23/03/2026
شادی کے بعد دلہن کے پاس ذاتی حیثیت میں کوئی رقم نہ ہونا ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر مڈل کلاس گھرانوں میں جہاں شادی پر دونوں جانب سے قرض لیا جاتا ہے، بیٹی کو جہیز میں ہر شے تو دی جاتی ہے مگر نقد رقم بمشکل ہی دی جاتی ہے۔ میکے والی سلامی بھی اکثر لے لی جاتی ہے اور سسرال والی سلامی سے بھی دلہن کو اختیار نہیں ہوتا۔ نتیجتاً شادی کے فوری بعد جب حمل ہوتا ہے تو دلہن کے پاس نہ اپنی کوئی سیونگ ہوتی ہے، نہ میکے سے ملی کوئی پاکٹ منی۔ خاوند شادی کے قرض میں ڈوبا ہوتا ہے، اور نئے آنے والے اخراجات—جیسے ڈاکٹر کے پاس جانا، سکیننگ، ٹیسٹ، وٹامنز، ادویات اور سفری اخراجات—وہ برداشت نہیں کر پاتا۔
اس صورتحال میں حاملہ دلہن کی ضروری کئیر نظر انداز ہو جاتی ہے۔ پرانی اور غیر معیاری الٹرا ساؤنڈ مشینوں سے سکیننگ کروائی جاتی ہے، بنیادی ٹیسٹنگ چھوڑ دی جاتی ہے، فولک ایسڈ اور ضروری وٹامنز تک کا اہتمام نہیں ہوتا۔ بڑے شہر کے قابل ریڈیالوجسٹ تک رسائی ممکن نہیں ہو پاتی۔ نتیجتاً وہ معذوریاں جو حمل کے ابتدائی مراحل میں الٹرا ساؤنڈ سے معلوم ہو سکتی ہیں—جیسے بچے کا ڈھانچہ نہ بننا، گردے کا رک جانا، سر میں پانی، کمر پر پانی کا غبارہ، ڈاؤن سنڈروم وغیرہ—ان کا علم ہی نہیں ہو پاتا۔
اس ساری صورتحال کا ایک آسان حل ہے۔ میکے والے جتنا بھی جہیز دیں، سونے کے زیور پہنائیں، اپنی استطاعت کے مطابق بیٹی کو نقد رقم ضرور دیں۔ پچاس ہزار ہو یا ایک دو لاکھ، یہ رقم اس کے ذاتی بنک اکاؤنٹ میں ڈال دی جائے اور اسے اے ٹی ایم کارڈ چلانا سکھا دیا جائے۔ یہ رقم اس کا ذاتی ایمرجنسی فنڈ ہے۔ دوران حمل کے ضروری طبی اخراجات، اچھی ڈائیٹ، قابل ڈاکٹر سے سکیننگ، ٹیسٹنگ اور ادویات کے لیے یہی رقم کام آتی ہے۔
یہ رقم سسرال والوں یا خاوند کو استعمال کے لیے نہ دی جائے۔ یہ اس کی ذاتی ضرورت کے لیے ہے۔ بہت سی بہنیں یہ شکایت کرتی ہیں کہ شادی کے بعد پہلے سال میں جب حمل ہوا تو پاس چند ہزار روپے بھی نہ تھے، جبکہ میکے میں شادی پر لاکھوں خرچ کیے گئے۔ یہ روایت بدلنا ضروری ہے۔ بیٹی کو شادی کے بعد بھی مالی طور پر اتنا خود مختار بنایا جائے کہ وہ اپنی اور آنے والی اولاد کی صحت کے لیے بروقت فیصلے کر سکے۔ یہ کوئی عزت کا معاملہ نہیں، یاں خاوند کی نااہلی کا مسئلہ نہیں—یہ عملی اور ضروری حکمت عملی ہے۔ غیر شادی شدہ بہنیں بھی اپنی کمائی میں سے کچھ رقم بچا کر رکھیں، تاکہ شادی کے بعد کسی بھی ناگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس وسائل موجود ہوں۔
ساجدہ اصغر آرائیں ✍🏼
کاپیڈ