06/10/2026
کیا انسان کو خدا تک پہنچنے کے لیے ہمیشہ پیچیدہ فلسفہ درکار ہوتا ہے؟
اسلامی علمی روایت میں فطرت کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
فطرت سے مراد انسان کی وہ بنیادی ساخت اور رجحان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے خالق، اخلاقی حقیقت اور مقصدِ وجود جیسے سوالات کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
اسی پس منظر میں بعض مسلم علماء نے اللہ کے وجود کو انسان کے لیے ایک بنیادی اور بدیہی حقیقت کے طور پر بیان کیا ہے۔
سورۂ فاتحہ میں بھی ایک دلچسپ اسلوب ہے۔
یہ نہیں کہا گیا:
"اللہ کی حمد کرو"
بلکہ براہِ راست کہا گیا:
الْحَمْدُ لِلَّهِ
یعنی:
"تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے۔"
یہ انداز انسان کو حکم دینے کے بجائے ایک حقیقت کے اعلان کے طور پر سامنے آتا ہے۔
اسی لیے بعض صوفی و اسلامی مفکرین نے خدا کی معرفت کے بارے میں یہ فرق بیان کیا:
کچھ لوگ کائنات کے ذریعے خدا کو پہچانتے ہیں،
جبکہ کچھ کے لیے خدا کی معرفت کائنات کو سمجھنے کا نقطۂ آغاز بنتی ہے۔
یہی "الحمد للہ" کے اندر موجود ایک گہری فکری جہت ہے۔