26/07/2026
1957ء کے کراچی میں سمندر کنارے قائم ایک پراسرار ہوٹل کی کہانی
پرانے اخبارات صرف خبریں محفوظ نہیں کرتے، وہ اپنے زرد صفحات میں پورے شہر، پورے زمانے اور گزرے ہوئے لوگوں کے خواب بھی سنبھال کر رکھتے ہیں۔
کبھی کسی پرانے اخبار میں ایک ایسی دکان کا اشتہار مل جاتا ہے جس کا نام آج کوئی نہیں جانتا۔ کبھی کسی شاندار عمارت کی تصویر دکھائی دیتی ہے جو اب زمین سے مٹ چکی ہوتی ہے، اور کبھی چند سطریں ہمیں تاریخ کے ایک ایسے بھولے ہوئے دروازے تک لے جاتی ہیں، جس کے پیچھے ایک پوری داستان خاموشی سے ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔
ایسا ہی ایک دروازہ میرے سامنے اس وقت کھلا، جب کراچی سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ڈان کے 31 مئی 1957ء کے شمارے میں میری نظر ایک مختصر مگر حیرت انگیز اشتہار پر پڑی۔
اشتہار پر نمایاں الفاظ میں لکھا تھا:
Hotel Splendide – Hawks Bay, Karachi’s Loveliest Beach
یعنی:
ہوٹل اسپلانڈیڈ — ہاکس بے، کراچی کا سب سے خوب صورت ساحل
اشتہار چند سطروں پر مشتمل تھا، مگر ان چند سطروں میں 1957ء کے کراچی کی ایک ایسی تصویر چھپی ہوئی تھی، جس کا تصور آج کے شہری کے لیے تقریباً ناقابلِ یقین ہے۔
اشتہار کے مطابق اس ساحلی ہوٹل میں جدید اور آرام دہ کمرے موجود تھے، ہر کمرے کے ساتھ علیحدہ غسل خانہ تھا، مہمانوں کے لیے لاؤنج، باقاعدہ ڈائننگ ہال اور بار بھی قائم تھا۔
اور پھر اشتہار کے آخر میں ایک ایسا جملہ درج تھا جو اس پوری کہانی کو مزید پراسرار بنا دیتا ہے:
Under European Management
یعنی:
یورپی انتظامیہ کے زیرِ نگرانی
سوچیے، آج سے تقریباً ستر سال پہلے، جب کراچی پاکستان کا دارالحکومت تھا، ہاکس بے کے سنسان اور خوب صورت ساحل پر ایک ایسا جدید ریزورٹ قائم تھا، جہاں شہر کے دولت مند خاندان، سفارت کار، غیر ملکی انجینئر، تاجر اور سیاح سمندر کے کنارے قیام کرتے ہوں گے۔
یہ محض ایک ہوٹل نہیں تھا۔
یہ اس کراچی کی علامت تھا جو خود کو صرف ایک بندرگاہی شہر نہیں، بلکہ ایک جدید، بین الاقوامی اور ساحلی سیاحتی مرکز کے طور پر دیکھ رہا تھا۔
1950ء کی دہائی کا کراچی تیزی سے بدل رہا تھا۔ شہر پاکستان کا سیاسی اور اقتصادی مرکز تھا۔ بندرگاہ پر دنیا بھر کے بحری جہاز آتے تھے، فضائی سفر میں اضافہ ہو رہا تھا، نئی عمارتیں، ہوٹل، سفارت خانے اور تجارتی ادارے قائم ہو رہے تھے۔ یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ سے آنے والے ماہرین اور سفارت کار شہر کی سماجی زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔
ایسے ماحول میں ہاکس بے کے ساحل پر ایک جدید ریزورٹ کا قائم ہونا اچنبھے کی بات نہیں، لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ آج اس ہوٹل کا نام کراچی کی تاریخ سے تقریباً مکمل طور پر غائب ہو چکا ہے۔
اس اشتہار میں ایک اور دلچسپ راز بھی پوشیدہ ہے۔
عام انگریزی میں “شاندار” کے لیے لفظ Splendid استعمال ہوتا ہے، جس کی املا S-P-L-E-N-D-I-D ہے، لیکن ہوٹل کا نام Splendide لکھا گیا تھا، یعنی آخر میں ایک اضافی “E” موجود تھا۔
یہ عام انگریزی نہیں بلکہ فرانسیسی املا ہے۔
فرانسیسی زبان میں Splendide کے معنی بھی شاندار، عالی شان، پرتکلف اور اعلیٰ درجے کے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اشتہار میں درج عبارت Under European Management مزید معنی خیز محسوس ہوتی ہے۔
کیا اس ہوٹل کا مالک کوئی فرانسیسی تھا؟
کیا اس کی انتظامیہ کسی فرانسیسی یا یورپی خاندان کے پاس تھی؟
کیا اس کا نام جان بوجھ کر فرانسیسی انداز میں رکھا گیا تھا، تاکہ اسے یورپی نفاست، وقار اور عیش و آرام کی علامت بنایا جا سکے؟
ابھی تک ان سوالات کا کوئی حتمی دستاویزی جواب دستیاب نہیں۔ اس لیے یہ بات ایک تحقیقی مفروضے سے زیادہ کچھ نہیں، مگر یہی مفروضہ اس گم شدہ ہوٹل کی کہانی کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔
تصور کیجیے کہ 1957ء کی کسی شام آپ ہاکس بے کے ساحل پر موجود ہیں۔
سورج آہستہ آہستہ بحیرۂ عرب میں غروب ہو رہا ہے۔ ہوٹل کے سفید رنگ کے برآمدے میں لکڑی یا بید کی کرسیاں رکھی ہیں۔ چند میزوں پر چائے کے برتن سجے ہیں۔ لاؤنج میں مدھم روشنی ہے۔ ڈائننگ ہال میں کھانا پیش کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ سمندر سے آنے والی ہوا پردوں کو ہلا رہی ہے اور دور لہروں کی مسلسل آواز سنائی دے رہی ہے۔
ایک میز پر کوئی غیر ملکی انجینئر بیٹھا ہوگا، دوسری طرف کراچی کا کوئی معروف تاجر اپنے خاندان کے ساتھ رات کے کھانے کا انتظار کر رہا ہوگا۔ شاید کسی سفارت کار نے یہاں ہفتہ وار تعطیل گزارنے کے لیے کمرہ حاصل کیا ہو۔ شاید شہر کے نوجوان جوڑے سمندر کے کنارے چہل قدمی کر رہے ہوں۔
اور ہوٹل کے دروازے پر نام لکھا ہو:
Hotel Splendide
مگر پھر وقت نے کروٹ لی۔
کراچی دارالحکومت نہ رہا۔ شہر کی ترجیحات بدل گئیں۔ سیاسی حالات، بڑھتی ہوئی آبادی، ساحلی علاقوں تک رسائی کے مسائل اور انتظامی بے توجہی نے شاید اس ساحلی سیاحت کو آہستہ آہستہ ختم کر دیا۔
ہوٹل بند ہوا، عمارت ویران ہوئی یا شاید کسی نئے استعمال میں آ گئی۔
لیکن اصل حیرت یہ ہے کہ اس کا نام بھی یادداشت سے مٹ گیا۔
نہ اس کی کوئی معروف تصویر سامنے آتی ہے، نہ کسی عام تاریخی مضمون میں اس کا ذکر ملتا ہے، نہ یہ معلوم ہے کہ اس کا مالک کون تھا، نہ یہ کہ ہاکس بے کے کس حصے میں قائم تھا۔
یہ ہوٹل کتنے کمروں پر مشتمل تھا؟
اس کا افتتاح کب ہوا؟
کیا اس میں غیر ملکی سیاح باقاعدگی سے ٹھہرتے تھے؟
کیا یہاں تقریبات، رقص یا موسیقی کی محفلیں بھی منعقد ہوتی تھیں؟
یہ کتنے برس تک قائم رہا؟
اور آخر وہ کیا واقعہ تھا جس کے بعد Hotel Splendide تاریخ کی دھند میں گم ہو گیا؟
تحقیق سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ ہاکس بے کا نام برطانوی دور کے ایک افسر بلیڈن ولمر ہاک سے منسوب کیا جاتا ہے۔ 1930ء کی دہائی میں اس ساحلی علاقے میں بیچ ہاؤسز اور تفریحی مکانات کی تعمیر بھی شروع ہو چکی تھی۔
ممکن ہے انہی ابتدائی بیچ ہاؤسز کے درمیان کسی کاروباری شخص یا یورپی منتظم نے یہ خواب دیکھا ہو کہ کراچی کے ساحل پر ایک ایسا جدید ریزورٹ قائم کیا جائے، جہاں شہری شور سے دور چند دن گزار سکیں۔
اگر ایسا تھا تو Hotel Splendide اپنے زمانے سے بہت آگے کا منصوبہ تھا۔
آج کراچی کے ساحلوں کا ذکر آئے تو ذہن میں زیادہ تر پکنک، نجی ہٹس، ہجوم، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور محدود سہولیات آتی ہیں، مگر 1957ء کا یہ اشتہار ایک مختلف تصویر دکھاتا ہے۔
یہ تصویر بتاتی ہے کہ کراچی کے ساحل پر کبھی مکمل سہولیات والا ایک باقاعدہ ہوٹل موجود تھا۔
ایک ایسا ریزورٹ جس میں صرف کمرے نہیں بلکہ لاؤنج، ڈائننگ ہال، بار اور یورپی انتظامیہ تک کا ذکر کیا گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1960ء کی دہائی کے بعد کراچی کے ساحلوں پر اس معیار کے باقاعدہ سیاحتی ریزورٹس کی روایت کم و بیش ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ آنے والی کئی دہائیوں تک ساحلی تفریح زیادہ تر نجی بیچ ہٹس، دن بھر کی پکنک اور محدود قیام تک سمٹ گئی۔
پھر کئی دہائیوں بعد، دو ہزار بیس کی دہائی میں کراچی کے ساحلی علاقوں میں جدید ریزورٹس، تفریحی منصوبوں اور نجی سرمایہ کاری کا رجحان دوبارہ سامنے آنے لگا۔
نئی عمارتیں بن رہی ہیں، جدید سہولیات متعارف ہو رہی ہیں اور ایک مرتبہ پھر کراچی کے ساحل کو سیاحت کے لیے استعمال کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کراچی تقریباً ساٹھ یا ستر سال بعد دوبارہ اس خواب کی طرف لوٹ رہا ہو، جسے شاید Hotel Splendide نے 1957ء میں پہلی مرتبہ حقیقت کا روپ دیا تھا۔
میرے نزدیک اس اشتہار کی اہمیت صرف ایک گم شدہ ہوٹل تک محدود نہیں۔
یہ ایک گم شدہ امکان کی کہانی ہے۔
یہ اس کراچی کا خواب ہے جو اپنے سمندر کو صرف شہر کی آخری حد نہیں، بلکہ دنیا سے رابطے کا ایک دروازہ سمجھتا تھا۔
ایک ایسا شہر جو غیر ملکی سیاحوں کو اپنے ساحلوں پر خوش آمدید کہنا چاہتا تھا، جہاں لوگ سمندر کے کنارے چند دن سکون سے گزار سکتے تھے، اور جو خود کو صرف صنعتی اور تجارتی مرکز نہیں بلکہ ایک عالمی ساحلی شہر کے طور پر دیکھ رہا تھا۔
Hotel Splendide آج موجود نہیں، یا کم از کم ہمیں اس کے موجودہ آثار کا علم نہیں۔
لیکن 31 مئی 1957ء کا وہ چھوٹا سا اشتہار آج بھی گواہی دے رہا ہے کہ ہاکس بے کی لہروں کے کنارے کبھی ایک ایسا مقام ضرور تھا، جہاں کراچی نے ایک خوب صورت خواب دیکھا تھا۔
تحقیق ابھی جاری ہے۔
ممکن ہے کسی پرانی ٹیلی فون ڈائریکٹری میں اس ہوٹل کا نمبر موجود ہو۔
ممکن ہے کسی سرکاری فائل میں اس کی زمین، لائسنس یا مالک کا نام درج ہو۔
ممکن ہے کسی پرانے نقشے میں اس کی صحیح جگہ نشان زد ہو۔
ممکن ہے کسی خاندان کے پرانے البم میں اس کے برآمدے، کمروں یا ساحل کی کوئی تصویر محفوظ ہو۔
اور ممکن ہے کراچی کے کسی بزرگ کی یادداشت میں آج بھی وہ شام زندہ ہو، جب وہ Hotel Splendide میں چائے پینے یا رات گزارنے گیا ہو۔
اگر آپ کے خاندان کے کسی بزرگ کو اس ہوٹل کے بارے میں کوئی معلومات ہوں، اگر آپ کے پاس ہاکس بے کے پرانے نقشے، تصاویر، ٹیلی فون ڈائریکٹریاں یا اخباری تراشے موجود ہوں، تو شاید آپ کی ایک معمولی سی یاد یا تصویر کراچی کی تاریخ کے اس گم شدہ باب کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔
شاید ایک دن ہمیں معلوم ہو جائے کہ Hotel Splendide کس نے بنایا تھا، کہاں قائم تھا اور کیوں مٹ گیا۔
اور شاید تب ہم یہ بھی جان سکیں گے کہ ہاکس بے کی لہروں کے کنارے موجود اس “شاندار” ہوٹل کے خواب حقیقت میں کتنے شاندار تھے۔
عجیب و غریب تاریخ
تاریخ دان
CP