Muslim Youth Forum

Muslim Youth Forum سب سے پہلے پاکستان
پاکستان زندہ باد 💚🇵🇰❤️

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے…شہید کے آنگن میں آج پھر ایک لاش خون میں نہائی ہوئی رکھی ہے۔ شیخ حسن جان شہیدؒ کے دا...
05/05/2026

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے…
شہید کے آنگن میں آج پھر ایک لاش خون میں نہائی ہوئی رکھی ہے۔ شیخ حسن جان شہیدؒ کے داماد بھی شہید کر دیئے گئے۔ شیخ ادریس بھی اپنے اسلاف کے قافلۂ شہدا میں شامل۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
چارسدہ بلکہ پورے صوبے کی فضا سوگوار ہے۔ زبانیں گنگ۔ لب خاموش اور دل یقین کرنے سے قاصر کہ یہ سانحۂ جاں گداز حقیقت بن چکا ہے کہ سفید داڑھی پر سرخی، رنگِ حنا نہیں، لہو سے وضو ہے۔ یہ اک عہد کی جدائی ہے۔ اک زمانے کا نوحہ۔ اک ایسی ہستی کی رخصتی جس کی زندگی علم و عمل، صبر و حلم، درس و تدریس اور وعظ و بیان کی روشن مثال تھی۔
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس۔ یہ صرف ایک نام نہیں تھا، بلکہ ایک زندہ روایت، ایک متحرک مکتبِ فکر اور ہزاروں دلوں کی دھڑکن تھا۔ ملعون قاتل کی سفاک گولی نے پورے خطے کو اندھیرے میں دھکیل دیا۔ علم و دانش کی ایک روشن قندیل گل ہو گئی۔ وہ جنہوں نے عمر بھر حدیثِ نبویؐ کے نور سے دلوں کو منور کیا، آج اسی ظلمت کدے میں خود چراغِ راہ بن کر بجھ گئے۔
ان کے لہجے میں نہ شدت تھی، نہ نفرت، نہ تعصب، نہ فرقہ واریت، بلکہ نرمی، حکمت اور دل نشینی کا وہ سوز تھا جو دلوں کو جیت لیتا تھا۔ ہر ایک دل و جان سے ان کا احترام کرتا تھا۔
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
وہ صرف ایک مدرس نہ تھے، بلکہ مصلح بھی تھے، صرف عالم نہیں، بلکہ عوام کے دلوں میں بسنے والے ایک درد مند واعظ و مربی بھی تھے۔
چند روز قبل انہوں نے قومی مفاد اور امن کی تمنا میں چند جملے کیا کہے کہ جہالت کے سوداگروں نے نفرت کا طوفان برپا کر دیا۔ سوشل میڈیا کی بے مہار دنیا نے کردار کشی، گالم گلوچ اور تضحیک کے ایسے تیر برسائے کہ انسانیت بھی شرمسار ہو جائے۔ مگر انہوں نے جواب میں خاموشی اختیار کی اور آج وہی خاموشی ان کی شہادت کی گواہی بن گئی۔ یہ خاموشی محض سکوت نہ تھی، بلکہ ایک باوقار احتجاج تھا، ایک اعلان کہ اہلِ حق تنہا تو ہو سکتے ہیں، مگر سرنگوں نہیں ہوتے۔ خاموش تو رہ سکتے ہیں، مگر شائستگی کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتے۔
شیخ صاحب کا یہ مظلومانہ قتل ہمارے معاشرے کی بیمار روح کا آئینہ دار ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں اختلافِ رائے برداشت کرنے کا حوصلہ دم توڑ چکا ہے، جہاں دلیل کی جگہ گولی نے لے لی ہے اور جہاں نہ عالم محفوظ ہے نہ عامی۔ سوال یہ نہیں کہ قاتل کون ہے، سوال یہ ہے کہ وہ فکر کون سی ہے جو اختلاف کو دشمنی اور دشمنی کو قتل تک لے جاتی ہے؟
وہ ایک ایسے خانوادے کے چشم و چراغ تھے جس کی بنیادیں علم میں پیوست تھیں۔ ان کے اسلاف علم و دین کے مینار تھے۔ دادا علامہ جمال الدین افغانی کے استاذ۔ انہوں نے بھی اس روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے نئی وسعتوں سے ہمکنار کیا۔ ہزاروں طلبہ ان کے حلقۂ درس سے فیض یاب ہوئے، لاکھوں لوگوں نے ان کے مواعظ سے رہنمائی پائی۔ وہ صرف کتابوں کے عالم نہیں تھے، بلکہ دلوں کے طبیب تھے۔ ان کا خلا محض ایک کمی نہیں، ایک ایسا زخم ہے جو مدتوں نہیں بھرے گا۔
جگرؔ کے الفاظ آج حقیقت کا نوحہ بن کر گونج رہے ہیں:
جان کر من جملۂ خاصانِ مے خانہ مجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
اللہ تعالیٰ اس شہیدِ علم کو قربِ خاص کے اعلیٰ مراتب عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل نصیب کرے اور اس خونِ ناحق کا حساب لینے والا خود بنے۔ آمین۔

ضیاء چترالی کے وال سے

23/04/2026

سیز فائر کے باوجود اسرائیل کی درندگی جاری.
معصوم بچوں کے گروپ پر براہ راست ڈرون اٹیک سے پانچ شہید اور کئ زخمی ہوئے، شہدا میں تین بچے بھی شامل ہے،

ابھی تک سیز فائر کے بعد تقریباً 780. لوگ شہید ہو چکے ہے اسرائیلی بربریت کی وجہ سے.

̇de

23/04/2026
17/04/2026

یروشلم پوسٹ میں شائع ہونے والے کالم میں میکائل یان کیلووٹز لکھتے ہیں :

"امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ سے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو معاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آخر وہ سابق پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کے معاملے پر ، جو اس وقت قید میں ہیں، خاموش کیوں ہیں؟

وہ لکھتے ہیں کہ" عمران خان کوئی عام آدمی نہیں ہیں" - - - - - - - - - - - - - - - - - - -
مصنف جیوش ایجنسی فار اسرائیل کے انٹرنیشنل میڈیا کے سابق ترجمان ہیں

کالم کا لنک کامنٹ میں موجود ہے

05/04/2026

کیا آپ اس بچی کو جانتے ہیں۔۔؟؟

سال 2022 کی بات ہے عید قرباں کے ایام میں کراچی کے علاقے گلشن معمار میں سڑک پر یہ بچی روتی ہوئی ملی تھی۔ ایک تھیلی ہاتھ میں تھی جسمیں کچھ کیلے اور سیب تھے۔ بچی کے کپڑے میلے تھے ل، بہت ڈری سہمی اور حالت زار میں تھی۔ راہ چلتے ایک نیک دل انسان نے بچی کو اپنی تحویل میں لیا،بچی نے اس وقت اپنا نام دعا بتایا تھا۔ والدین کے نام یا مزید کسی کا نام یا معلومات بتانے سے قاصر تھی۔ دعا کی عمر شاید تین سے ساڑھے تین سال تک تھی۔اردو زبان میں بات کرتی تھی۔ زیر نظر تصویر انہی دنوں کی ہے جب ملی تھی۔
ان صاحب کے بقول انہوں نے متعلقہ تھانے جاکر بچی کی اطلاع دی اور اپنا نمبر لکھوایا کہ کوئی بھی تلاش کرنے آئے تو ہم سے رابطہ کریں ہم تصدیق کے بعد ورثاء کے حوالے کریں گے۔
بچی نے اس وقت کہا تھا کہ "مجھے میرے پاپا یہاں چھوڑ کر گئے ہیں"۔ اصل حقیقت اللہ بہتر جانتا ہے کہ بچی کہاں کی ہے اور کون یہاں چھوڑ کر گیا۔
اس وقت بچی محفوظ ہاتھوں میں ہے اور ایک شریف فیملی کی اچھی پرورش میں ہے، انہوں نے بہت کوشش کی ورثاء کا کوئی سراغ نا ملا۔
کراچی بھر کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ دعا کو انکی ماں سے ملوانے کے لئے ہماری مدد کریں۔ آپ کا ایک شئیر کسی ماں کو اسکا لخت جگر دلوا سکتا ہے۔ اور بچی کو ماں جیسی جنت مل سکتی ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829

4 April 2026

05/04/2026

In Houston, 18-year-old Imad Siddiqui, nephew of Aa_fia Siddiqui, was sh_t d_ad during a carjacking incident, leaving the Pakistani community in deep shock. The incident reportedly took place in Alton, where susp_ects opened f_re before fleeing the scene.

According to police, the attackers escaped in a Chrysler vehicle, while CCTV footage has helped identify the suspects.

Disclaimer: This post is for informational purposes only and based on publicly available reports. The image is AI generated and is just for reference.

03/04/2026

ہمیں ملک کے اندرونی پالیسیوں کو ٹھیک کرنے کے لیے بھی ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر چاہیے، جو بے لگام سیاسی اور آفیسرز کی عیاشیوں کو لگام ڈالے. عام عوام تو ہے ہی نالائق، لیکن کیا یہ سیاسی لوگ، بیوروکریسی، ٹیکنوکریسی، باقی سرکاری آفیشلز جنت سے آے ہے،جو عوام کے خون پسینے سے کمائے گئے پیسوں پر عیاشی کرتے رہے گے،

ایسی عیاشیاں ختم کرنے کے لیے کوئی بھی سیاسی "لیڈر" آگے نہیں آے گا،کیونکہ دودھ کے دھلے کوئی نہیں.

03/04/2026

اس لڑکے کا نام راشد ہے والد کا نام اللہ رکھا اور والدہ کا نام مینا ہے۔ بھائی کے نام کاشف اور علی رضا یاد ہیں۔ بڑے بھائی اور بہن کا نام یاد نہیں ہے۔
ان کا تعلق پنجاب کے شہر صادق آباد (زیادہ امکان
ہیں) یا رحیم یارخان بھی ہوسکتا ہے۔
راشد کا کہنا ہے کہ وہ پانچ یا چھ سال کی عمر میں اپنے علاقے سے قریب ریلوے اسٹیشن جہاں بس اڈہ بھی ہوا کرتا تھا سانپ اور نیولے کی لڑائی دیکھنے گیا تھا۔ رش کی وجہ سے دیکھ نہیں پارہا تھا تو قریب میں کھڑے بس پر چڑھ کر دیکھنے لگا،کچھ دیر بعد بس روانہ ہوئی تو ایک شخص غفار جٹ نے مجھے اپنے گھر کے پاس اترنے نہیں دیا۔ کہیں لیجاکر وہاں سے ریل میں بیٹھا کر سندھ کے شہر دوڑ لایا۔
یہاں اس نے مجھے اپنا بیٹا بنایا کچھ عرصہ بعد میں وہاں سے بھاگ گیا،خود سے بہت کوشش کی لیکن مجھے میرا گھر نہیں ملا۔ پہلے تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ مجھے کہاں سے لایا گیا تھا لیکن پھر سال 2017 میں غفار کے ایک رشتےدار سے میری ملاقات ہوئی تھی اس سے گزارش کی کہ غفار سے معلوم کرے مجھے کہاں سے لایا گیا ہے۔ تو غفار نے اس وقت صادق آباد بتایا تھا۔
گزشتہ روز ہم نے بات کی تو غفار نے رحیم یارخان بتایا۔
راشد کو ایک چھوٹی نہر یاد ہے جو گاؤں کے اندر جارہی تھی۔
نہر کے اوپر ٹرین کی پٹڑی گزر رہی تھی۔
پنجاب بھر کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا راشد کے ورثاء ڈھونڈنے میں مدد کریں۔یہ نوجوان لاوارث زندگی بسر کررہا ہے۔بہت پریشان اور مجبور ہے۔
ایک طرف بچپن کی تصویر ہے اور دوسری طرف حالیہ ہے۔
آپکا ایک شئیر راشد کو اسکے خاندان سے ملوا سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829

3 April 2026

21/03/2026

Thank you DG ISPR for wholeheartedly loving the Nation 🇵🇰♥️🇵🇰

Address

Islamabad
45655

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muslim Youth Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share