18/05/2026
پاکستان عدالتی نظام دنیا کا وہ واحد عجوبہ ہے جہاں پیسے کی طاقت سے ہر گناہ دھویا جا سکتا ہے۔ شاہ رخ جٹوئی نے ۲۰۱۲ء میں سرِعام معصوم شاہزیب کا خون بہایا، لیکن نظام کی دلالت دیکھیے کہ سزائے موت کا قیدی ۲۰۲۲ء میں جیل سے باعزت رہا ہو کر گھر چلا گیا۔ ماڈل ایان علی ۲۰۱۵ء میں لاکھوں ڈالرز کی اسمگلنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی، مگر قانون کو ٹھینگا دکھا کر بیرونِ ملک فرار ہو گئی اور آج تک مفرور ہے۔
کہانی کی سفاکی اس وقت اپنی حدیں پار کر جاتی ہے جب ہم ارمغان قریشی کے کردار کو دیکھتے ہیں۔ ڈی ایچ اے (DHA) کے پوش علاقے میں رہنے والا یہ وہ بااثر مجرم ہے جو کھلے عام کوکین اور دیگر مہنگی منشیات کا کاروبار کرتا تھا۔ ارمغان نے کسی غیر سے نہیں، بلکہ اپنے ہی ۲۳ سالہ دوست مصطفیٰ عامر سے غداری کی۔ ذاتی جھگڑے پر ارمغان نے مصطفیٰ کو اپنے بنگلے پر بلایا، لوہے کی راڈ سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، اسے باندھ کر سیڑھیوں سے گھسیٹا اور پھر ادھ موئی حالت میں گاڑی کی ڈگی میں بند کر کے حب (بلوچستان) کے علاقے میں لے جا کر زندہ جلا دیا۔
جب پولیس کو مصطفیٰ عامر کے اغوا کا سراغ ملا اور انہوں نے فروری ۲۰۲۵ء میں ارمغان کے بنگلے پر چھاپہ مارا، تو اس قانون سے بے خوف مجرم نے پولیس کے سامنے سرنڈر کرنے کے بجائے سرِعام چار گھنٹے تک پولیس مقابلہ کیا ارمغان نے خودکار جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کی دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں پولیس افسر پر گولی چلانے اور اپنے دوست کو زندہ جلانے والے کو چند دنوں کے اندر پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جاتا۔ لیکن پاکستان میں پیسے اور اثر و رسوخ کی وہ "سہولت" موجود ہے کہ فروری ۲۰۲۶ء میں دہشت گردی کی عدالت (ATC) میں فردِ جرم تو عائد کی گئی، لیکن ارمغان نے عدالت میں کھڑے ہو کر اپنے ہی وکیل کو مسترد کر دیا اور ڈرامے بازی شروع کر دی حد تو یہ ہے کہ اس پر درج غیر قانونی کال سینٹر اور ڈیٹا چوری کے دیگر مقدمات میں اسے جنوری ۲۰۲۶ء میں ضمانت تک مل گئی
منظر نامے پر نتاشا اقبال نمودار ہوئی۔ ۲۰۲۴ء میں کارساز کی سڑک پر اپنی کروڑوں کی گاڑی تلے ایک غریب باپ اور بیٹی کو کچلنے والی یہ خاتون چند ہی ہفتوں میں "اللہ کے نام پر" معافی نامہ حاصل کر کے قتل کے مقدمے سے صاف بچ نکلی۔ اگرچہ آئس (منشیات) کا کیس اب بھی چل رہا ہے، لیکن عوام جانتی ہے کہ انصاف بک چکا ہے۔
اور آج انمول عرف پنکی اس کے نیٹ ورک سے جڑی منشیات کی ملکہ "کوکین کوئین" انمول پنکی مئی ۲۰۲۶ء میں کروڑوں روپے کے ڈرگ نیٹ ورک کے ساتھ پکڑی گئی۔ لیکن گرفتاری کا تماشہ دیکھیے؛ اسے ہتھکڑی تک نہیں لگائی گئی، جس پر سوشل میڈیا پھٹ پڑا اور پولیس والوں کو معطل کرنا پڑا۔
دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں اگر کوئی سرِعام قتل کرے، معصوموں کو گاڑی تلے کچلے، یا نوجوان نسل کی رگوں میں منشیات کا زہر اتارے، تو اس کا انجام پھانسی کا پھندا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان کا یہ بوسیدہ نظام دنیا کا واحد عجوبہ ہے جہاں یہ سہولت کھلے عام دستیاب ہے کہ: "جرم کرو، عیاشی کرو، بس تمہاری جیب میں پیسہ ہونا چاہیے!"
یہاں قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں صرف کمزور مکھیاں پھنستی ہیں، جبکہ مگرمچھ اسے پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔
باقلم: وسیم گزدر✍️