Karachi Residents Forum

Karachi Residents Forum Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Karachi Residents Forum, Non-Governmental Organization (NGO), Karachi.

  پاکستان  عدالتی نظام دنیا کا وہ واحد عجوبہ ہے جہاں پیسے کی طاقت سے ہر گناہ دھویا جا سکتا ہے۔ شاہ رخ جٹوئی نے ۲۰۱۲ء میں...
18/05/2026




پاکستان عدالتی نظام دنیا کا وہ واحد عجوبہ ہے جہاں پیسے کی طاقت سے ہر گناہ دھویا جا سکتا ہے۔ شاہ رخ جٹوئی نے ۲۰۱۲ء میں سرِعام معصوم شاہزیب کا خون بہایا، لیکن نظام کی دلالت دیکھیے کہ سزائے موت کا قیدی ۲۰۲۲ء میں جیل سے باعزت رہا ہو کر گھر چلا گیا۔ ماڈل ایان علی ۲۰۱۵ء میں لاکھوں ڈالرز کی اسمگلنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی، مگر قانون کو ٹھینگا دکھا کر بیرونِ ملک فرار ہو گئی اور آج تک مفرور ہے۔

کہانی کی سفاکی اس وقت اپنی حدیں پار کر جاتی ہے جب ہم ارمغان قریشی کے کردار کو دیکھتے ہیں۔ ڈی ایچ اے (DHA) کے پوش علاقے میں رہنے والا یہ وہ بااثر مجرم ہے جو کھلے عام کوکین اور دیگر مہنگی منشیات کا کاروبار کرتا تھا۔ ارمغان نے کسی غیر سے نہیں، بلکہ اپنے ہی ۲۳ سالہ دوست مصطفیٰ عامر سے غداری کی۔ ذاتی جھگڑے پر ارمغان نے مصطفیٰ کو اپنے بنگلے پر بلایا، لوہے کی راڈ سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، اسے باندھ کر سیڑھیوں سے گھسیٹا اور پھر ادھ موئی حالت میں گاڑی کی ڈگی میں بند کر کے حب (بلوچستان) کے علاقے میں لے جا کر زندہ جلا دیا۔
جب پولیس کو مصطفیٰ عامر کے اغوا کا سراغ ملا اور انہوں نے فروری ۲۰۲۵ء میں ارمغان کے بنگلے پر چھاپہ مارا، تو اس قانون سے بے خوف مجرم نے پولیس کے سامنے سرنڈر کرنے کے بجائے سرِعام چار گھنٹے تک پولیس مقابلہ کیا ارمغان نے خودکار جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کی دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں پولیس افسر پر گولی چلانے اور اپنے دوست کو زندہ جلانے والے کو چند دنوں کے اندر پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جاتا۔ لیکن پاکستان میں پیسے اور اثر و رسوخ کی وہ "سہولت" موجود ہے کہ فروری ۲۰۲۶ء میں دہشت گردی کی عدالت (ATC) میں فردِ جرم تو عائد کی گئی، لیکن ارمغان نے عدالت میں کھڑے ہو کر اپنے ہی وکیل کو مسترد کر دیا اور ڈرامے بازی شروع کر دی حد تو یہ ہے کہ اس پر درج غیر قانونی کال سینٹر اور ڈیٹا چوری کے دیگر مقدمات میں اسے جنوری ۲۰۲۶ء میں ضمانت تک مل گئی

منظر نامے پر نتاشا اقبال نمودار ہوئی۔ ۲۰۲۴ء میں کارساز کی سڑک پر اپنی کروڑوں کی گاڑی تلے ایک غریب باپ اور بیٹی کو کچلنے والی یہ خاتون چند ہی ہفتوں میں "اللہ کے نام پر" معافی نامہ حاصل کر کے قتل کے مقدمے سے صاف بچ نکلی۔ اگرچہ آئس (منشیات) کا کیس اب بھی چل رہا ہے، لیکن عوام جانتی ہے کہ انصاف بک چکا ہے۔

اور آج انمول عرف پنکی اس کے نیٹ ورک سے جڑی منشیات کی ملکہ "کوکین کوئین" انمول پنکی مئی ۲۰۲۶ء میں کروڑوں روپے کے ڈرگ نیٹ ورک کے ساتھ پکڑی گئی۔ لیکن گرفتاری کا تماشہ دیکھیے؛ اسے ہتھکڑی تک نہیں لگائی گئی، جس پر سوشل میڈیا پھٹ پڑا اور پولیس والوں کو معطل کرنا پڑا۔

دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں اگر کوئی سرِعام قتل کرے، معصوموں کو گاڑی تلے کچلے، یا نوجوان نسل کی رگوں میں منشیات کا زہر اتارے، تو اس کا انجام پھانسی کا پھندا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان کا یہ بوسیدہ نظام دنیا کا واحد عجوبہ ہے جہاں یہ سہولت کھلے عام دستیاب ہے کہ: "جرم کرو، عیاشی کرو، بس تمہاری جیب میں پیسہ ہونا چاہیے!"
یہاں قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں صرف کمزور مکھیاں پھنستی ہیں، جبکہ مگرمچھ اسے پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔

باقلم: وسیم گزدر✍️

17/05/2026
17/05/2026



صرافہ بازار صدر میں دکاندار کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ایف آئی اے اہلکار سب انسپکٹر محمد اقبال کے خلاف سنگین الزامات

کراچی: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے افسر محمد اقبال، جو سن 2002 میں سب انسپکٹر (BPS-14) کے طور پر بھرتی ہوئے تھے اور 2026 تک اسی عہدے پر تعینات رہے، ایک بار پھر شدید تنازعات اور سنگین الزامات کی زد میں آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کے خلاف مختلف اوقات میں کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، مبینہ تشدد، ہراسگی، رشوت ستانی، غیر قانونی مداخلت اور محکمانہ بدعنوانی کے متعدد مقدمات اور انکوائریاں سامنے آ چکی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد اقبال کو متعدد بار محکمانہ سزائیں دی گئیں، جن میں تنزلیٔ عہدہ بھی شامل ہے، تاہم اس کے باوجود انہیں بارہا FIA اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں SHO جیسے حساس عہدوں پر تعینات کیا جاتا رہا۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق انہیں SHO FIA Anti-Corruption Circle کراچی کے عہدے سے ہٹا کر معطل کر دیا گیا ہے اور FIA زونل آفس کراچی رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

📌 گولڈ مارکیٹ ٹارچر کیس

سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا معاملہ کراچی کی گولڈ مارکیٹ میں پیش آنے والا مبینہ تشدد کا واقعہ ہے۔ الزام ہے کہ محمد اقبال نے ایک سونے کے تاجر کو اس کے بیٹوں، ساتھی تاجروں اور گاہکوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کی CCTV ویڈیوز بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

ذرائع کے مطابق محمد اقبال نے مبینہ طور پر ثبوت ختم کرنے کی نیت سے دکان کا CCTV ہارڈ ڈرائیو قبضے میں لے لیا، تاہم ویڈیو آن لائن بیک اپ ہونے کے باعث محفوظ رہی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ عمل PECA 2016 کی دفعات 3، 5، 6، 8، 13 اور 14 کے تحت قابلِ تعزیر جرم بن سکتا ہے، کیونکہ اس میں ڈیجیٹل سسٹم میں غیر قانونی مداخلت اور غیر مجاز رسائی شامل ہے۔

اسی کیس میں یہ الزام بھی سامنے آیا کہ تاجر پر جسمانی تشدد کیا گیا، جو کہ “The Torture and Custodial Death (Prevention and Punishment) Act, 2022” کی دفعہ 8 کے تحت بھی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ حیران کن طور پر محمد اقبال خود FIA کے ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ سیکشن کے انچارج بھی رہ چکے ہیں۔

📌 بغیر لائسنس ڈرائیور کی بھرتی اور محکمانہ سزا

سن 2021 میں FIA میں ایک کانسٹیبل ڈرائیور کی بھرتی پر سنگین سوالات اٹھے۔ الزام ہے کہ مذکورہ امیدوار کے پاس اشتہار کی آخری تاریخ تک مؤثر ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں تھا، جبکہ قواعد کے مطابق آخری تاریخ تک درست لائسنس لازمی شرط تھی۔

اس وقت محمد اقبال مبینہ طور پر اسکروٹنی کمیٹی کے انچارج تھے جو امیدواروں کے کوائف اور دستاویزات کی تصدیق کی ذمہ دار تھی۔ ایک ناکام امیدوار کی شکایت پر محکمانہ انکوائری کی گئی، جس کے بعد ذمہ داری محمد اقبال پر عائد کی گئی اور انہیں انسپکٹر سے تنزلی دے کر سب انسپکٹر بنا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اُس وقت کے DG FIA رفعت مختار کے احکامات پر کی گئی۔

📌 جعلی رینک لگانے کا الزام

تنزلی کے بعد محمد اقبال صرف دو اسٹار پہننے کے مجاز تھے، تاہم الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر تین اسٹار لگا کر خود کو اعلیٰ رینک کا افسر ظاہر کیا۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے CCTV فوٹیجز، ٹک ٹاک ویڈیوز اور میڈیا انٹرویوز بطور شواہد موجود ہیں۔ قانونی حلقوں کے مطابق یہ عمل دفعہ 419 پاکستان پینل کوڈ کے تحت جعل سازی اور غلط نمائندگی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

📌 RAW سلیپر سیل کیس اور 10 کروڑ رشوت کا الزام

FIA کاؤنٹر ٹیررازم ونگ (CTW) کراچی میں تعیناتی کے دوران محمد اقبال پر الزام لگا کہ انہوں نے RAW سلیپر سیل کیس میں دو ایسے تاجروں کو گرفتار کیا جن کا کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ذرائع کے مطابق بعد ازاں تقریباً 10 کروڑ روپے رشوت لینے کے بعد ان افراد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے مقدمے سے نکال دیا گیا۔ معاملہ انسداد دہشت گردی عدالت تک پہنچا جہاں اُس وقت کے ڈائریکٹر CTW اسلام آباد کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔

بعد ازاں FIA کے ڈائریکٹر سکندر حیات نے بطور انکوائری افسر تحقیقات کیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ الزامات ثابت ہونے پر محمد اقبال کو Assistant Director سے تنزلی دے کر دوبارہ انسپکٹر بنا دیا گیا۔ تاہم یہ سوال تاحال موجود ہے کہ محکمانہ سطح پر کرپشن ثابت ہونے کے باوجود ان کے خلاف دفعہ 161 PPC اور Prevention of Corruption Act 1947 کے تحت فوجداری مقدمہ کیوں درج نہ کیا گیا۔

📌 شارخ جتوئی فرار کیس

سن 2013 میں کراچی ایئرپورٹ پر امیگریشن ڈپارچر کے شفٹ انچارج کے طور پر تعیناتی کے دوران محمد اقبال پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے معروف ملزم شارخ جتوئی کے بیرونِ ملک فرار میں سہولت فراہم کی۔

رپورٹس کے مطابق شارخ جتوئی غیر رسمی طریقے سے امیگریشن کلیئر کر کے کراچی سے دبئی روانہ ہوا۔ بعد ازاں ہونے والی محکمانہ انکوائری میں ذمہ داری محمد اقبال پر عائد کی گئی اور انہیں انسپکٹر سے تنزلی دے کر سب انسپکٹر بنا دیا گیا۔

📌 زیرِ حراست ڈیبٹ کارڈ سے رقم نکلوانے کا الزام

سب انسپکٹر محمد علی نے مبینہ طور پر تحریری شکایت کے ساتھ بینک ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ جمع کروایا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گرفتاری کے دوران ان کا ڈیبٹ کارڈ محمد اقبال نے قبضے میں لیا تھا اور یہ بات ضبطگی میمو میں بھی درج تھی۔

شکایت کے مطابق رہائی کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے اکاؤنٹ سے غیر مجاز رقوم نکالی گئی ہیں، حالانکہ ڈیبٹ کارڈ FIA تحویل میں موجود تھا۔ ذرائع کے مطابق شکایت کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

📌 NCCIA خاتون افسر کی ہراسمنٹ شکایت

NCCIA کراچی میں تعینات ایک خاتون ماہرِ نفسیات افسر AD مہوش نے محمد اقبال، جو اُس وقت CCRC کراچی کے انچارج تھے، کے خلاف ورک پلیس ہراسمنٹ کی تحریری شکایت جمع کروائی۔

ذرائع کے مطابق شکایت میں نامناسب جسمانی رویے اور دباؤ ڈالنے جیسے الزامات شامل تھے۔ مزید یہ کہ شکایت واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالنے کے دعوے بھی سامنے آئے، تاہم خاتون افسر نے انکار کر دیا۔

بعد ازاں انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور مستقل طور پر امریکہ منتقل ہو گئیں، جبکہ محمد اقبال کو CCRC کراچی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

📌 رشوت اور بھتہ خوری کے الزامات

کاروباری حلقوں اور مقامی مارکیٹوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا دعویٰ ہے کہ محمد اقبال مبینہ طور پر طویل عرصے سے رشوت اور بھتہ خوری میں ملوث رہے ہیں۔ متعدد شکایات جمع کروائے جانے کے باوجود کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق FIA اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں ان کے اثر و رسوخ کے باعث بہت سے متاثرین انتقامی کارروائی کے خوف سے کھل کر سامنے آنے سے گریز کرتے رہے۔

یہ تمام الزامات اور انکوائریاں اب ایک بار پھر FIA کے داخلی احتسابی نظام اور حساس عہدوں پر تعیناتی کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہیں۔

17/05/2026

کراچی ریزیڈنس فورم کی دعوت بہ عنوان!

"کراچی کے مسائل اور ان کا حل"!
پر کراچی ریسیڈنٹس فورم نے ایک مشاورتی تقریب گزشتہ دنوں منعقد کی جس میں چیئرمین جعفر علی (سابق رکن سندھ اسمبلی) نے فورم کی طرف سے میزبانی کی دعوت پر کراچی کی نمایاں سیاسی،سماجی،کاروباری،ادبی،دانشور شخصیات نے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی نمایاں شخصیات میں سینیر ترین مہاجر رہنما چیرمین MIT ڈاکٹر سلیم حیدر اور انکے قریبی رفقاء سابق بیوروکریٹ چیف انجینر سلیم صدیقی،نواب راشد علی خان،کاشف زئ،اختر روہیلہ،ڈاکٹر شبیر آرائیں،راشد رضوی ایڈوکیٹ،ندیم بیگ ایڈوکیٹ،سید شفیع قادری نے شرکت کی,
اس کے علاوہ ممتاز رہنما سابق اراکین سندھ اسمبلی جناب شیخ اسمعیل عظیم( ڈیفینس کلفٹن) جناب عابد شریف( لیاقت اباد) جناب شاھد میاں( پاک کالونی) اسلم خان (صدر کے جی اے،)انور عثمانی( مہاجر رابطہ کونسل)، جاوید شمس,
کراچی ریزیڈنٹس فورم کے مرکزی کابینہ اراکین جناب مرزا عالم بیگ،منظر عباس،زبیر افضل خان،فاروق خان، فرید خان،محمد نعیم قریشی،معراج علی ،سمیت اہم سابق علاقائ ذمہ داران، نظریاتی کارکنان اور ہمدردوں نے شرکت کی۔ اس نشست میں شرکاء نے کراچی کی تباہ حالی کے ذمہ دار عناصر کی نشاندھی کی متفقہ طور پہ یہ ہے کیا کہ!
کسی صورت اپنے ملک،قوم اور شہر کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹنے کا عزم کیا گیا,

میزبان چئرمین جعفر علی بھائ نے اعلان کیا کہ عیدالضحیٰ کے فوری بعد بھرپور طریقے سے شہری اتحاد و یکجہتی اور منزل کی طرف پیش قدمی کا اغاز ھو گا۔ ڈاکٹر سلیم حیدر نے تمام شرکاء کے عزم حوصلے نظریہ سے والہانہ لگاؤ پر خراج تحسین پیش کرتے ہویے عظیم تر کراچی کی تعمیر کیلیے ہر طبقہ فکر سے رابطہ کرنے اور دعوت فکر وعمل دینے کی ضرورت پر زور دیا,
اجلاس کے اختتام پر شرکاء کے اعزاز میں بے حد پر تکلف عشائیہ بھی دیا گیا.
کراچی ریسیڈنٹس فورم۔

14/05/2026

سندھ کے اندر پچھلے تین3 ہفتوں میں `چار سے پانچ معصوم بچیوں کو “کاری” کے نام پر قتل کر دیا گیا۔` یہ کون سا انصاف ہے ایک طرف وہی وڈیرے دوسروں کے گھروں میں گھس کر بچیوں کو اغوا کرتے ہیں، زبردستی شادیاں کرواتے ہیں، مذہب تبدیل کرواتے ہیں اور تب سب خاموش رہتے ہیں۔ لیکن جب انہی کے اپنے گھروں کی بچیاں اپنی مرضی سے شادی کریں تو انہیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے
`سجاد علی سومروMPA`

قرآن واضح حکم دیتا ہے کہ عورت کو اس کی مرضی کا حق دیا جائے اس کی عزت کی جائے لیکن سندھ کے دیہی علاقوں میں آج بھی جاہلانہ رسمیں قانون اور دین دونوں پر حاوی ہیں
سوال یہ ہے آخر آج تک کسی بڑے وڈیرے کو “کاری” کے جرم میں سزا کیوں نہیں ہوئی

کیوں ہر بار صرف نوٹس لیا جاتا ہے کیوں ہر کیس دب جاتا ہے کیوں متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں ملتا

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک سیاسی تحفظ کے نیچے ہو رہا ہے جب `پیپلز پارٹی` اپنے ووٹ بینک کی خاطر مجرموں کے خلاف کارروائی نہ کرے، تو ایسے ہی ظلم جنم لیتے ہیں `بلاول زرداری وزیرے اعلی سب نوٹس لیتے ہیں، بیانات دیتے ہیں لیکن عملی کارروائی کہاں ہے اگر ایک بھی بااثر وڈیرے کو سرعام سزا مل جائے تو یہ سلسلہ وہی رک جائے گا

14/05/2026

گارڈن چڑیا گھر میں پارکنگ کے 100 روپے اوپر سے بدمعاشی میئر مرتضی وہاب صاحب اپ کے ترقیاتی کاموں کی طرح اپ کے دعوے بھی جھوٹے ہی ہیں

14/05/2026

کراچی پولیس کا ایک اور بڑا “کارنامہ” سامنے آ گیا۔

کراچی: گزشتہ ماہ قبل SIU/CIA کے ہاتھوں گرفتار ڈکیت گینگ کا سرغنہ 200/250 وارداتوں میں ملوث ڈسمس پولیس اہلکار طیب ڈسٹرکٹ سینٹرل میں اسپیشل پارٹی چلا رہا ہے

ڈکیت گینگ کے سرغنہ کو CCTV میں براہ راست دیکھا جاسکتا ہے

13 مئی 2026 بوقت 4:45 پر ڈسمس اہلکار طیب نے شاہراہِ نور جہاں پولیس موبائل کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے اورنگی ٹاؤن سیکٹر 12-L، موریہ گوٹھ سے اعجاز ولد حسین احمد کو مبینہ طور پر اغواء کیا

ذرائع کے مطابق اعجاز کو ڈسٹرکٹ سینٹرل کے شاہراہِ نور جہاں پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا، جہاں اس سے بھاری رقم وصول کرنے کے بعد رہا کیا گیا

ڈسمس اہلکار طیب دو سے تین مرتبہ ڈکیتی کے مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل بھی جا چکا ہے۔

سابقہ ایس ایس پی SIU/CIA ڈاکٹر عمران کے دور میں عباد عرف شوٹر گینگ کو گرفتار کیا گیا تھا، جس پر سی آئی اے کی جانب سے ویڈیو بیان بھی جاری کیا گیا تھا۔

ملزم عباد کی نشاندہی پر پولیس اہلکار طیب کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

دورانِ تفتیش ڈسمس پولیس اہلکار طیب اور ڈکیت عباد نے ڈسٹرکٹ سینٹرل اور ویسٹ میں متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا تھا،

جبکہ موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف جرم قبول کیا تھا۔

آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ویسٹ اور ایس ایس پی سینٹرل شاہراہِ نور جہاں تھانے میں تعینات ڈسمس اہلکار طیب کی سرگرمیوں، سابقہ کرمنل ریکارڈ اور CCTV فوٹیج کا نوٹس لیں۔

متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ CCTV فوٹیج اور سابقہ ریکارڈ کی روشنی میں شفاف تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

14/05/2026

 کراچی کے لوگ اس انتہائی اھم بات کو سمجھیں....  سندھ میں مردم شُماری میں مہاجروں کا قتل عام کیا جا رھا ھے .. سندھ میں بل...
13/05/2026



کراچی کے لوگ اس انتہائی اھم بات کو سمجھیں.... سندھ میں مردم شُماری میں مہاجروں کا قتل عام کیا جا رھا ھے .. سندھ میں بلوچ سرائیکی کو سندھی لکھا جا رھا ھے اور گُجراتی, میمن, کاٹھیاواڑی, مارواڑی, کچھی,بنگالی, برمی, اور جتنے مہاجر قبیلے قومیں ھیں ان کو دیگر کے کالم میں ڈال کر مہاجر آبادی پچاس فیصدی کم دکھائی جا رھی ھے ایسا سندھ بھر میں ھو رھا ھے ھوتا رھا ھے... ٹمام مہاجر سیاسی جماعتیں تنظیمیں این جی اوز اس کا نوٹس لیں شعور اُجاگر کریں گھر میں بولی جانے والی زبان "اُردو لکھوائیں"

Address

Karachi
75950

Telephone

+818032582963

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karachi Residents Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Karachi Residents Forum:

Share