09/08/2026
کشمیری عوام کے حقوق کی آواز بلند کرنے پر فیصل قیوم ماگرے و دیگر طلبہ رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر فوری واپس لی جائے،مشترکہ اعلامیہ
فیصل قیوم ماگرے کو تنہاء نہ سمجھا جائے،ملک بھر کی اہل سنت جماعتیں، علماء و مشائخ اور عوام ان کے ساتھ ہیں،تنظیمات اہل سنت پاکستان
انجمن طلبہ اسلام فروغِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی عالمگیر تحریک اور پُرامن طلبہ تنظیم ہے، حکومت انتقامی کارروائیاں بند کرے،حامد سعید کاظمی
فیصل قیوم ماگرے پر دہشت گردی کا مقدمہ من گھڑت، بے بنیاد اور گمراہ کن ہے، حکومت احتجاجی تحریک پر مجبور نہ کرے، تنظیمات اہلسنت پاکستان کا مشترکہ اعلامیہ
لاہور ..
تنظیمات اہل سنت پاکستان کے زیر اہتمام اہل سنت جماعتوں کا مشترکہ ہنگامی اجلاس سابق وفاقی وزیر اور سربراہ تنظیمات اہل سنت پاکستان صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کی مختلف اہل سنت جماعتوں کے قائدین، علماء، مشائخ اور طلبہ رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے پر انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر فیصل قیوم ماگرے اور دیگر طلبہ رہنماؤں کے خلاف درج دہشت گردی کی ایف آئی آر فوری طور پر واپس لی جائے۔ فیصل قیوم ماگرے پر دہشت گردی کا مقدمہ من گھڑت، بے بنیاد اور گمراہ کن ہے جبکہ ایف آئی آر میں عائد کیے گئے الزامات بھی جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ انجمن طلبہ اسلام فروغِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی عالمگیر تحریک اور پُرامن طلبہ تنظیم ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر فیصل قیوم ماگرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں فوری بند کرے۔حکومت فیصل قیوم ماگرے کو تنہاء نہ سمجھے ملک بھر کی عوامِ اہل سنت، علماء و مشائخ اور اہل سنت جماعتیں ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔ فیصل قیوم ماگرے اہل سنت کی آنکھ کا تارا اور عوام اہل سنت کے دلوں میں بستے ہیں۔ ان کے خلاف کسی بھی حکومتی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ فیصل قیوم ماگرے کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات کو پوری اہل سنت کے خلاف کارروائی تصور کیا جائے گا۔ فیصل قیوم ماگرے پر دہشت گردی کا مقدمہ قائم کرنا موجودہ حکمرانوں کا سیاہ ترین کارنامہ ہے۔ ’’یا رسول اللہ ﷺ‘‘ کہنے والا ہر باضمیر فرد انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر کے ساتھ کھڑا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان ذاتی طور پر نوٹس لیتے ہوئے انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر فیصل قیوم ماگرے کے خلاف قائم مقدمے کی شفاف تحقیقات کرائیں اور بے بنیاد مقدمہ ختم کروانے کے لیے اپنا آئینی و قانونی کردار ادا کریں۔حکومت فیصل قیوم ماگرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کرے اور ملک کے پُرامن طلبہ و عوام اہلسنت کو احتجاجی تحریک اور راستِ اقدام پر مجبور نہ کرے۔مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے والوں میں تنظیمات اہل سنت پاکستان کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی، سابق وفاقی وزیر اور سنی سپریم کونسل کے سربراہ پیر محمد امین الحسنات شاہ، سابق وفاقی وزیر اور نظامِ مصطفیٰ پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب، سابق رکن قومی اسمبلی اور سربراہ ملی یکجہتی کونسل صاحبزادہ ڈاکٹر محمد ابوالخیر زبیر الوری، سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری، سابق صوبائی وزیر پیرزادہ نبی امین قادری، سابق رکن صوبائی اسمبلی سید محفوظ مشہدی، سابق رکن صوبائی اسمبلی مولانا غیاث الدین، مرکزی جماعت اہل سنت پاکستان کے امیر میاں عبدالخالق القادری، پاکستان سنی تحریک کے چیئرمین انجینئر ثروت اعجاز قادری، پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور، سنی اتحاد کونسل کے سیکرٹری جنرل سید جواد الحسن کاظمی، جماعت اہل سنت پاکستان کے ناظم اعلیٰ پیر خالد سلطان قادری، جمعیت علماء پاکستان (نیازی) کے سربراہ سید معصوم نقوی، وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ کے چیئرمین ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، مصطفائی تحریک پاکستان کے مرکزی امیر غلام مرتضیٰ سعیدی، انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی نائب صدر محمد نصراللہ سلطان طور، دعوتِ خیر پاکستان کے سربراہ سید ازہر علی ہمدانی، جمعیت علماء پاکستان (نورانی)کے سیکریٹری جنرل سید محمد صفدر شاہ گیلانی، جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی، محافظانِ نظریہ پاکستان کے چیئرمین پیرزادہ محمد امین قادری، پاکستان فلاح پارٹی کے سربراہ محمد رمضان مغل، نظام المدارس کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر میر آصف اکبر قادری، نظام مصطفیٰ پارٹی کے چیئرمین میاں خالد حبیب الٰہی، شیران اسلام کے مرکزی صدر رانا آفتاب احمد، مسلم فرنٹ پاکستان کے سربراہ پیر ضیاء المصطفیٰ حقانی،منہاج القرآن علماء کونسل کے صدر مفتی غلام اصغر صدیقی، ناموسِ رسالت محاذ کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد علی نقشبندی، انجمن رضائے مصطفیٰ کے سربراہ صاحبزادہ معاذ المصطفیٰ قادری، تنظیمات اہل سنت پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد اکرم رضوی، میڈیا کوآرڈینیٹر سید احسان گیلانی اور دیگر شامل ہیں۔۔