Muslim Heros

Muslim Heros سب سے پہلے پاکستان
پاکستان زندہ باد 💚🇵🇰❤️

سلطان ایوبی! تم کہاں ہو؟آج 2 اکتوبر ہے۔ ایک عظیم دن۔ جب 1187ء میں آج ہی کے روز سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو ...
04/10/2026

سلطان ایوبی! تم کہاں ہو؟

آج 2 اکتوبر ہے۔ ایک عظیم دن۔ جب 1187ء میں آج ہی کے روز سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو 88 سالہ صلیبی قبضے سے آزاد کرایا تھا۔ عالم اسلام میں جشن کا دن۔
اس فتح سے صرف تین ماہ قبل 4 جولائی 1187ء کو حطین کا فیصلہ کن معرکہ ہوا۔ صلیبی لشکر شکست سے دوچار ہوا اور اس کے بعد فلسطین کے کئی اہم شہر ایک ایک کرکے مسلمانوں کے ہاتھ آتے گئے۔
پھر سلطان صلاح الدینؒ نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا۔ چند روز کی مزاحمت کے بعد شہر کے محافظوں کو اندازہ ہوگیا کہ مزید مقابلہ ممکن نہیں۔ بالآخر 2 اکتوبر 1187ء کو بیت المقدس نے ہتھیار ڈال دیئے۔
یہ وہی مقدس شہر ہے، جس پر 1099ء میں صلیبیوں نے قبضہ کرکے مسلمانوں اور یہودیوں کا قتل عام کیا تھا۔ تقریباً 88 برس بعد سلطان ایوبیؒ نے اسی شہر کو دوبارہ مسلمانوں کے حوالے کردیا۔
سلطان کی عظمت صرف فتح میں نہیں تھی۔ بلکہ فتح کے بعد انہوں نے عام مسیحی آبادی کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جو 1099ء کے فاتحین نے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا۔ بہت سے باشندوں کو فدیہ دے کر شہر سے نکلنے کی اجازت دی گئی۔
آج 2 اکتوبر ہے… مگر بیت المقدس پھر دجالی شکنجے میں ہے۔ 1967ء میں بیت المقدس دجالی قبضے میں چلا گیا۔ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پولیس کی نگرانی میں یہودیوں کے داخلے جاری ہیں اور حالیہ برسوں میں وہاں یہودی عبادت کے حوالے سے پرانا انتظامی طریقہ بھی بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ جولائی میں ہزاروں یہودی وہاں پہنچے، کھلے عام عبادت کی، جبکہ اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر اب وہاں کھڑے ہوکر اعلان کرتا ہے کہ یہ جگہ ہماری ملکیت ہے۔
دجالی گروہ قبلہ اول کی جگہ تیسرا ہیکل تعمیر کرنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔ رواں برس میں مسجد اقصیٰ کے مقام پر قربانی کی مذہبی رسم ادا کرنے کی کوشش کرنے والے افراد کی گرفتاریاں بھی ہوئیں۔
حرم قدسی، اقصیٰ و قبلہ اول اب پھر پکار رہا ہے …
سلطان ایوبی! تم کہاں ہو؟
وہ بیت المقدس جسے تم نے اتحاد، قربانی اور مسلسل جدوجہد کے بعد آزاد کرایا تھا، آج پھر آزمائش میں ہے۔
اے سلطان صلاح الدین ایوبی!
آج مجھے پھر تمہارا عزم چاہیے… تمہاری قیادت اور غیرتِ ایمانی چاہیے۔
اے سلطان! تم کہاں ہو؟

ضیاء الرحمن چترالج کی تحریر

#

جب عمران خان سے صدام حسین شہید رحمہ اللہ کے بارے سوال ہوا تو اس نے کہا وہ ڈرپوک تھا اس کا جواب سن لیں ایک امریکی جس نے ع...
26/09/2026

جب عمران خان سے صدام حسین شہید رحمہ اللہ کے بارے سوال ہوا تو اس نے کہا وہ ڈرپوک تھا اس کا جواب سن لیں ایک امریکی جس نے عراقی صدر صدام حسینؒ کی پھانسی دیکھی ۔۔۔

ترجمہ : ابو مصعب اﻻثري

ایک امریکی جس نے صدر صدام حسینؒ کی پھانسی کے عمل میں شرکت کی، کہتا ہے کہ وہ آج تک اس واقعہ پر غور و فکر میں ہے اور اکثر یہ پوچھتا ہے کہ اسلام موت کے بارے میں کیا کہتا ہے۔

اس نے کہا: صدام ایسا شخص ہے جو احترام کے لائق ہے۔

رات دو بجے (گرینچ کے مطابق) صدام حسین کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا۔
پھانسی کی نگرانی کرنے والے گروہ کا سربراہ اندر آیا اور امریکی پہریداروں کو ہٹنے کا حکم دیا، پھر صدام کو بتایا گیا کہ ایک گھنٹے بعد اسے پھانسی دی جائے گی۔

یہ شخص ذرا بھی گھبرایا نہیں تھا۔ اس نے مرغی کے گوشت کے ساتھ چاول منگوائے جو اس نے آدھی رات کو طلب کیے تھے، پھر شہد ملا گرم پانی کے کئی پیالے پئے، یہ وہ مشروب تھا جس کا وہ بچپن سے عادی تھا۔

کھانے کے بعد اسے بیت الخلاء جانے کی پیشکش کی گئی مگر اس نے انکار کر دیا۔

رات ڈھائی بجے صدام حسین نے وضو کیا، ہاتھ، منہ اور پاؤں دھوئے، اور اپنے لوہے کے بستر کے کنارے بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، یہ قرآن انہیں ان کی اہلیہ نے بطور تحفہ دیا تھا۔ اس دوران پھانسی دینے والی ٹیم پھانسی کے پھندے اور تختے کا جائزہ لے رہی تھی۔

پونے تین بجے مردہ خانہ کے دو افراد تابوت لے کر آئے اور اسے پھانسی کے تختے کے پاس رکھ دیا۔

دو بج کر پچاس منٹ پر صدام کو کمرۂ پھانسی میں لایا گیا۔ وہاں موجود گواہان میں جج، علماء، حکومتی نمائندے اور ایک ڈاکٹر شامل تھے۔

تین بج کر ایک منٹ پر پھانسی کا عمل شروع ہوا جسے دنیا نے کمرے کے کونے میں نصب ویڈیو کیمرے کے ذریعے دیکھا۔ اس سے قبل ایک سرکاری اہلکار نے پھانسی کا حکم پڑھ کر سنایا۔

صدام حسین تختے پر بلا خوف کھڑے رہے جب کہ جلاد خوفزدہ تھے، کچھ کانپ رہے تھے اور بعض نے اپنے چہرے نقاب سے چھپا رکھے تھے جیسے مافیا یا سرخ بریگیڈ کے افراد ہوں۔ وہ لرزاں اور سہمے ہوئے تھے۔

امریکی فوجی کہتا ہے:
"میرا جی چاہا کہ میں بھاگ جاؤں جب میں نے صدام کو مسکراتے دیکھا، جب کہ وہ آخری الفاظ میں مسلمانوں کا شعار پڑھ رہے تھے: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔

میں نے سوچا کہ شاید کمرہ بارودی مواد سے بھرا ہوا ہے اور ہم کسی جال میں پھنس گئے ہیں۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں لگتا کہ کوئی شخص اپنی پھانسی سے چند لمحے پہلے مسکرا دے۔

اگر عراقی یہ منظر ریکارڈ نہ کرتے تو میرے امریکی ساتھی سمجھتے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں، کیونکہ یہ ناقابلِ یقین تھا۔

لیکن راز یہ ہے کہ اس نے کلمہ پڑھا اور مسکرایا۔
میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ واقعی مسکرایا، جیسے اس نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہو جو اچانک اس کے سامنے ظاہر ہو گئی ہو۔ پھر اس نے مضبوط لہجے میں کلمہ دوبارہ کہا جیسے کوئی غیبی طاقت اسے کہلا رہی ہو۔"

💢 صدام حسین کے بارے میں چند حقائق

1- وہ پہلا حکمران تھا جس نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل برسائے۔

2- اس نے یہودیوں کو خوف زدہ کر دیا کہ وہ بلیوں کی طرح بنکروں میں چھپ گئے۔

3- وہ جنگوں میں بھی عرب قومیت کے نعرے لگاتا تھا۔

4- اس نے جج سے کہا: "یاد ہے جب میں نے تمہیں معاف کیا تھا حالانکہ تمہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی!" جج گھبرا گیا اور استعفیٰ دے دیا، پھر رؤوف کو لایا گیا۔

5- اس نے کہا: "اے علوج! ہم نے موت کو اسکولوں میں پڑھا ہے، کیا اب بڑھاپے میں اس سے ڈریں گے؟"

6- اس نے شام و لبنان کو کہا: "مجھے ایک ہفتہ اپنی سرحدیں دے دو، میں فلسطین آزاد کرا دوں گا۔"

❣️ آخری لمحے

پھانسی سے قبل امریکی افسر نے صدام سے پوچھا:
"تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟"

صدام نے کہا:
"میری وہ کوٹ لا دو جو میں پہنتا تھا۔"

افسر نے کہا: "یہی چاہتے ہو؟ مگر کیوں؟"

صدام نے جواب دیا:
"عراق میں صبح کے وقت سردی ہوتی ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرا جسم کانپے اور میری قوم یہ سمجھے کہ ان کا قائد موت سے خوفزدہ ہے۔"

پھانسی سے قبل اس کے لبوں پر آخری کلمات کلمہ شہادت تھے۔

اور اس نے عرب حکمرانوں سے کہا تھا:

"مجھے امریکہ پھانسی دے گا، مگر تمہیں تمہاری اپنی قوم پھانسی دے گی۔"

یہ کوئی معمولی جملہ نہ تھا بلکہ آج ایک حقیقت ہے۔

🌹 اللہ اس بہادر پر رحم فرمائے۔ 🌹

📌 اگر آپ نے یہ پڑھ لیا ہے تو حضور ﷺ پر درود بھیجیں


آج ڈی آی خان بلاست میں شہید ہونے والا ننھا بچہ، جو ایک افغان کیمپ میں رہائش پذیر افغانی کے خودکش دھماکے نے کیا.معزرت کے ...
26/09/2026

آج ڈی آی خان بلاست میں شہید ہونے والا ننھا بچہ، جو ایک افغان کیمپ میں رہائش پذیر افغانی کے خودکش دھماکے نے کیا.

معزرت کے ساتھ، لیکن سچائی یہی ہے کہ افغانستان کے ساتھ بلکل ہر قسم کا لین دین ختم کرنا ایک مستحکم پاکستان کے لیے مؤثر ہوگا،

انکو پاکستان سے باعزت نکال لیا جائے اور دوبارہ انکا آنا جانا بلکل بند ہونا چاہیے،

اللہ شہدا کے ورثاء کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین،

26/09/2026

اِنّا لِلّٰهِ وَإِنّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 💔🇵🇰

وسیم اللہ ولد حضرت شاہ، آج شہید ہو گۓ 💔

وسیم اللہ کے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، جو آج اپنے والد کی شفقت سے محروم ہو کر یتیم ہو گئے۔ وہ انتہائی شریف اور اچھے انسان تھے۔

یقیناً ان کے والد کے لیے بھی آج کا دن انتہائی صدمے کا دن ہے، کیونکہ کچھ عرصہ پہلے ان کے تین جوان بیٹے بھی وفات پا چکے ہیں💔

آج سکنا لاچی مندوری بڈا خیل خاندان ایک بار پھر غم میں ڈوب گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ شہید وسیم اللہ کی شہادت قبول فرمائے اور ان کے بچوں، والد اور تمام اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے۔
fans

26/09/2026

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ"

حوالدار پرویز عباس شہید کی چھٹی برسی 💔🇵🇰

ریاست آباد واہ کینٹ کے سپوت اور مادرِ وطن کے بہادر محافظ حوالدار پرویز عباس شہید کی چھٹی برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

حوالدار پرویز عباس شہید نے وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ ان کی قربانی صرف ان کے اہلِ خانہ کے لیے نہیں بلکہ واہ کینٹ اور پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔

شہداء وہ عظیم لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آج کو قربان کرکے قوم کے آنے والے کل کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان کی قربانیاں ہمارے قومی حافظے کا حصہ ہیں اور ان کا ذکر ہمیشہ احترام اور فخر کے ساتھ کیا جائے گا۔

چھٹی برسی کے موقع پر حوالدار پرویز عباس شہید اور وطنِ عزیز کے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

شہداء ہمارا فخر، ان کی قربانیاں ہمارا سرمایہ ہیں۔

fans

26/09/2026

مملکت خداداد پاکستان کے دلیر جوانوں ،اللہ آپکا حامی و ناصر ہو ہمیشہ
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
پاک فوج زندہ باد 🇵🇰♥️🇵🇰

26/09/2026
25/09/2026

کیپٹن ابو زر شہید کی قبر کا دیدار

بہت باکردار اور سلجھی ہوئی فیملی سے تعلق تھا۔۔۔اللہ اس مجاہد شہید کی قبر پر رحمتیں نازل فرمائے اس پاک سرزمین کو اپنی حفاظت میں رکھے دشمنوں کو رسوا کرے اور ہم سے وہ کام لے جس سے اپنے مومن بندوں سے کیا ہوا وعدہ پورا فرمائے آمین یا رب العالمین

🇵🇰

25/09/2026

ناظرین!

ہمارے دلیر جوان گلستان سیکٹر میں نمک حرام افغان طالبان کے زیر سایہ پلنے والے فتنہ الخوارج کی مٹی پلید کرنے میں مصروف ہیں۔

تم ایک کوہاٹ جیسا سانحہ کرو گے تو پاک فوج جواب میں تمھاری نسلوں کو رلائے گی، اب وہ دن گئے جب پاکستانی شہید کرکے تم "مذاکرات" کرتے تھے


24/09/2026

❤️کیپٹن ابوزر کا جسدِ خاکی آبائی شہر گوجرانوالہ پہنچا تو مقامی افراد جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔

لوگوں نے “نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر” اور “پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔

پاکستان کے بہادر سپوت کو انتہائی جذباتی انداز میں الوداع کیا گیا۔

🇵🇰

Send a message to learn more

Address

Islamabad
45655

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muslim Heros posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share