17/08/2026
واہ رے جھنگ تیری قسمت
اصل سوال یہ نہیں کہ نمائندے کیا کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کیوں خاموش ہیں؟ صحافت کا کام یہی ہے کہ وہ اقتدار سے سوال کرے، مگر جمہوریت کا اصل امتحان یہ ہے کہ عوام خود اقتدار سے سوال کرنا سیکھیں۔ جب تک ووٹر یہ فیصلہ کرتا رہے گا کہ ووٹ برادری کے نام پر، نعرے کے نام پر یا خاندانی وابستگی کے نام پر دینا ہے، تب تک کارکردگی کبھی معیار نہیں بنے گی۔ اور جب کارکردگی معیار نہیں بنے گی، تو نمائندے کو جھنگ کے لیے کچھ کرنے کی کوئی مجبوری بھی نہیں رہے گی۔ وقاص اکرم کی اسلام آباد میں یونیورسٹی بنانا جھنگ کی دھرتی اور عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ ایک نظام پر سوال ہے، ایک روایت پر سوال ہے جس نے چھوٹے شہروں کو صرف ووٹ بینک بنا کر رکھ دیا ہے۔ جھنگ کے لوگ محنتی ہیں، باصلاحیت ہیں، اور اپنی سرزمین سے محبت رکھتے ہیں۔ کمی صرف اس ارادے کی ہے جو ان کے منتخب نمائندوں میں ہونا چاہیے تھا۔
جب تک جھنگ کا سوال زندہ نہیں رہے گا، جھنگ کا حق بھی زندہ نہیں رہے گا۔ اور یہ سوال زندہ رکھنا، اب صرف ایک فرد کا نہیں، ہر اس شہری کا فرض ہے جو اپنی سرزمین سے مخلص ہے۔ جھنگ کو کاروباری سیاستدانوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ 177 سال پرانے ضلع کو اس کا حق دلوانے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر آواز بلند کریں۔ اب صرف جھنگ کی بات ہوگی صرف جھنگ کی