Ghizer Social And Cultural Forum -GSCF

Ghizer Social And Cultural Forum -GSCF "Advocacy, Mobilization, Awareness on education, Culture preservation , Health and Human rights." Curating and Mentoring for Better Tomorrow.

12/05/2026

Beauty of Phander Valley

03/05/2026

Youth of Gilgit Baltistan must listen & ponder👂

Welcome
27/01/2026

Welcome

پھنڈر ونٹر اسپورٹس فیسٹیول سیزن–5 کا شاندار آغاز ان شاء اللہ بہت جلد ہونے جا رہا ہے۔
یہ ایک بھرپور، پرجوش اور رنگا رنگ ایونٹ ہوگا، جس میں کھیل، ثقافت اور تفریح کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملے گا۔
اس ایونٹ کا آغاز غزر اسپورٹس نیٹ ورک کے وژن سے ہوا تھا، اور آج اسی وژن کی بدولت اس سال پھنڈر ونٹر اسپورٹس کلب مقامی عوام کےتعاون سے اس ایونٹ کا انعقاد کر رہا ہے۔
اس شاندار فیسٹیول کے لیے این ایل سی (NLC) کی خصوصی معاونت بھی حاصل ہے، جو اس ایونٹ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ہم عوامِ پھنڈر کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور تمام معزز مہمانوں، کھلاڑیوں اور سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

تہذیب و ثقافت (سبجیکٹیو ڈیفینیشن کے قطع نظر) انسانی وجود کا وہ لطیف اور ہمہ گیر ورثہ ہے جس میں نسلوں کے تجربات، احساسات ...
11/12/2025

تہذیب و ثقافت (سبجیکٹیو ڈیفینیشن کے قطع نظر) انسانی وجود کا وہ لطیف اور ہمہ گیر ورثہ ہے جس میں نسلوں کے تجربات، احساسات اور افکار صدیوں کی مسافت طے کرکے یکجا ہوئے ہیں۔ ثقافت (Culture) کو ہمارے ہاں (خصوصاً آجکل یہ بحث زبان زد عام ہے) محض ماضی کا جامد ورثہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ در اصل یہ ایک زندہ اور سانس لیتا ہوا مظہر ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ نئے رنگ و روپ اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی سے بڑی تہذیب بھی اگر تغیر کو قبول نہ کرے تو اپنی تازگی کھو بیٹھتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ثقافت کو ریجیڈٹی نے آن گھیرا ہے اور اسے محض ماضی کی ایک مہر سمجھ کر اس میں کسی تبدیلی کو گویا ایک جرم گردانتے ہیں۔ وہ اسے ایسا ناقابل ارتقاء سمجھتے ہیں جسے وقت کی گردش ہاتھ نہ لگائے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ثقافت ہمیشہ سے ارتقا پذیر رہی ہے؛ رسم و رواج، لباس، زبان، رہن سہن، فکر و نظر، ہر چیز زمانے کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔ اگر انسان خود بدل سکتا ہے، تو اس کا تخلیق کردہ ثقافتی سرمایہ کیوں نہیں؟

یہی نقطہ کھوار ثقافت کے بارے میں بھی سمجھنا ضروری ہے۔ یہ ثقافت اپنی اساس میں یقیناً صدیوں پرانی اور پُراثر ماضی کا آئنہ دار ہے، لیکن اس کی روح ہمیشہ سے وسعت، قبولیت اور جمالیات سے عبارت رہی ہے۔ اسے نہ تو چند ریجیڈ رسوم تک محدود کیا جاسکتا ہے اور نہ چند جامد تصورات کے سہارے زندہ رکھا جاسکتا ہے۔

ہاں، یہ درست ہے کہ ہمارے یہاں موسیقی غیرمعمولی طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے اور اسکی بنیادی وجہ یہی ہے کہ موسیقی ثقافت کے بے شمار اجزا میں سے سب سے محبوب اور سب سے جاذبِ دل جزو ہے۔ موسیقی ہر معاشرے میں، ہر خطّے میں، اور ہر تہذیب میں نمایاں حیثیت رکھتی آئی ہے اور کھوار میں چونکہ ہمارے پاس نثر (prose) کی روایت زیادہ پُر اثر نہیں رہی ہے اس لئے موسیقی ہمیشہ سے پرومیننٹ رہی ہے۔ آپ چاہے دنیا کی کوئی تہذیب اٹھا کے دیکھ لے, وہ اطالیہ کی اوپیرا ہو، ہندوستان کا کلاسیکی راگ ہو، یا بلتی، شینا اور کھوار کے مقامی سُروں کی مٹھاس، دنیا بھر میں لوگ موسیقی کو زیادہ یاد رکھتے ہیں اور زیادہ مناتے ہیں، اس لیے اس کا نمایاں ہوجانا عین فطری ہے۔

مگر اس اعتراف کے ساتھ اس غلط فہمی کو بھی دور کرنا ضروری ہے کہ موسیقی ہی کُلی ثقافت نہیں بلکہ زبان، روایات، فنونِ لطیفہ، اخلاقی اقدار، اجتماعی یادداشت، خوراک، لباس بھی ثقافت کے اتنے ہی بنیادی ستون ہیں جتنا کہ موسیقی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ موسیقی میں جو جازبیت و کشش اور سُریلاپن ہے وہ آفاقی نیچر کا ہے جو اسے یونیورسل بناتا ہے اور لوگ زبان نہ جانتے ہوئے بھی اکثر اوقات موسیقی کا لطف اٹھاتے ہیں۔

بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ثقافت کا اصل حسن اس کی ہمہ گیری اور اس کا تنوع ہے اور اگر ہم اسے ایک بند گلی میں دھکیل کر اعتراضات کی دیواریں اٹھائیں، تو ہم دراصل ثقافت کی روح کو مجروح کرتے ہیں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اپنے زمانے کے بدلتے ہوئے مزاج کو قبول نہ کریں تو ہم خود اپنے ورثے کو محدود اور پژمردہ بنانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔

چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ثقافت کے نام پر سرٹیفیکیٹ و لیبل لگانے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے دل و دماغ کو کشادہ رکھیں، تبدیلی سے خوف زدہ نہ ہوں، اور ثقافت کو اس کی مکمل وسعت کے ساتھ اپنائیں۔ موسیقی ہو یا شاعری، زبان ہو یا رسم و رواج، جس چیز سے زندگی میں نرمی، شگفتگی اور انسانی ربط پیدا ہو، اسے نہ صرف قبول کرنا چاہیے بلکہ مسرّت کے ساتھ منانا چاہیے۔

آخرِکار ثقافت کا مقصد انسان کو انسان سے قریب کرنا ہے، اسے تقسیم کرنا نہیں۔ جو چیز دلوں کو جوڑتی ہے، خواہ وہ ایک پیارا سا نغمہ ہی کیوں نہ ہو، وہ ہمارے اجتماعی وجود کے لیے رحمت و مسررت ہے نہ کہ خطرہ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ثقافت میں روایت کا احترام بھی ہو اور تغیر کی گنجائش بھی؛ جہاں ماضی کی خوشبو موجود رہے مگر ہوا کے تازہ جھونکے داخل ہونے سے روکے نہ جائیں اور جہاں ہمارے سُر، ہمارے الفاظ اور ہمارے رنگ سب آزادانہ پھلیں پھولیں۔

آئیے ہمارے ساتھ 14 تاریخ کھوارورنگ میں رنگ بھرے۔

Book your tickets here
https://forms.gle/dgDaBiJ55CyMpSV7A

22/08/2025

If you want to donate for flood flood affectees in Ghizer, contact with us!

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghizer Social And Cultural Forum -GSCF posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share