواں ماہ کے اختتام تک مکمل کرلیا جائے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپرا رولز میں ترامیم کرکے ٹینڈر اشتہارات صرف ویب سائٹ پر آویزاں کر رئی ہے اس حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جو صریحا انصافی ہے۔ اس سے پرنٹ میڈیا کو شدید نقصان ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ ادارتی پالیسی کے باعث بعض اخبارات کے اشتہارات کی بندش قابل مذمت ہے ۔ڈاکٹر جبار خٹک نے پرنٹ میڈیا کی بہتری کے لیے سلوشن جرنلزم، مشترکہ پرنٹنگ پریس کے قیام اور اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجاویز دی۔ کاظم خان نے پیکا ایکٹ سمیت میڈیا مخالف تمام قوانین کو ختم کیا جائے اور صحافیوں اور میڈیا اداروں کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔ایاز خان نے کہا کہ پنجاب میں بھی آزادی صحافت کی صورتحال انتہائی حد تک قابل تشویش ہوچکی ہے اور ریاست مین اسٹریم میڈیا کو کنٹرول کر کے خود سوشل میڈیا کو تقویت دے رہی ہے۔نائب صدر کے پی کے طاہر فاروق نے اجلاس کو بتایا کہ سی پی این ای کی طرف سے پشاور ہائیکورٹ میں اخبارات کے واجبات کے حوالے سے جو کیس ہے اس کی وجہ سے اخبارات کی روٹین کی ادائیگیاں زیادہ ہوئی ہیں اور امید ہے جون تک روٹین میں مزید بقایا جات بھی ملیں گے اور اسی پریشر میں پرانے واجبات بھی نکلیں گے ،انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کے نوٹس بھی جاری ہوئے ہیں صوبائی محکمہ اطلاعات نے ری کنسیلیشن شروع کی ہوئی ہے اور صوبائی حکومت کے جو محکمے جو پہلے ری کنسیلیشن نہیں کرتے تھے اب ان کی جانے ایک ارب اسی کروڑ میں سے ایک ارب دس کروڑ کی ری کنسیلیشن بقایا جات کی مد میں محمکہ اطلاعات کے ساتھ ہو چکی ہے ۔خاتون رکن درنایاب نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کو اپنی شناخت کی بحالی کے لیے پبلک انٹرسٹ اسٹوریز کو ترجیح دینا ہوگی۔اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے اخبارات کو بھیجے گئے نوٹسز پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور ڈان اخبار کے اشتہارات کی بندش کی مذمت کی گئی۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ جب تک اے بی سی کی جانچ کا طریقہ کار تبدیل نہیں ہوتا ، ایف بی آر کی جانب سے اخبارات کو نوٹسز بھجوانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔اجلاس میں سی پی این ای کی سالانہ ''پاکستان میڈیا فریڈم رپورٹ'' بھی پیش کی گئی جس میں سال 2024 اور 2025 کے دوران صحافتی فرائض انجام دیتے ہوئے جاں بحق، زخمی اور ملک چھوڑنے پر مجبور ہونے والے صحافیوں کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔اسٹینڈنگ کمیٹی نے اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات پر 7 اخبارات و جرائد کو ایسوسی ایٹ ممبرشپ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ جن اخبارات کو شوکاز نوٹس بھیجے گئے تھے ان میں سے جہنوں نے شوکاز کے جواب میں معزرت نامہ جمع کروا دیا ہے ،سی پی این ای کے سالانہ اجلاس عام کے فیصلے کے مطابق ان کیسز کو آئندہ اجلاس عام میں رکھا جائے ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر اشتہاری ایجنسی میڈاس کے مالک سے واجبات کی ادائیگی پر بات نہ بنی تو ایک ہفتے کے اندر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سی پی این ای کی جنرل کونسل کا اگلا اجلاس 3 مئی بروز ہفتہ 2025 کو کراچی میں منعقد کیا جائے گا۔اجلاس میں سیکریٹری جنرل اعجاز الحق، سینئر نائب صدر انور ساجدی، ڈپٹی سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو، نائب صدور عامر محمود، طاہر فاروق، یحییٰ خان سدوزئی، بابر نظامی، جوائنٹ سیکریٹریز عارف بلوچ، منزہ سہام، رافع نیازی، وقاص طارق فاروق، فنانس سیکریٹری حامد حسین عابدی، انفارمیشن سیکریٹری ضیا تنولی اور سی پی این ای کے اراکین کاظم خان، ایاز خان، عبدالخالق علی، عبدالرحمان منگریو، اسلم میاں، بلال اسلم، بشیر احمد میمن، ڈاکٹر جبار خٹک، ڈاکٹر زبیر محمود، فضل الحق، قاضی اسد عابد، مقصود یوسف زئی، محمد اسلم خالد، محمد اویس رازی، سجاد عباسی، سردار محمد سراج، شہزاد امین، شکیل احمد ترابی، شیر محمد، سید مصور زنجانی اور ذوالفقار احمد راحت نے شرکت کی۔ اجلاس میں در نایاب، جمیل احمد قاضی، عثمان غنی سیفی اور ایوب چوہان بطور مبصر شریک ہوئے۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز

تاریخ: 13 اپریل 2025لاہور ( پ ر)کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز(سی پی این ای) کی پنجاب کمیٹی کا خصوصی اجلاس چیئرمین ...
13/04/2025

تاریخ: 13 اپریل 2025

لاہور ( پ ر)کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز(سی پی این ای) کی پنجاب کمیٹی کا خصوصی اجلاس چیئرمین ایاز خان کی زیرصدارت مقامی کلب میں ہوا جس میں صوبہ پنجاب میں آزادی صحافت اور اخبارات و جرائد کو درپیش صورتحال پر تفصیلی غور و غوض کیا گیا۔ اجلاس میں شرکا نے وزارت اطلاعات حکومت پنجاب کی جانب سے صحافتی اداروں کو اشتہارات دینیاور واجبات کی ادائیگی کے نئے اور ڈیجیٹیل طریقہ کار پر اظہار اطمینان کیا گیا، اجلاس کے دوران صوبہ بلوچستان کے حالات کے پیش نظر وہاں صحافت کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے تجویز پیش کی گئی کہ ماضی کی طرح اب بھی سی پی این ای کے پلیٹ فارم کو بلوچستان کی حالیہ صورتحال جیسے قومی مسائل کے حل کے تلاش کے لئے استعمال کیا جائے۔ چیئرمین ایاز خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں سی پی این سی کے صدر ارشاد احمد عارف، سی پی این ای پنجاب کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین بابر نظامی، جوائنٹ سیکرٹری پنجاب وقاص طارق، اراکین ذوالفقار احمد راحت، احمد شفیق، عرفان اطہر، زبیر محمود، شہزاد امین، اسلم میاں، فہد صفدر اور ارشد روحانی شریک ہوئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایاز خان نے کہا کہ پنجاب میں آزادی صحافت کی صورتحال پر صرف ہنسا ہی جا سکتا ہے کیونکہ اس حوالے سے حالات بہت مشکل ہیں اور آئین و قانون کی بات بے معنی سی ہو کر رہ گئی ہے۔ ریاست کو اس وقت سوشل میڈیا سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے لیکن حکومت مین سٹریم میڈیا پر خبروں کو کنٹرول کر کے خود ہی سوشل میڈیا کو مضبوط کر رہی ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور میں صوبہ بلوچستان کے حالات بہت بہتر تھے۔ سی پی این ای کے صدر ارشاد احمد عارف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن ممالک میں میڈیا کنٹرولڈ ہے یا وہاں بنیادی حقوق میسر نہیں ہوتے وہاں کی حکومتیں اپنے شہریوں کو بنیادی اشیائے ضروریہ انتہائی ارزاں قیمتوں پر فراہم کر کے انہیں خوشحال رکھتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں رگڑا بھی لگایا جاتا ہے اور آزادی بھی سلب کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود میڈیا اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احمد شفیق نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے حالات دیکھ کر ہمارا دل دکھتا ہے۔ وہاں گذشتہ 70سالوں میں اتنے زیادہ مالی وسائل فراہم کئے گئے ہیں کہ فی کس ایک کروڑ روپے وہاں کے شہریوں پر بظاہر خرچ کئے گئے ہیں۔ وہاں کے لوگ ریاست کوتو برا بھلا کہہ رہے ہیں لیکن وہاں کے سرداروں کا لگژری لائف سٹائل کو دیکھیں۔ بسوں، ٹرینوں سے پنجابیوں کو نکال کر مارا جا رہا ہے لیکن ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے اس کی مذمت میں ایک لفظ نہیں بولا۔ کسی بھی پاکستانی کو شناخت کی بنیادپر قتل نہیں کیا جانا چاہیئے۔ عرفان اطہر قاضی نے کہا کہ بلوچستان کی بچیاں دستکاری کر کے کراچی میں انہیں بمشکل بیچ کر اپنا گزر بسر کرتی ہیں۔ ان کا بجا شکوہ ہے کہ انہیں انٹرنیٹ کو سہولت میسر ہوتی تو وہ آن لائن اپنی پراڈکٹس بیچ سکتیں۔ سیاستدان صوبہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں لیکن ہمیں بطور صحافی وہاں مفاہمت اور صلح کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے جیسے مجید نظامی اور حمید نظامی مرحوم ماضی میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اس لئے اب وقت آگیاہے کہ سی پی این ای کے پلیٹ فارم کو صوبہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے استعمال کیا جائے کیونکہ ڈائیلاگ ہی اس معاملے کا واحد حل ہے۔ ذوالفقار راحت نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے قوم پرست رہنما حالات سے تنگ آ کر پیچھے ہٹے تو ڈاکٹر ماہرنگ کو جگہ ملی اور وہ لیڈر بن گئیں۔ موجودہ حالات کے باوجود ہمیں مثبت رہنا ہو گا اور مایوس بالکل نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ اداروں نے وہاں بہت کام کر رکھا ہے اور انہیں وہاں کیحالات کا ہم سے بہت بہتر علم ہے کیونکہ وہ وہاں کے زمینی حقائق کو ہم سے بہت بہتر جانتے ہیں۔ وقاص طارق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپرا رولز میں ترامیم پر حکومت کی جانب سے ہم سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ایس پی ایل کیمعاملے پر واجبات کی ادائیگی کے معاملے کو بہت بہتر کر دیا گیا ہے لیکن آئی پی ایل کا معاملہ لٹکا ہوا ہے جس کی وجہ سے ریجنل اخبارات و جرائد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ صوبائی سیکرٹری اطلاعات سید طاہر رضا ہمدانی نے کہا کہ جن اخبارات کو واجبات ادا کئے جا رہے ہیں، ان سے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے سرٹیفکیٹ لئے جا رہے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے وفاق کی پالیسی کو اپنایا جا رہا ہے لیکن سی پی این ای سمیت کوئی بھی صحافتی ادارہ اپنی تجاویز دیتا ہے تو اس خوش آمدید کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میڈیا کے لئے اس حوالے سے بہترین دور ہے کہ موجودہ صوبائی وزیر اطلاعات عظمی زاہد بخاری صحافی برادری کی بہترین وکیل اور معاون ہیں جو صحافیوں کی بہتری اور ان کے مسائل کے حل کے لئے ہر وقت کوشاں رہتی ہیں۔ ان کامزید کہنا تھا کہ جن جن صحافتی اداروں نے اپنے آن لائن اکاونٹس کی تفصیلات ڈی جی پی آر میں جمع کروا دی ہیں، انہیں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں کوئی مسئلہ نہیں آ رہا۔ باقی ادارے بھی جلد اپنے آن لائن اکاونٹس کی تفصیلات جمع کروا دیں۔ ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز غلام صغیر شاہد نے کہاکہ حکومت کی جانب سے پیپرا رولز میں کچھ ترامیم ہوئی ہیں جس کی وجہ اشتہارات اور واجبات کی ادائیگی میں کچھ مسائل آ رہے ہیں لیکن چیف سیکرٹری پنجاب کی بیرون ملک سے واپسی پر اجلاس میں معاملات حل کر لئے جائیں گے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایڈورٹائزنگ کا مجموعی بجٹ جسے بڑھا کر 2 ارب روپے کر دیا گیا ، کو 7 ارب تک مزید بڑھایا جائے جس سے اخبارات، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ سوشل میڈیا کے حوالے حکومتی پالیسی ڈی جی پی آر کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اخبارات وغیرہ کے سوشل میڈیا پیجز پر ملینز کے حساب سے سبسکرائبرز موجود ہوتے ہیں لیکن ان کی پوسٹ پر ویوز صرف چند ایک ہوتے ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے سبسکرائبرز قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی طریقے سے بنائے گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے صحافتی اداروں کو ڈیجیٹل طریقے سے آن لائن ادائیگیوں کے نئے اور بہتر طریقہ کار پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا اور تجویز دی گئی کہ آن لائن پیمنٹ کے ساتھ ایک میسج کیذریعے یہ آگاہی دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا جائے کہ کن اشتہارات کی مد میں کتنی کتنی ادائیگی کی گئی ہے جس پر ڈی جی پی آر نے کہا کہ پہلے ہی ایسا شروع کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران روزنامہ غریب فیصل آباد کے ایڈیٹر تنویر شوکت کی اہلیہ، سیکرٹری اطلاعات سی پی این ای ضیا تنولی کی ممانی اور تجارتی رہبر فیصل آباد کے پبلشر عتیق الرحمان کے انتقال پر فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ چیئرمین ایاز خان کی ہدایت پر جوائنٹ سیکرٹری سی پی این ای پنجاب وقاص طارق کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے ملاقات کرے گی۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز

تاریخ:10اپریل 2025کراچی (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) سندھ کمیٹی کے اجلاس میں ٹھری میرواہ میں ص...
10/04/2025

تاریخ:10اپریل 2025
کراچی (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) سندھ کمیٹی کے اجلاس میں ٹھری میرواہ میں صحافی اے ڈی شر کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فی الفور گرفتار ی کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں میڈیا کی آزادی پرپابندیوں اور پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کی گرفتاری پر بھی انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری انفارمیشن سندھ ندیم الرحمان نے خصوصی شرکت کی ۔سیکریٹری انفارمیشن نے اجلاس میں ممبران کی جانب سے آزادی صحافت کی صورت حال پر تحفظات کے اظہار کے جواب میں کہا کہ سندھ کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پریکٹشنرز کو فعال بنانے کا عمل جاری ہے۔ سیکریٹری انفارمیشن نے اشتہارات کے واجبات کے حوالے سے بتایا کے 2014 سے 2021 تک کے بجیٹیڈ اور نان بجیٹیڈ اشتہارات کا آڈٹ جاری ہے بجیٹیڈ واجبات کا آڈٹ مکمل ہوگیا ہے جبکہ نان بجیٹیڈ واجبات کا آڈٹ جاری ہے، جو امید ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا ، انہوں نے مزید بتایا کہ اشتہارات کے حوالے سے نئی پالیسی کے تحت بجٹیڈ اور نان بجٹیڈ اداروں کو الگ کردیا گیا ہے جبکہ 2021 کے بعد کے واجبات کے سلسلے میں اداروں کے لیے ون لائنر کی پالیسی بنادی گئی ہے جس سے معاملات حل کرنے میں آسانی ہوگی ۔ انہوں نے پرنٹ میڈیا کے اشتہاراتی واجبات کی ادائیگیاں بہتر بنانے اور چھوٹے اخبارات اور ریجنل اخبارات کے کوانٹم میں اضافے کے لیے ڈائریکٹر یوسف کابورو کو خصوصی ہدایات دیں۔سی پی این ای سندھ کمیٹی کے چیئرمین عامر محمود نے اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے سیکریٹری انفارمیشن کو پرنٹ میڈیا کے دیرینہ مسائل سے آگاہ کیا اور اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم اور واجبات کی ادائیگیوں میں جاری تاخیر کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرنٹ میڈیا کے لیے 40 فی صد بجٹ مختص کیا جائے، جس کے لیے وزیر اطلاعات کو خطوط بھی لکھے جا چکے ۔ اس موقع پر سیکریٹری جنرل اعجاز الحق نے شارٹ نوٹس پر اجلاس میں شرکت کرنے پر سیکریٹری انفارمیشن شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ندیم الرحمان پرنٹ میڈیا کے مسائل کے حل کے لیے گہری دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ انہوں نے اجلاس میں وفاق پر اخبارات کے بجٹیڈ واجبات کے بارے میں صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے میں سی پی این ای نے حکومت کو خطوط بھی لکھے ہیں،امیدہے 60 سے 90 دن میں پرنٹ اور دیگر میڈیا کو بجٹیڈ واجبات کی ادائیگیاں کردی جائیں گی۔ڈاکٹر جبار خٹک نے اخبارات کے اشتہارات کے واجبات اور کوانٹم کو شفاف بنانے کے لیے انفارمیشن ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں روزنامہ غریب فیصل آباد کے ایڈیٹر تنویر شوکت کی اہلیہ اور صحافی ای ڈی شر کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین فقیر منٹھار منگریو، سینئر نائب صدر انور ساجدی، ڈپٹی سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو، فنانس سیکریٹری حامد حسین عابدی، سینئر اراکین ڈاکٹر جبار خٹک، حسن عباس، عبدالخالق علی، عبدالرحمان منگریو، علی حمزہ افغان، قاضی عامر جبران، غلام شبیر، شیر محمد کھاوڑ، بشیر احمد میمن، محمد قاسم سومرو، عبدالرسول سومرو، عمران کورائی، مقصود یوسفی، محمود عالم خالد، سلمان قریشی، مدثر عالم، محمد سعید شاہ، نصرت مرزا، شاہد ساٹی، سلیم شیخ، مظفر اعجاز، نسیم اختر شیخ سمیت ڈی جی پی آر ڈاکٹر معیز الدین پیرزادہ اور ڈائریکٹر انفارمیشن (اشتہارات)محمد یوسف کابورو بھی موجود تھے۔
جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز

تاریخ: 26 مارچ 2025Press Release Revisedکراچی(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) نے صحافی فرحان ملک ا...
26/03/2025

تاریخ: 26 مارچ 2025
Press Release Revised

کراچی(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) نے صحافی فرحان ملک اور صحافی وحید مراد کی گرفتاری اور راولپنڈی میں ٹریفک پولیس کے خلاف قانون اقدام کی ویڈیو وائرل کرنے والے ایک دکان کے مالک کی ایف آئی اے اہلکاروں کے ہاتھوں پیکا ایکٹ 2025 کے تحت حراست میں لیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سی پی این ای کے صدر ارشاداحمد عارف اور سیکریٹری جنرل اعجاز الحق نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پیکا ایکٹ 2025 کی منظور ی کے وقت سی پی این ای اور دیگر صحافتی تنظیموں نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ اب اپنے برے اثرات کے ساتھ منظرعام پر آرہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اور جمہوری ادارے آزادی صحافت سے متعلق ان معاملات کو آئین میں دیے گئے حق کی روشنی میں طے کریں۔اور اس تاثر کو مزید پختہ نہ ہونے دیں کہ پیکا ایکٹ حکومت اور سرکاری اہلکاروں کی بری کارکردگی پر پردہ ڈالنے کیلئے نافذ کیا گیا۔انھوں نے ایک بار پھر ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ پیکا ایکٹ 2025 کوفوری طور پر واپس لیا جائے۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز

تاریخ: 26 مارچ 2025Press Release with Correctionکراچی(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) نے صحافی فرح...
26/03/2025

تاریخ: 26 مارچ 2025
Press Release with Correction

کراچی(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) نے صحافی فرحان ملک اور صحافی وحید مراد کی گرفتاری اور راولپنڈی میں ٹریفک پولیس کے خلاف قانون اقدام کی ویڈیو وائرل کرنے والے ایک دکان کے مالک کی ایف آئی اے اہلکاروں کے ہاتھوں پیکا ایکٹ 2025 کے تحت حراست میں لیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سی پی این ای کے صدر ارشاداحمد عارف اور سیکریٹری جنرل اعجاز الحق نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پیکا ایکٹ 2025 کی منظور ی کے وقت سی پی این ای اور دیگر صحافتی تنظیموں نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ اب اپنے برے اثرات کے ساتھ منظرعام پر آرہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اور جمہوری ادارے آزادی صحافت سے متعلق ان معاملات کو آئین میں دیے گئے حق کی روشنی میں طے کریں۔اور اس تاثر کو مزید پختہ نہ ہونے دیں کہ پیکا ایکٹ حکومت اور سرکاری اہلکاروں کی بری کارکردگی پر پردہ ڈالنے کیلئے نافذ کیا گیا۔انھوں نے ایک بار پھر ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ سی پی این ای اور دیگر صحافتی تنظیموں سے مشاورت کرکے پیکا ایکٹ 2025 پر نظر ثانی کرے اور مثبت ترامیم کرکے اسے نافذ کیا جائے۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز

تاریخ: 26 مارچ 2025کراچی(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) نے صحافی فرحان ملک کی گرفتاری، صحافی وحید...
26/03/2025

تاریخ: 26 مارچ 2025

کراچی(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) نے صحافی فرحان ملک کی گرفتاری، صحافی وحید مراد کی پراسرار گمشدگی اور راولپنڈی میں ٹریفک پولیس کے خلاف قانون اقدام کی ویڈیو وائرل کرنے والے ایک دکان کے مالک کی ایف آئی اے اہلکاروں کے ہاتھوں پیکا ایکٹ 2025 کے تحت گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سی پی این ای کے صدر ارشاداحمد عارف اور سیکریٹری جنرل اعجاز الحق نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پیکا ایکٹ 2025 کی منظور ی کے وقت سی پی این ای اور دیگر صحافتی تنظیموں نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ اب اپنے برے اثرات کے ساتھ منظرعام پر آرہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اور جمہوری ادارے آزادی صحافت سے متعلق ان معاملات کو آئین میں دیے گئے حق کی روشنی میں طے کریں۔اور اس تاثر کو مزید پختہ نہ ہونے دیں کہ پیکا ایکٹ حکومت اور سرکاری اہلکاروں کی بری کارکردگی پر پردہ ڈالنے کیلئے نافذ کیا گیا۔انھوں نے ایک بار پھر ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ سی پی این ای اور دیگر صحافتی تنظیموں سے مشاورت کرکے پیکا ایکٹ 2025 پر نظر ثانی کرے اور مثبت ترامیم کرکے اسے نافذ کیا جائے۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز

تاریخ: 19 مارچ 2025 ،بروز بدھسی پی این ای کا روزنامہ غریب فیصل آباد کے ایڈیٹر تنویر شوکت کی اہلیہ کے انتقال پر اظہار تعز...
19/03/2025

تاریخ: 19 مارچ 2025 ،بروز بدھ

سی پی این ای کا روزنامہ غریب فیصل آباد کے ایڈیٹر تنویر شوکت کی اہلیہ کے انتقال پر اظہار تعزیت

کراچی (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے صدر ارشاد احمد عارف، سیکریٹری جنرل اعجاز الحق سمیت اسٹینڈنگ کمیٹی کے تمام عہدیداران اور اراکین نے رکن اخبار'' روزنامہ غریب فیصل آباد'' کے ایڈیٹر تنویر شوکت کی اہلیہ کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کیا ہے اور اپنے تعزیتی پیغام میں اللہ تعالی کے حضور دعا کی ہے کہ یارب کریم مرحومہ کی مغفرت فرمائیں اور سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔ آمین

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز

تاریخ: 15 مارچ 2025 ،بروز ہفتہسی پی این ای کا روزنامہ کلیم سکھر کے پبلشر شاہد مہر شمسی کے انتقال پر اظہار تعزیتکراچی  (پ...
15/03/2025

تاریخ: 15 مارچ 2025 ،بروز ہفتہ

سی پی این ای کا روزنامہ کلیم سکھر کے پبلشر شاہد مہر شمسی کے انتقال پر اظہار تعزیت

کراچی (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے صدر ارشاد احمد عارف، سیکریٹری جنرل اعجاز الحق سمیت اسٹینڈنگ کمیٹی کے تمام عہدیداران اور اراکین نے رکن اخبار "کلیم سکھر" کے پبلشر شاہد مہر شمسی کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کیا ہے اور اپنے تعزیتی پیغام میں اللہ تعالی کے حضور دعا کی ہے کہ یارب کریم مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔ آمین
جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز

21/02/2025
تاریخ:20 فروری 2025پشاور(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی خیبر پختونخوا کمیٹی کا اجلاس نائب صدر...
20/02/2025

تاریخ:20 فروری 2025
پشاور(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی خیبر پختونخوا کمیٹی کا اجلاس نائب صدر اور کمیٹی کے چیئرمین طاہر فاروق کی زیر صدارت ہوا ۔ جس میں سیکریٹری اطلاعات خیبر پختونخوا ارشد خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت جبکہ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل اعجاز الحق بھی اس اجلاس میں بطور خاص شریک ہوئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ارشد خان نے کہا کہ اخبارات کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ بہت جلد ادائیگی کا عمل شروع ہوجائے گا جبکہ موجودہ اشتہارات کی ادائیگی کا عمل ریگولرائز کردیا گیاہے، اشتہارات کی تقسیم منصفانہ طور پر کی جارہی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک محکمہ اطلاعات اور اخبارات کے درمیان اب تک اخبارات کے اشتہارات کے بقایا جات کی مد میں١یک ارب روپے تک کی ریکنسیلیشن ہوچکی ہے۔ ا س موقع پر سیکریٹری جنرل سی پی این ای اعجاز الحق اور نائب صدر طاہر فاروق نے سیکریٹری اطلاعات (کے پی) ارشدخان کو اخبارات کو درپیش مسائل اور بقایات کی عدم ادائیگی کے باعث اخبارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا اشتہارات کے بلوں کی ادائیگی ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک یقینی بنائی جائے جبکہ سالہا سال سے رکے ہوئے اخبارات کے بقایا جات کی فوری ادائیگی کا عمل شروع کیا جائے۔ سیکریٹری اطلاعات نے سی پی این ای کی کے پی کمیٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات کو اجاگر کرنے میں علاقائی اخبارات کا انتہائی اہم کردار ہے لہذاانہیں مضبوط اور مزید موثر بنانے کے لیے محکمہ اطلاعات بھرپور اقدامات اٹھا رہا ہے اور بہت جلد اخبارات کے بقایا جات کا مسئلہ بھی حل کرلیا جائے گا، صوبائی حکومت اس معاملے میں بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جس کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ سی پی این ای کے نائب صدر طاہر فاروق نے کہا کہ اخبارات کو درپیش مسائل حل کرنے میں سیکریٹری اطلاعات اہم کردار ادا کررہے ہیں ،توقع ہے کہ ان کی کوششوں اور اقدمات کے باعث بقایاجات کی ادائیگی کے عمل میں تیزی آئے گی لیکن موجودہ صورت حال میں بقایاجات کی عدم ادائیگیوں کے باعث اخبارات بندش کے دہانے پر ہیں۔ سیکریٹری جنرل سی پی این ای اعجاز الحق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پی این ای نے طویل جدوجہد کے نتیجے میں مثبت نتائج حاصل کیے ہیں۔ اگرچہ یہ بہت طویل سفر ہے جس میں ہمیں کئی آزمائشوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے لیکن ہماری سمت درست ہے۔ اس اجلاس میں عدنان ظفر(آج)، تنویر صدیقی(آج)، مسعود خان (ریاست)، اشرف ڈار(عوام الناس)، ظاہر شاہ شیرازی(نوائے پاکستان)، علی نواز گیلانی (الجمعیت سرحد)، فضل حق (ڈیلی ٹائمز)، امجد عزیز ملک (کسوٹی)، عظمت دائود زئی (پیغامات) ، جاوید آفریدی(پیام خیبر) ، سردار نعیم (قائد)، محمد ارشد (عدن)، لیاقت یوسف زئی(سرخاب)، وزیر زادہ (انتباہ)، ممتاز صادق (آزادی سوات)، شہزاد جدون (سرحد نیوز)، قیصر رضوی (جدت)، سلمانثناء اللہ (فرنٹیئر اسٹار)، ممتاز بنگش (92 نیوز) و دیگر موجود تھے۔
جاری کردہ : کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز

تاریخ: 23 جنوری 2025پریس ریلیزسی پی این ای نے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر پیکا ترمیمی بل 2025 مسترد کردیا کراچی(پ ر) ...
23/01/2025

تاریخ: 23 جنوری 2025

پریس ریلیز

سی پی این ای نے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر پیکا ترمیمی بل 2025 مسترد کردیا



کراچی(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای ) نے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ پیکا ترمیمی بل 2025 کو بغیر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے مسترد کردیا۔ سی پی این ای کے صدر، سیکریٹری جنرل اور دیگر عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافی اور سوشل میڈیا ایکیویسٹس کے خلاف سخت کارروائی اور سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی سفارشات پر مبنی ترامیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے حکومت کو جمہوری تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے متعلقہ صحافتی تنظیموں ، سول سوسائٹی ،وکلاء اور ہیومن رائٹس تنظیموں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔اس ضمن میں گزشتہ روز سی پی این ای فری میڈیا کمیٹی کے چیئرمین کاظم خان نے وزیر اعظم شہباز شریف کو باور کروایا کہ جب وہ اپوزیشن میں تھے تو وہ پیکا آرڈیننس کے سب سے بڑے مخالف تھے اور بحیثیت اپوزیشن لیڈر وہ اسے آزادی اظہار پر کاری ضرب گردانتے تھے ۔ اس حوالے سے وزیر اعظم نے فوری طور پر وفاقی وزیر اطلاعات کو ہدایات دیں کہ اس بل کی منظوری سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کی جائے۔سی پی این ای کسی بھی ایسے قانون کو جس سے کسی فرد کے اظہار کی آزادی متاثر ہو اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔

جاری کردہ : کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز

تاریخ:18 جنوری 2025سابق سینیٹر مشاہد حسین سید کی سی پی این ای اسٹینڈنگ کمیٹی اراکین سے ملاقات سی پیک راہداری سمیت متعدد ...
18/01/2025

تاریخ:18 جنوری 2025

سابق سینیٹر مشاہد حسین سید کی سی پی این ای اسٹینڈنگ کمیٹی اراکین سے ملاقات

سی پیک راہداری سمیت متعدد ملکی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال، میڈیا کی بہتری کے لئے سی پی این ای کی جدوجہد کو سراہا

اسلام آباد(18 جنوری 2025)کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) سٹینڈنگ کمیٹی اجلاس میں سابق وفاقی وزیرمشاہد حسین سید نے خصوصی شرکت کی۔ سی پیک راہداری سمیت متعدد ملکی و بین الاقوامی امورپر سیرحاصل گفتگوکی،تفصیلات کے مطابق کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کی اسٹینڈنگ کمیٹی کااجلاس ارشاداحمد عارف کی زیرصدارت جمعہ کے روز اسلا م آبادمیں ہوا،جس میں سیکرٹری جنرل سی پی این ای اعجازالحق ، سینئر نائب صدر انور ساجدی، ایازخان،کاظم خان اور ملک بھرسے آئے ہوئے عہدیداران اور ممبران بھی موجود تھے۔ اجلاس سے گفتگوکرتے ہوئے سابق سینیٹر مشاہدحسین سید کاکہناہے کہ سی پی این ای کی میٹنگ میں آکر بہت اچھالگ رہاہے کیونکہ یہ میرا اپنا گھر ہے۔صحافت کامعاشرے کی بہتری میں کردار انتہائی اہم ہوتاہے اور صحافیوں نے ہمیشہ ملکی بہتری کیلئے مثبت کردار ادا کیا ہے۔سابق سینیٹر نے اجلاس میں موجود سی پی این ای ممبران کے سوالات کے جوابات بھی دیئے اورملکی و بین الاقوامی امورپر سیرحاصل گفتگوکی۔پاک چین تعلقات پر بات کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغازہوگا،چین کوپاکستان میں اپنے شہریوں کی سیکورٹی کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کاایک انتہائی اہم ملک ہے جس کی اہمیت سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔پاکستانی معیشت کے حوالے سے ان کاکہناتھا کہ پہلے سے کافی بہتر ہو چکی ہے اور مزید بہتری کی امیدہے،انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے ڈونلڈٹرمپ دنیامیں جنگوں کے خاتمے میں اہم کرداراداکریں گے اورتجارت کوفروغ دیں گے،ڈونلڈٹرمپ کے اقتدارمیں آنے کے بعد عمران خان کی رہائی کے موضوع پر سوال کا جواب دیتے ہوئے مشاہد حسین کاکہناتھا اس حوالے سے اگر صدر ٹرمپ دبا ڈالتے ہیں تو پاکستان کیلئے مشکلات ہو سکتی ہیں،ٹرمپ کے دو دوست ہیں ایک سعودی عرب کے بادشاہ محمد بن سلمان اور یواے ای کے محمد بن زید،اگرٹرمپ نے عمران خان کو رہا کروانا چاہا تو وہ ان دونوں کو کال کریں گے ،اس حوالے سے پاکستان کاٹریک ریکارڈ بھی ہے جب دس دسمبر2000کو ایک جہاز آیا اور نواز شریف کو لے کر چلاگیا،اسی طرح بینظیربھٹو کو بھی رہائی ملی۔انہوں نے کہا کہ پرویزمشرف اپنے اقتدارکو دوام دینے کیلئے بینظیر بھٹو کو واپس پاکستان لے کر آئے اور یہ دس سال کا منصوبہ تھا جب مشرف چاہتے تھے وہ 2017 تک اقتدارمیں رہناچاہتے تھے لیکن ایک تدبیر انسان کرتے ہیں اور ایک تدبیر اللہ پاک کرتاہے،ہوتاوہی ہے جو اللہ چاہتاہے۔عمران خان کے حوالے سے ان کاکہناتھا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کیلئے یہ بات خطرناک ہے کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی عمران خان کے ساتھ ہیں اور دوسراپی ٹی آئی کی لابنگ کافی مضبوط ہے انہوں نے امریکہ میں دولابنگ فرمز ہائر کررکھی ہیں، بھارتی حکام کے پاکستان کے خلاف بیانات کے سوال پر مشاہدحسین سید کاکہناتھا بھارت عالمی منظرنامے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پاکستان کی منفی چیزیں رکھناچاہتے ہیں،بنگلہ دیش کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگالی بڑی سخت قوم ہے،بنگال کے الگ ہونے سے پاکستان کی جمہوریت کو نقصان پہنچا،اگر بنگلہ دیش ہمارے ساتھ ہوتاتو شاید آج اس طرح کی صورتحال نہ ہوتی کیونکہ وہ مذاحمت پسند لوگ ہیں،بنگلہ دیش کے گزشتہ انتخابات بہت سفاکانہ تھے،اس میں تمام مخالف سیاسی پارٹیوں کو تقریباختم کردیاگیاتھالیکن بنگالی عوام پھر اٹھی اور حالات آپ سب کے سامنے ہیں۔پاکستان کے تین ممالک کے ساتھ بارڈرزلگتے ہیں جن میں سے تین کے ساتھ بارڈرز پر باڑ لگی ہوئی ہے صرف چین کے ساتھ نہیں ہے،بھارت خطے میں صرف چین سے خائف ہے،ماضی قریب میں ہونیوالی جھڑپوں میں چین کی طرف سے بھارت کو بہت مار پڑی تھی،حتی کے بھارت نے پاکستان کے ساتھ رابطہ کیااورجنگ بندی کامعاہدہ کیاکیونکہ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے باعث کشمیر میں موجود پچاس ہزار فوج کو بھارت چین کے بارڈرپر لے جانا چاہتا تھا،چین نے اس جھڑپ میں بھارت کے دو ہزار مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا تھا جو کہ چھوٹی چیزنہیں،چین ایک بہت مضبوط ملک ہے۔سابق سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ سیاسی استحکام اورمعیشت لازم وملزوم ہیں،پاکستان کی بات کی جائے تو پچھلے تین سالوں میں20 ہزار پاکستانیوں نے یواے ای میں 12ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے،پاکستان کو انٹرنیٹ کی سست روی سے 1.6ارب ڈالر کانقصان ہوا،2024 دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کیلئے برا ترین سال رہا جب 1566دہشتگردی کے واقعات ہوئے،جنرل باجوہ کے دورمیں2سافٹ کو ہوئے۔ اجلاس میں سی پی این ای کے نائب صدور عامر محمود، طاہر فاروق،بابر نظامی یحیی خان سدوزئی، منیر احمد بلوچ، جوائنٹ سیکریٹریز عارف بلوچ، رافع نیازی، منزہ سہام، ممتاز احمد صادق، وقاص طارق فاروق، ڈپٹی سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو، فنانس سیکریٹری سید حامد حسین عابدی، انفارمیشن سیکریٹری ضیا تنولی، سینئر اراکین سردار خان نیازی، ڈاکٹر جبار خٹک، عبدالخالق علی، عدنان ظفر، آصف حنیف،اسلم میاں، ڈاکٹر زبیر محمود، اعتزاز حسین شاہ، فقیر منٹھار منگریو، فضل حق، مقصود یوسفی، محمود عالم خالد، سجاد عباسی، شکیل احمد ترابی، شیر محمد کھاوڑ، سید انتظار حسین زنجانی، تنویر شوکت، تزئین اختر، ارشد، سید سفیر حسین شاہ قصور جمیل روحانی و دیگرنے شرکت کی۔


جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز۔

Address

Council Of Pakistan Newspaper Editors
Karachi
75510

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+922135674095

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Council of Pakistan Newspaper Editors -CPNE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Council of Pakistan Newspaper Editors -CPNE:

Share