24/08/2026
گلگت بلتستان سٹوڈنٹس کونسل کا سرحد یونیورسٹی کے طلبہ پر مبینہ تشدد کے واقعے کی مذمت
آج سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ اپنے جائز مطالبات اور حقوق کے حصول کے لیے ایک پُرامن احتجاج ریکارڈ کرا رہے تھے۔ پُرامن احتجاج اور اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنا آئینِ پاکستان اور قانون کے دائرے میں ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جس کا احترام ریاستی اداروں، انتظامیہ اور تمام متعلقہ فریقین کی ذمہ داری ہے۔
انتہائی افسوس اور تشویش کے ساتھ یہ بات سامنے آئی ہے کہ احتجاج کے دوران ایک ٹیچر کے شوہر، جو مبینہ طور پر ایک سرکاری ادارے کے افسر اور باوردی اہلکار ہیں، نے پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کرتے ہوئے لاٹھی کا استعمال کیا۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں طلبہ کے ساتھ مبینہ تشدد کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔
مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ واقعہ مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی موجودگی میں پیش آیا، جبکہ معاملہ مبینہ طور پر فائرنگ اور مزید کشیدگی تک پہنچ گیا۔ اگر ویڈیو میں نظر آنے والے واقعات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ نہ صرف طلبہ کے بنیادی حقوق بلکہ قانون کی بالادستی اور پُرامن احتجاج کے اصولوں کے حوالے سے بھی ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔
گلگت بلتستان سٹوڈنٹس کونسل وفاقی اردو یونیورسٹی، اسلام آباد، طلبہ پر کسی بھی قسم کے تشدد، دھمکی، ہراسانی یا طاقت کے غیرضروری استعمال کی شدید مذمت کرتی ہے۔ طلبہ معاشرے کا اہم طبقہ ہیں اور ان کے جائز مسائل اور مطالبات کو طاقت کے بجائے مکالمے، قانون اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں، متعلقہ انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مذکورہ واقعے کا فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ نوٹس لیتے ہوئے مکمل انکوائری کرائی جائے۔ واقعے میں ملوث افراد کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور اگر کسی افسر یا اہلکار کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی یا طلبہ پر غیرقانونی تشدد ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ مستقبل میں طلبہ کے پُرامن احتجاج کو طاقت کے استعمال، دھمکی یا کسی بھی قسم کے دباؤ کے ذریعے روکنے کے بجائے ان کے مطالبات سنے جائیں اور انہیں قانون کے مطابق پُرامن طریقے سے اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل حق دیا جائے۔
گلگت بلتستان سٹوڈنٹس کونسل وفاقی اردو یونیورسٹی، اسلام آباد، طلبہ کے بنیادی حقوق، آزادیٔ اظہار، پُرامن احتجاج اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام اس حساس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں گے تاکہ آئندہ کسی بھی طالب علم یا شہری کے ساتھ اس نوعیت کا واقعہ پیش نہ آئے۔
ترجمان
گلگت بلتستان سٹوڈنٹس کونسل
وفاقی اردو یونیورسٹی، اسلام آباد