Freedom Network - FNPK

Freedom Network - FNPK Freedom Network Is Pakistan's first media watchdog monitoring press freedom violations.

Freedom Network is a Pakistan-based media and development sector watchdog registered with the Securities and Exchange Commission of Pakistan (SECP). The organization’s core value is to protect freedom of expression, including freedom of the press and Internet, and access to information and promote an informed society that sees media as a key partner in a democratic and pluralist Pakistan.

**پشاور ہائی کورٹ کا صحافیوں کے بقایاجات اور اجرتوں سے متعلق اہم حکم**پشاور ہائی کورٹ نے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیب...
22/09/2026

**پشاور ہائی کورٹ کا صحافیوں کے بقایاجات اور اجرتوں سے متعلق اہم حکم**

پشاور ہائی کورٹ نے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا کو ہدایت کی ہے کہ اخباری مالکان کی جانب سے جمع کرائے گئے ملازمین، تنخواہوں اور بقایاجات کے ڈیٹا کی مکمل جانچ پڑتال اور تصدیق کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
عدالت نے ان اخباری مالکان کو بھی 5 اکتوبر سے قبل ملازمین سے متعلق مکمل تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کی جنہوں نے تاحال معلومات فراہم نہیں کیں۔
سماعت کے دوران صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بقایاجات، مناسب اجرت، کم از کم اجرت اور ملازمت کے تحفظ سے متعلق درپیش مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حقوق، بروقت اجرت اور ملازمت کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

پنجاب کے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر میں صحافیوں کا داخلہ مبینہ طور پر روک دیا گیاسینئر صحافی جاوید اقبال کے ہمراہ محکمہ...
17/09/2026

پنجاب کے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر میں صحافیوں کا داخلہ مبینہ طور پر روک دیا گیا
سینئر صحافی جاوید اقبال کے ہمراہ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب جانے والے صحافیوں کو گیٹ پر روک دیا گیا اور بتایا گیا کہ میڈیا سے وابستہ افراد کے داخلے پر پابندی ہے۔
پوچھنے پر مبینہ طور پر بتایا گیا کہ اس پابندی کا کوئی تحریری حکم موجود نہیں بلکہ یہ سیکرٹری کی زبانی ہدایت ہے۔
اگر کسی سرکاری ادارے میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے تو اس کا تحریری حکم اور قانونی جواز واضح ہونا چاہیے۔
صحافی سرکاری دعووں کی تصدیق، سوالات اٹھانے اور عوامی اہمیت کے معاملات پر معلومات حاصل کرنے کے لیے سرکاری اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ آزادانہ طور پر معلومات کی تصدیق صحافت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

16/09/2026

Broadcast journalist Absa Komal speaks at protest camp of journalists outside the National Press Club, Islamabad, to protest increasing restrictions on freedom of expression and poor wages for media practitioners and workers. Video courtesy Naimat Khan

پریس ریلیزاسلام آباد، پاکستان، 16 ستمبر 2026: اسلام آباد میں قائم میڈیا واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک نے گوگل اور حکومتِ پاکستان...
16/09/2026

پریس ریلیز
اسلام آباد، پاکستان، 16 ستمبر 2026: اسلام آباد میں قائم میڈیا واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک نے گوگل اور حکومتِ پاکستان کے نام ایک کھلا خط تحریر کیا ہے، جس میں یہ جاننے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی اس بڑی کمپنی اور اسلام آباد کے درمیان حالیہ شراکت داری، جو ملک کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے کی گئی ہے، کے تحت ایسے کون سے حفاظتی اقدامات موجود ہیں جو نگرانی، سنسرشپ یا شہریوں کی ذاتی معلومات تک غیر محدود رسائی کے لیے کسی خفیہ راستے کا سبب بننے سے روکیں گے۔
میڈیا واچ ڈاگ نے پاکستان میں اپنا دفتر کھولنے کے بعد ملک کے ڈیجیٹل وژن کو آگے بڑھانے کے لیے گوگل اور حکومتِ پاکستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) اور معاہدوں پر دستخط کا خیرمقدم کیا، تاہم اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ٹیکنالوجی کمپنی اور حکومت نے اپنے معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں۔
فریڈم نیٹ ورک نے میڈیا کو پریس ریلیز کے ذریعے جاری کردہ اپنے الرٹ میں سوال اٹھایا:
“ایک بڑا سوال یہ ہے کہ آخر طے کیا کیا گیا ہے؟ کیا حکومت یا گوگل ان کے درمیان دستخط ہونے والی تمام مفاہمت کی یادداشتیں، معاہدے، کنٹریکٹس یا دیگر انتظامات شائع کریں گے؟ اگر کچھ شقوں کو خفیہ رکھنا ضروری ہے تو اس کا فیصلہ کس نے کیا اور کس قانون کے تحت؟”
میڈیا واچ ڈاگ نے سوال کیا کہ کیا صارفین کے ڈیٹا، مواد، میٹا ڈیٹا یا حکومتی ڈیٹا بیس تک رسائی سے متعلق کوئی غیر اعلانیہ وعدے یا یقین دہانیاں بھی موجود ہیں؟
“پاکستانی حکام کن حالات میں گوگل صارفین سے متعلق معلومات طلب کر سکتے ہیں؟ کیا ہر درخواست کے لیے قانونی طور پر درست طریقۂ کار اور عدالتی نگرانی لازمی ہوگی؟ کیا گوگل ایسی درخواستوں کو مسترد کرے گا جو حد سے زیادہ وسیع، مبہم یا بنیادی حقوق سے متصادم ہوں؟”
فریڈم نیٹ ورک نے واضح طور پر یہ جاننا چاہا کہ آیا ان معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں میں حکومت کی جانب سے صحافیوں کے Gmail، Google Drive، تصاویر، YouTube اکاؤنٹس، سرچ سے متعلق معلومات یا ایسے دیگر ڈیٹا تک رسائی کے خلاف واضح اور غیر مبہم حفاظتی ضمانتیں شامل ہیں جو صحافیوں کے خفیہ ذرائع کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔
میڈیا واچ ڈاگ نے گوگل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کا عہد کرے کہ محض کسی حکومتی ادارے کے کہنے پر کوئی مواد حذف نہیں کیا جائے گا، یا مواد کو بلاک یا حذف کرنے کی درخواستوں کا جائزہ شفاف قانونی اصولوں کے تحت لیا جائے گا۔ جہاں قانوناً ممکن ہو، صارفین کو فیصلوں کے بارے میں اطلاع دی جائے گی اور انہیں ان فیصلوں کو چیلنج کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔
فریڈم نیٹ ورک نے پاکستانی شہریوں کے ڈیٹا کو ذخیرہ کرنے کے مقام کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا، کیونکہ ملک اس وقت قومی ڈیٹا گورننس کا ایک ایسا فریم ورک تشکیل دے رہا ہے جو ڈیٹا کی خودمختاری، کم سے کم معلومات کے افشا اور شہریوں کے اس حق پر زور دیتا ہے کہ وہ جان سکیں کہ ان کی معلومات تک کس نے رسائی حاصل کی ہے۔
میڈیا واچ ڈاگ نے گوگل سے سوال کیا:
“کیا پاکستانی صارفین کا ڈیٹا پاکستان میں، بیرونِ ملک یا دونوں مقامات پر ذخیرہ کیا جائے گا؟”
فریڈم نیٹ ورک نے مزید کہا کہ گوگل اور حکومتِ پاکستان کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کے کوئی غیر رسمی یا غیر دستاویزی انتظامات نہیں ہونے چاہییں۔
پریس ریلیز میں میڈیا واچ ڈاگ کی جانب سے ٹیکنالوجی کمپنی سے یہ سوال بھی کیا گیا:
“پاکستان میں گوگل کی جانب سے رازداری اور انسانی حقوق کے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کا آزادانہ آڈٹ کون کرے گا؟”
فریڈم نیٹ ورک نے تجویز دی کہ اس سوال کا جواب محض حکومت نہیں ہونا چاہیے۔
نوٹ: یہ پریس ریلیز انسانی نگرانی میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایڈٹ کی گئی ہے، اور اس کھلے خط کے مواد کے حقوق فریڈم نیٹ ورک کے پاس ہیں۔

صحافیوں کے لیے خطرات کم نہیں ہوئےاگست 2026 میں پاکستان بھر میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف 8 واقعات رپورٹ ہوئے، جن م...
14/09/2026

صحافیوں کے لیے خطرات کم نہیں ہوئے
اگست 2026 میں پاکستان بھر میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف 8 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں جان سے مارنے کی دھمکیاں، قانونی دباؤ اور گھروں و املاک پر حملے شامل ہیں۔
یہ واقعات صحافیوں کو درپیش مسلسل خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مکمل رپورٹ پڑھیں:
https://fnpk.org/threats-attacks-and-legal-pressure-continue-against-journalists-across-pakistan-fn-monthly-report-august-2026/

Eight cases involving different threat categories against journalists and media practitioners were documented across Pakistan during August 2026. The documented incidents included threats to murder, threats of legal action, actual legal action, and attacks on journalists’ homes and family members....

03/09/2026

صحافت صرف ایک پیشہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے , اور اس ذمہ داری کو نبھانے والے صحافی باعزت معاوضے کے بھی حق دار ہیں۔
مہنگائی اور مشکل معاشی حالات میں صحافیوں کے لیے بروقت اور مناسب اجرت کا حصول ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ مضبوط اور آزاد صحافت کے لیے ضروری ہے کہ صحافیوں کے معاشی حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
صحافیوں کے لیے مؤثر ویج بورڈ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

01/09/2026

صحافیوں کی محنت، ذمہ داری اور خطرات کا تقاضا ہے کہ انہیں باعزت معاوضہ بھی ملے۔

بلوچستان میں مشکل حالات کے باوجود صحافی عوام تک درست معلومات پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، مگر کم اجرت ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور احمد نے فریڈم نیٹورک کی ویج بورڈ کے قیام کی مہم کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ: صحافت کو مضبوط بنانا ہے تو صحافیوں کے معاشی تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
IFJ - International Federation of Journalists

31/08/2026

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید نے ان خدشات کی تائید کی ہے جنہیں فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کے لیے نویں ویج بورڈ کے فوری قیام کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے جاری ایک ہفتہ طویل آن لائن مہم کے ذریعے سامنے لا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اچھی صحافت کی بنیاد صرف آزادی نہیں بلکہ باعزت روزگار بھی ہے۔‘‘

ویج ایوارڈز میں مسلسل تاخیر کے باعث صحافیوں کی تنخواہوں میں مہنگائی اور ملکی معیشت میں اجرتوں میں ہونے والے اضافے کے تنا...
29/08/2026

ویج ایوارڈز میں مسلسل تاخیر کے باعث صحافیوں کی تنخواہوں میں مہنگائی اور ملکی معیشت میں اجرتوں میں ہونے والے اضافے کے تناسب سے بروقت اضافہ نہیں ہو سکا۔ آٹھواں ویج ایوارڈ بھی مقررہ وقت سے 16 سال کی تاخیر کے بعد جاری کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس عرصے کے دوران صحافیوں کی اجرتیں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے اخراجات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھ سکیں۔
2000 سے 2019 کے درمیان سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تقریباً 511 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ زیادہ تر صحافیوں کی تنخواہوں میں اس تناسب سے اضافہ نہیں کیا گیا۔
یہی بنیادی وجہ ہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) اور راولپنڈی-اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) نویں ویج ایوارڈ کی فوری تشکیل اور بروقت نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی صورتوں میں صحافیوں کی موجودہ اجرت حکومت کی جانب سے عام مزدوروں کے لیے مقرر کردہ کم از کم اجرت سے بھی کم ہے، خصوصاً علاقائی اور چھوٹے میڈیا اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں کی صورتحال زیادہ تشویشناک ہے۔

Address

Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 10:00 - 17:00
Tuesday 10:00 - 17:00
Wednesday 10:00 - 17:00
Thursday 10:00 - 17:00
Friday 10:00 - 17:00

Telephone

+92512362924

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Freedom Network - FNPK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Freedom Network - FNPK:

Shortcuts

Share