24/08/2026
*🌿 سیرتِ رسول ﷺ کی خوشبو*
*زاہر ہمارا دیہات ہے، اور ہم اُس کا شہر ہیں !*
مأخوذ از «روضة العقلاء ونزهة الفضلاء» — امام ابو حاتم محمد بن حِبّان البُستی (م 354ھ)
امام ابن حبان اس باب کا آغاز ایک ایسی حدیث سے کرتے ہیں جس کے چار الفاظ ایک پورے کردار کا نقشہ کھینچ دیتے ہیں:
عن ابنِ مسعودٍ، عن النبيِّ ﷺ قال: يَحرُمُ على النارِ كلُّ هيِّنٍ ليِّنٍ قريبٍ سَهلٍ
"ہر نرم خو، ملائم، قریب ہو جانے والے اور آسانی پیدا کرنے والے آدمی پر آگ حرام ہے۔"
هيّن — جو بوجھ نہ بنے۔ ليّن — جو رویّے میں نرم ہو۔ سهل — جس سے معاملہ کرنا آسان ہو۔ اور ان سب کے بیچ وہ لفظ جو آج سب سے کٹھن ہے: قریب— وہ جس تک پہنچا جا سکے، جس کے گرد کوئی دیوار نہ ہو۔ نجات کی شرط عبادت کی مقدار نہیں بتائی گئی؛ یہ بتایا گیا کہ لوگ تم تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں اور تم آسانیاں پیدا کرنے والے نرم دل شخص ہو یا اس کے برعکس!
پھر ابن حبان اپنی رائے لکھتے ہیں:
"عقل مند پر لازم ہے کہ حسنِ خلق کو لازم پکڑ کر اور بداخلاقی چھوڑ کر لوگوں کا محبوب بنے؛ کیونکہ اچھا اخلاق خطاؤں کو یوں پگھلا دیتا ہے جیسے سورج برف کو پگھلاتا ہے، اور برا اخلاق عمل کو یوں خراب کر دیتا ہے جیسے سرکہ شہد کو۔"
اور اسی باب میں وہ جملہ جو پورے باب کی کلید ہے: حُسنُ الخُلُقِ بَذْرُ اكتسابِ المحبةِ — "حسنِ خلق وہ بیج ہے جس سے محبت کی فصل پھوٹتی ہے۔" یعنی محبت کوئی ایسی چیز نہیں جو زور زبردستی سے حاصل کی جائے یا منصب و جلال کے ساتھ ملے؛ محبت تو بوئی جاتی ہے، اور اپنے وقت پر اگ کر پھل دیتی ہے۔
اب مدینے کا وہ منظر دیکھیے جس میں یہ بیج پھل بن کر سامنے آتا ہے۔
زاہر بن حرام اشجعی رضی اللہ عنہ —ایک بادیہ نشین، "دَمِيمُ الخِلقة" یعنی معمولی نقوش والا شخص، دیہات سے آ کر آپ ﷺ کے لیے گھی اور پنیر لاتے۔ اور واپسی پر آپ ﷺ خود ان کے سفر کا سامان باندھ دیتے۔ ایک طرف خاتم النبیین علیہ السلام، دوسری طرف ایک عام دیہاتی — اور دونوں کے درمیان محبت کا تعلق۔ آپ ﷺ فرماتے:
زاهِرٌ باديتُنا ونحن حاضِروهُ
"زاہر ہمارا دیہات ہے، اور ہم اُس کا شہر ہیں۔"
عرب کے ہاں "بادیہ" (دیہات) اور "حاضرہ" (شہر) کی تقسیم محض جغرافیہ نہیں تھی — یہ نسلوں سے جاری تفاوت پر مبنی معاشرتی درجہ بندی تھی جس میں دیہاتی کمتر شمار ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے وہی الفاظ لیے مگر تعلق کو برابر کا کر دیا: تم ہمارے، ہم تمہارے! جسے سماج کمتر گنتا تھا، اُسے یہ اعزاز ملا کہ نبی ﷺ نے خود کو اُس کی نسبت سے پکارا۔
پھر ایک دن زاہر رضی اللہ عنہ مدینہ آئے، آپ ﷺ نہ ملے، تو اپنا معمول کا سامان بیچنے بازار نکل گئے۔ آپ ﷺ کو خبر ہوئی تو پیچھے سے تشریف لائے اور اُنہیں ایک جگہ دیکھ کر پیچھے سے اپنے سینے سے لپٹا لیا۔ انہوں نے دیکھا نہیں تھا کہ کون ہے، گھبرا کر بولے: یہ کون ہے؟ چھوڑو مجھے! پھر مُڑ کر چہرۂ نبوت پہچانا — اور راوی کہتا ہے:
فجعلَ لا يألو ما ألصقَ ظهرَه بصدرِ النبيِّ ﷺ حين عرفَه
"پھر جب انہوں نے پہچان لیا تو اپنی پیٹھ کو سینۂ نبوی سے چمٹانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔"
آپ ﷺ نے، انہیں سینے سے لگائے ہوئے، بازار میں ازراہ مزاح آواز لگائی: "مَن يشتري العبدَ؟" — ہے کوئی جو اِس غلام کو خریدے؟ زاہرؓ بولے: یا رسول اللہ! تب تو خدا کی قسم آپ مجھے "کاسِد" پائیں گے — کھوٹا مال، جو بِکتا نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
لكنْ عندَ اللهِ لستَ بكاسدٍ
"لیکن اللہ کے ہاں تم کھوٹے نہیں ہو" — اور ایک روایت میں: :لكنْ عندَ اللهِ أنتَ غالٍ" — بلکہ اللہ کے ہاں تو تُم بہت مہنگے ہو۔
یہاں لفظ "کاسِد" میں ایک خاص بلاغت ہے۔ یہ خالص بازار کی اصطلاح ہے: وہ مال جو پڑا رہ جائے، جس کا کوئی گاہک نہ آئے، جس کا بھاؤ گر چکا ہو۔ زاہرؓ بازار میں کھڑے تھے اور انہوں نے خود کو اُسی بازار کے بھاؤ پر تولا۔ اور جواب میں رسول اللہ ﷺ نے ترازو ہی بدل دیا: زاہرؓ کا مول اِس دنیا کی منڈی میں طے ہی نہیں ہوتا کہ اس کی اصل قدر و قیمت تو اللہ جانتا ہے۔
اب اپنے زمانے پر نظر ڈالیے۔ زاہرؓ نے اپنے آپ کو "کاسد" کہا تو کسی نے انہیں یہ براہ راست نہیں کہا تھا — یہ فیصلہ انہوں نے معاشرتی معیار کو بھانپتے ہوئے خود اپنے بارے میں سنایا تھا۔ اور یہی آج کا بھی سب سے خاموش المیہ ہے: بازار کے بھاؤ اور معیارات آدمی کے اندر اتر جاتے ہیں، اور وہ خود کو اُنہی سے تولنے لگتا ہے۔ چہرہ ایسا نہیں جو تصویروں میں جچے، لہجہ ایسا نہیں جو محفلوں میں چلے، مخصوص معنوں میں کلچرڈ نہیں ہے، ڈگری اُس ادارے کی نہیں جس کا نام سنتے ہی لوگ سیدھے ہو کر بیٹھتے ہیں — سو آدمی خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ جاتا ہے کہ میری صلاحیتوں کا کوئی گاہک نہیں، میری کوئی مانگ نہیں۔
اور ہم نے یہ کلاس کلچر بڑی شقاوت سے چلا رکھا ہے۔ "پینڈو" کا طعنہ، انگریزی کے لہجے پر ہنسی، شکل و لباس پر فیصلہ، اور وہ خاموش چھانٹی جسے شائستہ زبان میں "پریزنٹیبل" ہونا کہتے ہیں۔ دکھلاوے اور سیلف پروجیکشن کے اس عہد نے تو ظاہر کو ہی حقیقت بنا دیا ہے: جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔ اور جو نہ دکھے وہ اپنے بارے میں یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اُس کا کوئی مول ہی نہیں۔
اُس ہستی ﷺ نے یہ ترازو ہی توڑ دیا۔ ایک معمولی نقوش والے دیہاتی کے بارے میں فرمایا: وہ ہمارا دیہات ہے اور ہم اُس کا شہر — اور یوں وہ تقسیم، جو سماج نے صدیوں میں کھڑی کی تھی، ایک جملے میں زمین بوس ہو کر منہدم ہو گئی۔ پھر بازار میں اُسی کو سینے سے لگا کر بتا دیا کہ تیرا مول یہاں طے نہیں ہوتا۔
آج ہمارے ہر ادارے، ہر دفتر، ہر گھر میں ایک "زاہر" ہوتا ہے: جو رپورٹوں میں شمار نہیں ہوتا، جس کا نام تقریبات کی فہرست میں نہیں آتا، جو اپنے بارے میں خود ہی فیصلہ سنا چکا ہے کہ وہ کھوٹا مال ہے۔ ایسا شخص خود کو سمیٹ کر علیحدہ کر چکا ہوتا ہے۔اور ہو سکتا ہے کہ کسی دن وہ زاہر آپ خود ہوں۔ پس دو باتیں یاد رکھیے: کسی کا مول اپنی نظر سے مت لگائیے، اور اپنا مول بازار کی نظر سے مت لگائیے۔
سو اس ربیع الاول کا چھٹا سبق: محبت کمائی نہیں جاتی، بوئی جاتی ہے — اور جس کا مول اللہ کے ہاں لکھا جا چکا ہو، وہ کسی بازار میں کھوٹا نہیں۔
(حوالہ: روضة العقلاء ونزهة الفضلاء، باب 8 — رقم 169، ص 95)