19/03/2025
حضرت علیؓ کا انصاف – ایک تاریخی واقعہ
حضرت علیؓ کی عدل و انصاف پسندی کے بے شمار واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں، جن میں سے ایک مشہور واقعہ پیش خدمت ہے:
خلیفۂ وقت کا عدالت میں مقدمہ
جب حضرت علیؓ خلافت کے منصب پر فائز تھے، تو ایک دن آپ کی زرہ گم ہو گئی۔ کچھ دنوں بعد آپ نے وہی زرہ ایک یہودی کے پاس دیکھی۔ حضرت علیؓ نے یہودی سے کہا:
"یہ زرہ میری ہے، میں نے اسے نہ بیچا، نہ کسی کو تحفہ میں دی، تمہارے پاس کیسے آئی؟"
یہودی نے جواب دیا:
"یہ زرہ میری ہے اور یہ میرے قبضے میں ہے، اس لیے میں اس کا مالک ہوں۔"
عدالت میں مقدمہ
حضرت علیؓ خلیفۂ وقت تھے، لیکن پھر بھی انہوں نے اپنا معاملہ ایک قاضی، حضرت شریحؒ کے سامنے پیش کیا۔ قاضی نے دونوں کا مؤقف سنا اور حضرت علیؓ سے پوچھا:
"آپ کے پاس کوئی گواہ ہے کہ یہ زرہ آپ کی ہے؟"
حضرت علیؓ نے اپنے غلام قنبر اور اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کو گواہ کے طور پر پیش کیا۔
عدل کا اعلیٰ معیار
قاضی شریحؒ نے کہا:
"آپ کے بیٹے کی گواہی قابل قبول نہیں، کیونکہ اسلامی قانون میں کسی کے حق میں اس کا بیٹا بطور گواہ نہیں ہو سکتا۔ اور غلام کی گواہی بھی کافی نہیں۔ اس لیے آپ کے پاس مکمل ثبوت نہیں ہے۔"
چونکہ حضرت علیؓ کے پاس مزید کوئی گواہ نہیں تھا، قاضی نے فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا اور کہا:
"قانونی طور پر زرہ اسی کے پاس رہے گی۔"
یہودی کا اسلام قبول کرنا
یہودی نے جب دیکھا کہ ایک مسلمان خلیفہ ہونے کے باوجود حضرت علیؓ نے عدل و انصاف کو مقدم رکھا اور قاضی نے بغیر کسی دباؤ کے ان کے خلاف فیصلہ سنایا، تو وہ حیران رہ گیا۔
یہودی نے کہا:
"خدا کی قسم! یہی حقیقی عدل ہے جو نبیوں کی تعلیمات میں ہوتا ہے۔ ایک خلیفہ ہونے کے باوجود آپ نے انصاف کے لیے قاضی کے سامنے حاضری دی اور فیصلہ تسلیم کیا۔"
یہ کہہ کر اس نے اقرار کیا کہ زرہ دراصل حضرت علیؓ ہی کی تھی، جو اسے میدان جنگ میں گری ہوئی ملی تھی۔ پھر اس نے فوراً اسلام قبول کر لیا اور زرہ حضرت علیؓ کو واپس کر دی۔
نتیجہ
یہ واقعہ حضرت علیؓ کے عدل و انصاف کی بہترین مثال ہے، جس میں انہوں نے ذاتی فائدے یا خلیفہ ہونے کی حیثیت سے کسی رعایت کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ خالصتاً انصاف پر مبنی فیصلہ قبول کیا۔ یہ اصول آج بھی دنیا بھر کے عدالتی نظام کے لیے ایک مثال ہے۔