مشرب علم

مشرب علم Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from مشرب علم, Nonprofit Organization, Jhang Sadr.

International Women's Day ❗Sunday, March 8, 2026
08/03/2026

International Women's Day ❗
Sunday, March 8, 2026

(بخاری-5228) ♥️🌴🌷
01/03/2026

(بخاری-5228) ♥️🌴🌷

اس وقت جب پوری امت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے اور ایک اسلامی ملک کے سربراہ کو سفاکی کے ساتھ شہید کر دیا گیا ہے، یہ نہا...
01/03/2026

اس وقت جب پوری امت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے اور ایک اسلامی ملک کے سربراہ کو سفاکی کے ساتھ شہید کر دیا گیا ہے، یہ نہایت افسوس ناک امر ہے کہ کچھ فرقہ پرست عناصر اس موقع پر بھی اپنی کم فہمی اور متعصبانہ ذہنیت سے باہر نہیں نکل سکے اور اظہارِ مسرت میں مشغول ہیں۔ ایسے حالات میں جذباتی نعروں کے بجاے اہلِ علم کی حکیمانہ بصیرت کی طرف رجوع کرنا چاہیے، خصوصاً شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی یہ نہایت بصیرت افروز بات غور کے لائق ہے جس میں اُنھوں نے خیر و شر کے باب میں وہ اصول بیان کیا ہے جو کتاب و سنت کے جوہر کی ترجمانی کرتا ہے۔

امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:

عاقل کا شیوہ یہ ہے کہ وہ دو بھلائیوں میں سے بہتر کو دیکھتا ہے اور دو برائیوں میں سے کم تر کو اختیار کرتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اہلِ سنت، اگرچہ خوارج اور روافض اور دیگر اہلِ بدعت کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں، سو کہتے ہیں لیکن وہ ان کے دین کے خلاف کفار کی مدد نہیں کرتے اور نہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ کفر اور اس کے علم برداروں کو غلبہ حاصل ہو، خواہ اس کے مقابلے میں کسی بدعت ہی کا ظہور کیوں نہ ہو ... ❗

(منهاج السنة النبوية-6/ 375)

26/02/2026

سوال

موسی علیہ السلام فرعون کی لے پالک اولاد ہوتے ہوئے بھی مصر سے کیوں بھاگے ؟
حالانکہ فرعون انہیں معاف کر سکتا تھا ❗

جواب

دو اہم باتیں سمجھنا ضروری ہیں: ایک یہ کہ حضرت موسیٰؑ فرعون کی سگی اولاد نہیں تھے، اور دوسرا یہ کہ اس وقت کے سیاسی حالات ایسے تھے کہ معافی کا امکان ختم ہو چکا تھا۔

​1. موسیٰؑ فرعون کی سگی اولاد نہیں تھے

​اگرچہ حضرت موسیٰؑ کی پرورش فرعون کے محل میں ہوئی، لیکن سب جانتے تھے کہ وہ بنی اسرائیل سے ہیں۔ فرعون کی بیوی (حضرت آسیہؑ) نے انہیں گود لیا تھا۔ فرعون کے لیے وہ ایک "لے پالک" (Adopted) بیٹے کی طرح تھے، جبکہ فرعون کی اپنی قوم "قبطی" تھی جو بنی اسرائیل کو غلام سمجھتی تھی۔ جب ایک شہزادے نے ایک غلام قوم کے فرد کی خاطر قبطی (شاہی قوم کے فرد) کو قتل کر دیا، تو یہ فرعون کی انا اور قانون کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا۔

​2. قتلِ خطا اور سازش

​حضرت موسیٰؑ سے وہ قتل ارادتاً نہیں ہوا تھا بلکہ ایک مکا مارنے سے وہ شخص مر گیا تھا۔ لیکن فرعون کے درباریوں نے اسے ایک بغاوت کا رنگ دے دیا۔ انہیں ڈر تھا کہ موسیٰؑ بنی اسرائیل کے ہمدرد بن کر فرعون کے اقتدار کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

​3. معافی کیوں نہیں ملی؟ (سیاسی وجہ)

یہ سوچنا درست ہے کہ فرعون طاقتور تھا اور معاف کر سکتا تھا، لیکن قرآن بتاتا ہے کہ اس وقت صورتحال کیا تھی:
●​درباریوں کا دباؤ: درباریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ موسیٰؑ کو قتل کر دیا جائے (سورہ القصص: 20)۔
●​عبرت کا نشان: اگر فرعون اپنے ہی محل میں پلے بڑھے شخص کو "خون" معاف کر دیتا، تو قبطی قوم میں بے چینی پھیل جاتی کہ ایک اسرائیلی نے ان کے بندے کو مارا اور اسے سزا نہیں ملی۔
​موسیٰؑ کو اطلاع: اللہ کی طرف سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور حضرت موسیٰؑ کو خبر دی: "اے موسیٰ! درباری تمہارے قتل کے مشورے کر رہے ہیں، لہٰذا یہاں سے نکل جاؤ۔"

​4. ہجرت: اللہ کی تدبیر

​حضرت موسیٰؑ کا مصر سے نکلنا صرف ایک قانونی خوف کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ یہ اللہ کی تدبیر تھی۔ اللہ چاہتا تھا کہ حضرت موسیٰؑ ​مدین جائیں اور وہاں حضرت شعیب علیہ السلام کی صحبت میں رہ کر تربیت پائیں۔
​محل کی عیاشیوں سے دور ہو کر ایک عام انسان کی طرح محنت مشقت کریں۔
​نبوت کے عظیم بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔

حضرت موسیٰؑ نے محسوس کر لیا تھا کہ فرعون اب انہیں "بیٹا" نہیں بلکہ ایک "قاتل اور باغی" سمجھ رہا ہے، اور وہاں رہ کر اپنی جان خطرے میں ڈالنے کے بجائے اللہ کے حکم سے ہجرت کرنا بہتر تھا۔

26/02/2026

قرآنِ مجید نے سورہ قصص میں جس انداز سے حضرت موسیٰؑ کے مدین میں قیام اور ان کی شادی کا نقشہ کھینچا ہے، وہ موجودہ دور کے 'رومانوی تخیل' سے بالکل مختلف، مگر فطرت کے عین مطابق ہے۔ یہاں محبت کا آغاز جذباتیت سے نہیں، بلکہ کردار کی عظمت اور عفت سے ہوتا ہے۔

​1. غیرتِ ایمانی اور مدد کا جذبہ

​موسیٰؑ، جو شاہی محل کی پرورش کے بعد ایک جلاوطن مسافر کی حیثیت سے مدین پہنچے ہیں، وہاں کنویں پر دو لڑکیوں کو دیکھتے ہیں جو اپنی شرم و حیا کی بنا پر مردوں کی بھیڑ سے الگ تھلگ کھڑی ہیں۔ یہاں موسیٰؑ کی مردانگی کا جوہر سامنے آتا ہے۔ وہ کسی 'تعارف' یا 'میل جول' کی جستجو کے بغیر، محض انسانی ہمدردی کے تحت آگے بڑھتے ہیں اور ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیتے ہیں۔ یہ ایک پاکیزہ کردار کی پہلی جھلک ہے جہاں صنفِ مخالف کی مدد کی بنیاد شہوت نہیں بلکہ مروت ہے۔

​2. حیا کی چال

​جب حضرت صفوراؑ اپنے والد (حضرت شعیبؑ) کا پیغام لے کر موسیٰؑ کو بلانے آتی ہیں، تو قرآن اس لمحے کو ان الفاظ میں قید کرتا ہے:

فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ

(پھر ان میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی)۔

یہ "حیا کی چال" ہی وہ اصل کشش تھی جس نے ایک صالح مرد کے دل میں گھر کیا۔ یہ کوئی ایسا ملاپ نہ تھا جو چوری چھپے ملاقاتوں سے پروان چڑھا ہو، بلکہ اس کی بنیاد وقار پر تھی۔

​3. انتخاب کا معیار: قوت اور امانت

​حضرت صفوراؑ نے اپنے والد سے جب موسیٰؑ کو ملازمت پر رکھنے کی سفارش کی، تو اس کی بنیاد ان کی دو صفات بتائیں:

​القوی (طاقتور): یعنی وہ معاشی اور جسمانی بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

​الامین (امانت دار): یعنی ان کی نظریں اور نیت پاک ہے۔
​یہیں سے اس محبت کا رخ نکاح کی طرف مڑتا ہے۔ ایک باپ اپنی بیٹی کا ہاتھ ایسے نوجوان کے ہاتھ میں دیتا ہے جو اجنبی تو ہے، مگر جس کا کردار کھلی کتاب کی طرح واضح ہے۔

4.​مہر اور رفاقت: دس سالہ خدمت

​اس شادی کا 'مہر' کوئی مال و دولت نہیں تھا، بلکہ آٹھ سے دس سال کی محنت اور رفاقت تھی۔اسلام میں نکاح محض ایک معاہدہ نہیں، بلکہ ایک تعمیری شراکت داری ہے۔ موسیٰؑ نے اپنی جوانی کے بہترین سال سسرال کی خدمت میں گزارے، اور بدلے میں انہیں ایک وفادار جیون ساتھی ملی جس نے بعد میں ہجرت اور نبوت کے کٹھن مراحل میں ان کا ساتھ دیا۔

26/02/2026

مدین کی تپتی دوپہر تھی۔ ایک تھکا ہوا مسافر، جس کی آنکھوں میں جلاوطنی کی گرد اور دل میں نامعلوم کل کی دھند تھی — وہ تھا موسیٰ۔ مصر پیچھے رہ گیا تھا، فرعون کی تلوار پیچھے رہ گئی تھی، مگر تنہائی ساتھ تھی۔ کنویں پر جب اس نے دو لڑکیوں کو دیکھا جو ہجوم سے الگ کھڑی تھیں، تو اس منظر میں ایک عجیب سی خاموش نزاکت تھی۔ وہ پانی کی منتظر تھیں، مگر نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔
اس نے پوچھا — کیوں رکی ہو؟
آواز آئی — “ہمارے والد بوڑھے ہیں… ہم انتظار کر لیتی ہیں۔”
یہ جملہ سادہ تھا، مگر اسی میں تقدیر کی سرگوشی تھی۔
موسیٰؑ نے آگے بڑھ کر پانی کھینچا۔ رسّی کی چرچراہٹ، پانی کا شور، اور پھر ایک لمحہ — جب اس کی نگاہ پہلی بار اُس لڑکی سے ٹکرائی جسے روایت صفورا کے نام سے جانتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں حیا تھی، مگر اُس حیا میں ایک انجانی سی کشش بھی تھی — جیسے شام کے وقت پہاڑوں پر اترتی ہوئی روشنی۔
بائبل کی کتاب Book of Exodus میں آتا ہے کہ وہ مدین کے پادری Jethro (جسے اسلامی روایت میں حضرت شعیبؑ کہا جاتا ہے) کی بیٹی تھی۔ جب وہ گھر لوٹی اور اپنے باپ کو بتایا کہ ایک اجنبی مصری نے ہماری مدد کی، تو باپ نے کہا: “اسے بلاؤ۔”
اور یوں وہ دوبارہ آئی — قرآن کہتا ہے “تمشی علی استحیاء” — وہ حیا کے ساتھ چل رہی تھی۔ مگر ذرا تصور کیجیے، اُس کے قدموں میں ایک ہلکی سی لرزش بھی رہی ہوگی؛ آخر وہ ایک اجنبی کو اپنے گھر بلا رہی تھی، جس نے اس کے دن کی مشقت کو آسان کیا تھا۔
محبت ہمیشہ شور سے نہیں آتی۔ کبھی وہ ایک کنویں کے کنارے جنم لیتی ہے، ایک نظر میں، ایک خاموش احسان میں۔
جب موسیٰؑ اس گھر میں داخل ہوئے تو یہ صرف پناہ نہ تھی — یہ دل کا ٹھکانہ بھی تھا۔ اُس باپ نے اس نوجوان میں دیانت دیکھی، بازوؤں میں قوت دیکھی، اور بیٹی کی آنکھوں میں ایک خاموش رضا بھی محسوس کی۔ پھر اُس نے پیشکش کی: “میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیٹی کا نکاح تم سے کر دوں، بشرطیکہ تم چند سال یہاں رہو۔”
سوچیے، یہ کیسا لمحہ ہوگا؟
ایک جلاوطن کے لیے یہ محض شادی نہ تھی — یہ قبولیت تھی۔
اور صفورا کے لیے؟ یہ ایک ایسے مرد کا انتخاب تھا جس نے پہلی ملاقات میں ہی اس کی عزت کی حفاظت کی تھی۔
بائبل بتاتی ہے کہ بعد میں صفورا نے ایک بیٹے کو جنم دیا، اور موسیٰؑ نے اس کا نام “جرشوم” رکھا — یعنی “میں پردیس میں مسافر ہوں۔” اس نام میں بھی محبت کی نمی ہے؛ جیسے وہ اپنی بیوی کو بتا رہے ہوں کہ میرا ماضی کتنا تنہا تھا — اور تم نے اسے گھر بنا دیا۔
مدین کی راتوں میں، جب صحرا کی ہوا خیموں سے ٹکراتی ہوگی، تو شاید صفورا اپنے شوہر کی آنکھوں میں وہ پرچھائیاں دیکھتی ہوگی جو مصر سے آئی تھیں۔ اور موسیٰؑ اس کے ساتھ بیٹھ کر ایک خاموش سکون محسوس کرتے ہوں گے — وہ سکون جو صرف محبت دیتی ہے، جو انسان کو اس کی ٹوٹی ہوئی جگہوں سے جوڑ دیتی ہے۔
یہ قصہ ہمیں بتاتا ہے کہ محبت کبھی بے حجاب جذبات کا طوفان نہیں ہوتی؛ وہ ایک پیاسے کو پانی پلانے سے شروع ہوتی ہے، اور پھر زندگی بھر کی رفاقت میں ڈھل جاتی ہے۔
مدین کے کنویں پر جو نظر ملی تھی، وہی آگے چل کر طور کے سائے میں نبوت کے سفر کی ہمسفر بنی۔

25/02/2026
عہد نبوی علیہ السلام سے ایک صحابی کے اجتہاد کی مثال
25/02/2026

عہد نبوی علیہ السلام سے ایک صحابی کے اجتہاد کی مثال

24/02/2026

🪾🍂🪸

24/02/2026

حجاج بن یوسف کے زمانے میں سلطنت کے اخراجات پورے کرنے اور ریوینیو بڑھانے کے لیے یہ پالیسی اپنائی گئی تھی کہ جو غیر مسلم (ذمی) اسلام قبول کر لیتے تھے، ان سے بھی جزیہ وصول کیا جاتا رہا۔ اسلامی قانون کے مطابق اسلام قبول کرنے کے بعد جزیہ ساقط ہو جاتا ہے، لیکن اموی عمال کا موقف یہ تھا کہ لوگ جزیہ سے بچنے کے لیے کثرت سے مسلمان ہو رہے ہیں جس سے بیت المال کو نقصان ہو رہا ہے۔
حجاج نے حکم دیا کہ جو لوگ دیہاتوں (سوادِ عراق) سے آ کر شہروں (کوفہ و بصرہ) میں آباد ہو گئے ہیں اور اسلام قبول کر چکے ہیں، انہیں واپس ان کے علاقوں میں بھیج دیا جائے تاکہ وہ وہاں کھیتی باڑی کریں اور ان سے دوبارہ جزیہ وصول کیا جائے۔
جب ان نو مسلموں کو زبردستی کوفہ اور بصرہ سے نکالا جا رہا تھا، تو وہ ایک انتہائی کسمپری کی حالت میں تھے۔ وہ روتے ہوئے شہروں سے نکل رہے تھے کیونکہ وہ اسلام لانے کے بعد خود کو مسلمانوں کا برابر کا شہری سمجھتے تھے، مگر اب انہیں دوبارہ اسی ذلت میں دھکیلا جا رہا تھا۔
​یہ لوگ جب شہروں سے نکالے جا رہے تھے تو ان کی زبان پر "یا محمداہ! یا محمداہ!" کی پکار تھی (یعنی اے محمد ﷺ، دیکھیے آپ کی امت میں ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے)۔
بصرہ کے جلیل القدر علماء اور تابعین (جیسے کہ امام حسن بصریؒ) یہ منظر دیکھ کر زار و قطار رو رہے تھے کہ اسلام کے نام پر بننے والی حکومت میں نو مسلموں کے ساتھ یہ غیر اسلامی سلوک ہو رہا ہے۔

​یہ پالیسی بعد میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنے دورِ خلافت میں ختم کی تھی، جہاں انہوں نے وہ مشہور جملہ کہا تھا:

"اللہ نے محمد ﷺ کو ہادی بنا کر بھیجا تھا، جابی (ٹیکس اکٹھا کرنے والا) بنا کر نہیں"۔

23/02/2026

کیا تم نے سمجھ لیا تھا کہ ہماری تخلیق ایک کھیل تھی؟
کہ تمہیں بس یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا، اور ہماری بارگاہ میں واپسی نہ ہوگی؟

(المؤمنون-115)

Address

Jhang Sadr
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مشرب علم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share