Al-Burhan islamic center

Al-Burhan islamic center In rural areas like Hasanabad, resources for education, religious awareness, and social upliftment are limited.

Al-Burhan Islamic Center in Hasanabad is a religious and educational hub focused on promoting Quranic teachings, ethics, and spiritual growth to uplift the community. Al-Burhan Islamic Center is being established in Hasanabad, a locality of Jalalpur Pirwala (District Multan, South Punjab), as a modern, dynamic, and purposeful religious and educational institution. The center aims not merely to pro

vide a space for worship but to function as a comprehensive platform where individuals, families, and society can be nurtured under the light of the Qur'an and Sunnah. The youth, in particular, lack access to platforms where they can receive proper Islamic guidance and embark on a journey of spiritual, intellectual, and moral development. Al-Burhan Islamic Center seeks to bridge this gap by offering a holistic solution to these pressing needs.

25/07/2025

پندرہ سوسالہ جشنِ ولادتِ نبوی ﷺ
پس منظر
۔ یہ موقع اُمت مسلمہ کے لیے ایک عظیم روحانی، فکری اور تمدنی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس موقع کو مؤثر، عالمی، تعمیری اور مثبت انداز میں منانے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی ناگزیر ہے تاکہ سیرتِ طیبہ ﷺ کو دنیا کے سامنے جدید اسلوب میں پیش کیا جا سکے۔
الف: جشن کے اہم مقاصد
(1)سیرتِ رسول ﷺ کی عالمگیر اشاعت
(2)جدید ذرائع ابلاغ، ترجمہ، اور تحقیقی انداز میں سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کو دنیا کی زبانوں میں پھیلانا۔
(3)نوجوان نسل میں سیرت آگاہی
(4)سیرت ﷺ کو عصری تناظر میں نوجوانوں کے لیے بامقصد اور عملی بنانا۔
(5)سیرت اور جدید چیلنجز
اخلاقی، سماجی، معاشی، اور بین الاقوامی مسائل کا حل سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں تلاش کرنا۔
(6)بین المذاہب ہم آہنگی
(7)سیرتِ رسول ﷺ کو بطور رحمت للعالمین پیش کرکے بین المذاہب مکالمہ کو فروغ دینا۔
(8)تحقیقی و تعلیمی فروغ
جامعات، مدارس اور علمی اداروں میں سیرت پر تحقیق کو فروغ دینا۔
ب: منصوبہ جات (Projects)
1. عالمی سیرت کانفرنسز
پانچ براعظموں میں بڑی عالمی سیرت کانفرنسز
موضوعات: اخلاقِ نبوی، عدلِ نبوی، قیادتِ نبوی، تعلیماتِ نبوی ﷺ
2. بین الاقوامی سیرت یونیورسٹی
ایک مستقل ادارہ جو صرف سیرتِ نبوی ﷺ پر تحقیق، تدریس، ترجمہ اور اشاعت پر کام کرے۔

3. سیرت ایپ، ویب سائٹ اور میڈیا پلیٹ فارمز
نوجوانوں کے لیے انٹرایکٹو ایپ
سیرت ویکیز، کورسز، ڈاکیومنٹریز، اینیمیشنز
4. "سیرت ترجمہ پراجیکٹ"
سیرت کی مستند کتب کا دنیا کی 50+ زبانوں میں ترجمہ
5. سیرت ڈاکیومنٹریز
بین الاقوامی معیار کی سیرت پر مبنی نیٹ فلکس جیسی سیریز
6. جامعاتی تحقیقی منصوبے
ہر اسلامی اور غیر اسلامی ملک میں تحقیقی مقالہ جات، کانفرنسز، اسکالرشپس کا اجرا
7. سیرت نگاری کے عالمی مقابلے
مضمون نویسی، کتابت، شاعری، ڈاکیومنٹری، وڈیو کانٹینٹ
8. مدارس میں سیرت نصاب کی اصلاح
عصری تقاضوں سے ہم آہنگ سیرت نصاب کی تشکیل
9. سیرت کے عالمی انسائیکلوپیڈیا کی تیاری
"Encyclopedia of Prophetic Life and Teachings" جدید انداز میں
دلاور خان

27/06/2025

حضور شیخ طریقت کی خصوصی سیریز ۔۔

اللہ تعالی سے محبت کا پہلا درس بسم اللہ الرحمٰن الرحیم...جب بچے کی آنکھ پہلی بار کھلتی ہے، تو وہ ماں کے چہرے پر جھکتی رو...
11/06/2025

اللہ تعالی سے محبت کا پہلا درس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم...

جب بچے کی آنکھ پہلی بار کھلتی ہے، تو وہ ماں کے چہرے پر جھکتی روشنی کو دیکھتا ہے — اور وہ روشنی اللہ کی رحمت کا ایک عکس ہوتی ہے۔ بچہ ابھی زبان سے "اللہ" نہیں کہتا، مگر اس کے دل میں اللہ کی محبت کا تخم پہلے ہی رکھ دیا گیا ہوتا ہے۔ اللہ سے محبت، بچے کا پہلا سبق نہیں، اس کی فطری پہچان ہے — بس ماں باپ، استاد اور ماحول کو وہ راستہ کھولنا ہوتا ہے جس پر سے بچہ خود اپنے رب کی طرف چل پڑے۔

آج "نورِ امانت" کی تیسری قسط میں ہم اسی پہلے سبق کی بات کرتے ہیں — اللہ سے محبت کا پہلا لمس، پہلا جذبہ، پہلی پہچان۔

حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
"اللہ کی محبت کوئی خارجی علم نہیں، یہ تو دل کا نور ہے جو فطرت کے ساتھ آتا ہے۔"
اور مولانا رومیؒ کہتے ہیں:
"جس نے بچپن میں اللہ کی خوشبو محسوس کی، وہ کبھی دنیا کی گندگی سے متاثر نہ ہوا۔"

تو سوال یہ ہے: ہم بچے کے دل میں اللہ کی محبت کیسے جگائیں؟
ہم اسے اللہ سے ڈرا کر نہیں، اللہ سے ملا کر تربیت دیں۔ بچے کو سب سے پہلے یہ سکھایا جائے کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، مگر محبت سے؛ اللہ تمہاری سنتا ہے، مگر پیار سے؛ اللہ تمہارے قریب ہے، بلکہ دل سے بھی زیادہ قریب۔

جب تم بچے سے کہو، "بیٹا، اللہ تمہیں بہت چاہتا ہے، اسی لیے تمہیں ماں، باپ، کھانا، لباس، محبت، بارش، تتلیاں اور چمکتے ستارے دیے"، تو وہ اللہ کو دینے والا، سننے والا، اور محبت کرنے والا سمجھتا ہے — نہ کہ صرف قانون، جزا اور سزا والا۔ بچے کے اندر اللہ کی محبت تب اترتی ہے جب وہ اس کے انعامات کو محسوس کرتا ہے، اور اُس احساس کے لیے ہمیں اپنا انداز، اپنا لہجہ، اپنی تربیت بدلنی ہو گی۔

ماں صبح بچے کو جگاتے ہوئے کہے: "بیٹا، اللہ نے آج بھی سورج تمہارے لیے نکالا ہے، اُٹھو اور شکر ادا کرو۔"
باپ جب کام سے لوٹے تو کہے: "بیٹا، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں رزق دیا۔"
استاد کہے: "بچو، اللہ علم دینے والا ہے، اس لیے ہم پڑھتے ہیں۔"
یہی ہیں وہ جملے جو بچے کے دل کو آہستہ آہستہ اللہ سے جوڑ دیتے ہیں۔

حضرت سعدیؒ نے کہا:
"جس گھر میں اللہ کا نام نرمی سے لیا جاتا ہے، وہاں بچے عبادت میں محبت محسوس کرتے ہیں۔"
اور شیخ عطارؒ لکھتے ہیں:
"محبت وہ بیج ہے جو صرف دل کی نرم مٹی میں اگتا ہے، اور دل سب سے نرم بچوں کا ہوتا ہے۔"

پھر محبت کے ساتھ ساتھ ذکر آتا ہے۔ لیکن ہم بچے کو فوراً "یا لطیف، یا ودود" حفظ کرانے نہ لگیں — پہلے اسے اس لفظ کی خوشبو سونگھنے دیں۔ جب تم خود محبت سے "یا اللہ" کہو گے، تو بچہ دیکھے گا، سمجھے گا، اور دہرائے گا۔ بچے فہم سے نہیں، جذبے سے سیکھتے ہیں۔

کبھی بچے کو چاند دکھا کر کہو: "یہ اللہ نے تمہارے لیے بنایا ہے۔" کبھی بارش کے قطروں پر ہاتھ رکھ کر کہو: "یہ اللہ کی رحمت ہے جو تم پر برس رہی ہے۔"
پھر دیکھو، بچہ خود بارش میں ہاتھ پھیلا کر کہے گا: "اللہ مجھے بہت چاہتا ہے۔"

شیخ ابن عربیؒ فرماتے ہیں:
"جب بچہ اللہ سے محبت کرنا سیکھ لے، تو وہ علمِ لدنی کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہے، کیونکہ محبت علم سے پہلے آتی ہے، اور محبت ہی علم کو قابلِ عمل بناتی ہے۔"

ماں باپ کو خود اللہ سے محبت کرنا ہو گی۔ تم اللہ سے محبت کرو گے تو تمہارے لہجے میں وہ نرمی آ جائے گی جس سے بچہ اللہ کو محسوس کرنے لگے گا۔ تمہاری دعائیں، تمہاری خاموشیاں، تمہاری سجدوں میں گری آنکھیں — سب بچے کے لاشعور میں اللہ کی عظمت کو نقش کرتی ہیں۔

اب آئیے دعا کی طاقت کو بھی شامل کریں۔ بچہ جب سوئے، تو اس پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا کرو:
"یا اللہ! میرے بچے کے دل میں اپنی محبت ڈال دے، اور اسے ہمیشہ اپنے قرب میں رکھ، آمین۔"
یہ جملہ رات بھر اس کے دل میں گونجے گا، اور اسی دعا سے اس کے اندر وہ محبت جنم لے گی جو اسے ساری زندگی گناہوں سے بچاتی ہے۔

اور جب وہ غلطی کرے، تو سختی نہ کرو، بلکہ کہو: "بیٹا، اللہ تم سے ناراض نہیں، وہ تمہیں سنوارنا چاہتا ہے۔"
ایسا کہنا بچے کو شرمندہ نہیں، محظوظ کرتا ہے — اور پھر وہ خود اللہ کی طرف دوڑتا ہے۔

مولانا رومیؒ نے کیا خوب فرمایا:
"جس دل میں اللہ کا عشق ہو، وہ راستہ گم بھی کر دے تو منزل اُس تک پہنچ جاتی ہے۔"

اے ماں باپ، اے استاد! اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا بچہ دنیا کے فساد سے محفوظ رہے، تو اس کے دل میں اللہ کی محبت کو ایسا گہرا کر دو کہ دنیا کی کوئی گندگی، کوئی فتنہ، کوئی اندھیرا اُس کو مس نہ کر سکے۔ یہ محبت وہ تلوار ہے جو شیطان کے سارے حربے کاٹ دیتی ہے۔

اور آخر میں، اپنے بچے کو صرف لفظ نہ سکھاؤ، اُس کا دل روشن کرو۔
جب وہ “اللہ” کہے، تو اس کی آواز میں نور ہو۔
جب وہ “شکر” کہے، تو اس کے چہرے پر خوشی ہو۔
اور جب وہ “آمین” کہے، تو آسمان سے فرشتہ اس کے دل پر ہاتھ رکھے۔

یا اللہ! ہمارے بچوں کے دل میں اپنی محبت کا وہ بیج ڈال جو کبھی سوکھتا نہیں، جو پھولتا ہے، خوشبو دیتا ہے، اور سب کو تیرے قریب لے آتا ہے۔

یا ودود، یا حفیظ، یا نور —
ہماری نسلوں کو اپنی محبت کی حفاظت میں رکھ،
آمین۔

اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں:
ماں باپ کی عزت – تربیت کی پہلی اینٹ ۔
سریز:روح تربیت: درویشوں کی آغوش میں بچوں کی تربیت ۔
تحریر:محمد وسیم رضا ماتریدی
مرکز : تحقیق:البرھان اسلامک سنٹر برائے تعلیم و خدمت ۔

اپنے بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی سکھائیں۔بسم اللہ الرحمٰن الرحیم...وہ جو سب سے پہلے اللہ کے نور سے پیدا...
10/06/2025

اپنے بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی سکھائیں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم...
وہ جو سب سے پہلے اللہ کے نور سے پیدا ہوئے، وہ جو بچوں کو اپنے کندھوں پر بٹھاتے، ان کے منہ میں اپنے ہاتھوں سے کھجور رکھتے، اور جن کی دعا سے بچے جنت کے پرچم تھام لیتے — وہی ہمارے نبی، ہمارے محبوب، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ آج ہم "نورِ امانت" کی دوسری قسط میں اُس عظیم تعلق پر بات کرتے ہیں، جو ایک بچے اور نبی کریم ﷺ کے درمیان قائم ہو سکتا ہے — دوستی کا رشتہ۔ یہ رشتہ خون کا نہیں، نسبت کا ہے۔ یہ جسم کا نہیں، دل کا ہے۔ یہ صرف محبت نہیں، ایک الٰہی روشنی ہے، جو نبی کے دل سے نکل کر بچے کے دل میں اترتی ہے، بشرطیکہ ماں باپ، استاد اور سماج اس راستے کو کھلا رکھیں۔

مولانا رومیؒ فرماتے ہیں:
"اگر بچے کے دل میں عشقِ محمدؐ جاگ گیا، تو اس کی روح کبھی گمراہ نہیں ہو سکتی۔"
بچہ جب سیکھتا ہے کہ نبی ﷺ کون ہیں، تو وہ صرف ایک تاریخ کا حصہ نہیں جانتا، بلکہ وہ اپنے دل میں ایک ایسا چراغ جلاتا ہے جس کی روشنی عمر بھر کم نہیں ہوتی۔

ہم جب کسی بچے کو نبی کریم ﷺ سے روشناس کرواتے ہیں، تو دراصل ہم اس کے دل کی آنکھ کو کھول رہے ہوتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نبی ﷺ کا تعارف صرف ان کے نام سے کرواتے ہیں؟ نہیں، تعارف وہ ہوتا ہے جو دل پر نقش ہو، جس میں الفاظ کم ہوں، جذبہ زیادہ ہو۔ تعارف وہ ہوتا ہے جو ماں کی آغوش میں ہو، باپ کی دعا میں ہو، استاد کے انداز میں ہو، اور گھریلو فضا کی خوشبو میں ہو۔

اے والدین، اے مربیوں! کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم ﷺ بچوں سے کیسے پیش آتے تھے؟ ایک بار حضرت حسین رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے، تو نبی ﷺ نے خطبہ روک کر اُنہیں گود میں اٹھا لیا۔ ایک موقع پر آپ ﷺ سجدے میں تھے اور نواسہ پشت پر سوار تھا، تو سجدہ لمبا فرما دیا۔ یہ عشق نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ تعلیم ہے؟ نہیں، یہ تربیت ہے۔ یہ محبت ہے، جو دلوں کو ہمیشہ کے لیے جوڑ دیتی ہے۔ امام غزالیؒ لکھتے ہیں:
"اگر کسی بچے کا دل عشقِ رسولؐ سے روشن ہو جائے، تو وہ تعلیم کے بغیر بھی مومن ہو سکتا ہے، مگر عشق کے بغیر علم بھی اندھا ہے۔"

پھر ہمیں سوال اٹھانا چاہیے — ہم اپنے بچوں کو کس طرح نبی ﷺ کا دوست بنا سکتے ہیں؟ ہم انہیں وہ قصے سنائیں جو محبت جگائیں، نہ کہ وہ باتیں جو صرف حفظ کروائیں۔ انہیں بتائیں: نبی ﷺ بھی یتیم تھے، لیکن اللہ اُن کے ساتھ تھا۔ وہ بھی کبھی کبھی خاموش رہتے تھے، لیکن اُن کی خاموشی میں وحی بولتی تھی۔ وہ بھی ہنستے تھے، بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے، زمین پر بیٹھ کر کھاتے تھے، بچوں کو سلام کرتے تھے، ان کے ساتھ دوڑتے تھے۔

تم اپنے بچے کو بتاؤ: نبی ﷺ تم سے پہلے تم سے محبت کرتے تھے۔ وہ تمہارے لیے روئے، تمہارے لیے جاگے، تمہارے لیے دعا کی۔ ایک بار صحابہؓ نے پوچھا: "یا رسول اللہ ﷺ، کیا آپ ہمیں یاد کرتے ہیں؟" فرمایا: "تم میرے اصحاب ہو، مگر میں ان کو زیادہ چاہتا ہوں جو بعد میں آئیں گے اور مجھے دیکھے بغیر مجھ سے محبت کریں گے۔" اے بچے! وہ تم ہو۔ تم وہ ہو جس کے انتظار میں نبی ﷺ نے آنکھیں بند کیں۔

بچوں کو نبی سے دوستی سکھانے کے لیے ہمیں نبی ﷺ کی محبت کو گھر کی ہوا بنانا ہو گا۔ گھر میں نعت کی خوشبو ہو، دیوار پر اسمِ محمد ﷺ لکھا ہو، روز رات کو ان کے لیے ایک قصہ ہو، جس میں نبی ﷺ کا ذکر ہو۔ اگر ماں ہر رات سونے سے پہلے بچے کے کان میں کہے: "اللہ تمہیں نبی کا دوست بنائے"، تو وہ جملہ اس کے دل کا طرزِ فکر بن جاتا ہے۔

شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں: "بچوں کے دل پر جو پہلا نقش ہوتا ہے، وہ کبھی مٹتا نہیں۔" اگر وہ نقش "محمد ﷺ" ہو، تو بچہ گمراہی سے بچ جاتا ہے۔ اسے بتاؤ: بیٹا، جو سچ بولتا ہے وہ نبی ﷺ کا ساتھی ہے۔ جو بڑوں کی عزت کرتا ہے وہ نبی کا خادم ہے۔ جو روٹی بانٹتا ہے وہ نبی کی سنت پر ہے۔

نبی ﷺ سے دوستی کا مطلب یہ ہے کہ بچہ اپنے ہر عمل میں سوچے، "اگر رسول اللہ ﷺ یہ دیکھتے، تو خوش ہوتے یا رنجیدہ؟" اگر یہ احساس دل میں آ جائے، تو بچہ خود قرآن کا عاشق، نماز کا شوقین، اور ادب کا پیکر بن جاتا ہے۔

صوفیاء کرام کہتے ہیں:
"عشقِ رسول وہ شمع ہے جو اگر بچپن میں جل جائے، تو موت تک ٹھنڈی نہیں ہوتی۔" حضرت عطارؒ لکھتے ہیں: "اگر بچہ محمدؐ کی خوشبو پہچان لے، تو وہ کبھی دنیا کے تعفن کو پسند نہیں کرے گا۔"

بچے کو یہ نہ سکھاؤ کہ وہ صرف درود پڑھ لے، اسے یہ سکھاؤ کہ درود میں نبی ﷺ سے کیا تعلق ہے؟ جب وہ “اللهم صل علی محمد” کہے تو دل میں یہ ہو کہ "یا رسول اللہ، میں آپ سے دوستی چاہتا ہوں۔" یہ دوستی اُس کو برائیوں سے دور رکھے گی، اور نیکیوں کی طرف لے جائے گی۔

اب ذرا تصور کرو، ایک معصوم بچہ رات کو سونے سے پہلے کہے: "یا رسول اللہ ﷺ، میں آپ سے محبت کرتا ہوں" — اس ایک جملے پر فرشتے اس کے بستر کے گرد ہالہ باندھ دیتے ہیں۔ اس کی نیند عبادت بن جاتی ہے، اس کے خواب روشنی میں لپٹے ہوتے ہیں، اس کا دل دھیرے دھیرے ولیوں کے دل جیسا ہو جاتا ہے۔

پس اے ماں، اے باپ، اے استاد! اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا بچہ دنیا کی تاریکیوں میں نہ بھٹکے، تو اس کے دل میں نبی ﷺ کی محبت کا چراغ جلا دو۔ اُس چراغ کی روشنی اسے قرآن تک لے جائے گی، اُس کا ہاتھ اسے سچائی کی طرف لے جائے گا، اور اُس کا دل اسے رب تک پہنچا دے گا۔

آج کی اس قسط کے اختتام پر، اپنے بچے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا کیجیے:
"یا اللہ! اس بچے کے دل میں اپنے نبیؐ کی محبت ڈال دے، اُس محبت کو عمر بھر باقی رکھ، اور ہمیں ایسا ماحول عطا فرما جہاں محمد ﷺ کا ذکر ہو، سیرت ہو، اور دلوں میں مدینہ کی تڑپ ہو۔ یا نور، یا ودود، یا ہادی، آمین۔"

اگر نبی ﷺ تمہارے بچے کے دوست بن گئے، تو دنیا کا کوئی اندھیرا اسے چھو نہ سکے گا، اور اللہ کا قرب اس کا مقدر بن جائے گا۔
سریز:روح تربیت: (درویشوں کے آغوش میں بچوں کی تربیت)

بچے الله تعالیٰ کی امانت ہیں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔صاحبو !جب کسی گھر میں ایک بچہ جنم لیتا ہے، تو آسمان سے کوئی نور ز...
09/06/2025

بچے الله تعالیٰ کی امانت ہیں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
صاحبو !جب کسی گھر میں ایک بچہ جنم لیتا ہے، تو آسمان سے کوئی نور زمین کی طرف جھکتا ہے۔ فرشتے خاموشی سے ایک اور امانت اللہ کے بندوں کے سپرد کرتے ہیں۔ یہ بچہ صرف ایک جسم نہیں، یہ ایک روح ہے، یہ ایک راز ہے، یہ ایک خاموش وصیت ہے جو ماں باپ کے دلوں میں اتاری گئی ہے۔ تم نے اسے پیدا نہیں کیا، تم صرف اس کے پاسبان ہو، یہ تمہاری ملکیت نہیں، یہ تمہارے وسیلے سے دنیا میں بھیجا گیا ایک نورانی پیغام ہے۔ بچہ وہ عکس ہے جس میں خدا اپنا عکس دیکھنا چاہتا ہے۔ مولانا رومیؒ فرماتے ہیں:
"کودک، آئینۂ جانِ پدر است؛ روشنی از دلِ او می‌نگرد" — بچہ والدین کے دل کا آئینہ ہے، اس میں وہی روشنی چمکتی ہے جو ان کے باطن میں ہو۔
اگر تمہارے دل میں خوفِ خدا ہو، تو اس کی آنکھ میں حیاء جھلکتی ہے۔ اگر تمہاری زبان پر ذکر ہو، تو اس کے لہجے میں رحمت اترتی ہے۔

بچہ آسمانی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
"ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔"
غور کرو، بچہ آئینہ ہے یا تختی؟ نہیں، وہ کوئی خالی صفحہ نہیں، وہ تو ایک جیتی جاگتی روشنی ہے۔ وہ رب کا راز ہے، جو تجھے عطا ہوا ہے، تاکہ تُو اس کے ذریعے اپنی نیت، اپنی حقیقت، اور اپنے مقام کو پہچانے۔ ابن عربیؒ کہتے ہیں:
"بچہ ایک الٰہی امکان ہے، جو ماں باپ کی نیت اور معلّم کی تربیت پر ظاہر ہوتا ہے۔"
تم جس نیت سے اس کی پرورش کرو گے، وہی نیت اس کی فطرت کو رنگ دے گی۔ اگر تم محبت سے پلاؤ گے، تو وہ امن و سکون بانٹے گا۔ اگر تم خوف سے ڈانٹو گے، تو وہ دنیا کو کانپتا ہوا دل دے گا۔

بچے کو سمجھنے کے لیے عقل نہیں، دل درکار ہے۔ تم کتابیں پڑھ کر تربیت نہیں دے سکتے جب تک کہ تمہاری روح میں رقت نہ ہو۔ وہ بچہ جو تمہیں رات کو جگاتا ہے، وہ تمہارا امتحان نہیں، وہ تمہارے ظرف کا پیمانہ ہے۔ جب وہ تمہارے کندھے پر سر رکھ کر سو جائے، تو سمجھ لو کہ رب تم پر راضی ہے، کیونکہ اُس نے اپنی سب سے پیاری شے تمہیں سونپ دی ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
"بچہ نرم موم کی مانند ہے، اگر وقت پر اسے ڈھالا جائے تو وہ صراط مستقیم کا مجسمہ بن سکتا ہے۔"

کبھی بچے کے سوال سے نہ گھبراؤ۔ اگر وہ پوچھے، "اللہ کہاں ہے؟" تو مت کہو "خاموش ہو جاؤ"، بلکہ کہو "بیٹا، وہ تیرے دل میں ہے۔" اگر وہ سوال کرے، "مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟" تو ڈراؤ نہیں، بلکہ کہو "جنت میں اللہ کے دوست رہتے ہیں، اور اچھے بچے انہی کے مہمان بنتے ہیں۔" حضرت سعدیؒ فرماتے ہیں، "کچی مٹی اگر وقت پر شکل نہ پائے تو وہ سخت ہو جاتی ہے اور پھر ٹوٹتی ہے، بنتی نہیں۔" یہی حال بچوں کے دل کا ہے۔ آج اگر تم نے اس میں نرمی نہ ڈالی، تو کل یہی دل سخت ہو جائے گا اور اس پر کوئی آیت اثر نہ کرے گی۔

بچے کو سچ بولنا کتاب سے نہیں سکھایا جا سکتا، بلکہ تمہاری زبان کی سچائی، تمہاری نگاہ کی حیا، اور تمہاری دعاؤں کی خوشبو سے سکھایا جا سکتا ہے۔ حضرت عطارؒ کہتے ہیں: "بچوں کو نعت اور نرمی سے سنوارو، کیونکہ ان کا دل ابھی دنیا کی گرد سے خالی ہے۔" وہ دل اگر محبت سے بھر جائے تو وہ کسی بزرگ کی خانقاہ بن سکتا ہے، لیکن اگر وہ بے توجہی سے محروم رہا تو وہی دل وحشت کا مسکن بن جاتا ہے۔

جب بچہ چپ بیٹھا ہو اور تم اس پر توجہ نہ دو، تو دراصل تم ایک روشن دروازہ بند کر رہے ہو۔ جب وہ سوال کرے اور تم اسے ڈانٹو، تو تم اس کے یقین کی بنیاد ہلا دیتے ہو۔ اور جب وہ روتا ہے، تو وہ دنیا سے نہیں، تم سے تسلی مانگتا ہے۔ جو ماں باپ یا استاد اس کے آنسوؤں کو مٹا دیتا ہے، وہ صرف بچے کا نہیں، اللہ کے فرشتوں کا محبوب بن جاتا ہے۔

یاد رکھو، بچوں کی تربیت شور سے نہیں، سکوت سے ہوتی ہے۔ ان کے دل میں جو خاموش قُرب ہے، وہ صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جو خود ذکر کی خوشبو میں بھیگا ہو۔ تم جب سچے دل سے کہو گے "بیٹا، اللہ تم سے راضی ہو" تو یہ ایک ایسا نور ہے جو اس کی پیشانی پر ثبت ہو جاتا ہے۔ تم جب رات کے اندھیرے میں اس کے چہرے کو دیکھ کر دعا مانگو گے، تو وہ دعا اس کی فطرت کا حصہ بن جائے گی۔

اگر تم چاہتے ہو کہ بچہ جھوٹ سے بچے، تو تم سچ بولنے کا عہد کرو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ وہ غصے سے بچے، تو خود نرمی کی روش اختیار کرو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ وہ ذکر کا عادی ہو، تو اپنے گھر میں "اللہ، اللہ" کی صدا بلند کرو۔ مولانا رومیؒ کہتے ہیں: "اے ماں باپ! بچوں کی بات نہ کاٹو، وہ اس خالق سے قریب ہیں جس کے تم صرف نام جانتے ہو۔"

آج رات جب تم اپنے بچے کو سوتے دیکھو، تو اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھو اور کہو:
"یا اللہ، یہ تیرا نور ہے، اسے دنیا کی گرد سے بچا، اس کے دل میں اپنا ذکر ڈال دے، اسے اپنے ولیوں کے نقشِ قدم پر چلا، اور ہمیں اسے سنبھالنے کی توفیق عطا فرما۔"

تمہاری یہ دعا، تمہارا یہ لمس، تمہارا یہ ذکر... شاید کل تمہاری نسلوں کے لیے نجات کی چابی بن جائے۔ کیونکہ بچہ اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ایک وعدہ ہے... اور وعدے کا وفا کرنا صرف تم پر ہے۔

یا لطیف، یا نور، یا ودود...
اے اللہ، ہمیں بچوں کی تربیت میں وہ آنکھ دے، جو تیرے نور کو دیکھ سکے، وہ دل دے جو تیرے ذکر سے بھر جائے، اور وہ زبان دے جو ہمیشہ رحمت کی گواہی دے۔
آمین۔
سریز:
(روح تربیت : درویشوں کی گود میں بچوں کی تربیت)
قسط اول :بچے اللہ کی امانت ہیں ۔
تحریر: محمد وسیم رضا ماتریدی
مرکز : تحقیق: البرھان اسلامک سنٹر ۔

میرے شیخ کے الفاظ کی وسعت کا کوئی اندازہ ممکن ہی نہیں ۔۔۔۔ایک ایک لفظ اپنے اندر معانی کا سمندر سموئے ہوئے ہے۔۔سبحان اللہ...
09/06/2025

میرے شیخ کے الفاظ کی وسعت کا کوئی اندازہ ممکن ہی نہیں ۔۔۔۔ایک ایک لفظ اپنے اندر معانی کا سمندر سموئے ہوئے ہے۔۔سبحان اللہ ۔۔۔۔

محبت کے بدلتے قرینے۔

محبوب نہیں ملا تو کیا ہوا، صدا سلامت رہے، خدا میرا سب کچھ اس کی خوشی اور سلامتی پر قربان کر دے، یہ دعا تو نہ جانے کتنے عاشقوں نے کتنی بار کی ہو گی۔ لیکن کبھی کسی چاہنے والے نے یہ نہیں چاہا ہو گا کہ اس کے پیارے کو تکلیف پہنچے یا وہ جوانی میں ہی موت کا شکار ہو جائے۔

آج عمر کے اُس حصے میں، جب زمانے کے کئی سرد و گرم جھیل چکا ہوں، درونِ ذات کی کتنی ہی خاک چھان چکا ہوں، اور تین بچوں کا باپ بھی بن چکا ہوں، اتنا تو سمجھ آتا ہے کہ چاہے محبت مجازی ہو یا حقیقی، اگر محبوب جان مانگے تو وہ بےجھجک حاضر کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ کوئی اپنے ہی محبوب کی جان کیسے لے لیتا ہے۔

نہ جانے لوگ رومانس، محبت، الفت اور چاہت کے نام پر کسی کا قتل کیسے کر لیتے ہیں۔ جس سے محبت ہو جائے، وہ تو اپنی ذات سے بھی زیادہ عزیز ہو جاتا ہے، اس کے لیے قربانی دی جاتی ہے، یہاں تک کہ اگر وہ خود کہے، تو اس کے حاصل کی خواہش تک چھوڑ دی جاتی ہے۔

مگر آج کے دور میں محبت یا رومانس کے نام پر کیسا مشروط اور بے روح سا تعلق رائج ہوتا جا رہا ہے۔ شاید شہرت کی آندھی، نفسانیت اور خودنمائی کی لالچ کو ہی لوگ محبت سمجھنے لگے ہیں۔ ممکن ہے میں اب پرانے خیالات کا ہو چکا ہوں، اسی لیے مجھے آج بھی لگتا ہے کہ محبت کا بندھن تو خودفراموشی، بےلوثی، اور تقدس کا مظہر ہوتا ہے، جو ہماری نئی نسل شاید فراموش کرتی جا رہی ہے۔

میرا مقصد کسی فرد کی کردار کشی ہرگز نہیں، نہ ہی کسی قسم کی شقی‌القلبی یا تضحیک کو جواز فراہم کرنا ہے۔ میری یہ بات صرف ایک افسوسناک رویے کی جانب توجہ دلانے کی اپنی سی کوشش ہے۔

آج بنتِ حوا سوشل میڈیا پر مقبولیت کی دوڑ میں کیوں ایسے مقام پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں بازارِ حسن اور اظہارِ ذات کے بیچ کی لکیر دھندلاتی جا رہی ہے۔ یہ کیسا بانکپن ہے، کیسا تخلیقی اظہار ہے جس کے نام پر عورت کی نزاکت اور حرمت چند سینٹس یا لائکس کے عوض قربان ہو رہی ہے؟ کیوں انکے فالورز بےوقابو تماش بین بن گئے ہیں؟

میرے خطے میں تو کئی نسلوں نے عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی کے سفر کا آغاز ہیر رانجھا اور سسی پنوں جیسی لازوال داستانوں سے کیا تھا، تو پھر آدم و حوا کے مقدس تعلق اور فطری کشش کے نام پر یہ کیسا عامیانہ پن اور سنگدلی ہے جو ہمارے سامنے بے نقاب ہو رہی ہے؟

مجھے یقین تھا کہ محبت تو الفت کے آداب سکھاتی ہے، کردار نکھارتی ہے، مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پرانے سبق مٹتے جا رہے ہیں۔ تبھی تو آج سوشل میڈیا اور بدلتے ہوئے سماجی رویے ہم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم اپنے بچوں کو آن لائن دنیا کے پردے کے پیچھے چھپی زندگی کی باریک حقیقتوں کے لیے تیار کر رہے ہیں؟

کیا ہم انہیں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ جُڑی انسانی ذمہ داریوں کا شعور دے رہے ہیں؟ کیوں نوجوان نسل نے اشتہا، بےحسی، تصنع، زیادہ سے زیادہ ویوز، لائکس، شیئرز، مواقع، اور انفلوئنس کی دوڑ کو ہی زندگی کی اصل حقیقت سمجھ لیا ہے؟

لگتا ہے کہ فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر ڈالرز میں بدلتے کانٹینٹ کے بےہنگم شور نے کاروبار الفت میں سود و زیاں کے پرانے قرینے بدل دیے ہیں۔

ان سب باتوں کے ساتھ ہمیں یہ سوال بھی اٹھانا ہو گا کہ کیا ہم محبت، اور اس میں شامل خودفراموشی کو مکمل طور پر بھلا چکے ہیں؟ کیا محبت یا اس کا اظہار اب صرف ایک موقع، ایک سودا، سوشل میڈیا کنٹنٹ، یا وقتی لطف کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے؟ کیا اس میں سے قربانی، ظرف، اور برداشت جیسی خوبیاں ختم ہو چکی ہیں؟ اور یہ کیسا ہرجائی تعلق اور اس کے انکار کا اندھا غصہ ہے، جس کی بنیاد پر اب محبوب قتل کیے جانے لگے ہیں؟

قرآنِ کریم کی آیت "وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ" انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں عدل، توازن اور دیانت داری کا درس دیتی ہے۔ یہ حکم صرف معاملاتِ دنیا تک محدود نہیں، بلکہ قلوب میں قائم ہونے والے میزان کی درستگی کا تقاضا بھی ہے۔

صوفیاء کے نزدیک یہ فقط لین دین کی ہدایت نہیں بلکہ باطن کی ترازو سیدھی رکھنے کا اشارہ ہے۔ عدل صرف قانون نہیں، روح کی روشنی ہے۔ جب انسان اپنے نفس، خواہشات، تعلقات اور فیصلوں میں انصاف کھو دیتا ہے تو فساد اور ظلم جنم لیتا ہیں۔

درویش اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے اور انصاف کی ہر ایک جہت کو مقدم جانتا ہے۔ میزان قائم رکھنا، اللہ کے قرب، خلقِ خدا کی خدمت اور دل کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ عدل حسنِ سلوک کی بنیاد ہے۔

بیشتر سوالوں کا جواب انہی میں پنہاں ہوتا ہے۔ تاریکی جتنی بھی بڑھ جائے، درویش کا لگاؤ تو امید کی روشنی سے ہے۔ انبیاء اور قرآنِ مجید میں مذکور معصومین کو استثنا حاصل ہے، ورنہ ہر کوئی خطاکار ہے، کوئی کم، کوئی زیادہ۔ اسی لیے تو کریم نے ہر انسان کے باطن میں توبہ کی روشنی پوشیدہ کر رکھی، چاہے تو اسے ڈھونڈ نکالے۔

دل کی کیفیت بدلنے میں دیر نہیں لگتی، آج کا بھٹکا ہوا شخص کل کا مقرب بن سکتا ہے۔ خدا ہمارے قلوب کو اپنے نور سے منور کرے، نفس کی دھند اور اندھی خواہشات کی گرہوں کو کھول دے، اور ہمیں باطنی سفر میں وہ صفائی عطا فرمائے جس سے نیت خالص ہو جائے، ارادہ روشن ہو جائے، اور دل صرف اسی کے لیے دھڑکنے لگے۔

انقلاب باہر سے نہیں، اندر سے آتا ہے۔ جب انسان اپنے اصل کو پہچان لیتا ہے تو حق کی آہٹ سنائی دینے لگتی ہے، اور یہی وہ سنگ میل ہوتا ہے جہاں خطاکار بھی عشقِ الٰہی کے نور کی دولت سے ولی بن سکتا ہے۔

25/02/2025

ویلیم چیٹک کی کتب سے کون کون واقف ہے ؟اور کس کس کتاب کا مطالعہ کر رکھا ہے۔۔۔۔۔۔؟

Address

Hassn Abad, Jalal Purpeerwala, Multan, South Punjab
Jalalpur Pirwala
59660

Telephone

+923002157519

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Burhan islamic center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Al-Burhan islamic center:

Share