Isaar Welfare Society - Registered ایثار ویلفئیر سوسائٹی رجسٹرڈ

Isaar Welfare Society - Registered ایثار ویلفئیر سوسائٹی رجسٹرڈ تعلیم سب کے لئے ہمارا بنیادی مقصد
مضبوط معاشرہ ہمارا نصب العین

آج کل مسلم معاشرے میں بھی سالگرہ پر کیک کاٹنے اور موم بتیاں بجھانے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ان...
08/06/2026

آج کل مسلم معاشرے میں بھی سالگرہ پر کیک کاٹنے اور موم بتیاں بجھانے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ان روایات کے پیچھے کیسی توہم پرستی اور نظریات چھپے ہیں، اور اسلام ہمیں اس موقع پر کیا سکھاتا ہے؟
تاریخی حوالوں
(جیسے کتاب The Lore of Birthdays) کے مطابق،
سالگرہ پر موم بتیاں جلانے کے پیچھے دو بڑے جادوئی عقائد تھے:
1. قدیم یورپی کافرانہ (Pagan) ثقافتوں میں مانا جاتا تھا کہ سالگرہ کے دن شیاطین اور بدروحیں انسان پر حملے کے لیے سرگرم ہوتی ہیں۔ چنانچہ کیک پر موم بتیاں اس لیے جلائی جاتی تھیں تاکہ ان کی آگ اور دھویں سے ڈیمنز خوفزدہ ہو کر بھاگ جائیں۔
2. ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ یہ دھواں ان کی دعاؤں کو اوپر آسمان میں خدا تک لے کر جاتا ہے۔

ایک مسلمان ہونے کے ناطے جب ہم ان روایات کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں
چند اہم باتوں کا ادراک ہونا چاہیئے
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے۔ آگ، موم بتیاں یا دھواں کسی بدروح کو بھگانے یا دعا کو اللہ تک پہنچانے کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔ ہماری دعائیں کسی دھوئیں کی محتاج نہیں، اللہ ہر وقت ہماری پکار سنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے: "جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے" (سنن ابو داؤد)۔
جب ایک عمل کی بنیاد ہی غیر مسلموں کے مذہبی یا توہم پرستانہ عقیدے پر ہو، تو مسلمانوں کو اس کی اندھی تقلید سے بچنا چاہیے۔
اسلامی نقطہ نظر سے زندگی کا ایک سال مکمل ہونا دراصل جشن منانے کا نہیں، بلکہ
محاسبے (Self-Evaluation)
کا دن ہے۔ ہماری زندگی کا ایک سال کم ہو گیا، گویا ہم موت اور قبر کے ایک سال اور قریب ہو گئے۔ اس دن ہمیں خوشی کے ہنگاموں کے بجائے تنہائی میں بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ جو سال گزر گیا اس میں ہم نے کتنے نیک اعمال کیے اور کتنے گناہ؟
اگر زندگی کا ایک سال خیر و عافیت سے گزرنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا ہی ہو، تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ شکرانے کے نوافل یا اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے مزید زندگی اور توبہ کی مہلت دی۔ کسی غریب یا مستحق کی مدد کر دیں تاکہ آنے والا سال بلاؤں سے محفوظ رہے۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور آنے والے سال کو اللہ کی فرمانبرداری میں گزارنے کا پکا ارادہ کریں۔
آئیں! اندھی تقلید اور توہم پرستی پر مبنی رواجوں کو چھوڑ کر اپنی زندگیوں کو اسلام کے خوبصورت اور سچے اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔








29/05/2026
14/05/2026

گرمیوں کی چھٹیاں اور تعلیمی اداروں کا کردار
میں کوشش کروں گا کہ تحریر لمبی نہ ھو تاکہ متعلقہ حکومت وقت اور محکمہ جات چند لائنوں میں دی گئی سادہ سی تجویز کو سمجھ سکیں اور اس پر عملدرآمد کی مثبت کوشش کر سکیں۔چونکہ ھمارے وطن عزیز کے اکثر علاقوں میں مئی سے اگست تک کافی گرمی ھوتی ھے اور درجہ حرارت اس قدر بڑھ جاتا ھے کہ بچے تو بچے نوجوانوں کو بھی گھر سے باھر نکلنا دشوار ھو جاتا ھے اور ملک کے اکثر حصوں میں اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کو دو سے تین ماہ تک مکمل یا جزوی نہ صرف بند کر دیا جاتا ھے بلکہ تعلیمی سرگرمیاں تو بلکل ختم ھو جاتی ھیں اور مزے کی بات ھے کہ پڑھائی کے اداروں کو اس لئے بند کیا جاتا ھے کہ گرمیاں ھیں اور طلبہ وطالبات کی صحت متاثر نہ ھو مگر میرا وطن عزیز عجب سا حوالہ رکھتا ھے گرمیوں کی چھٹیوں کے ساتھ ھی پرائیویٹ ٹیوشن سنٹرز اکیڈمیز اور نا جاے کس کس نام سے بچوں کو تمام گرمیاں پھر انھی نام نہاد نسیٹیوشنز میں پڑھائی کے نام پر لوگوں کی دیکھا دیکھی یرغمالیوں کی سی گرمی کی چھٹیاں گزارنے کی تکلیف برداشت کرنا پڑتی ھے اور اوپر سے ناقابلِ برداشت فیسوں کا بوجھ علیحدہ سے والدین کے کندھوں پر آ جاتا ھے۔میں باتوں کو بلکل گھما پھرا کر نہیں کرونگا اس تکلیف دہ اور ناقابل برداشت صورت حال کا صرف ایک حل ھے کہ تعلیمی اداروں کے کرتا دھرتا اور حکومت وقت سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس کا حل نکالیں جیسے ایک حل میری تجویز میں ھے ،ابھی ملک میں گرمی کی لہر شروع ھو چکی ھے مگر توجہ طلب بات یہ ھے کہ گرمی تقریباً دس بجے کے بعد شدت اختیار کرتی ھے تو ھمیں سوچنے اور قابل عمل بنانا ھے صبح کے وہ چار پانچ گھنٹے جن میں گرمی یا تو ھوتی ھی نہیں یا شدت کم ھوتی ھے جیسے آج کل ھماری صبح یعنی دن کی روشنی 5بجے سے قبل ھی پورے ملک کو روشن کر دیتی ھے اور ھم نے بس اسی وقت کو استعمال میں لانا ھے اور تمام تعلیمی اداروں کو پابند کرنا ھے جو کہ حکومتی ایک نوٹیفکیشن سے ھو جاے گا کہ تمام تعلیمی ادارے صبح 5بجے سے کم از کم9سے ساڑھے 9بجے تک تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور اس طرح بچوں کی تعلیم کا حرج بھی نہیں ھو گا اور ھم ترقی کی منازل بھی طے کریں گے بلکہ سالہا سال سے جو ھم گرمیوں کی چھٹیوں کا وبال لئے ملک و قوم کا نقصان کر رھے ھیں اس اذیت سے بھی نجات ملے گی۔اور سب سے بڑا فایدہ کے ھم گرمیوں میں بھی تعلیمی سرگرمیاں جاری بھی رکھیں گے اور بچوں کو گرمی سے بھی اور سستی کاھلی سے بھی بچانے میں کامیاب ھو جائیں گے جو ھم سالہا سال سے لکیر کے فقیر بن کر کر رھے ھیں ۔آخر میں صرف وقت کی حکومت اور تعلیمی اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے التجا اور اپیل اور مشورہ ھے کہ گرمیوں میں چھٹیاں دینے اور تعلیمی ادارے بند کرنے کی بجائے ایک نوٹیفکیشن جاری کریں صبح 5سے9 ساڑھے9تک تمام تعلیمی سرگرمیاں جاری رھیں گی سارا سال ساری گرمیاں ۔میرے پاس سردیوں کا منصوبہ بھی موجود ھے مگر وہ سردیوں سے قبل شئیر کرونگا تاکہ بات میں وزن برقرار رھے اور عملدرآمد میں آسانی ھو۔
(امید کرتا ھوں کہ جو دوست اداروں میں رابطہ رکھتے ھیں اس کو اتنا شئیر کرینگے کہ آخر کار ایک نوٹیفکیشن جاری ھو جاے) دعاؤں کا طالب ♥️نعیم انور وائیں جلال پور جٹاں تحصیل صدر کاروان فاؤنڈیشن انٹرنیشنل ♥️

الحمد للّٰہ! ایثار ویلفیئر سوسائٹی (رجسٹرڈ) جلال پور جٹاں کے زیرِ اہتمام فروغِ تعلیم کی "تعلیم سب کے لئے" مہم پوری آب و ...
14/05/2026

الحمد للّٰہ! ایثار ویلفیئر سوسائٹی (رجسٹرڈ) جلال پور جٹاں کے زیرِ اہتمام فروغِ تعلیم کی "تعلیم سب کے لئے" مہم پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں آج
گورنمنٹ گرلز ایلیمنٹری سکول (کرسچن سکول) جلال پور جٹاں میں سٹیشنری 📚✨ تقسیم کی گئی۔
اس موقع پر سوسائٹی کی جانب سے
بیگم و نعیم انور وائیں نے نمائندگی کی اور طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔
سکول انچارج میڈیم ریحانہ صاحبہ نے ایثار ویلفیئر سوسائٹی کے ان فلاحی کاموں کو بے حد سراہا اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
یاد رہے کہ ایثار ویلفیئر سوسائٹی ہر سال سرکاری سکولوں میں لاکھوں روپے مالیت کی سٹیشنری، جرسیاں اور نقد انعامات تقسیم کر کے مستحق اور ہونہار طلبہ کی سرپرستی کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے۔













06/05/2026

الحمدللہ رب العالمین 🥰ایثار ویلفیئر سوسائٹی جلال پور جٹاں نے گورنمنٹ اسلامیہ ھائ سکول نمبر2 کے 200طلبہ اور نان فارمل بیسک ایجوکیشن سکول کے 350بچوں میں آج اسٹیشنری اور کاپیاں تقسیم کیں 🥰

05/05/2026

الحمدللہ ۔ایثار ویلفیئر سوسائٹی جلال پور جٹاں 🥰۔کل نان فارمل بیسک ایجوکیشن سکولز کے 350بچوں 200 گورنمنٹ اسلامیہ ھائ سکول نمبر2 کے طلبہ کو کاپیاں اور اسٹیشنری فراھم کرے گی انشاء اللہ

رات کے پچھلے پہر، اسپتال کے ایک خاموش کمرے میں صرف مشینوں کی ٹک ٹک گونج رہی تھی۔ وہ شخص جو کل تک شہر کی ہر محفل کی جان ت...
02/05/2026

رات کے پچھلے پہر، اسپتال کے ایک خاموش کمرے میں صرف مشینوں کی ٹک ٹک گونج رہی تھی۔ وہ شخص جو کل تک شہر کی ہر محفل کی جان تھا، آج بسترِ مرگ پر اکیلا پڑا اپنی گزرتی سانسوں کو گن رہا تھا۔ باہر گلیارے میں رشتے دار آپس میں باتوں میں مگن تھے۔ کوئی اس کے درد کا ایک قطرہ بانٹنے والا نہ تھا۔

اس کمرے کی تنہائی میں اس کی پوری زندگی ایک فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے گزرنے لگی۔

بیٹی کی شادی پر اس نے استطاعت سے بڑھ کر قرض لیا، صرف اس لیے کہ "برادری میں ناک نہ کٹ جائے۔" بیٹوں کو اس کیریئر میں دھکیلا جس کا معاشرے میں ٹرینڈ تھا، چاہے ان کی دینی تربیت کا جنازہ نکلتا رہا۔ حلال و حرام کی تمیز مٹا دی کیونکہ "دنیا کے ساتھ تو چلنا پڑتا ہے۔" ایک ضرورت مند رشتے دار کی مدد کی بجائے نئی گاڑی کا ماڈل اپ گریڈ کیا، کیونکہ "لوگ کیا کہیں گے کہ اتنا بڑا آدمی ہو کر پرانی گاڑی میں گھومتا ہے؟"

ساری زندگی ایک اندھے، بہرے اور بے حس معاشرے کو خوش کرنے میں لگا دی۔ اس نے "لوگوں کی ناراضگی" کے خوف سے اس رب کو ناراض کر لیا جو قبر کی تنہائی میں اس کا واحد ساتھی ہو سکتا تھا۔

اور پھر وہ لمحہ آیا جو آتا ضرور ہے۔

قبرستان کی مٹی ابھی پوری طرح سوکھی بھی نہ تھی کہ لوگ اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے گاڑیوں کی طرف بڑھنے لگے، کیونکہ سب کو اپنے اپنے کاموں پر لوٹنا تھا۔ اگلے دن اس کی کرسی پر کوئی اور بیٹھ چکا تھا۔ تیسرے دن تعزیت میں آنے والوں کی گفتگو میں اس کی جگہ سیاست اور کاروبار نے لے لی تھی۔ ایک سال بعد، جن کے ہاتھوں میں ملنے کے لیے اس کے ہاتھ تڑپتے تھے، انہوں نے اس کا نام بھی بھلا دیا۔

یہی وہ "لوگ" تھے جن کے لیے اس نے اپنا رب ناراض کیا تھا۔

سوچیے، کیا ہم بھی روزانہ یہی سودا نہیں کر رہے؟

ہم نے اپنی خوشیوں کی چابی ان لوگوں کے ہاتھ میں دے دی ہے جو خود اپنی زندگی کے ایک لمحے پر اختیار نہیں رکھتے۔ ہم اس لیے پریشان نہیں ہوتے کہ ہم سے کوئی گناہ ہوا، بلکہ اس لیے گھٹتے ہیں کہ "کسی کو پتہ چل گیا تو میری عزت کا کیا ہوگا؟" ہم نے عزت کا معیار تقویٰ کی بجائے تالیوں کو بنا لیا ہے۔ ہم نے دین کو بھی ایک "سوشل سٹیٹس" بنا لیا، وہ نیکیاں شوق سے کرتے ہیں جن کا چرچا ہو، لیکن تنہائی کے گناہوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

یہی وہ نفسیاتی قید ہے جس نے ہماری روح کو اپاہج کر دیا ہے۔

قرآن پکار پکار کر سمجھاتا ہے: جب انسان مخلوق کی خوشنودی کو اپنا قبلہ بنا لیتا ہے، تو اپنی روح کا سکون کھو دیتا ہے۔ وہ ذات جس نے آپ کو شہ رگ سے بھی قریب ہو کر پکارا، آپ نے اس کی آواز کو لوگوں کے شور میں دبا دیا۔ آپ کا اصل مقصد تو یہ تھا کہ آپ اپنے کردار سے اپنے رب کا تعارف بنتے، لیکن آپ لوگوں کی پسند کے سانچے میں ڈھلتے ڈھلتے اپنی پہچان ہی کھو بیٹھے۔

آج... ابھی... اس سے پہلے کہ آپ بھی محض ایک دھندلی یاد بن جائیں:

اپنے دل کا قبلہ درست کیجیے۔ "لوگ کیا کہیں گے" کی غلامی کی زنجیریں توڑ دیجیے۔ جس دن آپ کے دل سے یہ ڈر نکل گیا، اسی دن آپ کو حقیقی آزادی ملے گی۔ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے، یہاں مسافروں کی رائے پر نہیں، منزل کے پتے پر توجہ دی جاتی ہے۔

اپنی نیتوں کو خالص کیجیے۔ اپنے عمل کو دکھاوے سے پاک کیجیے۔ کیونکہ آپ کی قبر میں "لوگ" نہیں جائیں گے، صرف آپ کا رب اور آپ کا عمل جائے گا اور وہاں صرف ایک سوال ہوگا: "اے میرے بندے! تُو نے میری رضا کا سودا، لوگوں کی خوشی کے لیے کیوں کیا؟"

تحریر: صالحہ نعمان




23/04/2026

ایثار ویلفیئر سوسائٹی جلال پور جٹاں کے دفتر ملحقہ 15پولیس چوکی اڈا ٹم ٹم سے
31مارچ سے 22اپریل تک کم وبیش 25000کاپیاں مستحق طلبہ وطالبات میں تقسیم ھو چکی ھیں۔الحمد للہ رب العالمین

Address

Jalalpur Jattan
50780

Telephone

+923006241272

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Isaar Welfare Society - Registered ایثار ویلفئیر سوسائٹی رجسٹرڈ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Isaar Welfare Society - Registered ایثار ویلفئیر سوسائٹی رجسٹرڈ:

Share