08/06/2026
آج کل مسلم معاشرے میں بھی سالگرہ پر کیک کاٹنے اور موم بتیاں بجھانے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ان روایات کے پیچھے کیسی توہم پرستی اور نظریات چھپے ہیں، اور اسلام ہمیں اس موقع پر کیا سکھاتا ہے؟
تاریخی حوالوں
(جیسے کتاب The Lore of Birthdays) کے مطابق،
سالگرہ پر موم بتیاں جلانے کے پیچھے دو بڑے جادوئی عقائد تھے:
1. قدیم یورپی کافرانہ (Pagan) ثقافتوں میں مانا جاتا تھا کہ سالگرہ کے دن شیاطین اور بدروحیں انسان پر حملے کے لیے سرگرم ہوتی ہیں۔ چنانچہ کیک پر موم بتیاں اس لیے جلائی جاتی تھیں تاکہ ان کی آگ اور دھویں سے ڈیمنز خوفزدہ ہو کر بھاگ جائیں۔
2. ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ یہ دھواں ان کی دعاؤں کو اوپر آسمان میں خدا تک لے کر جاتا ہے۔
ایک مسلمان ہونے کے ناطے جب ہم ان روایات کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں
چند اہم باتوں کا ادراک ہونا چاہیئے
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے۔ آگ، موم بتیاں یا دھواں کسی بدروح کو بھگانے یا دعا کو اللہ تک پہنچانے کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔ ہماری دعائیں کسی دھوئیں کی محتاج نہیں، اللہ ہر وقت ہماری پکار سنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے: "جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے" (سنن ابو داؤد)۔
جب ایک عمل کی بنیاد ہی غیر مسلموں کے مذہبی یا توہم پرستانہ عقیدے پر ہو، تو مسلمانوں کو اس کی اندھی تقلید سے بچنا چاہیے۔
اسلامی نقطہ نظر سے زندگی کا ایک سال مکمل ہونا دراصل جشن منانے کا نہیں، بلکہ
محاسبے (Self-Evaluation)
کا دن ہے۔ ہماری زندگی کا ایک سال کم ہو گیا، گویا ہم موت اور قبر کے ایک سال اور قریب ہو گئے۔ اس دن ہمیں خوشی کے ہنگاموں کے بجائے تنہائی میں بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ جو سال گزر گیا اس میں ہم نے کتنے نیک اعمال کیے اور کتنے گناہ؟
اگر زندگی کا ایک سال خیر و عافیت سے گزرنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا ہی ہو، تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ شکرانے کے نوافل یا اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے مزید زندگی اور توبہ کی مہلت دی۔ کسی غریب یا مستحق کی مدد کر دیں تاکہ آنے والا سال بلاؤں سے محفوظ رہے۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور آنے والے سال کو اللہ کی فرمانبرداری میں گزارنے کا پکا ارادہ کریں۔
آئیں! اندھی تقلید اور توہم پرستی پر مبنی رواجوں کو چھوڑ کر اپنی زندگیوں کو اسلام کے خوبصورت اور سچے اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔