Rakhshi-e-Bina

Rakhshi-e-Bina writer

اللّہ تعالیٰ حساب رکھتے ہیں۔ ہر اس بات کا جس پر تم نے دکھتے دل کے ساتھ صبر کر لیا تھا۔ جب تم نے نم آنکھوں کے ساتھ بھی ہن...
05/01/2026

اللّہ تعالیٰ حساب رکھتے ہیں۔ ہر اس بات کا جس پر تم نے دکھتے دل کے ساتھ صبر کر لیا تھا۔ جب تم نے نم آنکھوں کے ساتھ بھی ہنسنا نہیں چھوڑا تھا۔ جب اچانک لیٹے لیٹے ماضی کی تلخ یادوں نے دل و دماغ بوجھل کر دیۓ تھے اور تم نے بے چین ہو کر کروٹ بدلی تھی۔جب رات کوسوتے میں آنسو تمھاری آنکھوں سے پھسل رہے تھے اور تم انجان تھے
*مگر*
*اللّہ بے خبر نہیں تھا*
جب کسی کے سخت جملوں نے تمھارے دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیۓ تھےاور تم مسکرا کر سہہ گۓ تھے وہ تمھاری ہر اس تکلیف کا حساب رکھے ہے ۔تمھیں یہ وقت بھلے ہی مشکل لگ رہا ہو۔تمھاری سب مشکلات کا حل بس اللّہ کے ایک "کن" میں رکھا ہے

24/05/2025

--
عنوان: "ہم جیتے ہیں… پر خوش نہیں ہیں"

میری زندگی میں ماں باپ کا سایہ بہت جلد چھن گیا۔ کے جی ٹو میں تھی جب میرے والد کا انتقال ہوا، اور میٹرک میں تھی جب ماں بھی ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں۔ اُن لمحوں میں، جب ایک بچی کو سب سے زیادہ اپنے ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے، میں بے سہاراہو گئی۔

میرےوالدین کے بعد میری بہن اور بھائی ماں باپ بنے۔ انہوں نے نہ صرف گھر کو سنبھالا بلکہ والد کی بنائی ہوئی چھت کو مزید بہتر بنایا، جس کے لیے قرض بھی لیا۔ وہ قرض وقت پر اتر جاتا، لیکن میری بہن کے شوہر نے کہا:
"گھر کی بات ہے، بعد میں دے دینا… بس شادی کارڈ میرے نام سے چھپوا دینا، تاکہ لگے میں نے سب کچھ کیا ہے۔"

ہم نے چپ چاپ یہ بھی مان لیا۔

بعد میں وہ سعودی عرب چلے گئے اور پیچھے اپنی بیوی اور بچوں کو ہمارے سہارے چھوڑ گئے۔ یہاں تک کہ بچوں کی روزمرہ ضروریات کا خرچ بھی نہیں بھیجا۔ اور جب سوال کیا، تو جواب ملا:
"تمہارے بھائی نے قرض لیا ہے، اب جو وہ دے رہا ہے وہی سمجھو میرا قرض ادا ہو رہا ہے۔"

یہ سب جھوٹ تھا۔ ایک اذیت تھی جو بڑھتی گئی۔ بہن بیمار ہوئی تو اُسے ذہنی دباؤ دیا گیا۔ پندرہ سال بعد مطالبہ کیا گیا:
"گھر میرے نام کر دو، فائل ساتھ لاؤ۔ اگر نہیں لاؤ گی تو پاکستان میں ہی رہو، میں تمہیں اپنی بیوی نہیں مانتا۔"

یہ سب سنتے سنتے آخرکار میری بہن کو دل کا دورہ پڑا۔ اس وقت اُس کی عمر صرف 40 سال کے آس پاس تھی، اور چھوٹے بچے ابھی زندگی کے آغاز میں تھے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ جب بچے نانی کے گھر آئے تو والد کی دولت کے لالچ میں وہی بچے اپنی خالہ، ماموں، اور مامانی کو دشمن سمجھنے لگے۔

وہی ماموں، جو ان کی ہر خواہش پوری کرتے تھے، جو اپنے ہاتھوں سے ان کے لیے کھانا بناتے تھے—انہیں بدنام کیا گیا، ذہنی اذیت دی گئی، اور خالہ اور ماموں کے رشتے کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔

پھر وہ بھائی بھی ہمیں چھوڑ کر چلا گیا جو ماں کی بیماری میں دن رات خدمت کرتا، کام کرتا، اور ہمارا سہارا تھا۔

اب ہم تین بہن بھائی اور بچے زندہ تو ہیں، مگر نہ کوئی خوشی محسوس ہوتی ہے، نہ زندگی اچھی لگتی ہے۔
میری اپنی اولاد ہے، میرے سر پر ان کی ذمہ داری ہے۔
میرے بڑے بھائی پر بھی ذمہ داریاں ہیں، اور ہمارا ایک بھائی ایسا ہے جو شادی کے نام سے بھی خوف کھاتا ہے۔ اُس کا ہر رشتے سے اعتبار اُٹھ چکا ہے۔

ہم زندگی گزار رہے ہیں، مگر بس سانسیں لے رہے ہیں۔
خوشی، سکون، اعتبار… شاید وہ سب کچھ ہے جو ہمارے دلوں سے نکل چکا ہے

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rakhshi-e-Bina posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Rakhshi-e-Bina:

Share