28/04/2026
کبھی راہِ گزر تھے جس کے،
اب گزر کے دیکھتے ہیں.....
البیرونی ڈگری کالج اور وہ چار سالہ دور…
آج بھی ان راہوں پر مجھے اپنا آپ دکھائی دیتا ہے۔
کالج سے چھٹی کے وقت لڑکے گروپوں کی صورت میں نکلتے تھے،
اور ہمارے پیدل سفر کا اختتام پنڈ دادنخان کے لاری اڈے پر ہوتا تھا۔
وہاں ہم دو بجے والی ایکسپریس کا انتظار کرتے،
اور اُس بس کی چھت پر گویا البیرونی ڈگری کالج کے لڑکوں کا ہی راج ہوتا تھا۔
پھر دسمبر 2020 کی وہ آخری شامیں آئیں…
جب سب کچھ آہستہ آہستہ اختتام پذیر ہو گیا،
اور ہم سب اپنی اپنی راہوں کے مسافر بن گئے۔
مگر آج بھی،
ان راستوں سے گزرتے ہوئے
ایسا لگتا ہے جیسے وقت وہیں ٹھہر گیا ہو…
اور ہم اب بھی وہیں کھڑے ہوں۔