10/04/2026
نورِ مجسم: ایک رشکِ قمر چہرہ
وصال کے وقت پیر فرید الحق گیلانی کے چہرہ مبارک کی تابندگی دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ابھی ابھی سورج طلوع ہوا ہو۔
ان کے رُخِ انور پر پھیلی وہ غیر معمولی رونق اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ یہ موت نہیں بلکہ محبوبِ حقیقی سے ملاقات کا جشن ہے۔
چہرے پر ایسی دلآویز مسکراہٹ اور سکون تھا کہ دیکھنے والوں کی نظریں ٹھہر کر رہ گئیں اور دل بے اختیار سبحان اللہ پکار اٹھے۔
پیشانی سے پھوٹتی وہ نور کی لہریں بتا رہی تھیں کہ یہ زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں گزری ہے۔
موت کی سختی کا نام و نشان تک نہ تھا، بلکہ چہرہ گلاب کی مانند کھلا ہوا اور تروتازہ نظر آتا تھا۔
ایسا لگتا تھا جیسے کوئی سو رہا ہو اور نیند کی حالت میں بھی ذکرِ الٰہی کی چاشنی چہرے سے نمایاں ہو۔
اس نورانیت نے دیکھنے والوں کے غم کو ایک عجیب سے روحانی سرور اور اطمینان میں بدل دیا تھا۔
یہ رونق درحقیقت اس پاکیزہ زندگی کا عکس تھی جو تقویٰ، عاجزی اور عشقِ رسول ﷺ میں بسر ہوئی۔
گولڑہ شریف کی اس عظیم ہستی کا چہرہ وصال کے بعد بھی ایک روشن چراغ کی مانند مریدین کے دلوں کو منور کر رہا تھا۔
بلاشبہ وہ ایک ایسی خوبصورت موت تھی جس پر زندگی بھی رشک کرے اور جس کا جلال و جمال ابد تک یاد رکھا جائے گا