08/08/2026
"یاد رکھیے صفر کا آخری ہفتہ۔۔۔!!"
نمازِ جمعہ کے بعد مسجد نورِ ایمان سے ایک جمِ غفیر نکلا۔ والدِ بزرگوار آگے تھے اور میں پیچھے کہ برابر سے جانی پہچانی آواز آئی،
"آداب بھائی صاحب ! کیسے مزاج ہیں ؟"
والد ان کو دیکھ کر کِھل اٹھے، "ارے بھئی حسنے۔۔۔ آج اتنی دور جمعہ پڑھنے چلے آئے !؟"
وہ مخصوص دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ بولے
"جی بھائی صاحب۔۔۔ آپ ملیر سے یہاں آسکتے ہیں تو میں کورنگی سے کیوں نہیں پہنچ سکتا !"
احترام، محبت اور خلوص کے ساتھ گفتگو رہی پھر انھوں نے اجازت چاہی اور اپنا مخصوص الوداعی جملہ نہایت گرم جوشی سے ادا کیا
"بھائی صاحب۔۔۔ یاد رکھیے صفر کا آخری ہفتہ۔۔۔!!"
والد بزرگوار مسکرائے
"تم جیسا فنا فی الحسین آج تک نہ دیکھا۔۔۔ ابھی تو دو ماہ باقی ہیں۔۔۔ سال بھر تمہاری یاد دہانی کے بعد بھلا کس کی مجال کہ تمہارے گھر مجلس اور شب بیداری بھول جائے!!"
چشمِ تصور اواخرِ شب کے دھندلکے میں ڈوبی کورنگی کراچی کی ایک گلی میں جاتی ہے، قدرے نحیف مگر پروقار شخص پرانی ویسپا پر سوار، مٹتی ہوئی لکھنوی وضع داری اور شرافت کا بھرم لیے مجلس یا محفل سے گھر کی جانب لوٹتا۔ یہ میرے ممدوح، شرافت و نجابت کے مینوئے مجسم، سید شبہیہ الحسن زیدی المعروف "حسنے بھائی" تھے۔
غالب ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوست
مشغولِ حق ہوں بندگئ بوتراب میں
وہ مجھے کبھی اس دنیا کے انسان ہی نہیں لگے، بلکہ گم کردہ اقدار، شرافتِ نفس، اور تہذیبِ عزا کے بقیت السیف معلوم دیتے کہ جن کی دید قرونِ اولیٰ کے راست باز مومنین کی یاد تازہ کر دیتی تھی۔ ہر قدم مستند روایت کا پاسبان تھا اور ہر جنبش سے ایسا خلوص ٹپکتا کہ معصوم کے الفاظ زیادہ آ جاتے،
"خبردار ! تمہارے نفس کی کم سے کم قیمت جنت ہے اسے اس سے کمتر پر مت بیچ دینا."
انھوں نے اپنی جنت اپنے اعلیٰ اخلاق اور عزائے حسین سے والہانہ وابستگی سے ترتیب دی۔ زندگی مادی مفادات کے ترازو میں تولنے کے بجائے شرافت و اخلاق کے اعلیٰ معیار پر یوں گزاری کہ معاشرے کی تمام تر کج روی اور مادہ پرستی کے باوجود باطنی پاکیزگی اور سادگی برقرار رکھنا سکھا گئے۔ جب بھی حسنے بھائی کا سراپا نگاہوں میں آتا ہے، تو مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا یہ فرمانِ عالی شان یاد آتا ہے
"لوگوں کے ساتھ اس طرح معاشرت کرو کہ اگر مر جاؤ تو تم پر گریاں کناں ہوں، اور اگر زندہ رہو تو ملاقات کے مشتاق ہوں"۔
حسنے بھائی اس فرمانِ مبارک کا متحرک عملی نمونہ تھے۔ ظاہری طور پر جاذبِ نظر اور صبیح تھے، باطنی لحاظ سے اس سے کہیں زیادہ خوب سیرت اور پاکیزہ رفتار تھے۔ روشن چہرے پر خلوص اور شرافت صاف جھلکتی اور دھیمی مسکراہٹ مرجھائے دلوں کو نئی زندگی بخشتی۔ جس محفل میں جا بیٹھتے، وہاں ماحول ذکرِ محمد و آل محمد علیھم السلام سے معطر ہو جاتا تھا۔
بینک کی ملازمت کے مادہ پرستانہ اور سراسر کاروباری ماحول سے وابستہ ہونے کے باوجود طبعِ لطیف پر مادی آلائشوں اور دنیاوی طمع کا ادنیٰ سایہ بھی نہ پڑنے دیا۔ جہاں انسان حرص و منافقت میں درندگی کی حد پار کر چکا ہو، انہوں نے اپنے دامن کو ہمیشہ صاف رکھا۔ رزقِ حلال کی برکت سے اپنی اولاد کے باطن کو آراستہ کیا۔ یہ محتاط اور پاکیزہ طرزِ عمل مشعلِ راہ ہے کہ مادی دنیا کی چکا چوند، روحانیت اور اصولوں کو دھندلا نہیں سکتی۔
گفتگو انتہا درجے کی شستہ، لہجہ بلا کا متین، ہر چھوٹے بڑے کے لیے "آپ، جناب" کا دل نشیں تکلم ان کا طرۂ امتیاز تھا۔ خوش لباسی اور نفاست پسندی میں اپنی مثال آپ تھے۔ اس عادت نے ان کے خیالات اور نیت تک کو نفیس اور پاکیزہ رکھا۔ اس نفاستِ طبع، گہرے تہذیبی پس منظر اور بلند فکری کا نتیجہ تھا کہ حسنے بھائی خطابت اور شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ شہر کے دور دراز علاقوں کی مجالس، محافل اور شب بیداریوں میں مستقل شریک رہتے۔ ان کی شرکت محض رسمی نہیں، بلکہ قرآنِ کریم کی آیت الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ کا مصداق تھی۔ فرشِ مجلس کی کیفیت ان کی روح کو دیرپا اثر بخشتی۔ منبر سے ملنے والی ہدایت ان کے افعال و کردار کو ممتاز بناتی چلی جاتی۔ سلام، منقبت، نوحہ، مرثیہ وغیرہ کی مجالس و محافل کے لیے بے تاب رہتے۔
وہ پنجگانہ باجماعت نماز کے سچے عاشق اور فرائضِ بندگی کے سخت پابند تھے۔ صاف ظاہر ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اس فرمان پر سختی سے کاربند تھے
"ہمارے شیعوں کو نماز کے اوقات کے ذریعے پرکھو کہ وہ ان کی کتنی پابندی کرتے ہیں۔"
ان کے نزدیک نماز اور عزاداری دو الگ چیزیں نہیں تھیں، بلکہ ایک سچی حقیقت کے دو رخ تھے۔ وہ مصلے پر خدا کے حضور گریہ کرتے اور فرشِ عزا پر آلِ محمدؑ کے مصائب پر اشک بہاتے۔ عبادات میں وہ خضوع و خشوع تھا جو صرف سچے عارف کا حصہ ہوتا ہے اور جب مظلومِ کربلاؑ کا تذکرہ آتا، تو حسنے بھائی کا پورا وجود ایک تڑپتے ہوئے پارے کی مانند ہو جاتا۔ ان کی آنکھوں سے گرنے والا ہر آنسو ان کے باطنی خلوص کی سچی گواہی دیتا تھا۔ ان کا دل اس غم میں اس طرح دھڑکتا تھا کہ جیسے وہ خود اسی عصر کے گواہ ہوں۔ محرم کے تیسرے عشرے میں ایک برس ایسا ہوا کہ ایک دوست، جو اورنگی ٹاؤن کی ایک ماتمی انجمن کے منتظم تھے، وہاں ہونے والی مجلس اور شب بیداری میں بلایا۔۔۔ اورنگی کہاں اور کورنگی کہاں۔۔۔ لیکن فرشِ مجلس پر حسنے بھائی سے ملاقات کی توقع ہر جگہ رہتی۔ دیکھا تو وہ الوداعی نوحہ پر اشک بار صف اول میں محوِ ماتم تھے۔ فجر ہوئی تو وضو خانے کے قریب کسی سے کہہ رہے تھے،
"بات یہ کہ حسینی ہو اور نماز سے عشق نہ ہو۔۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔ بھئی مجھے تو ہر نماز میں مولا کی آخری نماز یاد آتی ہےـ"
حسنے بھائی نمازِ شب اور دعا و مناجات کا بہت اہتمام کرتے۔ اکثر امامِ سجاد علیہ السلام کی دعاؤں کا ذکر ایسے کرتے جیسے گنج گراں مایہ ہاتھ میں ہو۔
حسنے بھائی کا عزائی خلوص اپنی معراج پر رہا۔ ایک مجلس کے اختتام پر ملاقات ہوئی، جاتے ہوئے حسبِ معمول مخصوص جملہ دوہرایا، "ارے ہاں اظفر... یاد رکھنا صفر کا آخری ہفتہ۔۔۔ !!"
میں مسکرایا
"جی بالکل یاد ہے... یہ بتائیے اس بار مجلس سے کون خطاب کرے گا۔۔۔؟ اور ہاں۔۔۔ شب بیداری کے اختتام پر الوداعی نوحہ عابدیہ و کاظمیہ والے پڑھیں گے ؟؟"
وہ رکے اور کہنے لگے
"اظفر۔۔۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ ذاکر نامی گرامی ہو یا نہ ہو۔۔۔ انجمنیں پہنچ سکیں یا نہ پہنچ سکیں، کوئی آئے نہ آئے۔۔۔ ذواتِ مقدسات تو موجود ہوں گی۔۔۔ بس میاں پیغامِ حیسنی عام ہو اور پرسہ ہو۔۔۔!! دل سے بی بی کی بارگاہ میں۔۔۔ ہم خود رات بھر مصروفِ نوحہ و ماتم رہیں گے۔"
جو کہ مصروفِ سلامِ شہدا رہتا ہے
گو وہ رہتا نہیں پر نام سدا رہتا ہے
اس دن کے بعد گھر میں مجلسِ مسالمہ ہو یا مجلسِ عزا یا پھر جہاں بھی فرشِ عزا کی خدمت کا موقع ملا ان کے یہی الفاظ نصیحت بن کر ذہن میں گونجتے ہیں۔
میری یادداشت کے نہاں خانے میں ان کی مخلصانہ، بے لوث عزاداری کا نقش سب سے گہرا اور تر و تازہ ہے۔ نصف قرن یعنی پچاس برس سے زائد اپنے کاشانۂ عزا پر فرشِ عزا، شب بیداریوں اور نذر و نیاز کا اہتمام کرنے میں گزری۔ کراچی کی عزائی تاریخ میں شاید اتنے طویل عرصے فرد واحد کا اپنے گھر ایک تسلسل اور جوش و خروش سے شب بیداری قائم رکھنا کوئی معمولی بات نہیں، یہ ان کی مستقل مزاجی اور مولا سے وفاداری کا وہ محکم ثبوت تھا جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ انہوں نے تنگی و ترشی کے دور میں بھی کبھی اپنے اس مشن میں فرق نہیں آنے دیا۔
"یاد رکھیے۔۔۔ صفر کا آخری ہفتہ!"
یہ جملہ نہیں، بلکہ اہلِ ارادت کے لیے دعوتِ حق تھی جس کے سحر میں ہر صاحبِ دل کھینچا چلا آتا تھا۔ سچے بھائی، جعفر بھائی، اقبال بالی، اور کتنے ہی عظیم نوحہ خواں اس شب بیداری میں خدمات انجام دیتے رہے۔
یہ جملہ ان کی پہچان بن چکا تھا۔
کراچی کے حالات کتنے ہی دگر گوں ہوئے، سیاسی و مذہبی کشیدگی عروج پر ہوتی۔ لوٹ مار عام رہی لیکن حسنے بھائی اپنی پرانی ویسپا پر رات کے آخری پہر میں بھی سفر کرتے مجلس یا محفل میں جا پہنچتے۔ ایک بار کسی نے انھیں حالات کے باعث گھر رہنے کو کہا تو بے اختیار جناب ضیغم زیدی کا شعر سنانے لگے
ذہن اگر ہے الجھا الجھا دل بھی اگر ہیجان میں ہے
محفلِ ذکرِ حسین میں آ جا یہ تو ترے امکان میں ہے
حسنے بھائی کے گھر منعقد ہونے والی شب بیداری کا منظر روح پرور ہوتا تھا۔ وہ شمعِ عزا کو روشن رکھتے۔ حالات کے باعث کبھی کوئی انجمن نہ پہنچ پاتی تو چچا کوثر عابدی نوحہ پڑھنے لگتے اور سب گھر والے ماتم کرتے رہتے۔ آنے والوں کی حد درجہ تعظیم کرتے، ان کی تڑپ دیکھ کر یوں گماں ہوتا تھا جیسے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا یہ فرمانِ عالی ان کے دل پر نقش ہو کہ
"بے شک مومنین کے دلوں میں قتلِ حسینؑ کی ایسی حرارت موجود ہے جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہو سکتی"۔
وہ اس حرارت کے امین اور اس کے محافظ تھے۔ ہر جگہ مجلس و محفل میں میزبان بن کر اپنے ہاتھوں سے عزاداروں کے جوتے سیدھے کرتے اور پانی، چائے، تبرک اور نذر نیاز پیش کرتے تھے۔ ان کی یہ عاجزی ان کے مرتبے کو لوگوں کے دلوں میں مزید بلند کر دیتی تھی۔
حسنے بھائی جہاں تقویٰ اور متانت کا پیکر تھے، وہیں ان کی شخصیت کا نہایت دلکش اور شاداب پہلو ان کی شریفانہ ظرافت اور پاکیزہ شگفتہ مزاجی تھی جس نے ان کے سنجیدہ وقار کو ہمیشہ متوازن رکھا۔ ان کی بزم ہمیشہ مسکراہٹ اور شگفتگی سے مہکتی رہتی تھی۔ مزاح تضحیک سے پاک اور خالصتاً تہذیب کے دائرے میں ہوتا تھا، جس میں طنز کے نشتر نہیں بلکہ مٹھاس ہوتی تھی۔ ظرافت کا مقصد کبھی کسی کی دل آزاری نہیں تھا بلکہ وہ بوجھل دلوں کو ہلکا کرنے کے لیے لطیف جملے کہتے تھے۔ محفل میں جب تک حسنے بھائی موجود رہتے، اداسی اور اکتاہٹ کا وہاں سے گزر نہیں ہوتا تھا، اور ہر شخص ان کی گفتگو کے سحر میں جکڑا رہتا تھا۔
وہ ظرافت کو غیبت کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے کوئی عیب جوئی کرنے لگے تو وہ اسی شخص کا کوئی اچھا پہلو بیان کر کے مسکراتے ہوئے نکل جاتے۔ کچھ نہ ہو تو وہ اپنی لاڈلی ویسپا پر ایسے شگفتہ جملے چست کرتے تھے کہ محفل کشتِ زعفران بن جاتی۔ یہ انداز سکھا گیا کہ دین داری کا مطلب چہرے پر بارہ بجا کر رکھنا نہیں، بلکہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا بھی عین عبادت ہے۔
اس شگفتگی کے پسِ پردہ ان کی بے مثل درویشی، قناعت اور شہرت طلبی سے شدید ترین نفرت کا ایک بحرِ بیکراں موجزن تھا۔
جب ان کی یاد آتی ہے ٹالسٹائی کا جملہ ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے
"عظمت وہاں ہو ہی نہیں سکتی جہاں سادگی اور سچائی نہ ہو"۔
ان کا فلسفۂ حیات کارِ خیر کر کے بھول جانا تھا، جیسے دائیں ہاتھ سے دیں تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ وہ پسِ پردہ رہ کر لوگوں کی مدد کرتے تھے اور کبھی اس کا تذکرہ اپنی زبان پر نہیں لاتے تھے۔ بردباری، ایثار اور دوسروں کے لیے اپنی خوشیوں کی قربانی دینا ان کی گھٹی میں شامل تھا اور وہ ہمیشہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے تھے۔ سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے اس فرمانِ زریں کا مصداق تھے کہ
"خدا کے نزدیک اس مومن سے زیادہ کوئی محبوب نہیں جو قناعت پسند ہو، بردباری کا پیکر ہو، اور اپنے عمل سے شہرت کا طالب نہ ہو"۔
اس بے لوث خلوص کا نتیجہ تھا کہ ان کا رشتۂ محبت مسالک کی حدود سے بالا تر تھا۔ کورنگی کے اس محلے میں جہاں وہ رہائش پذیر تھے، وہاں موجود اہلِ سنت اور اہلِ حدیث برادری کے ساتھ حسنے بھائی کا تعلق محض ہمسائیگی کا نہیں، بلکہ ایک زبردست، مثالی اور برادرانہ نوعیت کا تھا۔ انہوں نے مسلکی اختلافات کی دیواروں کو اپنے حسنِ اخلاق سے گرا دیا تھا اور محلے میں محبت کا وہ پودا لگایا جس کی چھاؤں سب کے لیے یکساں تھی۔ وہ ہر ایک کی خوشی غمی میں شریک ہوتے تھے، جس کی وجہ سے پورا محلہ انہیں اپنا سرپرست مانتا تھا۔ یہ رویہ آج کے دور میں بین المسالک ہم آہنگی کے لیے ایک بہترین رول ماڈل ہے۔ شخصیت کا جادو ایسا تھا کہ حسنے بھائی کے گھر پر مجالس، شب بیداری یا نذر و نیاز کا اہتمام ہوتا، تو مسلکی تفریق کے تمام پردے چاک ہو جاتے۔ اہلِ سنت اور اہلِ حدیث محلے دار ان مجالس میں نہایت احترام کے ساتھ شریک ہوتے، بلکہ حسنے بھائی کے شانہ بشانہ انتظام و انصرام میں ہاتھ بٹاتے۔ وہ مجالس کے لیے فرش بچھاتے، انتظامات کرتے اور آنے والے عزاداروں کا استقبال کرتے تھے۔
ان کی شخصیت کا ایک اور درخشاں پہلو اپنے والدین کی بے انتہا خدمت تھا جو ان کے روز مرہ کا معمول تھا۔ میں نے انہیں ہمیشہ حقوق العباد کی پاس داری میں پیش پیش دیکھا، جہاں وہ کسی بھی رشتہ دار کو اکیلا نہیں چھوڑتے تھے، انہوں نے والدین کی پیری میں ان کا اس طرح خیال رکھا جیسے کوئی معصوم بچے کا رکھتا ہے، اور ان کی دعا ہی کو اپنی کامیابی کا راز سمجھتے تھے۔ بہنوں کے لیے تو ایک الگ وارفتگی اور ایثار تھا کہ ان پر دل و جان سے فدا رہتے۔ ان پر قرآن کا یہ حکم صادق آتا تھا کہ
"وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ"
اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ بھی۔
انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے اس ارشادِ گرامی کو اپنی حیات کا دستور العمل بنا رکھا تھا کہ
"صلہ رحمی حسابِ روزِ قیامت کو آسان کرتی ہے اور عمروں کو طول دیتی ہے"۔
صلے کی پروا اور ستائش کی تمنا سے بے نیاز، ان کا دامنِ اخلاق اتنا وسیع تھا کہ وہ قول کے بجائے اپنے کردار اور عملِ پیہم سے نئی نسل کی تربیت کرتے تھے۔ وہ کبھی نصیحت نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا عمل خود ایک بہت بڑی نصیحت بن جاتا تھا۔ وہ بچوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لیے ہر دم فکرمند رہتے تھے کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم ہی قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ وہ محلے اور خاندان کے بچوں کی پڑھائی پر نظر رکھتے اور ضرورت پڑنے پر ان کی مالی مدد بھی خاموشی سے کر دیتے تھے۔ اپنی لختِ جگر، بیٹی سے ان کی محبت رشکِ خلائق تھی، وہ اسے کائنات کا سب سے انمول تحفہ سمجھتے تھے۔ بیٹوں سے امید رکھتے کہ وہ باقیات الصالحات ہوں اور پر خلوص مومن بنیں۔ اپنے بھانجوں اور بھانجیوں کے لیے ان کا رویہ جہاں نہایت سرپرستانہ تھا، وہیں ان کے مابین ایک بے تکلف دوستانہ ربط بھی قائم تھا، جو رعب و دبدبے کے بجائے محبت و احترام کے رشتے پر مبنی تھا۔
تاسف کا مقام یہ ہے کہ کارِ جہاں کی مصروفیت اور دوسروں کے دکھ بانٹنے میں حسنے بھائی اپنی ذات اور اپنی صحت سے ہمیشہ لاپروا رہے۔ انہوں نے کبھی اپنی تکلیف کا ذکر کسی سے نہیں کیا اور ہمیشہ مسکراتے چہرے کے ساتھ دوسروں کے دکھ سنتے رہے۔ شوگر کے موذی مرض نے ان کے جسم کو نڈھال کیا، لیکن ان کے حوصلے کو پست نہ کر سکا۔ آخری عمر میں فالج کے شدید حملے نے ان کی سحر بیانی اور قوتِ گویائی کو سلب کر لیا۔ وہ زبان جو کبھی مدحتِ آلِ محمدؑ اور ذکرِ حق سے تر رہتی تھی، ساکت ہو چکی تھی، لیکن ان کی آنکھوں کی چمک اور دل کی دھڑکنیں اب بھی تسبیحِ پروردگار اور عشقِ عزاداری میں مصروف رہتی تھیں۔ وہ اشاروں سے نماز پڑھتے اور ہر آنے والے سے عزاداری کا پوچھتے۔ گھر میں فرشِ عزا کی تیاری کی نگرانی کرتے تھے۔ مجھے اس کٹھن دور میں بھی ان کے چہرے پر مایوسی کا ادنیٰ سا شائبہ تک نظر نہ آیا، بلکہ وہ صابر و شاکر رہے، جیسے امام رضا علیہ السلام کے اس قول کے مصداق ہوں کہ
"مومن جب بیمار ہوتا ہے تو خدا اسے گناہوں سے پاک کر دیتا ہے، پس بیماری مومن کے لیے رحمت ہے"۔
انہوں نے بسترِ علالت کو بھی بندگی کا مصلّٰی بنا دیا تھا اور ان کی خاموشی بھی ذکرِ الٰہی سے لبریز تھی۔ ان کا یہ دورِ علالت ہمیں سکھاتا ہے کہ آزمائش جتنی بھی سخت ہو، خدا کی رضا پر راضی رہنا ہی اصل ایمان ہے اور یہی بندے کی معراج ہے۔
"یاد رکھیے ۔۔۔ صفر کا آخری ہفتہ"
صفر کا آخری ہفتہ آن پہنچا ۔۔۔ اے کاش ہم سید شبہیہ الحسن زیدی المعروف حسنے بھائی کو اب بھی پہچان لیں۔
خدا ان کے درجات کو بلند فرمائے، ان کی مخلصانہ خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جوارِ معصومین علیھم السلام میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ان کا چھوڑا ہوا پاکیزہ کردار ہمارے لیے ایسی مشعلِ راہ ہے جس کی روشنی میں ہم اپنی زندگیوں کو اخلاق اور تہذیب کے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔ جناب سہیل شاہ نے کیا خوب کہا ہے:
یه ماتم کی صدا زندہ رکھے گی
ہمیں کرب و بلا زندہ رکھے گی
میں دنیا سے چلا جاوں گا لیکن
مجھے شہ کی عزا زندہ رکھے گی
عزا شبیرؑ کی مرنے نہ دے گی
دعائے سیدہؑ زندہ رکھے گی
(( تحریر: اظفر رضا ))
24 صفر 1448ھ
#حسنےبھائی