Human rights Internal Forum Pakistan Markaz

Human rights Internal Forum Pakistan Markaz Organization for Human Rights. An organization based on the principles and rules laid down under the Geneva Conventions It arranges marriages of poor girls. Etc.

Summary

Human Rights Internal Forum Pakistan. It is a non-governmental organization which helps the poor people all over the country. It provides educational facilities to their children. It bears all the expenses of marriage. Provides legal services to the poor. Food in rural areas. Distribution of milk to children. Wells in desert areas. Handpump filtered fresh water. Construction of wells in t

hese areas. Health facilities in remote areas. To provide. To raise voice for the rights of women and children. To work on child labor. To provide legal assistance to prisoners in prisons. As to provide lawyers. Human Rights Internal Forum Pakistan. ۔ This organization does all this work with the help of philanthropists. This organization is regularly registered with domestic organizations. And a local or foreign person can become a member of this organization. You can visit more Facebook Human Rights Internal Forum Pakistan Markaz (page)
Dr. Hashim Sindhyan
Chairman
Human Rights Internal Forum Pakistan

03/06/2026

حکومت پاکستان اور صوبائی سندھ حکومت ان دونوں اسپتالوں کی لیز ختم کرکے سرکاری زمین واگزار کروائے اور آغا۔ خان اسپتال اور لیاقت نیشنل اسپتال پر خیرات علاج کرنے والے وعدے سے انحراف پر ان بھاری جرمانہ عائد کریں ۔ا۔ دونو اسپتالوں کو سرکاری تحویل میں لیکر سرکاری طور پر غریبوں کے لیئے جناح اسپتال اور سول اسپتال کی طرح مفت علاج کا بندوبست کرے ۔یا ان دونو اسپتالوں کو ڈاکٹر ادیب رضوی کے زیر انتظام کردیا جائے ۔

قربانی کا گوشت ف*ج اور ڈیفریز وں میں نہیں مستحق لوگوں کے چولہوں تک پہنچائیں ۔عید کا اصل مزہ آجائے گا ۔قربانی لوگوں کے لی...
01/06/2026

قربانی کا گوشت ف*ج اور ڈیفریز وں میں نہیں مستحق لوگوں کے چولہوں تک پہنچائیں ۔عید کا اصل مزہ آجائے گا ۔قربانی لوگوں کے لیئے کریں ۔فریزروں کے لیئے نہیں



31/05/2026

(اس پوسٹ کا مقصد ظلم اور جرم کی مزمت کرنا ہے)

🚨 سندھ میں قانون نام کی کوئی چیز باقی رہ گئی ہے؟

9ویں جماعت کی معصوم طالبہ کو اغوا کرنے کے بعد مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا نہیں، پورے معاشرے کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔

آخر کب تک ہماری بیٹیاں غیر محفوظ رہیں گی؟
کب تک مجرم آزاد گھومتے رہیں گے؟
اور کب تک انصاف صرف خبروں کی سرخی بن کر رہ جائے گا؟

عوام مطالبہ کرتی ہے کہ اس المناک واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرکے عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی درندہ ایسی جرات نہ کر سکے۔







05/05/2026
05/05/2026

چیئرمین ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان ڈاکٹر ہاشم سندہیان اور وائس چیئرمین عمران شاہد دھرتی ٹی وی کے مھمان Part 2

04/05/2026

چیئرمین ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان کی چیئرمین ڈاکٹر ہاشم سندہیان ،اوروائیس چیئرمین عمران شاہد دھرتی ٹی وی کے مھمان ۔پارٹ 1

دھرتی ٹی وی کے مھمان چیئرمین ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان ڈاکٹر ہاشم سندہیان اور وائس چیئرمین عمران شاہد
04/05/2026

دھرتی ٹی وی کے مھمان چیئرمین ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان ڈاکٹر ہاشم سندہیان اور وائس چیئرمین عمران شاہد

*"ماں اور افسر ہونے کا المیہ"*ایک عورت کے مضبوط کردار اور مخیر گیری سے خوف زدہ طاقتیں**ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستا...
02/05/2026

*"ماں اور افسر ہونے کا المیہ"
*ایک عورت کے مضبوط کردار اور مخیر گیری سے خوف زدہ طاقتیں*

*ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان کی پریس کانفرنس*

*ایس ایس پی نسیم آرا پنہور کو بیٹے کی گرفتاری اور سوشل میڈیا ٹرائل سے کیوں تنگ کیا جا رہا ہے؟*

*ہیومن رائٹس انٹرنل فورم نے اس عمل کو سازش قرار دے دیا*

کرونا میں 'گھر گھر راشن' پہنچانے والی فخر پاکستان خاتون آج اپنے ہی بیٹے کی پولیس حراست اور ذہنی اذیت کی دیواروں میں قید،
نسیم آرا پنھور کے خلاف منظم سازش پر ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان کےچیئرمین ڈاکٹر ہاشم سندھیان کی لب کشائی
*'یہ صرف ایک کیس نہیں، یہ ایک انسان دوست ماں کا قتلِ کردار ہے'*
ادارہ برائے انسانی حقوق، ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان نے ایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا ہے کہ سندھ پولیس کی اعلیٰ افسر، معروف سماجی کارکن اور 'فخر پاکستان' اعزاز یافتہ ایس ایس پی میڈم نسیم آرا پنہور کو ان کے بیٹے کے ذریعے ذہنی طور پر تھریڈ کرکے، غیر قانونی گرفتاریوں اور منظم سوشل میڈیا مہم کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فورم کے مطابق، یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ "ایک کھلے عام منصوبہ بند ظلم" کی مہم ہے جو ایک ایسی خاتون کے خلاف چلائی جا رہی ہے جس نے پوری وباۓ کرونا کے دوران نہ صرف اپنی جان کی پرواہ نہیں کی، بلکہ ہر گھر تک خوراک اور طبی امداد پہنچانے کے لیے راتوں کو جاگ کر کام کیا۔

کرونا کا ایام: جب میڈم نسیم آرا پنہور 'ہیومن رائٹس انٹرنل فورم' کی مضبوط بازو بن کر اتریں
مزید تفصیلات کے مطابق، جب پوری دنیا وباۓ کرونا کی تباہ کاریوں سے دوچار تھی اور پاکستان میں لاک ڈاؤن نے غریب عوام کو بھوک کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا، تب ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان نے چیئرمین ڈاکٹر ہاشم سندھیان کی قیادت میں ایک بے مثال آپریشن شروع کیا۔
· 'گھر گھر راشن' پروگرام: فورم کے کارکن سڑکوں پر اترے، لیکن ایس ایس پی نسیم آرا پنہور صرف پولیس افسر نہیں تھیں، وہ خود ایک کارکن بن کر ان کے ساتھ چلتی تھیں۔
· جب تک راشن بیگ کسی بچے تک نہ پہنچ جائے: میڈم نسیم آرا نے پکا پکایا کھانا، صاف پانی، ماسک اور راشن بیگز خود اپنے ہاتھوں سے شہر کے کچی آبادیوں اور دور دراز علاقوں تک پہنچائے۔
· طبی سہولیات: فورم کی جانب سے قائم کردہ مفت میڈیکل کیمپوں میں بھی وہ کھڑی نظر آتی تھیں، لوگوں کی سنتی تھیں، ان کے زخموں پر مرہم رکھتی تھیں۔
فورم کے ارکان کو ان مشکل ایام میں، میڈم نسیم آرا پنہور میں ہمیشہ ایک باہمت بہن، ایک ہمدرد ماں، اور ایک مضبوط عورت دکھائی دی۔ ان کی آنکھوں میں دوسروں کے درد کے آنسو ہوتے تھے۔ انہوں نے کبھی اپنا عہدہ، اپنی اہان، اپنی تنخواہ، اپنی جان، انسانی خدمت سے بالاتر نہیں رکھا۔
اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی؟
*'پیش منصوبہ سازش'*
ہیومن رائٹس انٹرنل فورم کے مطابق، جب یہ مضبوط خاتون خاموشی سے اپنے فرائض انجام دے رہی تھیں، اسی دوران ان کے خلاف ایک ذہنی اور قانونی دہشت گردی شروع کردی گئی۔
*ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان کے ترجمان کا الزام*
"یہ کوئی اتفاق نہیں کہ اچانک میڈم نسیم آرا پنہور کے بیٹے کو سندھ پولیس نے گرفتار کرلیا۔ یہ گرفتاری ان کے بیٹے کے ذریعے خود میڈم نسیم آرا کو تھریڈ کرنے کا ایک پہلو ہے۔ ان کے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھنے کے بجائے، انہیں عدالت میں گھسیٹا گیا، پھر سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک ٹرائل شروع کر دیا گیا۔ یہ ایک سوچی سمجھی اسکیم ہے تاکہ ایک مضبوط عورت، ایک ماں کو توڑ دیا جائے۔"
فورم نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی وہ تمام معلومات جو اس خاتون اور ان کے بیٹے کے خلاف پھیلائی جا رہی ہیں، وہ بے بنیاد، غیر اخلاقی اور قانونی حدود کی خلاف ورزی ہیں۔

*ہیومن رائٹس انٹرنل فورم کا اعلان جنگ: "ہم اس ماں اور بہن کے ساتھ کھڑے ہیں"*
ہیومن رائٹس آئی ایف او کے عہدیداران۔ڈاکٹرھاشم سندھیان ،راؤعدنان،عمران شاھد و دیگر نے اپنے ایک جذباتی خطاب میں کہا۔کہ "آج ہم اور ہمارا ادارہ صرف ایک پولیس افسر کی حمایت میں نہیں کھڑے ہیں، آج ہم ایک ایسی عورت کی حمایت میں کھڑے ہیں جس نے جب پورا نظام ڈھہہ گیا تھا، تب اپنی چھاتی پر بندوق کی بجائے راشن کا بیگ اٹھایا تھا۔ اس کے بیٹے کو گرفتار کرنا، اس کی ماں کو ذہنی طور پر تھریڈ کرنا، یہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قبول نہیں۔"
*ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان کا مطالبہ*

*1*. فوری انصاف: میڈم نسیم آرا پنہور کے بیٹے کی گرفتاری کے حقیقی مقاصد کی شفاف تحقیقات ہوں۔
*2*. سوشل میڈیا ٹرائل بند کیا جائے: غیر مصدقہ اور ذاتی نوعیت کی پوسٹس کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔
*3*. سازش کرنے والوں کے خلاف کارروائی: وہ لوگ جو ایک انسان دوست اور قانون پسند خاتون کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ہیومن رائٹس آئی ایف او نے واضح کیا کہ میڈم نسیم آرا پنہور صرف ایک پولیس افسر نہیں، وہ پاکستان کی اس خاتون کی نمائندہ ہیں جو اپنے بیٹے اور اپنی عزت دونوں کی حفاظت کرتے ہوئے خدمت پر گامزن ہے۔
ایک سوال جو آج پورے ملک سے گونج رہا ہے
*کیا وہ عورت جس نے لاکھوں لوگوں کو کرونا میں کھانا کھلایا، آج خود اپنے بیٹے کی جدائی اور معاشرتی رسوائی کی بھوک سے تڑپے گی؟*
ہیومن رائٹس انٹرنل فورم آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس خاتون کے ساتھ ہر قدم پر کھڑا ہے اور ضرورت پڑنے پر اعلیٰ عدالت تک جانے کا اختیار استعمال کرے گا۔پوری قوم اب آنکھیں کھول کر دیکھ رہی ہے کہ 'سندھ پولیس' اس افسر کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے جس نے پوری جرات اور انسانیت سے اپنے فرائض انجام دیے۔

Address

13/8, PHA , Society Malir Quaidabad
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Human rights Internal Forum Pakistan Markaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Human rights Internal Forum Pakistan Markaz:

Share