24/05/2026
11 سالہ معصوم بچی کی بازیابی یقیناً خوش آئند ہے، مگر اس واقعے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر اتنے دنوں تک بچی اغوا کاروں کے قبضے میں کیوں رہی؟ اگر بچی بازیاب ہو سکتی تھی تو پہلے کیوں نہ ہوئی؟
آج ایس ایس پی شکارپور پریس کانفرنس میں کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں، مگر عوام یہ جاننا چاہتی ہے کہ جب ایک معصوم بچی اذیت میں تھی تو اُس وقت ادارے کہاں تھے؟ صرف پریس کانفرنسیں کافی نہیں، عوام اب عملی اقدامات دیکھنا چاہتی ہے۔
کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف مستقل اور فیصلہ کن آپریشن وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ لوگ صرف ایک بچی کی بازیابی نہیں بلکہ ایسے جرائم کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ آئندہ کسی ماں باپ کو اس اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔
پورے پاکستان، خصوصاً خیبرپختونخواہ بلوچستان کے عوام نے اس معصوم بچی کے لیے آواز بلند کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم ظلم کے خلاف متحد ہے۔
سلام ہے اُن تمام لوگوں کو جنہوں نے بچی کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائی اور دباؤ برقرار رکھا۔