Behtaree ki taraf aik Qadam

Behtaree ki taraf aik Qadam Kuch Acha karna

06/05/2025

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک آسودہ حال شخص رہا کرتا تھا اس کا جانوروں کا باڑہ تھا وہ جانوروں کا دودھ بیچتا، گھی، مکھن بیچتا۔ مال و دولت کی فراوانی تھی۔

پھر ایک دن اس کے جانوروں میں ایک ایسی بیماری آئی کہ ایک ایک کر کے سب جانور مر گئے وہ بہت پریشان ہوا وہ خوشحال تھا گھر میں کافی مال جمع تھا۔روزمرہ کے اخراجات کے لیے وہ مال استعمال ہونے لگا رفتہ رفتہ گھر کی تمام قیمتی اشیاء بک گئی اور بات فاقوں تک آگئی۔

وہ بہت پریشان تھا ایک دن اس کی بیوی نے اسے کہا کہ دوسرے گاوں کا سردار تمہارا دوست ہے تم اس کے پاس جاؤ اسے اپنی ہریشانی بتاو اور مدد کا کہو۔

یہ بات اس کے دل کو لگی اگلے ہی دن وہ صاف ستھرا لباس پہن کے دوسرے گاوں اپنے دوست سے ملنے چلا گیا اسکا دوست اسے دیکھ کے بہت خوش ہوا اس کی خوب آؤ بھگت کی اس شخص نے دوست سے کہا میں تمہارے پاس کسی کام سے آیا ہوں مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے پھر اس نے اپنے تمام حالات کے بارے میں دوست کو بتایا۔

یہ سب سن کے دوست کہنے لگا کوئی مسئلہ نہیں میں تمہاری مدد ضرور کروں گا پھر اس نے اپنے ملازم کو آواز دی اور کہا میرے دوست کے لیے ایک بکری لے آو۔ اور اس شخص کو تاکید کی یہ بکری لے جاو اگر دوبارہ میری مدد کی ضرورت پڑے تو پھر میرے پاس چلے آنا۔ اس کے ساتھ اس نے اس شخص کے بیوی بچوں کے لیے کچھ تحائف بھی ساتھ کر دیے۔

وہ شخص کافی حیران ہوا کہ دوست علاقے کا سردار ہے اور مجھے صرف ایک بکری پہ ٹرخا رہا ہے۔خیر وہ بکری لے کے چپ چاپ گھر آ گیا اس کی بیوی بھی صرف ایک بکری دیکھ کے حیران ہوئی۔

وہ لوگ بکری کا دودھ نکال کے پیتے رہے کچھ دودھ بیچ دیتے کسی نا کسی حد تک بھوک مٹنے لگی ایک ماہ گزرا وہ بکری مر گئی دونوں میاں بیوی بہت پریشان ہوئے بیوی نے پھر یاد دلایا دوست نے کہا تھا ضرورت پڑے تو دوبارہ آ جانا۔

وہ پھر سے دوست کے پاس گیا دوست نے خوب آو بھگت کی مدعا پوچھا اس شخص نے بتایا کہ وہ بکری مر گئی دوست نے کہا کوئی مسئلہ نہیں ملازم کو بلایا ایک بکری اور منگوائی اور اس شخص کو باعزت طریقے سے اس تاکید کے ساتھ روانہ کیا کہ جب ضرورت پڑے میرے پاس چلے آنا۔

وہ شخص بکری لے کے گھر آیا بکری کا دودھ پیا اور بیچا کچھ عرصے بعد یہ بکری بھی مر گئی وہ پھر دوست کے پاس گیا مدعا بتایا دوست نے آو بھگت کی کھانا کھلایا ایک اور بکری اور تاکید کے ساتھ روانہ کیا۔

وہ گھر آیا بکری کا دودھ نکالا بیچا اس بار دودھ اتنا تھا کہ دودھ بیچ کے زیادہ اچھی رقم آنے لگی یہ شخص سمجھدار تھا اس نے بچت کر کے ایک اور بکری خرید لی اللہ نے اس کو برکت دی اس کے حالات بہتر ہونے لگے وہ جانور خریدنے لگا اس کے گھر خوشحالی پھر سے آنے لگی۔

ایک دن اس کی بیوی نے اسے یاد دلایا کہ یہ سب تمہارے دوست کی مدد کی وجہ سے ہوا ہے تم جاو اور اپنے دوست کا شکریہ ادا کر کے آو۔

اگلے دن وہ شخص تیار ہوا اور خوشی خوشی دوست کی طرف روانہ ہوگیا دوست اس کو دیکھ کے بہت خوش ہوا اس کی خوب آؤ بھگت کی اور آنے کا مدعا پوچھا اس نے دوست کا شکریہ ادا کیا اور اسے بتایا کہ اس کی مدد کی وجہ سے اس کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہو گئے ہیں جس کے لیے وہ اسکا شکریہ ادا کرنے آیا ہے۔

یہ سن کے دوست بہت خوش ہوا اس نے اپنے ملازمین کو بلایا اور کہا کے باڑے سے 50 جانور کھولو اور اس شخص کے ساتھ جا کے اس کے گھر چھوڑ کے آؤ۔

وہ شخص بہت حیران ہوا کہ کہ جب شدید برا وقت تھا تو صرف ایک بکری اور جب حالات بہتر ہونے لگے ہیں تو 50 جانور اگر یہ پچاس جانور اس وقت دے دیتا تو وہ کب کا سنبھل چکا ہوتا اس سے رہا نہیں گیا دوست کے سامنے اس نے اہنے دل کی بات کر دی۔
یہ سن کے دوست مسکرایا اور کہنے لگا جب تم پہلی بار آئے تھے تو میں سمجھ گیا تھا تم پہ وقت برا ہے اس وقت میں تمہیں سو جانور بھی دیتا تو وہ سب بھی مر جاتے۔ اس لیے میں نے تمہیں ایک بکری دی تاکہ تمہارا گزارہ چلتا رہے۔

جب تک تمہارا برا وقت چلتا رہا میں تمہیں ایک بکری دیتا رہا۔
اب جب تمہارا برا وقت ٹل چکا ہے خوشحالی تمہارے دروازے پر پھر سے دستک دے رہی ہے تو میرا فرض ہے میں تماری مدد اپنی دوستی کے شایان شان کروں اب مجھے کوئی ڈر نہیں ہے یہ سب جانور تمہارے کام آئیں گے۔

یہ سن کے وہ شخص بہت خوش ہوا اور اپنے دوست کی حکمت کا قائل ہو گیا۔

15/04/2025

*ایک لفظی غلطی*
*جسکی درستگی لازم هے*

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ اللّٰه " ﻟﮑﮭﺎ،
ﺗﻮ کسی ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻟﻔﻆ "ﺍﻧﺸﺎﺀاللّٰه" ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ،
ﺑﻠﮑﮧ یه
*" ﺍﻥ ﺷﺎﺀاللّٰه "* ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ…
ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻟﮓ الگ
ﻣﻌﻨﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ
ﮨﻮا-

ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﺳﻮﺭة ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ
ﮨﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ،
ﺁﭖ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ
ﻏﻠﻂ ﮨﮯ-

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﺩﯼ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻭﮞ
گا"

خود سے ﺗﺤﻘﯿﻖ کی
تو ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﺻﺤﯿﺢ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ
ﺗﮭﮯ ۔۔

ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
"ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ "

ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﮔﺮ " ﺍﻧﺸﺎﺀاللّٰه " ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ
ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ مطلب بنتا هے
"اللّٰه ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ" ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﺍللّٰه

ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﻮ ﻟﻔﻆ "اللّٰه "ﮐﮯ
ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ-

ﺍﺳﮑﮯ لیئے ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ
ﮨﯿﮟ، ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻟﻔﻆ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺍﮐﯿﻼ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍ ہے...

1. ﻭَﻫﻮَ ﺍﻟَّﺬِﯼ ﺃَﻧْﺸَﺄَ ﻟَﮑُﻢُ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ
ﻭَﺍﻟْﺄَﺑْﺼَﺎﺭَ ﻭَﺍﻟْﺄَﻓْﺌِﺪَۃَ ﻗَﻠِﯿﻠًﺎ ﻣَﺎ
ﺗَﺸْﮑُﺮُﻭﻥَ، سورة ﺍﻟﻤﻮﻣﻦ 78

2. ﻗُﻞْ ﺳِﯿﺮُﻭﺍ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺄَﺭْﺽِ ﻓَﺎﻧْﻈُﺮُﻭﺍ
ﮐَﯿْﻒَ ﺑَﺪَﺃَ ﺍﻟْﺨَﻠْﻖَ ﺛُﻢَّ ﺍﻟﻠَّﻪ ﯾُﻨْﺸِﺊُ
ﺍﻟﻨَّﺸْﺄَۃَ ﺍﻟْﺂَﺧِﺮَۃَ ﺇِﻥَّ اللّٰهَ ﻋَﻠَﯽ ﮐُﻞِّ
ﺷَﯽْﺀ ٍ ﻗَﺪِﯾﺮ.
سورة ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ 20

3. ﺇِﻧَّﺎ ﺃَﻧْﺸَﺄْﻧَﺎﻫﻦَّ ﺇِﻧْﺸَﺎﺀ ً
سورة ﺍﻟﻮﺍﻗﻌﮧ 35

ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﯿﮟ " اللّٰه "
ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ.
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﺍﻟﮓ ﻣﻌﻨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ
ﮨﮯ۔۔

ﻟﻔﻆ
*"ﺍﻥ ﺷﺎﺀاللّٰه "*
ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
*" ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "*

" ﺍﻥ " ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﺍﮔﺮ "
"ﺷﺎﺀ "ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﭼﺎﮨﺎ"
"اللّٰه "ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ " اللّٰه ﻧﮯ "

ﺗﻮ ثابت هوا که ﻟﻔﻆ
*" ﺍﻥ ﺷﺎﺀاللّٰه "*
ﮨﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ
ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ ۔۔

1. ﻭَﺇِﻧَّﺎ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻟَﻤُﮩْﺘَﺪُﻭﻥَ
سورة ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ 70

2. ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﺩْﺧُﻠُﻮﺍ ﻣِﺼْﺮَ
ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َﺍﻟﻠَّﻪ ﺁَﻣِﻨِﯿﻦَ
سورة ﯾﻮﺳﻒ 99

3. ﻗَﺎﻝَ ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ
ﺻَﺎﺑِﺮًﺍ ﻭَﻟَﺎ ﺃَﻋْﺼِﯽ ﻟَﮏَ ﺃَﻣْﺮًﺍ
سورة ﺍﻟﮑﮩﻒ 69

4. ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ
ﻣِﻦَ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﯿﻦَ
سورة ﺍﻟﻘﺼﺹ 27

ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻟﻔﻆ
*" ﺍﻥ ﺷﺎﺀاللّٰه "*
ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
*" ﺍﮔﺮ اللّٰه ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "*

انگریزی میں یوں لکھ جاسکتا
ھے..
*"In Sha Allah"*

15/04/2025

https://chat.whatsapp.com/LuU9tXxiYAy4yjcTcg7FeG
یہ واقعہ ایک سفید فام خاتون کے بارے میں ہے جو تقریباً پچاس سال کی عمر کی تھی اور ایک سیاہ فام شخص کے ساتھ بیٹھنے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کر رہی تھی۔

وہ بےحد پریشان ہو کر فضائی میزبان (ایئر ہوسٹس) کو بلاتی ہے اور شکایت کرتی ہے:
"یہ واضح ہے کہ تم میری موجودہ صورتحال نہیں دیکھ رہی ہو۔ تم لوگوں نے مجھے ایک سیاہ فام شخص کے ساتھ بٹھا دیا ہے، اور میں ایسے شخص کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتی۔ مجھے فوراً دوسری نشست فراہم کی جائے!"

میزبان خاتون نرمی سے جواب دیتی ہے:
"محترمہ، براہ کرم پُرسکون رہیں۔ اس پرواز میں تقریباً تمام نشستیں بھر چکی ہیں، لیکن میں دیکھتی ہوں کہ کوئی خالی نشست ہے یا نہیں۔"

چند منٹوں بعد وہ واپس آتی ہے اور کہتی ہے:
"جیسا کہ میں نے کہا تھا، میں نے پوری اکانومی کلاس میں کوئی خالی نشست نہیں پائی۔ میں نے کیپٹن سے بھی بات کی، اور بزنس کلاس میں بھی کوئی جگہ خالی نہیں۔ البتہ، فرسٹ کلاس میں ایک نشست خالی ہے۔"

خاتون کچھ کہنے ہی والی تھی کہ میزبان نے اپنی بات جاری رکھی:
"یہ ہماری ایئر لائن کی پالیسی کے خلاف ہے کہ کسی اکانومی کلاس کے مسافر کو فرسٹ کلاس میں بٹھایا جائے، لیکن اس غیر معمولی صورتحال میں، کیپٹن کا ماننا ہے کہ کسی کو بھی ایسے شخص کے ساتھ زبردستی نہیں بٹھایا جانا چاہیے جس کے ساتھ وہ بیٹھنا پسند نہ کرے۔"

پھر میزبان نے سیاہ فام مسافر کی طرف دیکھا اور کہا:
"جناب، کیا آپ اپنی ہینڈ بیگ اٹھا سکتے ہیں اور میرے ساتھ چل سکتے ہیں؟ آپ کے لیے فرسٹ کلاس میں نشست موجود ہے!"

یہ سنتے ہی جہاز میں موجود تمام مسافر حیران رہ گئے اور پھر تالیاں بجا کر فضائی میزبان کے اس شاندار انداز میں دیے گئے سبق کو سراہنے لگے۔ اس طرح، نسل پرستی اور گھٹیا سوچ رکھنے والی اس مغرور عورت کو ایک بہترین سبق ملا۔

بیشک! اللہ کے نزدیک اس کی بنائی ہر تخلیق بہترین ہے چاہے وہ کسی رنگ نسل زات پات میں ہو، وہ انسان کی نیت دیکھ کر نوازتا ہے پھر نوازش وہ اپنے کرم کے حساب سے کرتا ہے.

15/04/2025

اس نے فون اٹھایا، اپنے دوست کو کال کی اور کہا
بات سیدھی ہے، میری ماں بیمار ہے اور میرے پاس دوا کے پیسے نہیں ہیں۔

دوست نے جواب دیا
ٹھیک ہے میرے بھائی، عصر کے بعد مجھ سے رابطہ کرنا

اس نے عصر کے بعد کال کی، مگر فون بند تھا!
بار بار کوشش کی، بار بار نمبر ملایا مگر کوئی جواب نہ ملا
مایوس ہو کر اس نے دوسروں سے ادھار مانگنے کی کوشش کی
مگر کوئی نہ ملا جو مدد کرتا

دنیا تنگ لگنے لگی
ہر طرف اندھیرا محسوس ہونے لگا،
ماں کی بیماری کا غم ایک طرف
اور قریبی دوست کے وعدے سے پیچھے ہٹ جانے کا صدمہ دوسری طرف

مایوسی میں وہ گھر واپس آیا
قدم بوجھل، دل شکستہ، امیدیں ٹوٹ چکی تھیں
لیکن جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوا،
ماں کو سکون سے سوتے ہوئے پایا،
اور اس کے پہلو میں دوا کا پیکٹ رکھا تھا!

فوراً بہن کے پاس گیا اور بے چینی سے پوچھا
"یہ دوا کس نے لا کر دی؟

بہن نے جواب دیا
"تمہارا دوست آیا تھا، نسخہ لیا، دوا خریدکر دی اور چلا گیا!

یہ سن کر اس کی آنکھیں نم ہو گئیں
دل میں عجیب سی خوشی اور شرمندگی کا احساس جاگا
بغیر وقت ضائع کیے وہ اپنے دوست کو ڈھونڈنے نکلا
اور جیسے ہی ملا، غصے اور حیرانی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بولا

میں تمہیں مسلسل کال کر رہا تھا، تمہارا فون بند تھا!

دوست نے مسکرا کر جواب دیا
میں نے اپنا فون بیچ دیا تاکہ ہماری ماں کی دوا خرید سکوں!

دوستی ناموں کی فہرست بھرنے کا نام نہیں

دوستی وہ ہے جو مشکل وقت میں کندھا دے
جو دکھ میں ساتھ کھڑا ہو
جو بنا کہے قربانی دے جائے!

15/04/2025

آپ نے یہ شعر اکثر سُنا یا پڑھا ہو گا خصوصاً اس کا مصرعۂ ثانی تو لازماً پڑھ رکھا ہوگا۔

ہوئے نام وَر بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

امیرؔ مینائی کی یہ لازوال مکمل نظم ملاحظہ فرمائیں...

ہوئے نام وَر بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

تری بانکی چتون نے چُن چُن کے مارے
نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے

نہ گُل ہیں نہ غُنچے نو بُوٹے نہ پتے
ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے

یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا
وہاں ان کو گزرے گُماں کیسے کیسے

ہزاروں برس کی ہے بُڑھیا یہ دنیا
مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے

ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں
گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے

جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ
تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے

خزاں لُوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے

امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی
پھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے

امیرؔ مینائی

15/04/2025

*ٹچ موبائل استعمال کرنے والے تمام مرد و خواتین ضرور پڑھیں*
منقول ومرتب
بالغ ویب سائٹس پر پاکستانی مواد کی بھرمار کیوں.... نوجوان بچوں کے والدین لازمی پڑھیں۔
ہمارے ایک کولیگ بتا رہے تھے کہ میرے ایک دوست کی نئے اور پرانے موبائل کی خرید وفروخت کی دکان ہے۔ ایک دن اس دوست کے پاس اس کی دکان میں بیٹھا تھا کہ ایک ماڈرن سی خوش شکل لڑکی اپنی ماں کے ساتھ موبائل لینے آئی۔
ایک پرائس رینج بتا کر پوچھا کہ اس میں اچھا موبائل کونسا ہے جس کا کیمرہ ، میموری اور سپیڈ اچھی ہو۔ میرے دوست نے پوچھا کہ پہلے آپ کونسا موبائل استعمال کر رہی تھیں اور تبدیل کرنے کی وجہ؟ مزید یہ کہ آپ کا استعمال کیا ہے تاکہ اس لحاظ سے آپ کو بہتر موبائل بتا سکوں۔
اس نے پرانا موبائل دکھایا ہوئے کہا کہ پہلے سیمسنگ کا یہ موبائل ہےاور ہیلڈ ہو جاتا ہے اس لیے کوئی نیا لینا ہے۔ مزید کہا کہ آنلائن ایگزام ہو رہے یونیورسٹی کے، تو اچھی سپیڈ والا چاہیے۔
میرے دوست نے سیمسنگ اور چائنیز کمپنی کے دو تین موبائل دکھائے جس میں اسے سیمسنگ کا ہی ایک موبائل پسند آگیا۔ پیسے دینے لگی تو دوست نے پوچھا کہ پرانا بیچنا ہے؟
اس نے کہا کہ نہیں ابھی تو نہیں بیچنا۔
میرے دوست نے کہا کہ اگر بیچنا ہے تو میں اٹھارہ ہزار دیتا ہوں اس کا۔
اٹھارہ ہزار کا سن کر وہ لڑکی، اس کی ماں اور میں بھی حیران ہو گیا کیونکہ وہ موبائل دس ہزار کا بھی نہیں تھا۔
سب کو حیران ہوتے دیکھ کر دوست کہنے لگا کہ میں نے آٹھ کہنا تھا لیکن غلطی سے اٹھارہ کہہ دیا ہے۔
لیکن میں اپنی زبان پر قائم ہوں۔ ابھی بیچنا ہے تو اٹھارہ مائنس کر کے باقی پیسے دے دیں۔
لڑکی کی اماں فوراً سے راضی ہو کر کہنے لگی کہ دے دو کیونکہ اتنے تو کسی نے نہیں دینے۔
وہ لڑکی کہنے لگی، نہیں اس میں میرا سارا ڈیٹا ہے۔ ابھی پہلے نیو موبائل میں کرونگی پھر بیچوں گی۔
میرے دوست نے کہا کہ ابھی دو منٹ لگنے ، دونوں سیمسنگ کے ہیں،ابھی بیک اپ کر کے اس نئے میں کر دیتا ہوں۔ اس کے بعد آپ اس پرانے کو ری سیٹ فیکٹری سیٹنگ کر دینا تو سب کچھ اڑ جائے گا۔ ابھی اٹھارہ دے رہا ہوں۔ بعد میں آٹھ ہی دونگا۔
تھوڑے سے پس و پیش کے بعد ماں کی طرف سے اصرار کی وجہ سے لڑکی مان گئی۔
دوست نے اسی وقت کچھ ہی دیر میں ڈیٹا بیک اپ کر کے نئے موبائل میں کر دیا ۔ ان کے جانے کے بعد میں نے دوست سے پوچھا کہ یہ کیا کیا تو نے؟ اتنا مہنگا لے لیا۔ اتنا گھاٹے کا سودا کیوں کیا تو نے؟
وہ شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگا، تو ابھی بچہ ہے۔ تجھے کچھ بھی نہیں پتہ۔ اس میں اتنے پیسے ملتے ہیں کہ سوچ ہے تیری۔ تو چائے پی ابھی ایک جھلک دکھاتا ہوں۔
تب تک دوست اس موبائل کو ڈیٹا ریکوری پر لگا چکا تھا۔
کہنے لگا کہ ہم تو دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں۔ پھر اچھے کیمرے اور اچھی سپیڈ والے موبائل کی ڈیمانڈ، پرانا موبائل بیچنے پر اس کا اتنا ہچکچانا۔ ان ساری چیزوں کی وجہ سے میں نے ایک جوا کھیلا ہے۔ لگ گیا تو لاکھوں آئیں گے، نہ لگا تو پانچ دس ہزار کا نقصان بس۔

مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تو چائے پینے لگا۔ اس سے گپ شپ کے دوران وہ مسلسل اس کے ڈیٹا ریکوری میں لگا رہا۔ جب میں نے جانے کے لیے اجازت چاہی تو کہتا چلے جانا بس دیکھتے جاؤ کہ میں نے اتنے پیسے کس لیے بھرے ہیں۔
پھر اس نے اس لڑکی کی ایسی ایسی ویڈیوز اور تصاویر دکھائیں کہ میں حیران ہو گیا۔ اسے کہا کہ یار اس کی عزت نہ اچھالو۔
وہ کہتا جس نے اپنی عزت کا خود خیال نہ کیا ہو اس کی عزت کا پاس میں کیوں کروں۔۔؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور دوست سے بات ہوئی جو استعمال شدہ موبائل فون کی خرید وفروخت کا کام کرتا ہے-
میں نے پوچھا کہ اس کام میں اتنی بچت کیسے ہے جبکہ ایک دن میں دو چار موبائل سے زیادہ کی تو خریدوفروخت نہیں ہو پاتی ہے۔
تھوڑی بہت رد و قد کے بعد اس نے بتایا کہ جب بھی کوئی موبائل ہمارے پاس بکنےیا ٹھیک ہونے کے لیے آتا ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ موبائل کس کے زیر استعمال رہا ہے۔
اس پر خاص نظر یہ رکھی جاتی ہے کہ اگر موبائل کالج یا یونیورسٹی کے کسی شاطر اور ہینڈسم لڑکے یا خوبصورت لڑکی کے زیر استعمال رہا ہو تو کسی بھی صورت میں اسے خرید لیا جاتا ہے (میں نے اس کے الفاظ کو مہذب انداز میں لکھا ہے) یا ٹھیک ہونے کے لیے آیا ہو تو کل کا وقت دیا جاتا ہے۔
پھر ایسے موبائل کو سب سے پہلے ڈیٹا ریکوری پر لگایا جاتا ہے۔ اب کوئی بھی موبائل ایسا نہیں ہوتا جس میں قابل اعتراض تصاویر نہ ہوں۔ دوسری تصاویر کے تقابل سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ تصاویر اور ویڈیوز اس کی اپنی ہیں یا انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں۔
اپنی ہوں تو ویڈیوز اور تصاویر کی تعداد، کوالٹی وغیرہ کے لحاظ سے بیچا جاتا ہے۔ جہاں سے یہ مختلف بالغ ویب سائٹس کو فروخت ہوتی ہیں۔
مزید اس نے بتایا کہ جب بھی آپ موبائل ٹھیک کروانے جائیں تو چاہے چھوٹا سا بھی مسئلہ ہو یہی کہا جاتا کہ کل ٹھیک ہو گا۔ وجہ یہ ہوتی کہ جب کوئی موبائل بیچنے آتا تو اکثر سب کو اڑا کر اور ری سیٹ کر کے لاتا ہے جس کی وجہ سے ڈیٹا ریکوری تھوڑی مشکل ہوتی مگر جو ٹھیک کروانے لائے تو اس کا تو فوراً سے سب کچھ سامنے آ جاتا ہے۔
پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موبائل کس کے زیر استعمال ہے۔ وہاں سے یہ اکثر ہاتھ لگتا ہے۔
اس دوست کے بقول شاید ہی کوئی موبائل والا ہو جو یہ نہ کرتا ہو ورنہ سب نے ہی کمپیوٹر اور مہنگے مہنگے ڈیٹا ریکوری سافٹ وئیر خرید رکھے ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*اس سب کا حل کیا ہے؟*
*پہلی بات تو یہ کہ ایسامواد رکھیں ہی نا جس سے رب ناراض ہو ورنہ دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب کا وعدہ رب نے قرآن میں فرمایا ہے، دوسرا جب بھی کوئی موبائل لیں تو اچھی طرح سوچ سمجھ کر لیں اور پھر اسے لمبے عرصے تک استعمال کریں اور کبھی نہ بیچیں۔*
*بیچنا ناگزیر ہو تو پھر کم سے کم چار پانچ مرتبہ اس کو مختلف غیرضروری فائلز سے بھریں اور ری سیٹ کرکے سب کچھ اڑائیں۔*
*پانچ دفعہ ایسے کرنے سے بہت کم ایسا چانس ہوگا کہ کچھ ملے اور اگر کچھ ریکور ہو بھی گیا تو دوسری فائلز اتنی زیادہ ہونگی کہ ان میں سے اصل کو ڈھونڈنا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہو گا۔*
*کبھی موبائل ٹھیک کروانا پڑے تو پاس کھڑے ہو کر کروائیں اور جو کہے کہ کل لے جانا اسے ہرگز نہ دیں۔*
*کہے کہ کوئی پرزہ منگوانا پڑے گا تو اسے کچھ ایڈوانس رقم دے کر کہیں کہ منگوا لیں میں کل آ جاؤں گا۔*
*لیکن اس سے بھی زیادہ اچھا یہ ہے کہ ایسا کچھ بنائیں ہی نہ اور موبائل کو پاک صاف رکھیں (اگرچہ یہ آج کل کے دور میں بہت ہی مشکل ہے کہ کوئی اس پر عمل پیرا ہو)۔*
*اور آخری اور سب سے اہم گزارش نوجوانوں کے والدین سے ہے۔آپ کی اولاد چودہ پندرہ سال کی عمر میں ہی جوان ہوجاتی ہے۔ اور جوان ہوتے ہی جنسی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا/چاہتی ہے چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میرا بیٹا / بیٹی تو بہت شریف ہے تو یہ غلط استدلال ہے*
*کیونکہ جب ایک ضرورت ہے تو اسے جائز طریقے سے پورا کرنے کا انتظام نہیں کریں گے تو وہ غلط طریقے سے ہی پورا ہو گا۔*
*گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا تعلق بہت عام ہے اب, اور اس تعلق میں موبائل کے ذریعے وڈیوز اور تصاویر کا تبادلہ بھی کوئی بعید از قیاس بات نہیں ہے۔*
*اپنے بچوں کے بالغ ہوتے ہی شادی کر دیں اور وہاں جہاں وہ چاہیں۔ خدارا ذات برادری کے بکھیڑوں سے اب نکل آئیں۔ ورنہ آپ کی یہ فضول ضد آپ کی اولاد کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کر دیتی ہے۔*
*اگر کسی بھی وجہ سے رخصتی ممکن نہیں ہے تو پھر بھی نکاح لازمی کر دیں اور وہ بھی خود ان کی پسند پوچھ کر۔*

15/04/2025

🔹میرے والد جب کبھی میرے کمرے میں آتے اور دیکھتے کہ بتی جل رہی ہے اور میں کمرے میں نہیں ہوں، تو کہتے: "تم بتی کیوں نہیں بجھاتے؟ اتنی بجلی کیوں ضائع کرتے ہو؟"

جب وہ واش روم میں جاتے اور نل سے پانی ٹپک رہا ہوتا، تو زور سے کہتے:--
"تم نل کو اچھی طرح بند کیوں نہیں کرتے؟ اتنی پانی کی بربادی کیوں ہو رہی ہے؟"

ہمیشہ وہ مجھ پہ تنقید کرتے اور مجھےکہتے کہ میں سُستی کا شکار ہوں
چھوٹی اور بڑی ہر بات پر ٹوکتے، یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں بھی

پھر ایک دن آیا جب مجھے نوکری ملی، وہ دن جس کا میں بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔

آج میں اپنی زندگی کی پہلی نوکری کے لیئے انٹرویو دینے جا رہا تھا۔ یہ ایک بڑی کمپنی میں ایک معزز ملازمت کے لیئے تھا۔

دماغ میں خیال آتا تھا کہ اگر میں منتخب ہو گیا تو اس گھر کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا اور اپنے والد کی مسلسل اکتاہٹ زدہ نصیحتوں سے چھٹکارا حاصل کر لوں گا۔

صبح سویرے اُٹھا، بہترین کپڑے پہنے، خوشبو لگائی اور نکلنے لگاکہ دروازے کے پاس کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
میں نے پلٹ کر دیکھا تو والد مسکراتے ہوئے کھڑے تھے، حالانکہ ان کی آنکھوں میں بیماری کے آثار نمایاں تھے۔

انہوں نے مجھے کچھ پیسے دیے اور کہا: -
"میں چاہتا ہوں کہ تم پُر اعتماد رہو اور کسی سوال سے نہ ڈرو۔"
میں یہ نصیحت سن کر بیزاری سے مسکرایا، اندر سے سوچ رہا تھا کہ یہ بھی وقت ہے نصیحت کرنے کا، جیسے وہ میری خوشی کے لمحے کو خراب کرنا چاہتے ہوں۔

میں گھر سے نکلا، ٹیکسی میں بیٹھ کر کمپنی کی طرف روانہ ہو گیا۔

جب میں وہاں پہنچا تو حیران رہ گیا
نہ کوئی دربان تھا اور نہ کوئی استقبالیہ کا عملہ، بس کچھ ہدایتی بورڈز لگے ہوئے تھے جو انٹرویو کے کمرے کی طرف رہنمائی کر رہے تھے۔

جیسے ھی میں دروازے میں داخل ہوا، دیکھا کہ دروازے کا ہینڈل اپنی جگہ سے نکلا ہوا ہے اور ٹوٹنے کے قریب ہے۔
مجھے فوراً اپنے والد کی نصیحت یاد آئی کہ مثبت رہو، تو میں نے فوراً ہینڈل کو درست کردیا۔

آگے چلتے ہوئے دیکھا کہ باغ میں پانی بھر گیا ہے، ایک تالاب کا پانی بہہ رہا تھا، شاید مالی اسے بند کرنا بھول گیا تھا۔
مجھے والد کی پانی کے ضیاع پر ناراضگی یاد آئی، میں نے نل کی رفتار کم کر دی اور پانی کے پائپ کا رخ دوسرے تالاب کی طرف کر دیا۔

عمارت کے اندر پہنچا اور سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے دیکھا کہ لائٹ دن کے وقت جل رہی ہے۔
مجھے والد کا چہرہ یاد آیا اور فوراً بتی بجھا دی۔

جب میں انٹرویو کے کمرے میں پہنچا، تو دیکھا کہ بہت سے لوگ جاب حاصل کرنے کے لیئے موجود ہیں۔
سب کی طرف دیکھتے ہوئے، میں نے سوچا کہ میں ان کے سامنے کتنا معمولی سا نظر آرہا ہوں۔

پھر یہ دیکھا کہ جو بھی انٹرویو دینے جا رہا ہے، چند لمحوں میں واپس آ رہا ہے۔
میں نے سوچا کہ اگر یہ لوگ اپنی تمام قابلیت کے باوجود کامیاب نہیں ہو رہے، تو میں کیسے ہو سکتا ہوں؟

میں نے انٹرویو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

لیکن جیسے ہی میں اٹھنے لگا تو اسی وقت، میرا نام پکارا گیا۔
میں نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کیااور کمرے میں داخل ہو گیا۔

سامنے تین افراد بیٹھے تھے، انہوں نے مسکرا کر پوچھا:--
"آپ کب اس نوکری کو سنبھالنا چاہتے ہیں؟"
مجھے لگا جیسے وہ مذاق کر رہے ہوں لیکن سوچا شاید یہ بھی کوئی سوال ہو۔

میں نے اپنے والد کی نصیحت یاد کی کہ پُر اعتماد رہو۔
میں نے کہا: "جب میں امتحان میں کامیاب ہو جاؤں گا، تب سنبھالوں گا۔"

ایک نے کہا: "آپ کامیاب ہو چکے ہیں۔"

میں حیران رہ گیا کہ کسی نے مجھ سے کوئی سوال نہیں پوچھا، اور انہوں نے بتایا کہ میرا امتحان ہو چکا ہے۔

پھر ایک صاحب نے کہا:--

"ھم نے کمپنی میں کچھ جگہوں پر خرابیاں جان بوجھ کر چھوڑی تھیں تاکہ دیکھ سکیں کہ کون امیدوار انہیں ٹھیک کرتا ہے، اور آپ نے ہر غلطی کو درست کیا۔"

اس لمحے، میرے سامنے سب کچھ ماند پڑ گیا۔ میں نے اپنے والد کی تصویر دیکھنا شروع کی۔
وہ سخت مزاج جو ہمیشہ میری بھلائی چاہتا تھا۔
مجھے گھر واپس جانے اور ان کے ہاتھ چومنے کی شدید خواہش ہوئی۔

جب میں گھر پہنچا تو وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ سب کے چہروں پر دکھ کے آثار تھے۔

میں بہت دیر سے پہنچا تھا۔

میرے والد تو چلے گئے اور میں اُن کی محبت اور نصیحتوں کی قدر کرنے میں دیر کر گیا۔😭😭

والد صاحب ، آپ نے ہمیشہ مجھے درست راستہ دکھایا، اور میں آپ کا شکر گزار ہوں۔

آیئے آج ہم سب یہ عہد کرتے ہیں کہ یا الله والدین کی فرمانبرداری میں جتنی کوتاہی ہم سے ہوئی ہے اس پر ہمیں معاف فرمادے اور آئندہ کیلئے ہمیں والدین کے فرمانبردار اور اپنا پسندیدہ بنادے آمین
والسلام علیکم ورحــمةالله و برکاتہ
🍂
منقول ومرتب

15/04/2025

Address

Karachi

Telephone

+923032332929

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Behtaree ki taraf aik Qadam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Behtaree ki taraf aik Qadam:

Share