26/08/2026
پمز سانحہ: 14 نومولود بچے زندہ جل کر جاں بحق — سول سوسائٹی کا احتساب کا مطالبہ
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کا زندہ جل کر جاں بحق ہونا ایک انتہائی دلخراش اور ناقابلِ قبول سانحہ ہے۔ سول سوسائٹی پاکستان متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔
یہ واقعہ ہسپتال کے فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس، انخلا کے نظام اور عملے کی تربیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ سول سوسائٹی مطالبہ کرتی ہے کہ اس سانحے کی آزادانہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات فوری طور پر کی جائیں اور ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
14 نومولود بچوں کو بروقت محفوظ کیوں نہیں کیا جا سکا؟ کیا فائر الارم، آگ بجھانے کے آلات اور ہنگامی انخلا کا مؤثر نظام موجود تھا؟ کیا طبی و پیرا میڈیکل عملہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب تربیت یافتہ تھا؟
سول سوسائٹی پاکستان وزیرِ اعظم پاکستان، وفاقی وزیرِ صحت اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی ہے۔ محض تحقیقات کا اعلان کافی نہیں؛ اعلیٰ سطح پر ذمہ داری اور مؤثر احتساب ناگزیر ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں کا فوری فائر اور سیفٹی آڈٹ کرایا جائے اور تمام طبی عملے کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی لازمی تربیت فراہم کی جائے۔
بچوں کی جانوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ 14 معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع خاموشی سے قبول نہیں کیا جا سکتا۔