Anjman Qamar ul Islam Sulemania, official

Call Directions Website Contact the organization

Anjman Qamar ul Islam Sulemania, official Anjman Qamar Ul Islam Sulemania

24/09/2026
24/09/2026

Syed Shah Manzoor Hamdani Welfare Foundation Karachi is Vision of Syed Abul Hasan Shah Manzoor Hamdani Rehmatullilah and spread Islamic education and serve for Humanity.

23/09/2026

Syed Shah Manzoor Hamdani Welfare Foundation Karachi Pakistan is Vision of Founder Anjman Qamar Ul Islam Sulemania and spread Islamic education and serve Humanity.

22/09/2026

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيم

(سید شاہ منظور ہمدانی ویلفیئر فاؤنڈیشن، کراچی پاکستان کی جانب سے سردار غلام عابد ایڈووکیٹ کا ہمدانی خاندان سے دیرینہ تعلق، محبت اور وابستگی کا اظہار)

میرا نام سردار غلام عابد ایڈووکیٹ ہے اور میرے والد محترم کا نام سردار گل شیر خان ہے۔ میرا تعلق گاؤں سورگ، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک سے ہے۔ آج کل الحمدللہ پنڈی گھیب شہر میں مقیم ہوں اور بطور وکیل پریکٹس کر رہا ہوں۔
میرا تعلق نسل در نسل، ننیال اور دادیال دونوں طرف سے، حضرت پیر سید محمد شاہ صاحب زمان آباد شریف اور ان کے خاندان سے عقیدت، محبت اور خدمت کا تعلق رہا ہے۔ میرے ننیال والے بھی، دادیال والے بھی اور میرے والدین بھی حضرت پیر سید محمد شاہ صاحب کے مرید تھے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ میری عمر تقریباً چھ یا سات سال تھی جب میری والدہ محترمہ مجھے موضع میانوالہ، بمقام زمان آباد شریف لے کر گئیں، جہاں مجھے حضرت پیر سید محمد شاہ صاحب کے دستِ حق پرست پر بیعت ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔
حضرت پیر سید محمد شاہ صاحب کا ہمارے گاؤں سورگ سے خصوصی تعلق تھا۔ جب بھی آپ تشریف لاتے تو میرے تایا جان، نمبردار سردار نواب خان صاحب کے گھر قیام فرماتے۔ آپ انتہائی سادہ طبیعت، درویش صفت اور لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونے والے بزرگ تھے۔ پورے علاقے میں جب کہیں لڑائی جھگڑا یا کوئی تنازع پیدا ہوتا تو آپ خود وہاں تشریف لے جاتے اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش فرماتے۔
حضرت پیر سید محمد شاہ صاحب کے بعد ان کے دو صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تھیں۔ بڑے صاحبزادے سید شاہ منظور ہمدانی صاحب اور چھوٹے صاحبزادے سید ابو الخیر فقیر احمد شاہ صاحب تھے۔ آپ دونوں صاحبزادگان جب بھی ہمارے گاؤں سورگ تشریف لاتے تو میرے تایا جان کے گھر قیام فرماتے۔ ہماری پوری فیملی کا اس خاندان کے ساتھ انتہائی قریبی، محبت اور عقیدت کا تعلق رہا ہے۔
آج بھی جب زمان آباد شریف، میانوالہ میں کوئی تقریب یا پروگرام ہوتا ہے تو ہم اپنی پوری فیملی کے ساتھ، حتیٰ کہ گاڑیوں میں افراد کو ساتھ لے کر، وہاں حاضری دیتے ہیں۔ الحمدللہ، حضرت پیر سید محمد شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد بھی ہمارا اس آستانہ اور ان کے خاندان سے تعلق بدستور قائم ہے۔
سید شاہ منظور ہمدانی صاحب چونکہ کراچی میں مقیم ہوگئے تھے اور ان کی فیملی بھی زیادہ تر کراچی میں رہتی تھی، جبکہ سید ابو الخیر فقیر احمد شاہ ہمدانی صاحب اور ان کی فیملی زمان آباد شریف، میانوالہ اور اخلاص شہر کے علاقوں میں مقیم رہے۔
سید شاہ منظور ہمدانی صاحب جب بھی کراچی سے پنڈی گھیب یا ہمارے علاقے میں تشریف لاتے تو خصوصی طور پر مجھے یاد فرماتے۔ اگر دن کے وقت تشریف لاتے تو کچہری میں میرے پاس آتے، اور اگر شام کے وقت آتے تو مجھے ضرور یاد فرماتے یا اپنے پاس بلوا لیتے۔ زمان آباد شریف، اخلاص یا پنڈی گھیب کی طرف آنا ہوتا تو میرے گھر بھی تشریف لاتے۔
کچہری میں جب بھی ان کا کوئی کام ہوتا، ہم اپنی استطاعت کے مطابق ان کی خدمت کرتے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ شاہ منظور ہمدانی صاحب انتہائی سخی، فیاض اور دریا دل انسان تھے۔
جب کچہری کے کسی کام میں کوئی دوسرا شخص، اسٹاف یا متعلقہ آدمی شامل ہوتا تو میری کوشش ہوتی کہ شاہ صاحب کو کوئی رقم خرچ نہ کرنی پڑے اور میں خود ہی معاملہ نمٹا دوں۔ لیکن میرے بار بار اصرار کے باوجود شاہ صاحب بڑی فیاضی سے فرماتے:
"نہیں نہیں سردار صاحب، یہ ضرور کرنا ہے۔ یہ میرا حکم ہے۔"
ان کا یہ جملہ آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔
سخاوت اور انسان دوستی کا ایک یادگار واقعہ
ایک واقعہ مجھے خاص طور پر یاد ہے۔ شاہ صاحب کی کسی جگہ کا ایک سودا ہوا۔ ہم نے خریداروں سے دو لاکھ روپے بیعانہ لیا۔ وہ دو بھائی تھے۔ بیعانہ وصول ہوا، دعا خیر ہوئی، تحریر مکمل ہوئی اور وہ لوگ واپس چلے گئے۔
دو تین دن بعد وہ دوبارہ آئے اور کہنے لگے کہ ہم رقم کا انتظام نہیں کر سکتے، اس لیے سودا منسوخ کرنا چاہتے ہیں۔
میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ سودا منسوخ کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں، لیکن قانون اور تحریر کے مطابق جو دو لاکھ روپے بیعانہ آپ نے دیا ہے، وہ واپس نہیں ہوگا۔
وہ لوگ غریب تھے اور پریشان ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شاہ صاحب سے بات کریں گے۔ میں نے کہا کہ بے شک جائیں، لیکن قانون اور تحریر کے مطابق رقم واپس نہیں ہوسکتی۔
جب وہ سید شاہ منظور ہمدانی صاحب کے پاس گئے تو شاہ صاحب نے مجھے بلایا۔ میں نے عرض کیا:
"شاہ جی! قانون یہی ہے۔ انہوں نے تحریری طور پر بیعانہ دیا ہے اور اب اپنی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے سودا مکمل نہیں کر سکتے، لہٰذا یہ دو لاکھ روپے واپس نہیں ہونے چاہئیں۔"
شاہ صاحب نے فرمایا:
"سردار صاحب، آپ ٹھیک بات کر رہے ہیں، لیکن کوئی بات نہیں۔ یہ غریب لوگ ہیں۔ آپ قانون کو چھوڑیں، آپ تحریر کو چھوڑیں، ہم نے ان کے دو لاکھ روپے واپس کرنے ہیں۔ بس!"
یہ واقعہ میرے لیے سید شاہ منظور ہمدانی صاحب کی سخاوت، فیاضی اور انسان دوستی کی ایک بہت بڑی مثال ہے۔ وہ واقعی دریا دل اور سخی انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو دیا، وہ دوسروں پر خرچ کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔

شاہ صاحب کی خوشبو اور خوبصورت یادیں
خاص طور پر مجھے کچہری کا وہ وقت بھی یاد ہے۔ جہاں جہاں سے شاہ صاحب گزرتے تھے، ان کے گزرنے کے بعد بھی دیر تک ایک نہایت خوبصورت خوشبو پھیلی رہتی تھی۔ وہ غالباً گلاب اور عرقِ گلاب سے بنی ہوئی خوشبو یا عطر استعمال فرمایا کرتے تھے، جو بہت شاندار، منفرد اور اپنی مثال آپ تھی۔
کئی لوگ جو باہر سے آتے تھے، اکثر پوچھتے:
"وہ شاہ صاحب جو آپ کے پاس آتے تھے، وہ خوشبو والے شاہ صاحب کہاں ہیں؟"
تو میں انہیں بتاتا کہ وہ ہمارے محترم شاہ صاحب ہیں۔
یہ خوشبو بھی شاہ صاحب کی شخصیت کی خوبصورت یادوں میں سے ایک ہے جو آج تک میرے دل میں محفوظ ہے۔ مجھے بھی کبھی کبھی شاہ صاحب تشریف لاتے تو محبت سے وہ خوشبو تحفے میں عطا فرماتے تھے۔
شاہ صاحب کی دی ہوئی ماشاءاللہ جانمازیں بھی آج تک میرے گھر میں استعمال ہو رہی ہیں۔ ان کی محبت، شفقت، خلوص اور ان سے وابستہ تمام خوبصورت یادیں میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
محبت، اعتماد اور دیرینہ وابستگی
شاہ صاحب کو میرے ساتھ بہت انس، محبت اور اعتماد تھا۔ میں یہ بات کسی مبالغہ آرائی کے طور پر نہیں بلکہ اپنی زندگی کے مشاہدے اور ذاتی تعلق کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ سید شاہ منظور ہمدانی صاحب مجھ سے بے حد محبت کرتے اور مجھ پر بہت زیادہ اعتماد فرماتے تھے۔
ان کے ساتھ میری بہت سی خوبصورت اور یادگار وابستگیاں ہیں، جنہیں میں اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتا ہوں۔

میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ میں پیر سید محمد شاہ صاحب، سید شاہ منظور ہمدانی صاحب، سید ابو الخیر فقیر احمد شاہ صاحب اور ان کے پورے خاندان کا خادم ہوں، اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ جب بھی اس خاندان کی کوئی خدمت کرنے کا موقع ملے تو میں اسے اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ حضرت پیر سید محمد شاہ صاحب اور سید شاہ منظور ہمدانی صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے خاندان، متعلقین اور عقیدت مندوں کو ان کی نیک روایات، محبت، اخلاص اور خدمتِ خلق کے راستے پر قائم رکھے۔

اللہ پاک شاہ صاحب اور ان کے آباؤ اجداد کو، اور ان کے خاندان کے ان تمام مرحومین کو جو اللہ کے حضور پہنچ چکے ہیں، اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
۔
بفیضانِ نظر:
بانیِ انجمن قمرالاسلام سلیمانیہ سید ابو الحسن شاہ منظور ہمدانی رحمۃ اللّٰہ علیہ

منجانب:
شاہ فخرالدین ہمدانی
جنرل سیکرٹری
سید شاہ منظور ہمدانی ویلفیئر فاؤنڈیشن
کراچی، پاکستان
WhatsApp:+92-3009234296

Address

Street 17 Punjab Colony Karachi K
Karachi
75600

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anjman Qamar ul Islam Sulemania, official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Anjman Qamar ul Islam Sulemania, official:

Shortcuts

Share