Human rights Internal Forum Pakistan Markaz

Call Directions Website Contact the organization

Human rights Internal Forum Pakistan Markaz Organization for Human Rights. An organization based on the principles and rules laid down under the Geneva Conventions It arranges marriages of poor girls. Etc.

Summary

Human Rights Internal Forum Pakistan. It is a non-governmental organization which helps the poor people all over the country. It provides educational facilities to their children. It bears all the expenses of marriage. Provides legal services to the poor. Food in rural areas. Distribution of milk to children. Wells in desert areas. Handpump filtered fresh water. Construction of wells in these areas. Health facilities in remote areas. To provide. To raise voice for the rights of women and children. To work on child labor. To provide legal assistance to prisoners in prisons. As to provide lawyers. Human Rights Internal Forum Pakistan. ۔ This organization does all this work with the help of philanthropists. This organization is regularly registered with domestic organizations. And a local or foreign person can become a member of this organization. You can visit more Facebook Human Rights Internal Forum Pakistan Markaz (page)
Dr. Hashim Sindhyan
Chairman
Human Rights Internal Forum Pakistan

مستحق کے گھر کا چولہا جلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔غریب کی زندگی چلےآپ کی تھوڑی سی امداد مجبور مستحق گھرانوں میں زندگی کے شمع روشن کرسکتی...
22/08/2026

مستحق کے گھر کا چولہا جلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔غریب کی زندگی چلے

آپ کی تھوڑی سی امداد مجبور مستحق گھرانوں میں زندگی کے شمع روشن کرسکتی ہے ۔
آئیں ہم سب مل کر ،سفید پوش،مستحق گھرانوں کی مدد کریں ۔ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان کے ۔پلیٹ فارم کے ساتھ

​
​
​
​
​
​
​خواتین کی خود مختیاری اور روزگار (Women Empowerment & Employment):
​
​
​
​
​
​
​صدقہ و عطیات اور اپیل (Donation & Sadqah Appeal):
​
​
​
​
​
​
​

16/08/2026

ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان کی جانب سے ملک کے مختلف علاقوں میں جشن آزادی کی ریلیاں و تقریبات منعقد کی گئی ۔اس سلسلے میں دادو کے چیف آرگنائزر قمر الدین ساریو کی سربراہی میں خانپور جونیجو میں پرچم کشائی و جشن آزادی ریلی نکالی گئی ۔

31/07/2026

Clean water brings dignity, health, and hope.
Human Rights Internal Forum Of Pakistan has installed a community hand pump in NimJo Goth
thata, for underprivileged families.
Support this ongoing journey of compassion and impact.

🔴 Donate Now
Ubank
Account title:Human Rights Internal Forum Of Pakistan
Account No,02011470583

IBAN:PK80UMBL2038002011470583

📞 what's up 0333-3438820
📞 0301-3438820

30/07/2026

💧 پانی ہے زندگی — صدقہ جاریہ میں حصہ ڈالیں! 💧
​کیا آپ اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے ہمیشہ رہنے والا صدقہ جاریہ کرنا چاہتے ہیں؟
​"ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان" کے پانی ہے زندگی پروگرام کے تحت ضرورت مند اور مستحق لوگوں تک پینے کا صاف پانی پہنچانے کا عزم کیا گیا ہے۔ اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے پیاروں کے ایصالِ ثواب کے لیے ہینڈ پمپ لگوانے میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔

​آپ اپنے عطیات درج ذیل اکاؤنٹ میں جمع کروا سکتے ہیں:

🏦 IBAN: PK80UMBL2038002011470583
​مزید معلومات اور رابطے کے لیے:
📞 03013438820
​آئیے! پیاسوں کی پیاس بجھانے میں اپنا حصہ ڈالیں اور اس نیکی کو آگے بڑھائیں۔
​

30/07/2026

سنتاجا شرماتے جا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انسانی حقوق اور ہم ۔ویڈیو ایک بار سنیئے اور دیکھیے گا ضرور ۔۔۔۔۔۔۔سچ ہے یا جھوٹ ۔۔۔۔۔فیصلہ انسانی ضمیر ہی کرے گا

خاموش خدمت گزار فلاحی ہیروز کو بھی بلیو پاسپورٹ دیا جائے، فلاحی ہیروز کا ملکی و عوامی فلاح کیلئے اہم کردار ہے
18/07/2026

خاموش خدمت گزار فلاحی ہیروز کو بھی بلیو پاسپورٹ دیا جائے، فلاحی ہیروز کا ملکی و عوامی فلاح کیلئے اہم کردار ہے

 #انسانی-حقوق-کا استحصال-اور خلاف ورزیاں اب بند ہونی چاہئیں،حاملہ بیوی کو اس کے شوہر کے ساتھ بھٹے کے اندر زندہ جلایا گیا...
12/07/2026

#انسانی-حقوق-کا استحصال-اور خلاف ورزیاں اب بند ہونی چاہئیں،

حاملہ بیوی کو اس کے شوہر کے ساتھ بھٹے کے اندر زندہ جلایا گیا لیکن ملزمان کو عدالت نے سزائے موت کے بعد آج بری کردیا، کیا اس ملک میں کبھی انصاف ہوگا یا نہیں؟۔۔۔

2014 کا نومبر، ضلع قصور کا گاؤں چک نمبر 59، کلارک آباد۔ ایک اینٹوں کے بھٹے پر مزدوری کرنے والا جوڑا، شہزاد مسیح اور اس کی حاملہ بیوی شمع، اپنے مرحوم سسر کے کمرے کی صفائی کرتے ہوئے کچھ پرانے کاغذات اور تعویذ نذرِ آتش کر دیتے ہیں۔ اگلے دن ایک راہگیر ان جلے ہوئے اوراق میں مبینہ قرآنی آیات دیکھ لیتا ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے اعلانات گونجنے لگتے ہیں۔ منٹوں میں سینکڑوں افراد کا مشتعل ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔
ق
وہ بے بس جوڑا صفائیاں دیتا رہ جاتا ہے کہ وہ ان پڑھ ہیں، انہیں کاغذات کی حقیقت کا علم نہیں تھا، مگر انسانیت اس دن بہری ہو چکی تھی۔ ہجوم نے کمرے کی چھت توڑ کر انہیں باہر نکالا، بے دردی سے مارا پیٹا اور پھر زندہ حالت میں اسی بھٹے کی آگ میں جھونک دیا جہاں وہ برسوں سے پسینہ بہاتے تھے۔ یہ منظر صرف ایک قتل نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی تھی جہاں ہجوم خود جج، خود جلاد بن بیٹھتا ہے۔

2016 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے پانچ افراد کو اس بہیمانہ قتل کے جرم میں سزائے موت اور آٹھ دیگر کو دو، دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس وقت یہ فیصلہ امید کی ایک کرن سمجھا گیا کہ شاید انصاف کا نظام مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوا۔ مگر برسوں کی قانونی جنگ، تاخیر اور شواہد کے کمزور پڑ جانے کے بعد اب خبر یہ ہے کہ سزائے موت پانے والے تینوں ملزمان کو عدالت نے بری کر دیا۔

یہ فیصلہ قانونی اعتبار سے شاید شواہد کی کمزوری، گواہوں کے تضاد بیانی یا تفتیش کی خامیوں پر مبنی ہو، اور ہر ملزم کو منصفانہ ٹرائل اور شک کا فائدہ ملنا انصاف کا بنیادی اصول ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جس ریاست نے اس وقت پچاس لاکھ روپے اور دس ایکڑ زمین کا وعدہ کیا تھا وہ آج تک پورا نہیں ہوا، وہاں مقتول جوڑے کے یتیم بچوں کے لیے انصاف کی یہ کہانی ایک نئے زخم کے سوا کیا چھوڑتی ہے؟ کوٹ رادھا کشن کا سانحہ صرف ایک عدالتی فائل نہیں، بلکہ اس معاشرے کے ضمیر کا امتحان ہے جو ہجوم کے انصاف اور ریاستی انصاف کے درمیان اب تک الجھا ہوا ہے۔

ہیومن ٹریفکنگ (انسانی اسمگلنگ): اسباب اور تدارک" کے عنوان پر ایک پروقار اور تفصیلی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس  اہم...
22/06/2026

ہیومن ٹریفکنگ (انسانی اسمگلنگ): اسباب اور تدارک" کے عنوان پر ایک پروقار اور تفصیلی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔
اس اہم آگاہی سیشن کا انعقاد ہیومن رائٹس انٹرنل فورم پاکستان اور سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کے اشتراک سے کیاگیا

​انسانی اسمگلنگ کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت، سول سوسائٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا: مقررین

​
​سول سوسائٹی، وکلاء، نوجوان پولیس افسران، بزنس کمیونٹی اور سماجی رہنماؤں کی بڑی تعداد میں شرکت

​ڈاکٹر ہاشم سندھیان، ایڈووکیٹ بشیر خان، ڈاکٹر قمر رحمانی اور محمد عثمان مغل کا سیشن سے خصوصی خطاب

ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان کے زیرِ اہتمام اور سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کے اشتراک سے "ہیومن ٹریفکنگ (انسانی اسمگلنگ): اسباب اور تدارک" کے عنوان پر ایک پروقار اور تفصیلی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ سیشن کا بنیادی مقصد معاشرے کے مختلف طبقات کو انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین جرم کے خلاف بیدار کرنا اور اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔

​سیشن میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ شرکاء میں سول سوسائٹی کے نمائندے، نامور وکلاء حضرات، محکمہ پولیس کے نوجوان افسران، بزنس کمیونٹی سے وابستہ مقتدر شخصیات اور سوشل کمیونٹی کے فعال ممبران شامل تھے۔ سیشن کے دوران 'ہیومن ٹریفکنگ کیا ہے؟' اور 'موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی اور باہمی تعاون کے ذریعے اس ناسور کو کس طرح روکا جائے؟' جیسے اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

​سیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان ڈاکٹر ہاشم سندھیان نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ انسانیت کے خلاف ایک بدترین جرم ہے، جس کے خاتمے کے لیے حکومت اور سماجی تنظیموں کا مشترکہ پلیٹ فارم پر آنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہیومن رائٹس انٹرنل فورم پاکستان۔ انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔

​نامور قانون دان ایڈووکیٹ بشیر احمد خان نے سیشن کو قانونی پہلوؤں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے اور مظلوموں کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے نوجوان پولیس افسران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فرنٹ لائن فورس کے طور پر پولیس کا کردار اس جرم کو روکنے میں سب سے اہم ہے۔

​معروف موٹیویشنل اسپیکر ڈاکٹر قمر رحمانی نے اپنے پُراثر خطاب میں معاشرتی رویوں اور آگاہی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اور سوشل کمیونٹی کو اس حوالے سے سفیر کا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی معصوم شہری ان جرائم پیشہ عناصر کے ہتھے نہ چڑھے۔

​سینئر (تجزیہ کار) محمد عثمان مغل نے عالمی اور علاقائی تناظر میں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس پر روشنی ڈالی اور بزنس کمیونٹی اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ معاشی مواقع پیدا کر کے اور مقامی سطح پر مانیٹرنگ کے ذریعے اس جرم کے سدباب میں اپنا حصہ ڈالیں۔
​سیشن کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے انسانی اسمگلنگ کے خلاف مہم کو آگے بڑھائیں گے۔ تقریب کے شاندار اور کامیاب انتظامات ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان کے عہدیداران راؤ محمد عدنان ،عمران شاہد،عابد خان ،ڈاکٹر ادیبہ ودیگرممبران نے انتھک محنت سے کیے، جنہیں شرکاء کی جانب سے بے حد سراہا گیا۔



Address

13/8, PHA , Society Malir Quaidabad
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Human rights Internal Forum Pakistan Markaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Human rights Internal Forum Pakistan Markaz:

Shortcuts

Share