Mughal Society

Mughal Society 03126767678
Official page
Mughal Society of Pakistan
President
Baig Raj

10/07/2026

اسلام آباد- مسٹر ٹائمز پر سرفراز مغل (ایکزیکٹیو پریزیڈنٹ تنظیم مغلیہ مرکز پاکستان) کے ساتھ جناب محترم بیگ راج صاحب (پریزیڈنٹ مغل سوسائٹی آف پاکستان) کی ملاقات
ویڈیو پروڈکشن
پروفیسر حسن مغل

23/06/2026

برکی خان جو کہ پہلے مسلمان ہونے والے منگول سردار تھے۔جب ہلاکوخان نے بغداد پر یلغار کی اور مسلمانوں کی سب سے امیر اور علمی حیثیت سے سب سے طاقتور سمجھی جانے والی سلطنت کو جسکے ایک گورنر نے منگول تاجروں کو قتل کروایا اور جس کی بازگشت پر آئے منگول سفیروں کو بھی قتل کر دیا گیا جس کی وجہ سے سلطان عاظم چنگیزخان نے ہلاکوخان کو منگول فوج دے کر بھیجا اور ہلاکوخان خان نے پھر خوارزم کی اس سلطنت کا جو ہال کیا وہ تاریخ کے سیاہ باب میں سے ایک ہے

جب یہ بات برکی خان کو معلوم ہوئی کے ہلاکوخان نے یاسا قانون کو نذر انداز کیا اور عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیا تو برکی خان نے چند مسلمان علماء کو بلوایا اور ان سے اسلام کے بارے میں دریافت کیا تو کہا جاتا ہے کے برکی خان کا ان مسلمان علماء سے ایک طویل بحث ومباحثہ ہوا جسکے بعد اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر برکی خان نے اسلام قبول کیا اور پھر اسلام کا ایسا محافظ بنا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی اور وقت نے پلٹا کھایا اور منگول اسلام کے دفاع کے لیے اس وقت سامنے آئے جب کوئی دنیاوی طاقت اس قابل نہیں تھی

تحریر: پروفیسر حسن مغل
شاعری اور آواز Usman Mirza

کیوں تمام منگول قبائل نے چنگیز خان کو ایک عظیم لیڈر تسلیم کیا؟یہ سوال بہت اہم ہے کہ جو قبائل صدیوں سے آزاد تھے اور ایک د...
22/06/2026

کیوں تمام منگول قبائل نے چنگیز خان کو ایک عظیم لیڈر تسلیم کیا؟

یہ سوال بہت اہم ہے کہ جو قبائل صدیوں سے آزاد تھے اور ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے، انہوں نے ایک شخص کے سامنے سر کیوں جھکایا؟

‎پہلی وجہ فوجی طاقت اور شکست:
چنگیز خان نے ہر مزاحم قبیلے کو میدانِ جنگ میں شکست دی۔ جو قبائل لڑ کر ہارے انہیں یا تو قتل کیا گیا یا ان کے جنگجوؤں کو اپنی فوج میں شامل کر لیا گیا۔

‎دوسری وجہ انصاف اور میرٹ کا نظام:
چنگیز خان نے ایک انقلابی اصول اپنایا کہ کوئی شخص اپنے خاندان یا نسل کی وجہ سے نہیں بلکہ قابلیت اور وفاداری کی بنیاد پر عہدہ پائے گا۔ اس نے غلاموں کو جنرل بنایا اور نااہل امیر زادوں کو نظرانداز کیا۔ اس انصاف نے عام لوگوں کا دل جیت لیا۔

‎تیسری وجہ لوٹ مار میں برابری کی تقسیم:
چنگیز خان نے جنگ میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کو انصاف کے ساتھ تقسیم کیا۔ پہلے سردار اکیلے سب کچھ ہڑپ کر لیتے تھے لیکن چنگیز کے نظام میں ہر سپاہی کو حصہ ملتا تھا جس نے عام جنگجوؤں کو اس کا گرویدہ بنا دیا۔

‎چوتھی وجہ یاسا قانون:
چنگیز خان نے یاسا نامی قانون کا مجموعہ مرتب کروایا جو تمام منگولوں پر یکساں لاگو ہوتا تھا۔ امیر ہو یا غریب، سردار ہو یا سپاہی، سب کے لیے ایک قانون تھا۔ اس نے قبائلی انتشار اور خونریزی کو روکا اور امن قائم کیا۔

‎پانچویں وجہ مذہبی رواداری:
چنگیز خان نے کسی قبیلے پر اپنا مذہب مسلط نہیں کیا۔ مسلمان، عیسائی، بدھ مت اور شمن سب کو اپنے عقیدے پر چلنے کی آزادی تھی۔ اس رواداری نے مختلف مذاہب کے قبائل کو اس کے قریب کیا۔

‎چھٹی وجہ اجتماعی شناخت:
چنگیز خان نے منگولوں کو پہلی بار ایک مشترک شناخت دی۔ "ہم سب منگول ہیں" کا احساس نئی چیز تھا اور اس نے قبائلی تعصبات پر قومی وحدت کو فوقیت دی۔
‎خلاصہ
‎
‎چنگیز خان کا عروج محض ایک فاتح کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے بکھری ہوئی قوم کو اکٹھا کیا، ظلم کے خلاف اٹھا، انصاف کا نظام دیا اور پھر دنیا کی سب سے بڑی زمینی سلطنت قائم کی۔ وہ میدانوں کا بیٹا تھا جس نے ثابت کیا کہ ارادے کی مضبوطی اور قوم کی وحدت سے بڑی کوئی طاقت نہیں۔

پروفیسر حسن مغل
جنرل سیکرٹری مغل سوسائٹی آف پاکستان

22/06/2026

゚

کیا سب سلطان عاظم فاتح عالم جد امجد چنگیزخان سے ڈرتے تھے؟  ゚
20/06/2026

کیا سب سلطان عاظم فاتح عالم جد امجد چنگیزخان سے ڈرتے تھے؟
゚

19/06/2026

18/06/2026

‎چنگیز خان سے پہلے منگول قبائل‎‎وسطِ ایشیا کے وسیع و عریض میدانوں میں، جہاں سرد  ہوائیں بلا روک ٹوک چلتی ہیں اور افق تک ...
18/06/2026

‎چنگیز خان سے پہلے منگول قبائل
‎
‎وسطِ ایشیا کے وسیع و عریض میدانوں میں، جہاں سرد ہوائیں بلا روک ٹوک چلتی ہیں اور افق تک پھیلی گاس کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا، وہاں صدیوں سے ایک سخت جان اور جنگجو قوم آباد تھی جسے منگول کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ نہ کسی بادشاہت کے باسی تھے، نہ کسی شہر کے شہری۔ یہ تھے خانہ بدوش، آزاد اور بے باک۔ انہی میدانوں سے ایک دن ایسا شخص اٹھا جس نے نہ صرف منگولوں کو متحد کیا بلکہ پوری دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ اس کا نام تھا تیموچن جسے دنیا چنگیز خان کے نام سے جانتی ہے اور جس نے ایک خانہ بدوش قوم کو ایک جنگجو قوم بنایا۔
‎
‎چنگیز خان کے ظہور سے پہلے منگول قوم کوئی منظم ریاست یا سلطنت نہیں رکھتی تھی۔ یہ لوگ خانہ بدوش تھے اور موسم کے ساتھ ساتھ اپنے ڈیرے بدلتے رہتے تھے۔ سردیوں میں وادیوں میں اترتے اور گرمیوں میں پہاڑی چراگاہوں کی طرف چلے جاتے۔

‎منگول معاشرہ قبائلی نظام پر قائم تھا۔ ہر قبیلے کا اپنا سردار ہوتا تھا جسے خان کہا جاتا تھا۔ خاندان کو اوبوغ کہتے تھے اور کئی خاندان مل کر ایک قبیلہ بناتے تھے۔ عورتوں کا مقام نسبتاً بہتر تھا، وہ گھر کا انتظام سنبھالتی تھیں اور بعض اوقات قبیلے کے معاملات میں رائے بھی دیتی تھیں۔
‎
‎
‎اہم قبائل جو منگولیا میں آباد تھے
‎
‎چنگیز خان سے پہلے منگولیا کئی طاقتور قبائل میں بٹا ہوا تھا جو اکثر ایک دوسرے سے برسرِپیکار رہتے تھے۔

١۔بورجیگن سب سے قدیم اور اہم منگول قبیلہ تھا اور یہی چنگیز خان کا اپنا قبیلہ تھا۔

٢۔ کیرائیت وسطی منگولیا کا سب سے طاقتور قبیلہ تھا جس کے سردار توغرل خان چنگیز کے ابتدائی دوست اور بعد میں دشمن بنے۔

٣۔ تاتار مشرقی منگولیا کے جنگجو قبیلے تھے جو چین کی حمایت یافتہ تھے اور انہوں نے چنگیز کے باپ یسوگئی کو زہر دے کر قتل کیا تھا۔

‎٤۔نائمان مغربی منگولیا میں آباد تھے اور ان کی ثقافت نسبتاً ترقی یافتہ تھی، وہ اویغور رسم الخط استعمال کرتے تھے۔

٥۔میرکت شمالی منگولیا کے اس قبیلے نے چنگیز کی بیوی برتے کو اغوا کیا تھا جو آگے چل کر ایک بڑی جنگ کا سبب بنا۔

٦۔۔جادران قبیلے کا سردار جاموخہ چنگیز کا بچپن کا دوست اور بعد میں سب سے بڑا حریف بنا۔ اویرات اور قرغز شمال مغربی علاقوں کے قبائل تھے جو بعد میں چنگیز کی سلطنت میں شامل ہوئے۔

‎قبائلی انتشار اور خونریزی
‎
‎چنگیز خان سے پہلے منگولیا میں کوئی مرکزی اقتدار نہیں تھا۔ ہر قبیلہ اپنی برتری قائم کرنے کے لیے دوسرے قبائل پر حملے کرتا تھا۔ عورتوں اور بچوں کا اغوا، مویشیوں کی چوری اور خون کے بدلے عام روایات تھیں۔ ایک قبیلہ دوسرے قبیلے سے بدلہ لیتا اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا۔ اس خانہ جنگی نے منگول قوم کو کمزور اور بکھرا ہوا رکھا۔
‎
‎چنگیز خان کا عروج محض ایک فاتح کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے بکھری ہوئی قوم کو اکٹھا کیا، ظلم کے خلاف اٹھا، انصاف کا نظام دیا اور پھر دنیا کی سب سے بڑی زمینی سلطنت قائم کی۔ وہ میدانوں کا بیٹا تھا جس نے ثابت کیا کہ ارادے کی مضبوطی اور قوم کی وحدت سے بڑی کوئی طاقت نہیں۔
‎
پروفیسر حسن مغل
جنرل سیکریٹری

14/06/2026

کیا سلطانِ اعظم، خانِ اعظم، جد امجد چنگیز خان سے پہلے بھی منگول طاقتور تھے؟

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mughal Society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share