13/02/2026
نام سارنگ خون گکھڑ پہچان وفا اے میری
جے لوا سکیں تے آکہ لوا لے کھل میری
یوم سلطان سارنگ خان سے تنصیب مجسمہ سارنگ خان تک
سلطان سارنگ خان وفا کا استعارہ جسکی دلیری کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔۔ جسکی وفا کی آج بھی مثالیں دی جاتی ہیں ایک پوستین کے بدلے زندہ کھال کھینچوالی مگر اپنی وفا پر حرف نا آنے دیا۔جاوید چودھری نے کیا خوب لکھا کس کے ناشتے پر کتنے انڈے کتنے جیم تھے تاریخ یاد نہیں رکھتی تاریخ ٹکرانے والوں کی لکھی جاتی ہے۔۔اعتزاز احسن صاحب نے لکھا تھا پنجاب کی تاریخ کے دو ہیرو ہیں دلا بھٹی اور سلطان سارنگ خان۔۔ سلطان سارنگ اسی دھرتی کا فرزند تھا جہاں اس سے صدیاں پہلے راجہ پورس نے الیگزینڈر یونانی سے اکیلے ٹکرا کر ایک تاریخ رقم کی تھی جب راجہ امبھی و راجہ ابھیسار نے اسکا ساتھ نا دیا تھا۔۔ راجہ امبھی نے تو الیگزینڈر سے الحاق بھی کرلیا تھا۔۔ تاہم جس دلیری سے پورس اس سے ٹکرایا تاریخ آج بھی اسے سلام کرتی ہے۔۔ تاہم حق تو یہ تھا کہ ان جرامند کرداروں کی یادگار بنائی جاتی برعکس اسکے مقدونیا کے الیگزینڈر کی یادگار بنائی گئی۔۔ مارگلہ پر روڈ کا نام اسکے نام پر رکھا گیا۔۔ پورس کا ذکر ہاتھیوں تک رہ گیا سارنگ کی تاریخ کو دبا دیا گیا۔۔ حد تو یہ تھی کہ شیر شاہ سوری کا مجسمہ دینہ کے ایک چوک میں آویزاں کردیا گیا۔۔ اہل عشق کی بے چینی تو لازم تھی۔۔ انکی تشویش بڑھتی جارہی تھی۔۔ بلا آخر جسکا ادراک کرتے ہوئے سدباب کیا گیا۔۔ سلطان سارنگ خان تاریخ میں ایک امر نام ہے انکا تصوراتی
مجسمہ آویزاں کرنا ایک خوش آئیند اقدام ہے۔
فرحان کیانی فروری 13، 2026