Jamaat e Islami Women Karachi

Jamaat e Islami Women Karachi Women Wing of Jamaat e Islami Karachi.

*🌿 سیرتِ رسول ﷺ کی خوشبو**زاہر ہمارا دیہات ہے، اور ہم اُس کا شہر ہیں !*مأخوذ از «روضة العقلاء ونزهة الفضلاء» — امام ابو ...
24/08/2026

*🌿 سیرتِ رسول ﷺ کی خوشبو*

*زاہر ہمارا دیہات ہے، اور ہم اُس کا شہر ہیں !*

مأخوذ از «روضة العقلاء ونزهة الفضلاء» — امام ابو حاتم محمد بن حِبّان البُستی (م 354ھ)

امام ابن حبان اس باب کا آغاز ایک ایسی حدیث سے کرتے ہیں جس کے چار الفاظ ایک پورے کردار کا نقشہ کھینچ دیتے ہیں:

عن ابنِ مسعودٍ، عن النبيِّ ﷺ قال: يَحرُمُ على النارِ كلُّ هيِّنٍ ليِّنٍ قريبٍ سَهلٍ

"ہر نرم خو، ملائم، قریب ہو جانے والے اور آسانی پیدا کرنے والے آدمی پر آگ حرام ہے۔"

هيّن — جو بوجھ نہ بنے۔ ليّن — جو رویّے میں نرم ہو۔ سهل — جس سے معاملہ کرنا آسان ہو۔ اور ان سب کے بیچ وہ لفظ جو آج سب سے کٹھن ہے: قریب— وہ جس تک پہنچا جا سکے، جس کے گرد کوئی دیوار نہ ہو۔ نجات کی شرط عبادت کی مقدار نہیں بتائی گئی؛ یہ بتایا گیا کہ لوگ تم تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں اور تم آسانیاں پیدا کرنے والے نرم دل شخص ہو یا اس کے برعکس!

پھر ابن حبان اپنی رائے لکھتے ہیں:
"عقل مند پر لازم ہے کہ حسنِ خلق کو لازم پکڑ کر اور بداخلاقی چھوڑ کر لوگوں کا محبوب بنے؛ کیونکہ اچھا اخلاق خطاؤں کو یوں پگھلا دیتا ہے جیسے سورج برف کو پگھلاتا ہے، اور برا اخلاق عمل کو یوں خراب کر دیتا ہے جیسے سرکہ شہد کو۔"

اور اسی باب میں وہ جملہ جو پورے باب کی کلید ہے: حُسنُ الخُلُقِ بَذْرُ اكتسابِ المحبةِ — "حسنِ خلق وہ بیج ہے جس سے محبت کی فصل پھوٹتی ہے۔" یعنی محبت کوئی ایسی چیز نہیں جو زور زبردستی سے حاصل کی جائے یا منصب و جلال کے ساتھ ملے؛ محبت تو بوئی جاتی ہے، اور اپنے وقت پر اگ کر پھل دیتی ہے۔

اب مدینے کا وہ منظر دیکھیے جس میں یہ بیج پھل بن کر سامنے آتا ہے۔

زاہر بن حرام اشجعی رضی اللہ عنہ —ایک بادیہ نشین، "دَمِيمُ الخِلقة" یعنی معمولی نقوش والا شخص، دیہات سے آ کر آپ ﷺ کے لیے گھی اور پنیر لاتے۔ اور واپسی پر آپ ﷺ خود ان کے سفر کا سامان باندھ دیتے۔ ایک طرف خاتم النبیین علیہ السلام، دوسری طرف ایک عام دیہاتی — اور دونوں کے درمیان محبت کا تعلق۔ آپ ﷺ فرماتے:

زاهِرٌ باديتُنا ونحن حاضِروهُ
"زاہر ہمارا دیہات ہے، اور ہم اُس کا شہر ہیں۔"

عرب کے ہاں "بادیہ" (دیہات) اور "حاضرہ" (شہر) کی تقسیم محض جغرافیہ نہیں تھی — یہ نسلوں سے جاری تفاوت پر مبنی معاشرتی درجہ بندی تھی جس میں دیہاتی کمتر شمار ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے وہی الفاظ لیے مگر تعلق کو برابر کا کر دیا: تم ہمارے، ہم تمہارے! جسے سماج کمتر گنتا تھا، اُسے یہ اعزاز ملا کہ نبی ﷺ نے خود کو اُس کی نسبت سے پکارا۔

پھر ایک دن زاہر رضی اللہ عنہ مدینہ آئے، آپ ﷺ نہ ملے، تو اپنا معمول کا سامان بیچنے بازار نکل گئے۔ آپ ﷺ کو خبر ہوئی تو پیچھے سے تشریف لائے اور اُنہیں ایک جگہ دیکھ کر پیچھے سے اپنے سینے سے لپٹا لیا۔ انہوں نے دیکھا نہیں تھا کہ کون ہے، گھبرا کر بولے: یہ کون ہے؟ چھوڑو مجھے! پھر مُڑ کر چہرۂ نبوت پہچانا — اور راوی کہتا ہے:

فجعلَ لا يألو ما ألصقَ ظهرَه بصدرِ النبيِّ ﷺ حين عرفَه
"پھر جب انہوں نے پہچان لیا تو اپنی پیٹھ کو سینۂ نبوی سے چمٹانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔"

آپ ﷺ نے، انہیں سینے سے لگائے ہوئے، بازار میں ازراہ مزاح آواز لگائی: "مَن يشتري العبدَ؟" — ہے کوئی جو اِس غلام کو خریدے؟ زاہرؓ بولے: یا رسول اللہ! تب تو خدا کی قسم آپ مجھے "کاسِد" پائیں گے — کھوٹا مال، جو بِکتا نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

لكنْ عندَ اللهِ لستَ بكاسدٍ
"لیکن اللہ کے ہاں تم کھوٹے نہیں ہو" — اور ایک روایت میں: :لكنْ عندَ اللهِ أنتَ غالٍ" — بلکہ اللہ کے ہاں تو تُم بہت مہنگے ہو۔

یہاں لفظ "کاسِد" میں ایک خاص بلاغت ہے۔ یہ خالص بازار کی اصطلاح ہے: وہ مال جو پڑا رہ جائے، جس کا کوئی گاہک نہ آئے، جس کا بھاؤ گر چکا ہو۔ زاہرؓ بازار میں کھڑے تھے اور انہوں نے خود کو اُسی بازار کے بھاؤ پر تولا۔ اور جواب میں رسول اللہ ﷺ نے ترازو ہی بدل دیا: زاہرؓ کا مول اِس دنیا کی منڈی میں طے ہی نہیں ہوتا کہ اس کی اصل قدر و قیمت تو اللہ جانتا ہے۔

اب اپنے زمانے پر نظر ڈالیے۔ زاہرؓ نے اپنے آپ کو "کاسد" کہا تو کسی نے انہیں یہ براہ راست نہیں کہا تھا — یہ فیصلہ انہوں نے معاشرتی معیار کو بھانپتے ہوئے خود اپنے بارے میں سنایا تھا۔ اور یہی آج کا بھی سب سے خاموش المیہ ہے: بازار کے بھاؤ اور معیارات آدمی کے اندر اتر جاتے ہیں، اور وہ خود کو اُنہی سے تولنے لگتا ہے۔ چہرہ ایسا نہیں جو تصویروں میں جچے، لہجہ ایسا نہیں جو محفلوں میں چلے، مخصوص معنوں میں کلچرڈ نہیں ہے، ڈگری اُس ادارے کی نہیں جس کا نام سنتے ہی لوگ سیدھے ہو کر بیٹھتے ہیں — سو آدمی خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ جاتا ہے کہ میری صلاحیتوں کا کوئی گاہک نہیں، میری کوئی مانگ نہیں۔

اور ہم نے یہ کلاس کلچر بڑی شقاوت سے چلا رکھا ہے۔ "پینڈو" کا طعنہ، انگریزی کے لہجے پر ہنسی، شکل و لباس پر فیصلہ، اور وہ خاموش چھانٹی جسے شائستہ زبان میں "پریزنٹیبل" ہونا کہتے ہیں۔ دکھلاوے اور سیلف پروجیکشن کے اس عہد نے تو ظاہر کو ہی حقیقت بنا دیا ہے: جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔ اور جو نہ دکھے وہ اپنے بارے میں یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اُس کا کوئی مول ہی نہیں۔

اُس ہستی ﷺ نے یہ ترازو ہی توڑ دیا۔ ایک معمولی نقوش والے دیہاتی کے بارے میں فرمایا: وہ ہمارا دیہات ہے اور ہم اُس کا شہر — اور یوں وہ تقسیم، جو سماج نے صدیوں میں کھڑی کی تھی، ایک جملے میں زمین بوس ہو کر منہدم ہو گئی۔ پھر بازار میں اُسی کو سینے سے لگا کر بتا دیا کہ تیرا مول یہاں طے نہیں ہوتا۔

آج ہمارے ہر ادارے، ہر دفتر، ہر گھر میں ایک "زاہر" ہوتا ہے: جو رپورٹوں میں شمار نہیں ہوتا، جس کا نام تقریبات کی فہرست میں نہیں آتا، جو اپنے بارے میں خود ہی فیصلہ سنا چکا ہے کہ وہ کھوٹا مال ہے۔ ایسا شخص خود کو سمیٹ کر علیحدہ کر چکا ہوتا ہے۔اور ہو سکتا ہے کہ کسی دن وہ زاہر آپ خود ہوں۔ پس دو باتیں یاد رکھیے: کسی کا مول اپنی نظر سے مت لگائیے، اور اپنا مول بازار کی نظر سے مت لگائیے۔

سو اس ربیع الاول کا چھٹا سبق: محبت کمائی نہیں جاتی، بوئی جاتی ہے — اور جس کا مول اللہ کے ہاں لکھا جا چکا ہو، وہ کسی بازار میں کھوٹا نہیں۔

(حوالہ: روضة العقلاء ونزهة الفضلاء، باب 8 — رقم 169، ص 95)





*مدینہ میں تعمیری کام* جن شخصیتوں اور جماعتوں کے سامنے کوئی عظیم مقصد ہوتا ہے، وہ جب اس کے لیے ہجرت کرتی ہیں تو نئے مقام...
23/08/2026

*مدینہ میں تعمیری کام*

جن شخصیتوں اور جماعتوں کے سامنے کوئی عظیم مقصد ہوتا ہے، وہ جب اس کے لیے ہجرت کرتی ہیں تو نئے مقام پر پہنچ کر صرف روزگار اور معاش کی فکر میں نہیں لگ جاتیں، بلکہ ان کی ساری توجہ اپنے اصل مقصد کے لیے راستہ ہموار کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ خدا کی راہ کا سچا مہاجر وہ ہے جس نے اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے لیے وطن چھوڑا ہو اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کی آزادی حاصل کرنے کے لیے دوسری جگہ ہجرت کی ہو۔

مدینہ پہنچتے ہی رسول اللہ ﷺ اور تحریکِ اسلامی کے جان نثاروں کی پوری توجہ اس بات پر مرکوز تھی کہ نظامِ حق کے قیام کے انتظامات کیے جائیں۔ چنانچہ رسولِ عدل و رحمت ﷺ نے ہجرت کے پہلے ہی سال وہ بنیادی کام انجام دے دیے، یا کم از کم ان کی بنیاد رکھ دی، جن کی تکمیل دوسرے سال ہجری میں ہوئی۔

سب سے پہلا تعمیری کام جو جماعتِ محمدی ﷺ اور اس کے عظیم قائد نے انجام دیا، وہ اقامتِ صلوٰۃ کے لیے مسجد کی تعمیر تھا۔ یہی مسجد آگے چل کر عبادت گاہ، قصرِ سیاست، مشورہ گاہ، عدالت، مدرسہ، بیت المال اور مہمان خانہ بھی بنی۔

جس جگہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی آ کر بیٹھی، وہ زمین بنو نجار کے دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی۔ صحابۂ کرامؓ نے وہ زمین خریدنا چاہی، مگر ان بچوں نے قیمت لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد مسجد کی تعمیر شروع ہوئی۔ مسجدِ قبا کی طرح یہاں بھی تمام مسلمانوں کے ساتھ خود رسول اللہ ﷺ بھی مزدور بن کر اینٹیں، پتھر اور گارا اٹھاتے رہے۔

مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی تو یہ سوال پیدا ہوا کہ دور دراز رہنے والے مسلمانوں کو نماز کے لیے کس طرح بلایا جائے۔ مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ حضرت عمرؓ نے اپنا خواب بیان کیا کہ انہوں نے کسی شخص کو مخصوص کلمات کے ساتھ نماز کی دعوت دیتے دیکھا۔ ایسا ہی خواب حضرت عبداللہ بن زیدؓ نے بھی بیان کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کلمات کو پسند فرمایا اور حضرت بلالؓ کو پہلا مؤذن مقرر کیا۔ وہ نہایت والہانہ انداز میں اذان دیتے تھے۔ مسجد کے ساتھ ہی گارے اور کھجور کی شاخوں سے رسول اللہ ﷺ کے اہلِ خانہ کے لیے حجرے بھی تعمیر کر دیے گئے۔

اس وقت رسول اللہ ﷺ کی عمر تقریباً ترپن (53) سال اور ایک ماہ تھی، اور یہ ربیع الاول، یکم ہجری کا زمانہ تھا۔

جو لوگ ایمان کے تقاضے کے تحت بڑے اور مبارک کام انجام دیتے ہیں، وہ سخت ترین حالات میں بھی انہیں بلا تاخیر مکمل کرتے ہیں۔ نہ ٹال مٹول کرتے ہیں، نہ بہانے بناتے ہیں۔ مسجد کی تعمیر کے ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ نے خطبات اور تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کر دیا تاکہ اسلام کا علم عام ہو اور ذہنوں اور کرداروں کی تعمیر ساتھ ساتھ ہوتی رہے۔

اسی مسجد میں ایک درس گاہ بھی قائم ہوئی، جس کے طلبہ کو **اصحابِ صفہ** کہا جاتا تھا۔ صفہ مسجد کا ایک چبوترہ تھا، جہاں دین سیکھنے والے مجرد نوجوان دن کو تعلیم حاصل کرتے اور رات وہیں گزارتے تھے۔ ان کی کفالت مدینہ کے مسلمان کرتے تھے۔

ایک علاقے سے اکھڑ کر اور اجڑ کر آنے والوں کی نوآبادکاری کسی دوسرے مقام پر ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ ہوتی ہے۔ ایسے مواقع پر انسانی تعلقات متاثر ہوتے ہیں، اخلاقی قدریں کمزور پڑ جاتی ہیں اور مقامی باشندوں اور مہاجرین کے درمیان وسائل کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔

مدینہ بھی اس زمانے میں کوئی بڑا شہر نہیں تھا، بلکہ چند ہزار نفوس پر مشتمل ایک سادہ سا قصبہ تھا، جس کی آبادی مختلف بستیوں میں تقسیم تھی۔ وسائل محدود تھے، مگر جب مہاجرین کی بڑی تعداد وہاں پہنچی تو نہ انصار نے اپنے اموال و جائیداد پر قبضہ جما کر بیٹھنے کی کوشش کی، نہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں بڑھائیں، اور نہ مہاجرین نے شور و غوغا یا چھینا جھپٹی کا راستہ اختیار کیا۔ نہ بیان بازیاں ہوئیں، نہ جلوس نکلے اور نہ تصادم کی نوبت آئی۔

دونوں فریق ایمان اور مقصد کی بنیاد پر ایک دوسرے کے بھائی تھے۔ وہ باطل کے خلاف جدوجہد کرنے والی ایک متحد جماعت تھے۔ انصار نے میزبان بن کر مہاجرین کو اپنے گھروں میں جگہ دی، اور مہاجرین نے صبر، قناعت اور شکر کا مظاہرہ کیا۔

اس کے باوجود ایک منظم رشتۂ اخوت کی ضرورت تھی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس بن مالکؓ کے گھر میں انصار و مہاجرین کی ایک مجلس منعقد فرمائی، جس میں نوّے افراد شریک ہوئے۔ آپ ﷺ نے ایک ایک انصاری اور ایک ایک مہاجر کے درمیان رشتۂ اخوت قائم فرمایا۔

انصار نے اپنے باغات، زمینوں، مکانات اور مال میں سے نصف حصہ اپنے مہاجر بھائیوں کو پیش کر دیا۔ حضرت سعد بن ربیعؓ نے اپنے مواخاتی بھائی حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے سامنے یہاں تک پیش کش کی کہ اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق دے کر عدت کے بعد ان کے نکاح میں دے دیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا: **"اللہ آپ کے اہل و مال میں برکت عطا فرمائے، مجھے صرف بازار کا راستہ بتا دیجیے۔"** انہوں نے اپنی محنت سے روزی کمانا پسند کیا۔

ابتدائی دور میں انصار کی وراثت سے بھی مہاجرین کو حصہ ملتا تھا، تاہم بعد میں یہ حکم منسوخ کر دیا گیا۔ بہت سے مہاجرین نے انصار کے مال سے فائدہ اٹھانے کے بجائے محنت اور تجارت کو اختیار کیا۔

اس پورے عمل میں نہ کسی نے جھگڑا کیا، نہ تلخی دکھائی، نہ کسی نے نسلی، علاقائی یا وطنی تعصب کا اظہار کیا کہ یہ لوگ یہاں کے اصل باشندے نہیں، اس لیے انہیں ہمارے وسائل میں حصہ نہیں ملنا چاہیے۔

انسانی تاریخ میں، خصوصاً دورِ حاضر میں، مہاجرین کی آبادکاری کی ایسی مثالی مثال شاید ہی کسی نظریے یا تحریک نے پیش کی ہو جیسی رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے صحابۂ کرامؓ نے قائم کی۔ آپ ﷺ کا سب سے بڑا اعجاز یہ تھا کہ آپ نے ایسے انسان تیار کیے جن کی نگاہ میں اللہ، اس کے رسول ﷺ اور دین کے مقابلے میں وطن، نسل، خاندان، علاقہ اور مال و دولت سب بے حیثیت تھے۔ حقیقی اسلام انسان کو انہی مادی تعصبات سے بلند کرتا ہے۔

اسی طرح مدینہ میں ایک متفقہ دستور کی تشکیل بھی ایک غیر معمولی کارنامہ تھا۔ عام حالات میں بھی کسی معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک آئین پر متفق کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے پہلے ہی سال یہودیوں کے تین بڑے قبائل، انصار کے دو بڑے قبائل اور مہاجرین کو ایک دستوری معاہدے پر متفق کر لیا۔

اس معاہدے کے مطابق مدینہ کی نئی ریاست کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور شریعت پر قائم ہوئی، سیاسی، قانونی اور عدالتی معاملات میں آخری اختیار رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہوا، اور مدینہ کی پوری آبادی دفاعی اعتبار سے ایک متحد قوت بن گئی۔ قریش کی حمایت کے تمام راستے بند کر دیے گئے اور دفاعی فیصلوں کا اختیار بھی رسول اللہ ﷺ کے سپرد کیا گیا۔

یہ معاہدہ درحقیقت اسلامی ریاستِ مدینہ کے قیام کا پہلا باقاعدہ دستور تھا۔

اس پورے واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے سامنے کوئی عظیم مقصد ہوتا ہے، وہ نہایت دشوار حالات میں بھی اپنی بصیرت، حکمت، نظم اور اخلاص کے ذریعے منزل تک پہنچنے کا راستہ بنا لیتے ہیں، جبکہ بے مقصد لوگ برسوں کوشش کے باوجود کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔

ماخوذ از سید انسانیت ﷺ
بقلم نعیم صدیقی

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

اس مزید اقساط نیچے دئیے گئے واٹس ایپ چینل پر موجود ہیں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029VbCHU2dC1FuApIkNQr44

ﷺ (SiratUnNabi #)
ﷺ (RahmatulLilAlameen #)



23/08/2026

پیٹرول لیوی صرف پیٹرول مہنگا نہیں کرتی...
یہ کسان کی روٹی بھی مہنگی کرتی ہے۔
کسان کے کھیت سے گھر کی روٹی تک
پیٹرول لیوی کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے"






23/08/2026

گورنر ہاؤس سندھ کے باہر بھتہ لیوی کے خلاف جاری دھرنے میں خواتین کی شرکت


رسولِ پاک ﷺ کی ہجرتدورانِ سفر آپ ﷺ کا گزر قبیلہ خزاعہ کی اُمِّ معبد کے خیمے کے پاس سے ہوا۔ حضور ﷺ نے اُمِّ معبد سے پوچھا...
23/08/2026

رسولِ پاک ﷺ کی ہجرت

دورانِ سفر آپ ﷺ کا گزر قبیلہ خزاعہ کی اُمِّ معبد کے خیمے کے پاس سے ہوا۔ حضور ﷺ نے اُمِّ معبد سے پوچھا کہ تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟ جواب ملا: ’’خدا کی قسم! کچھ ہوتا تو آپ کی خدمت میں دل و جان سے پیش کرتی۔‘‘

پھر ایک بکری جس کا دودھ خشک ہو چکا تھا، حضور ﷺ نے اس کا دودھ دوہنے کی اجازت طلب کی۔ برتن منگوایا۔ اتنا دودھ نکلا کہ آپ ﷺ اور آپ کے ساتھی سیر ہو گئے۔ پھر دوبارہ دودھ نکالا اور بھرا ہوا برتن اُمِّ معبد کو دے دیا۔

اُمِّ معبد کا خاوند مَعْبَد جب مریل اور بیمار بکریوں کو ہانکتا ہوا گھر پہنچا تو پوچھا: ’’یہ دودھ کہاں سے آیا؟‘‘ اُمِّ معبد نے کہا: ’’ایک بابرکت انسان یہاں آیا تھا اور یہ اسی کی مبارک آمد کا نتیجہ ہے۔‘‘

خاوند بولا: ’’یہ تو وہی شخص ہوگا جسے قریش تلاش کر رہے ہیں۔ تم ذرا اس کا حلیہ تو بتاؤ۔‘‘

اس کے جواب میں اُمِّ معبد نے ایسے شاندار الفاظ اور فصیح انداز میں رسولِ خدا ﷺ کا نقشہ بیان کیا ہے کہ اس پر شاعری کی صدہا بیاضیں اور ادب کے ہزاروں دفتر قربان۔

راستے میں حضرت زبیرؓ شام کے تجارتی سفر سے واپس آتے ہوئے ملے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ دونوں کی خدمت میں سفید ملبوسات کا ہدیہ پیش کیا۔

پھر حضرت بریدہ اسلمیؓ اپنے ستر ہمراہیوں کے ساتھ سامنے آئے۔ نکلے تو یہ بھی انعام کے لالچ میں تھے، مگر جب سامنا ہوا تو دل کی کیفیت بدل گئی۔ حضور ﷺ سے سوال کیے، کلام سنا اور اپنے ستر ساتھیوں سمیت مسلمان ہو گئے۔

سچ ہے:
’’شکار کرنے کو آئے، شکار ہو کر چلے۔‘‘

حضرت بریدہؓ نے حضور ﷺ کے سامنے اپنی خواہش ظاہر کی کہ آپ ﷺ کے قافلے کے آگے آگے ایک جھنڈا ہونا چاہیے۔ حضور ﷺ نے اپنا عمامہ نیزے پر باندھ کر بریدہؓ کو دے دیا۔ وہ جھنڈا لہراتا آگے آگے چلتا، نعرۂ تکبیر بلند کرتا اور اعلان کرتا کہ امن کا بادشاہ، صلح کا حامی اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینے والا آ رہا ہے۔

مکہ سے رسولِ برحق ﷺ کی روانگی کی خبر مدینہ پہنچ چکی تھی۔ لوگ ہر روز صبح گھروں سے نکل کر دور تک آتے اور دیر تک راستہ دیکھتے۔ دھوپ بڑھتی تو واپس چلے جاتے۔

تشریف آوری کے دن بھی لوگ انتظار کر کے لوٹ رہے تھے کہ ایک یہودی نے قلعے پر سے دیکھ لیا اور پکارا: ’’یثرب والو! لو تمہیں جس بزرگ کا انتظار تھا، وہ آ پہنچے۔‘‘

یہ ربیع الاول کی آٹھویں تاریخ تھی۔ انصار مارے خوشی کے ہتھیار سجا سجا کر آئے۔ اللہ اکبر کی صدائیں گونج اٹھیں۔

حضور ﷺ نے کچھ دنوں کے لیے مدینہ کی مضافاتی بستی قبا میں قیام فرمایا۔ سردارِ قبا کلثوم بن ہدمؓ کو شرفِ میزبانی حاصل ہوا۔ حضرت علیؓ بھی امانتیں ادا کر کے مکہ سے حضور ﷺ سے آ ملے۔

مہاجرین و انصار گروہ در گروہ شرفِ ملاقات حاصل کرتے رہے۔ حضور ﷺ نے یہاں اولین مسجد کی بنیاد رکھی اور اس کی تعمیر کے لیے پتھر اور گارا ڈھونے کے کام میں خود حصہ لیا۔ یہیں آپ ﷺ نے پہلی نمازِ جمعہ ادا فرمائی اور ایک مؤثر و تفصیلی خطبہ دیا۔

قبا میں چودہ دن گزار کر نمازِ جمعہ کے بعد آپ ﷺ مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔

قبا سے مدینہ تک دور و نزدیک انصار صف بستہ کھڑے تھے۔ حضور ﷺ کے ننھیالی رشتہ داروں نے شوق سے ہتھیار لگا رکھے تھے۔ ہر طرف تحمید و تقدیس کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ عورتیں چھتوں پر جمع تھیں اور یہ ترانۂ خیر مقدم ان کے لبوں پر تھا:

طلع البدر علينا
من ثنيات الوداع
وجب الشكر علينا
ما دعا لله داع

اور چھوٹی بچیاں دف بجا کر الاپ رہی تھیں:

نحن جوارٍ من بني النجار
يا حبذا محمدٌ من جار

مدینے کا ہر مسلمان ناقۂ نبوی ﷺ کی مہار پکڑ کر آپ ﷺ کو اپنے ہاں لے جانا چاہتا تھا۔

حضور ﷺ نے فرمایا: ’’ناقہ کو چھوڑ دو، یہ خدا کی طرف سے مامور ہے۔‘‘

ناقہ خود بخود حضرت ابوا یوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی اور میزبانی کا شرف انہی کے مقدر میں آیا۔

آج گویا تحریکِ عدل و رحمت کا نیا باب شروع ہوا۔ ایک تازہ دورِ کشمکش کا افتتاح اور اس کے ساتھ زمانۂ عروج کا آغاز!

ماخوذ از سیدِ انسانیت ﷺ
بقلم نعیم صدیقی
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی مزید اقساط نیچے دئیے گئے واٹس ایپ چینل پر موجود ہیں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029VbCHU2dC1FuApIkNQr44

ﷺ (SiratUnNabi #)
ﷺ (RahmatulLilAlameen #)



23/08/2026

اس ملک کا غریب طبقہ مستقل پس رہا ہے،
گھروں میں راشن نہیں ،ایسے میں گھر کے بیمار بزرگ بچوں کا دوا، علاج کیسے ممکن ہو۔
ہر طرف اک بےبسی کی کیفیت ہے۔
ایک طرف مریض کی جان تھی
دوسری طرف ایک بے بس ماں کے آنسو
جب علاج کی قیمت جان سے بڑی ہو جائے
تو ڈاکٹر کس کو بچائے؟
مریض کو... یا اپنی بے بسی کو؟





22/08/2026

عوامی مسائل پر میڈیا کا کردار
سینئر صحافی فیصل حسین کا تجزیہ

عورت معاشرے کا مرکز ہے، وہ پریشان ہو تو معاشرہ بےسکون رہتا ہے
22/08/2026

عورت معاشرے کا مرکز ہے، وہ پریشان ہو تو معاشرہ بےسکون رہتا ہے






کیا سرکار پاکستان کا مستقبل تاریک کرنا چاہتی ہے؟نئی نسل تعلیم کیسے حاصل کرے، بڑھتی مہنگائی اور فیسوں نے زندگی اجیرن کردی...
22/08/2026

کیا سرکار پاکستان کا مستقبل تاریک کرنا چاہتی ہے؟
نئی نسل تعلیم کیسے حاصل کرے، بڑھتی مہنگائی اور فیسوں نے زندگی اجیرن کردی ہے۔






صبحِ نبوّت کا طلوعایک دن ایسا ہوا کہ آپ ﷺ غارِ حرا میں مصروفِ عبادت تھے . ربیع الاول کا مہینہ تھا اور اس کی نو تاریخ، یک...
23/07/2026

صبحِ نبوّت کا طلوع

ایک دن ایسا ہوا کہ آپ ﷺ غارِ حرا میں مصروفِ عبادت تھے . ربیع الاول کا مہینہ تھا اور اس کی نو تاریخ، یکا یک ایک فرشته نمودار ہوا۔ یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور ﷺ
کو مخاطب کر کے کہا "محمد ﷺ بشارت قبول فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور میں جبرئیل ہوں۔"
یہ پہلا تعارف تھا۔

وحی کی باقاعدہ آمد اور نزولِ قرآن کا آغاز چھ ماہ بعد ہوا۔ اُس دن جبرئیل نے پاس آ کر کہا "پڑھو" (اقراء) آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ اس پر حضرت جبرئیل نے آپ ﷺکو ساتھ لگا کر زور سے بھینچا، پھر کہا " پڑھو آپ ﷺ نے پھر وہی جواب دیا۔ جبرئیل علیہ السلام نے پھر بھینچا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری قوتِ برداشت جواب دینے لگی، غرض تیسری مرتبہ جبرئیل نے سورہ علق کا ابتدائی حصہ پڑھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ساتھ پڑھتے گئے۔

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ (عَلَق ا تا ۵)
ترجمہ: اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے (سب کچھ) پیدا کیا۔ انسان کی جمے ہوئے خون سے تخلیق کی۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا ذی شان ہے جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔

یوں صبحِ نبوت نمودار ہوئی۔ سورہ علق کی یہ آیات نورِ وحی کی پہلی کرنیں تھیں اس دن حضور ﷺ کی عمر چالیس سال چھ ماہ دس دن تھی اور رمضان 1 ع 1میلادی کی ۱۸ ویں تاریخ!

قائد انسانیت نبی کریم ﷺکے بارے میں روایات بتاتی ہیں کہ فریضہء نبوت تفویض ہونے سے سات برس پہلے ہی سے آپﷺ کو سچے خواب آنے لگے۔ جو کچھ خواب میں دیکھتے بعینہٖ وہی کچھ عالمِ واقعہ میں پیش آ جاتا۔
کبھی ایک روشنی نگاہوں کے سامنے نمودار ہوتی، کبھی راستہ چلتے چلتے کسی درخت سے نام پکار کر السلام علیکم کہنے کی آواز آتی ۔ یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ آپ ﷺ کو آنے والے ماحول سے مانوس کیا جائے۔

اس کے باوجود جبرئیل علیہ السلام کے سامنے آنے اور نبوت کی ذمہ داری خدا کی طرف سے سونپے جانے اور ساتھ لگا کر بھینچنے کے واقعات سے آپ ﷺ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی ۔ فوراً غارِ حرا سےگھر تشریف لائے۔ آپ ﷺ پر گویا جلالِ الٰہی کا پرتو پڑ رہا تھا۔
آتے ہی حضرت خدیجہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ مجھے کچھ اوڑھا دو ۔۔ طبیعت کا اضطراب جب کچھ کم ہوا تو اپنی نیک نہار رفیقہء حیات کو بتایا کہ میں ایسے واقعات سے دوچار ہو رہا ہوں کہ مجھے اپنی جان کا اندیشہ ہے ۔ آخر یہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔۔
حضرت خدیجہ نے تسلّی دی کہ آپ کوئی ڈر محسوس نہ کریں مجھے معلوم ہے کہ آپ ﷺ مصیبت زدوں کے ہمدرد، بے کسوں کے دستگیر ہیں۔۔ اقرباء سے شفقت کا سلوک کرتے ہیں۔ ہمیشہ سچ بولتے ہیں ۔ مہمان نوازی فرماتے ہیں۔ بیواؤں اور یتیموں پر رحم کرتے ہیں۔ خدا آپ کو کبھی مبتلائے اندوہ نہیں کرے گا۔۔
لیکن خود حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی صورتِ واقعہ کی تفصیل معلوم ہونے سے دل ہی دل میں متفکر ہو گئیں اور اپنے اطمینان کے لیے آپ کو ساتھ لے کر اپنے چچیرے بھائی ورقہ بن نوفل کے
پاس پہنچیں۔ حضور ﷺ نے اپنی پوری سرگزشت بیان کر دی۔ ورقہ بن نوفل نے عیسائیت قبول کر لی تھی۔ وہ عالم تھا اور پچھلے مذہبی نوشتوں کا مطالعہ کرتا تھا۔ بات سنتے ہی اس نے کہا یہ وہی ناموسِ اکبر ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر اترا تھا۔ کاش میں جوان ہوتا اور اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو یہاں سے نکال دے گی ؟"۔

یہ سن کر حضور ﷺ نے ورقہ بن نوفل سے پوچھا: کیا میری قوم مجھے نکال دے گی ؟ ورقہ نے جواب دیا ۔" ہاں اس دنیا میں جس کسی نے ایسی تعلیم پیش کی اور بھٹکنے والوں کو راہ راست پر لانا چاہا اس کی مخالفت ہوتی رہی ہے۔ کاش آپ کی ہجرت تک میں زندہ رہوں اور آپ ﷺ کی کوئی خدمت کر سکوں"۔۔

ماخوذ از سیّدِ انسانیت
بقلم نعیم صدیقی
جاری ہے نیچے دئیے گئے واٹس ایپ چینل پر 👇
https://whatsapp.com/channel/0029VbCHU2dC1FuApIkNQr44

ﷺ (SiratUnNabi #)
ﷺ (RahmatulLilAlameen #)


Address

504 Idara Noor E Haq Near Isalmia College, New MA Jinnah Road
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamaat e Islami Women Karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share