Jamaat e Islami Women Karachi

Jamaat e Islami Women Karachi Women Wing of Jamaat e Islami Karachi.

27/09/2026

سوشل میڈیا پر کارکنان متحرک رہیں اور اپنے کردار و اخلاق سے جماعت کے پیغام کو آگے بڑھائیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن، امیر جماعتِ اسلامی پاکستان



#میڈیا

24/09/2026

ڈیجیٹل دور میں ہم سب سے Confused نسل ہیں،
ذہنی انتشار، افکار کا ہجوم اور مستقبل کے خوف میں غلطاں قوم۔
کامیابی کو بینک بیلنس سمجھ بیٹھے ہیں۔دین محض رسم بن چکا ۔
سید مودودیؒ کا پیغام تھا، اسلام صرف رسم نہیں، *مکمل نظامِ حیات* اور بنیاد ہے ہے۔ قرآن صرف ثواب کے لیے نہیں، مکمل رہنمائ کے لیے ہے۔
حقیقی کامیابی دنیا و آخرت دونوں ہے۔
ڈپریشن سے نکلنا ہے تو قرآن کی طرف لوٹنا ہوگا،
کیونکہ real succes صرف دنیا ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے بعد بھی کامیاب ہونا ہے


Hafiz Naeem
Jamaat e Islami
Bhatta Levy NaManzoor
No More Bhatta Levy

جب قائد اور اس کی جماعت دونوں اعلیٰ کردار رکھتے ہوں تو تعداد میں کم ہونے کے باوجود ایک حق پرست گروہ بڑے ظالم گروہ پر غال...
24/09/2026

جب قائد اور اس کی جماعت دونوں اعلیٰ کردار رکھتے ہوں تو تعداد میں کم ہونے کے باوجود ایک حق پرست گروہ بڑے ظالم گروہ پر غالب آسکتا ہے، تاکہ اللہ کی زمین جبر اور فساد سے پاک ہو جائے



Hafiz Naeem
Jamaat e Islami
Bhatta Levy NaManzoor
No More Bhatta Levy

سخت سے سخت بیہودہ مخالفت کے جواب میں بھی آپ حدود اللہ سے کبھی تجاوز نہ کریں ۔ ہر لفظ جو آپ کی زبان یا قلم سے نکلے اس پر ...
24/09/2026

سخت سے سخت بیہودہ مخالفت کے جواب میں بھی آپ حدود اللہ سے کبھی تجاوز نہ کریں ۔ ہر لفظ جو آپ کی زبان یا قلم سے نکلے اس پر خوب سوچ لیں کہ وہ خلاف حق تو نہیں ہے، اور آپ اس کا حساب خدا کے ہاں دے سکیں گے؟ آپ کے مخالفین خدا سے ڈریں چاہے نہ ڈریں، آپ کو بہرحال خدا سے ڈرتے رہنا چاہیے ۔
سید ابو الاعلیٰ مودودی رح

‎کسی معاشرے کی اس سے بڑھ کر کوئی ذلت نہیں ہو سکتی کہ وہ انصاف سے خالی اور ظلم سے لبریز ہوتا چلا جائے، اس میں روز بروز بھ...
24/09/2026

‎کسی معاشرے کی اس سے بڑھ کر کوئی ذلت نہیں ہو سکتی کہ وہ انصاف سے خالی اور ظلم سے لبریز ہوتا چلا جائے، اس میں روز بروز بھلائیاں دبتی اور برائیاں فروغ پاتی چلی جائیں اور اس کے اندر دیانت، امانت اور شرافت کے لیے پھلنے پھولنے کے مواقع کم سے کم تر ہوتے چلے جائیں، یہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والی حالت ہے
‎
‎حوالہ کتاب: تفہیمات پنجم:١١٦
‎سید ابوالاعلیٰ مودودی

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے حوالے سے ملک گیر اجتماع کارکنان آن لائن خطاب: حافظ نعیم الرحمٰن (امیر جماعتِ...
23/09/2026

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے حوالے سے
ملک گیر اجتماع کارکنان
آن لائن خطاب: حافظ نعیم الرحمٰن (امیر جماعتِ اسلامی پاکستان)
24 ستمبر - بروز جمعرات | 8:30 بجے شب

ظلم وجبر کے خاتمے اور عدل کا نظام قائم کرنے والے گروہ کا قائد اور اس کے ساتھی اعلیٰ اخلاق اور مضبوط کردار کے حامل ہونے چ...
23/09/2026

ظلم وجبر کے خاتمے اور عدل کا نظام قائم کرنے والے گروہ کا قائد اور اس کے ساتھی اعلیٰ اخلاق اور مضبوط کردار کے حامل ہونے چاہئیں۔

ان کی نمایاں صفات میں پختہ ارادہ، اطاعت گزاری اور امانت داری شامل ہوں


23/09/2026

آج نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگری ہے مگر نوکری نہیں. ہر جگہ تجربہ مانگا جاتا ہے مگر تجربہ دینے کا موقع کوئی نہیں دیتا
وہ ناامید ہونے لگتے ہیں
اب مایوسی نہیں، روشن مستقل ہے*
جب لگے کہ اب ہار مان لینی چاہیے...
تبھی امید کا ایک دروازہ کھلتا ہے
مشکلات تو آتی ہیں لیکن امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ انہی کے درمیان سے راستہ بنانا ہوتا ہے
کراچی کا کوئی نوجوان یہ نہ کہے کہ ہمارا کوئی مستقبل نہیں!
ہم آپ کو منزل۔ کا پتہ دیں گے راستے انہیں خود بنانا - جہاں خوابوں کو راستہ ملتا ہے


#بنوقابل

صلح حدیبیہاب ہم ہجرت کے چھٹے سال کے اواخر میں ایک بہت بڑے واقعے سے دوچار ہوتے ہیں، جس نے حضور ﷺ کی تحریکِ اسلامی کی تاری...
23/09/2026

صلح حدیبیہ

اب ہم ہجرت کے چھٹے سال کے اواخر میں ایک بہت بڑے واقعے سے دوچار ہوتے ہیں، جس نے حضور ﷺ کی تحریکِ اسلامی کی تاریخ پر بہت دور رس اثرات ڈالے۔ یہ واقعہ ہے *صلح حدیبیہ!*

خدا پرستانہ تہذیب کے معمار، حضور محمد مصطفیٰ ﷺ نے ایک خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ مع بعض اصحاب کے مکہ میں امن و امان سے داخل ہوئے اور عمرہ کیا۔ اس خواب کا ذکر آپ ﷺ نے اپنے رفیقوں سے کیا۔ صحابہؓ یہ خواب سنتے ہی بیت اللہ کی زیارت کے لیے بے چین ہو گئے۔

آخر ایک روز رسولِ برحق ﷺ نے 1400 صحابہؓ کو ساتھ لے کر عمرہ کی نیت سے مکہ کی راہ پر قدم رکھا۔ یہ ذی قعدہ 6 ہجری کا واقعہ ہے۔ قربانی کے اونٹ ساتھ لیے۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر عرفِ عام کے مطابق ان کے کوہانوں کو خفیف زخمی کر کے خون آلود کیا گیا اور ان کے گلے میں قلادے ڈالے گئے، تاکہ انہیں پہچانا جا سکے کہ قربانی کے اونٹ ہیں۔ عرب میں قربانی کے جانوروں کے ساتھ کوئی تعرض نہیں کیا جاتا تھا۔ سارے مسافرانِ راہِ حق نے احرام باندھے اور صرف حفاظتی ہتھیار لیے گئے، جنگی نہیں۔

حضور ﷺ نے بنو خزاعہ کے ایک شخص بُسر بن سفیان کو آگے روانہ کیا کہ وہ قریش کو حضور ﷺ کے ارادۂ عمرہ سے آگاہ کریں۔ بُسر بن سفیان نے واپس آ کر عسفان میں حضور ﷺ کو اطلاع دی کہ قریش نے اطلاع ملتے ہی اپنا لشکر جمع کر لیا ہے اور عہد کر لیا ہے کہ وہ آپ ﷺ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ نیز خالد بن ولیدؓ دو سو سواروں کو لے کر مقامِ کُراع الغمیم میں پہنچ گیا ہے۔

حضور ﷺ نے ان معلومات کی روشنی میں اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔ دوسری طرف سے مَرّ الظَّہران میں پہنچے۔ پاس ہی حدیبیہ نامی کنواں تھا اور اسی نام کا ایک گاؤں بھی تھا۔ حضور ﷺ نے یہاں پڑاؤ کیا۔ کنویں میں پانی کم تھا۔ بطورِ معجزہ اللہ تعالیٰ نے اس میں یکایک حسبِ ضرورت اضافہ کر دیا۔

حضور ﷺ نے خُراش بن اُمیہ خزاعیؓ کو اہلِ مکہ سے بات کرنے کے لیے بھیجا۔ مکہ والوں نے ان کے اونٹ کو ذبح کر دیا اور خود انہیں بھی قتل کرنا چاہتے تھے، مگر بیچ بچاؤ ہو گیا۔

پھر حضرت عثمانؓ کو بھیجا گیا۔ انہیں واپس آنے میں دیر لگی۔ افواہ اڑی کہ حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ حضور ﷺ کو سخت رنج ہوا اور فرمایا کہ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا، جب تک عثمانؓ کے خون کا بدلہ نہ لے لوں۔ آپ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے صحابہؓ سے جانفشانی کی وہ بیعت لی جو *بیعتِ رضوان* کے نام سے مشہور ہے۔ سورۂ فتح کی آیات کے مطابق اس بیعت کے شرکاء کو اللہ کی رضا حاصل ہوئی۔ قریش کو اس بیعت کی اطلاع ملی تو مرعوب ہو گئے۔ آخر حضرت عثمانؓ واپس آ گئے اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

قبیلہ خزاعہ کے بُدَیل بن ورقاء نے خیرخواہانہ طریقے سے رسولِ برحق ﷺ کو قریش کے جذبات اور فوجی تیاریوں کا حال بتایا۔ جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہم لڑنے نہیں آئے، ہمارا ارادہ صرف عمرہ کرنے کا ہے۔ پھر فرمایا کہ قریش کو لڑائیوں نے بہت کمزور کر دیا ہے، کیوں نہ وہ ایک مدت کے لیے ہم سے صلح کر لیں۔ اس مدت میں ایک دوسرے سے تعرض نہ کیا جائے۔ قریش میرے اور بقیہ عرب کے معاملے کو چھوڑ دیں۔ بدیل نے قریش سے جا کر گفتگو کی۔ بعض دوسرے اکابر کی طرح عروہ بن مسعود ثقفی نے کہا کہ محمد ﷺ کی یہ باتیں نہایت پسندیدہ ہیں۔ میں خود جا کر ملتا ہوں۔

اب عروہ بن مسعود حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور ﷺ نے اس سے بھی وہی باتیں کیں۔ وہ متاثر ہوا۔ ساتھ ہی اس نے صحابہؓ کی طرف سے حضور ﷺ کی تعظیم کا وہ منظر دیکھا کہ حیرت زدگی کے ساتھ قریش کے سامنے بیان کیا۔ وہ کہتا ہے:

’’اے معشرِ قریش! میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے پاس بھی گیا ہوں، مگر بخدا کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے اصحاب ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسی محمد ﷺ کی تعظیم اصحابِ محمد ﷺ کرتے ہیں۔‘‘

پھر کہا: ’’اے قریش! محمد ﷺ نے کوئی ایسی بے جا بات تم سے نہیں کی۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں، مان لو۔‘‘

پھر بنی کنانہ کا ایک شخص حُلیس آیا۔ اسے دور سے دیکھ کر حضور ﷺ نے فرمایا: ’’قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دو۔ یہ شخص قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتا ہے۔‘‘ حُلیس نے قربانی کے اونٹوں کی قطار کھڑی دیکھی تو وہیں سے واپس آ کر کہا: ’’ربِ کعبہ کی قسم! یہ لوگ تو فقط عمرہ کرنے آئے ہیں، انہیں بیت اللہ سے نہیں روکا جا سکتا۔‘‘ قریش نے اسے گنوار اور جنگلی کہہ کر اس کی بات کو ٹالنا چاہا۔ اسے بھی جوش آ گیا۔ اس نے کہا: ’’اگر تم نے محمد ﷺ کو بیت اللہ کی زیارت سے روکا تو میں تمام احابیش کو لے کر تم سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔‘‘

آخر میں سہیل بن عمرو آئے اور تھوڑی دیر کی بات چیت کے بعد معاہدے کی شرائط طے پا گئیں۔ اب حضرت علیؓ معاہدے کی دستاویز لکھنے بیٹھے۔

حضور ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا تو سہیل نے کہا کہ ہم رحمن و رحیم کو نہیں جانتے، لہٰذا جو رائج طریقہ ہے، اس کے مطابق لکھو۔ حضرت علیؓ نے ’’باسمک اللّٰہم‘‘ لکھا۔ دوسری شق میں فریقینِ معاہدہ کے نام لکھے گئے تو حضور ﷺ کے لیے حضرت علیؓ نے لکھا:

محمد رسول اللہ

سہیل نے کہا کہ اگر ہم محمد ﷺ کو خدا کا رسول مانتے تو پھر جھگڑا ہی کیا رہتا۔ یوں نہ لکھا جائے۔ اب ’’محمد بن عبداللہ‘‘ لکھنے کا فیصلہ ہوا۔ حضرت علیؓ کو ادب مانع ہوا کہ وہ ان الفاظ کو کاٹیں، سو رسولِ خدا ﷺ نے خود تبدیلی کر دی۔

شرائط جو طے ہوئیں، ان میں سے اہم یہ ہیں:

(1) دس سال تک فریقین باہم جنگ نہیں کریں گے۔

(2) محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے جو حج یا عمرے یا تجارت کے لیے مکہ آئے، اس کو جان و مال کی امان ہوگی، اور قریش کا جو شخص تجارت کے لیے مصر یا شام جاتے ہوئے مدینے سے گزرے گا، اسے بھی جان و مال کی امان ہوگی۔

(3) قریش کا جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر محمد ﷺ کے پاس پہنچے گا تو آپ ﷺ اسے واپس کر دیں گے، اور محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے جو شخص قریش کے پاس آئے گا، وہ واپس نہیں کریں گے۔

(4) معاہدہ کرنے کی ذمہ داریوں میں کوئی چاہے تو محمد ﷺ کے ساتھ ہو اور چاہے تو قریش کے ساتھ۔

**(5)** اس سال محمد ﷺ بغیر عمرہ کیے واپس چلے جائیں گے، البتہ آئندہ سال وہ تین دن کے لیے مکہ میں آ سکیں گے اور اس کے بعد شہر سے باہر چلے جائیں گے۔

ابھی یہ معاہدہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ سہیل کے بیٹے ابو جندل قید سے نکل کر پابہ زنجیر حاضر ہوئے۔ مسلمان ہو چکے تھے اور قریش کی ایذا رسانیوں کا شکار تھے۔ سہیل نے انہیں دیکھتے ہی کہا کہ یہ پہلا شخص ہے جو معاہدے کے مطابق واپس ہونا چاہیے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ابھی تو تحریر مکمل نہیں ہوئی۔ سہیل نے کہا کہ اس صورت میں کسی بات پر قطعاً صلح نہیں ہو گی۔ آخر بادلِ نخواستہ حضور ﷺ نے اس نوجوان کو واپس کر دیا اور ابو جندل کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ تمہاری نجات کی کوئی صورت نکالے گا۔

ابو جندل کی واپسی کا مسلمانوں پر سخت جذباتی اثر پڑا۔ حضرت عمرؓ نے حضور ﷺ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو کفار کے سامنے ایسی ذلت کیوں گوارا کریں؟ حضور ﷺ نے ٹھنڈے طریقے سے جواب دیا کہ میں اللہ کا رسولِ برحق ہوں، اس کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔

تکمیلِ صلح کے بعد حضور پاک ﷺ نے صحابہؓ کو قربانی کرنے اور سر منڈانے کا حکم دیا، مگر صحابہؓ صلح کے ظاہری واقعات سے اس طرح شکستہ خاطر تھے کہ کوئی بھی نہ ہلا جلا۔ اس موقع پر حضرت اُمِ سلمہؓ نے مشورہ دیا: ’’یا رسول اللہ! یہ صلح مسلمانوں پر بہت شاق گزری ہے۔ آپ ان سے کچھ نہ کہیں، خود قربانی کر کے اپنے بال اتروائیں۔ صحابہؓ خود بخود اتباع کریں گے۔‘‘ اور بالکل ایسا ہی ہوا۔

دو ہفتے قیام کرنے کے بعد حدیبیہ سے رسولِ پاک ﷺ اور دینِ حق کے 1400 علم بردار واپس روانہ ہوئے۔ راستے میں سورۂ فتح کا نزول ہوا۔ حضور ﷺ نے صحابہؓ کو جمع کر کے ارشادِ الٰہی سنایا کہ یہ فتحِ مبین ہے۔ تو تعجب سے کئی حضرات نے پوچھا: ’’یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟‘‘

آپ ﷺ نے جواب دیا: ’’قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، بے شک یہ عظیم الشان فتح ہے۔‘‘ بعد کے واقعات نے بتا دیا کہ اشاعتِ اسلام کے لحاظ سے، قریش سے امن میں رہ کر دوسرے دشمنوں کی سرکوبی کے لحاظ سے، اور فتحِ مکہ کا محرک مہیا کرنے کے لحاظ سے واقعی یہ فتحِ مبین تھی۔

بعد میں حضرت عمرؓ کو ساری عمر حضور ﷺ سے جذباتی انداز میں گفتگو کرنے پر شرمساری رہی اور روزے رکھ رکھ کر اس کا کفارہ ادا کرنے میں لگے رہے۔

ماخوذ از سید انسانیت ﷺ
بقلم نعیم صدیقی

جاری ہے۔۔۔۔۔

اس کی مزید اقساط نیچے دئیے گئے واٹس ایپ چینل پر موجود ہیں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029VbCHU2dC1FuApIkNQr44

ﷺ (SiratUnNabi #)
ﷺ (RahmatulLilAlameen #)


ﷺ

عوام کو  ریلیف ملنے تک  دھرنے،احتجاج  اور جلسےجاری رہیں گے۔وز یراعظم کی درخواست پر ان کی وطن واپسی پر  پٹرولیم لیوی پر ن...
22/09/2026

عوام کو ریلیف ملنے تک دھرنے،احتجاج اور جلسےجاری رہیں گے۔وز یراعظم کی درخواست پر ان کی وطن واپسی پر پٹرولیم لیوی پر نتیجہ خیزگفتگو ہو گی عوام کو ریلیف دیتے ہیں تو ٹھیک! ورنہ تمام قافلے اسلام آ باد کی طرف روانہ ہوں گے۔
Hafiz Naeem ur Rehman

Address

504 Idara Noor E Haq Near Isalmia College, New MA Jinnah Road
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamaat e Islami Women Karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share