14/06/2026
پریس ریلیز
نوجوانانِ مہاجر وفاقی بجٹ 2026-27 کے اعلان کے بعد اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ یہ بجٹ عوامی ضروریات، معاشی انصاف اور طویل المدتی ترقی کے بجائے قلیل مدتی انتظامی اور مالی اہداف پر زیادہ مرکوز نظر آتا ہے۔
اس بجٹ میں جہاں ایک طرف عوام پر نئے اور بالواسطہ ٹیکسز کا بوجھ بڑھایا گیا ہے، وہیں دوسری طرف عام شہریوں کی بنیادی ضروریات جیسے تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبے مسلسل نظرانداز دکھائی دیتے ہیں۔ بالواسطہ ٹیکسز میں اضافہ، مہنگائی اور یوٹیلٹی بلز میں اضافے کا براہ راست اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کے لیے مختص وسائل بدستور ناکافی ہیں۔ سرکاری تعلیمی ادارے، یونیورسٹیاں اور اسپتال پہلے ہی وسائل کی کمی، انتظامی کمزوری اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا شکار ہیں۔ اس بجٹ میں ان مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح اور انقلابی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔
اس کے برعکس سماجی امدادی پروگراموں کے لیے بھاری رقوم مختص کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاستی پالیسی “خود کفالت” کے بجائے “انحصار” کے ماڈل کو فروغ دے رہی ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ امداد ایک وقتی ریلیف ہے، جبکہ اصل حل عوام کو بااختیار بنانا ہے۔
نوجوانانِ مہاجر کا مؤقف:
ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا اعتراض کسی ایک پروگرام یا پالیسی پر نہیں بلکہ مجموعی بجٹ کے عدم توازن اور عوامی ترجیحات کی کمی پر ہے۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کو سہارا دینے کے بجائے انہیں خود مختار بنائے۔
بنیادی مسائل:
1. تعلیم اور صحت کے لیے ناکافی بجٹ
2. بالواسطہ اور نئے ٹیکسز میں اضافہ
3. مہنگائی اور عوامی قوتِ خرید میں کمی
4. روزگار کے نئے مواقع کی کمی
5. ترقیاتی پالیسی میں عدم توازن
ہماری تجاویز:
نوجوانانِ مہاجر حکومت سے درج ذیل اصلاحات کا مطالبہ کرتی ہے:
- تعلیم کے بجٹ میں نمایاں اضافہ اور تعلیمی اصلاحات کا جامع پلان
- صحت کے نظام کی مکمل بحالی اور دیہی علاقوں میں جدید سہولیات کی فراہمی
- ٹیکس نظام میں اصلاحات تاکہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر کم ہو
- نئے روزگار پیدا کرنے والے صنعتی اور ٹیکنالوجی منصوبے شروع کیے جائیں
- سماجی امداد کے ساتھ ساتھ “روزگار اور ہنر” پر مبنی پالیسی کو فروغ دیا جائے
- پالیسی سازی میں شفافیت اور عوامی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے
پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے جڑا ہوا ہے۔ اگر بجٹ میں تعلیم، صحت اور روزگار کو حقیقی ترجیح دی جائے تو یہ ملک معاشی خودمختاری کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ صرف امداد اور ٹیکسز پر مبنی نظام دیرپا حل نہیں دے سکتا۔
نوجوانانِ مہاجر حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنی معاشی ترجیحات پر نظرثانی کرے اور ایک ایسا بجٹ ماڈل اپنائے جو عوام کو سہارا نہیں بلکہ طاقت دے۔
جاری کردہ:
ترجمان
نوجوانانِ مہاجر