04/10/2026
سلطان ایوبی! تم کہاں ہو؟
آج 2 اکتوبر ہے۔ ایک عظیم دن۔ جب 1187ء میں آج ہی کے روز سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو 88 سالہ صلیبی قبضے سے آزاد کرایا تھا۔ عالم اسلام میں جشن کا دن۔
اس فتح سے صرف تین ماہ قبل 4 جولائی 1187ء کو حطین کا فیصلہ کن معرکہ ہوا۔ صلیبی لشکر شکست سے دوچار ہوا اور اس کے بعد فلسطین کے کئی اہم شہر ایک ایک کرکے مسلمانوں کے ہاتھ آتے گئے۔
پھر سلطان صلاح الدینؒ نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا۔ چند روز کی مزاحمت کے بعد شہر کے محافظوں کو اندازہ ہوگیا کہ مزید مقابلہ ممکن نہیں۔ بالآخر 2 اکتوبر 1187ء کو بیت المقدس نے ہتھیار ڈال دیئے۔
یہ وہی مقدس شہر ہے، جس پر 1099ء میں صلیبیوں نے قبضہ کرکے مسلمانوں اور یہودیوں کا قتل عام کیا تھا۔ تقریباً 88 برس بعد سلطان ایوبیؒ نے اسی شہر کو دوبارہ مسلمانوں کے حوالے کردیا۔
سلطان کی عظمت صرف فتح میں نہیں تھی۔ بلکہ فتح کے بعد انہوں نے عام مسیحی آبادی کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جو 1099ء کے فاتحین نے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا۔ بہت سے باشندوں کو فدیہ دے کر شہر سے نکلنے کی اجازت دی گئی۔
آج 2 اکتوبر ہے… مگر بیت المقدس پھر دجالی شکنجے میں ہے۔ 1967ء میں بیت المقدس دجالی قبضے میں چلا گیا۔ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پولیس کی نگرانی میں یہودیوں کے داخلے جاری ہیں اور حالیہ برسوں میں وہاں یہودی عبادت کے حوالے سے پرانا انتظامی طریقہ بھی بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ جولائی میں ہزاروں یہودی وہاں پہنچے، کھلے عام عبادت کی، جبکہ اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر اب وہاں کھڑے ہوکر اعلان کرتا ہے کہ یہ جگہ ہماری ملکیت ہے۔
دجالی گروہ قبلہ اول کی جگہ تیسرا ہیکل تعمیر کرنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔ رواں برس میں مسجد اقصیٰ کے مقام پر قربانی کی مذہبی رسم ادا کرنے کی کوشش کرنے والے افراد کی گرفتاریاں بھی ہوئیں۔
حرم قدسی، اقصیٰ و قبلہ اول اب پھر پکار رہا ہے …
سلطان ایوبی! تم کہاں ہو؟
وہ بیت المقدس جسے تم نے اتحاد، قربانی اور مسلسل جدوجہد کے بعد آزاد کرایا تھا، آج پھر آزمائش میں ہے۔
اے سلطان صلاح الدین ایوبی!
آج مجھے پھر تمہارا عزم چاہیے… تمہاری قیادت اور غیرتِ ایمانی چاہیے۔
اے سلطان! تم کہاں ہو؟
ضیاء الرحمن چترالج کی تحریر
#