26/08/2026
مشَن آمدِ رسول ﷺ — ہمارا پیغام کیا ہے؟
رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو کسی شخصیت پرستی، رسم و رواج یا خود ساختہ مذہبی طریقوں کی طرف نہیں بلایا، بلکہ سب سے پہلے اللہ کی عبادت، اس کی توحید اور ہر قسم کے شرک سے بیزاری کی دعوت دی۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی بنیادی دعوت یہی تھی کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ (سورۃ النحل: 36) نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری زندگی اللہ کی بندگی، اس کی توحید اور اس کے احکام کی پیروی کی تعلیم دی اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی راستے کو اختیار کیا۔ ہمارا مقصد بھی کسی سے نفرت یا کسی کو برا ثابت کرنا نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی وہی صاف اور سادہ دعوت عام کرنا ہے جس کے لیے انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے: اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے، عبادت کی تمام صورتیں صرف اللہ کے لیے مخصوص ہوں، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی جائے اور دین میں اپنی طرف سے ایسی بات شامل نہ کی جائے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مقرر نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ” یعنی “اور بے شک یہی میرا سیدھا راستہ ہے، پس اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو۔” (سورۃ الأنعام: 153) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ” یعنی “جس نے ہمارے اس دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔” (صحیح بخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718) اسی لیے ہماری دعوت کا خلاصہ چند الفاظ میں ہے: خالص توحید، صحیح سنت، شرک سے اجتناب اور بدعات سے دوری۔ آئیے رسول اللہ ﷺ کی آمد کو صرف ایک یادگار واقعہ کے طور پر نہیں بلکہ آپ ﷺ کے لائے ہوئے پیغام کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کا ذریعہ بنائیں۔ عبادت صرف اللہ کی، اتباع صرف رسول اللہ ﷺ کی، اور دین وہی جو قرآن و سنت سے ثابت ہو۔ یہی انبیاء علیہم السلام کی دعوت تھی، یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا راستہ تھا، اور یہی ہماری دعوت ہے۔
#امیدسحر