Janasheen E Pakistan Foundation

Janasheen E Pakistan Foundation Patriotic Organization Work For National Interest & All Forces Of PAKISTAN,

Armed Force, Defance & All Intelligence Agencies Of PAKISTAN

07/05/2025

بھارت چندی گڑھ، دہلی اور ممبئی میں اس وقت ایک خوف کا ماحول ہے مسلسل سائرن بج رہے ہیں، لائٹیں بند کرکے مکمل بلیک آؤٹ کیا جارہا ہے

07/05/2025

پاکستان نے بھارت کے 5 طیارے مار گرائے، جن میں 3 جدید رافیل لڑاکا طیارے، 1 مگ 29 اور ایک ڈرون بھی شامل ہے، ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس۔

07/05/2025
پاکستان نے دشمن کے آپریشن "سندور" کے جواب میں آپریشن "سہاگ رات" شروع کر دیا اب سندور ہی بھرا جائے گا 😉 ⚔️⚔️🇵🇰🇵🇰پاکستان پ...
07/05/2025

پاکستان نے دشمن کے آپریشن "سندور" کے جواب میں آپریشن "سہاگ رات" شروع کر دیا
اب سندور ہی بھرا جائے گا 😉
⚔️⚔️🇵🇰🇵🇰
پاکستان پائندہ باد
افواج پاکستان ذندہ باد

07/05/2025

ہندوستان نے اس آپریشن کا نام سندور رکھا تھا
لیکن اب اسے اپنا سہاگ بچانا مشکل پڑ رہا ہے ⚔️⚔️🇵🇰🇵🇰

ہائی الرٹ ، بھارت کی طرف سے سائبر اٹیک بھی کر دیا گیا ، مختلف گروپس اور سوشل میڈیا پر “لنکس” کی بھر مار ، شہری کوئی بھی ...
07/05/2025

ہائی الرٹ ،

بھارت کی طرف سے سائبر اٹیک بھی کر دیا گیا ، مختلف گروپس اور سوشل میڈیا پر “لنکس” کی بھر مار ، شہری کوئی بھی نا معلوم لنک نا کھولیں

24/05/2023

میں اپنے بابا سے سب کہوں گی
غموں کے منظر بیاں کروں گی 😢

پاکستان زندہ باد
افواج پاکستان زندہ باد

06/05/2023

تحریر چیٸرمین جانَشینِ پاکستان فاٸونڈیشن (گمنام مارخور) کراچی کے امن و امان کی صورتِ حال اور کراچی پولیس کی بہترین اور نمایاں کاکردگی کو کچھ ملک دشمن عناصر اور جراٸم پیشہ افراد سوشل میڈیا کا سہارا لیکر تنقیدیں اور ایک پروپوگینڈا کے تحت عوام کو گمراہ کررہے ہیں اور اس پروپوگینڈے میں سالوں پرانی ویڈیوز تصاویریں اور پوسٹ مختلف واٹس ایپ گروپس فیسبک اور ٹیوٹر پر دوبارہ اپلوڈ کی جارہی ہے جس پر پہلے ہی ایکشن لیا جاچکا ہے, جبکہ گزشتہ عرصے کے دوران کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کی نمایاں ضلعی افسران کے لیٸے دیٸے گۓ احکامات بھی واضح قرار پاٸے, اور انہی سینٸر افسران کی کاوشوں کو ہمیں سراہنا چاہیٸے, اسٹریٹ کراٸم کا خاتمہ کراچی پولیس کے لیٸے ضرور ایک بڑا چیلنج ہے, کراچی پولیس نے اس چیلنج پر اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف بھرپور آپریشن بھی جاری رکھا ہوا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر گرفتاریاں بھی کی جارہی ہیں, موجودہ صورتِ حال اور کم وساٸل میں بھی کراچی پولیس بخوبی اپنے فراٸض نبھارہی ہے, گزشتہ کچھ ماہ کے دوران کراچی کے امن و امان کی ایک جیتی جاگتی مثال یہ بھی ہیکہ کراچی پولیس کے افسران و اہلکاروں نے اپنے فراٸض کو نبھاتے ہوٸے اسٹریٹ کریمنلز سے لڑتے ہوٸے قربانیاں دی اور جام شہادت نوش پایا, میں عوام سے اپیل کرتا ہوں ایسے ملک دشمن عناصر کو پہنچانیں اور سوشل میڈیا پر کچھ بھی شیٸر یا پوسٹ کرنے سے پہلے تصدیق کرلیں کہ البتہ آپ کسی سازش کا حصہ تو نہیں بن رہے, شکریہ ( س م)

آج ہمارے ان چینی مہمانوں نے کراچی یونیورسٹی بم دھماکے میں اپنی جانیں قربان کی 😓یہ اساتذہ اپنا ملک چھوڑ کر ہمارے بچوں کو ...
27/04/2022

آج ہمارے ان چینی مہمانوں نے کراچی یونیورسٹی بم دھماکے میں اپنی جانیں قربان کی 😓
یہ اساتذہ اپنا ملک چھوڑ کر ہمارے بچوں کو پڑھانے کے لئے آئے تھے ۔
‏پاکستان میں اب تک متعدد چینی باشندے بھارتی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں اور ابھی تک ان مہمانوں کی حفاظت بارے لاپرواہی خوفناک ہے ۔ ابھی تک یہ لوگ بم پروف گاڑیوں کی بجائے عام ویگنوں میں سفر کر رہے ہیں
"ہم آپ کی یہ قربانی کبھی بھولے گے نہیں۔۔۔۔
آپ یہ قربانی پاک چین دوستی کو مزید مضبوط کرے گی ان شاء اللّہ

السلام علیکم محترم جناب ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن صاحب کی خصوصی ہدایات پر کراچی کے تمام اضلاع کہ ڈی آ...
26/03/2022

السلام علیکم محترم جناب ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن صاحب کی خصوصی ہدایات پر کراچی کے تمام اضلاع کہ ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز، ایس پیز اور ایس ایچ اوز سمیت کراچی پولیس کی بھرپور انداز میں کرائم اور منشیات کی روک تھام کیلے خصوصی آپریشن اور کریک ڈاٶن جاری ہے، خصوصی طور پر قابل محترم جناب ایس ایس پی ضلع کورنگی جناب فیصل بشیر میمن صاحب اور کورنگی پولیس سمیت تمام ایس ایچ اوز کی جانب سے بہترین ایکشن میں روزانہ کی بنیاد پر جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروشوں و اسٹریٹ کریمینلز کیخلاف بھرپور کاروائیاں جاری ہیں، ایس ایس پی کورنگی فیصل بشیر میمن کی تعیتاتی کے بعد ضلع کورنگی نے سکون کا سانس لیا ہے، بڑھتے جراٸم اور بڑھتی وارداتوں پر قابو پانا صرف پروفیشنل آفیسرز ہی کرسکتے ہیں اور فیصل بشیر میمن ان پروفیشنل آفیسرز میں سے ایک ہیں جو خود فرنٹ لاٸن پر موجود ہوتے ہیں، جس پر ہم جانَشینِ پاکستان فاٶنڈیشن کیجانب سے ایس ایس پی ضلع کورنگی اور ان کے نظریہ اور بہترین کارکردگی پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔۔۔ اللّہ پاک آپ کا حامی و ناصر
۔۔۔۔۔
چیٸرمین و بانی جانَشینِ پاکستان فاٶنڈیشن

قراردادِ پاکستان اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی صدارتی تقریر لاہور میں 23 مارچ 1940ء کو منظور ہونے والی قرارداد نے مسلم...
23/03/2022

قراردادِ پاکستان اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی صدارتی تقریر

لاہور میں 23 مارچ 1940ء کو منظور ہونے والی قرارداد نے مسلمانانِ ہند کو جو حوصلہ دیا اور ان میں جو جوش و ولولہ پیدا کیا، اس نے منزل کی سمت کا تعین کر دیا تھا جس کے بعد 1946ء میں منعقدہ انتخابات نے منظر نامہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ اسی سال 9 اپریل کو دہلی کنونشن منعقد ہوا جسے لاہور کے اجلاس کا تسلسل بھی کہا جاتا ہے، اس نے قیامِ پاکستان کی راہ ہموار کر دی۔

قیامِ پاکستان کے بعد ہم ہر سال 23 تاریخ کو یومِ پاکستان کے طور پر مناتے ہیں۔ اسی موقع پر وہ قرارداد پیش کی گئی تھی جس میں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس قرارداد کی منظوری کے صرف سات سال بعد ہی ہندوستان کے طول و عرض میں بسے مسلمان پاک سرزمین کی آزاد فضا میں سانس لے رہے تھے۔

برصغیر کی تقسیم ایک غیرمعمولی واقعہ اور تحریکِ پاکستان ایک عظیم الشّان تحریک تھی جس کے پس منظر میں جائیں تو آغاز محمد بن قاسم سے کیا جاسکتا ہے۔ سندھ کے راستے برصغیر میں مسلمانوں‌ کی آمد اور مختلف خاندانوں کے بعد مغلیہ سلطنت کا قیام اور بعد میں‌ انگریزوں کا قبضہ ایک طویل باب ہے جس میں ہندو لیڈروں کی یہ کوشش رہی کہ کسی طرح وہ مسلمانوں کو اپنا محکوم بنا سکیں اور ہندوستان پر راج کریں

ہندوستان کی تاریخ کا ادنیٰ طالبِ‌ علم بھی جانتا ہے کہ 1857ء کی جنگِ آزادی ناکام ہوئی اور انگریزوں کا ملک پر مکمل قبضہ ہو گیا جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہو گئی اور بادشاہ کو گرفتار کر کے جلاوطن کر دیا گیا۔

اس کے بعد مسلمان راہ نماؤں نے آزادی کی جدوجہد جاری رکھی اور جدید تعلیم کی طرف توجہ دینے کی تلقین کرتے ہوئے مسلمانوں کو ہندوؤں کی سازشوں سے آگاہ کرتے رہے۔ انہی اکابرین نے انڈین نیشنل کانگریس کے ارادوں سے بھی ہمیں باخبر رکھا اور وہ وقت آیا جب 1906ء میں نواب وقارُ الملک کی صدارت میں ڈھاکہ میں مسلمانوں کا اجتماع ہوا اور نواب آف ڈھاکہ نواب سلیم اﷲ خان کی تحریک پر مسلمانوں کی سیاسی جماعت مسلم لیگ قائم ہوئی۔ بعد میں جب قائداعظم محمد علی جناح نے اس کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لی تو علیحدہ وطن کے حصول کی کوششیں تیز تر ہوگئیں۔

علامہ اقبال نے 1930 ء میں الٰہ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطبے میں مسلمانوں کے آزاد وطن کا تصور پیش کیا۔ ہندوؤں اور کانگریس کا رویہ شروع ہی سے نامناسب تھا اور وہ مسلمانوں کو قوم کی حیثیت سے تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اسی طرح‌ انگریز بھی مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں کررہے تھے اور ان کے مطالبات تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔

آخر کار مارچ 1940ء میں مسلم لیگ کا اجلاس ہوا جس کی صدارت قائداعظم نے کی تو شیر بنگال مولوی فضل الحق کی پیش کردہ قرارداد منظور کرلی گئی جس میں برصغیر کے مسلم اکثریتی علاقوں کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہی قرارداد اس جدوجہد اور تقسیم کے بعد قراردادِ پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس قرارداد نے اسلامیانِ ہند کو تصورات سے نکال کر ان کی منزل کی صورت گری کر دی تھی۔ قائدِ اعظم نے اجلاس میں کہا:

’’ہندو اور مسلمان الگ الگ فلسفۂ مذہب رکھتے ہیں۔ دونوں کی معاشرت جدا جدا ہے اور دونوں کا ادب ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان میں باہمی شادیاں نہیں ہوتیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھانا بھی نہیں کھاتے۔ وہ دو الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بنیادیں متضاد تصورات پر قائم ہیں۔ ان کا تصور حیات اور طرزِ حیات الگ الگ ہے۔ یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف تاریخوں سے وجدان اور ولولہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کا رزمیہ ادب الگ ہے۔ ان کے مشاہیر الگ الگ ہیں اور ان کا تاریخی سرمایہ جدا جدا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے ہیرو دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں اور اسی طرح ان کی فتح اور شکست ایک دوسرے کے لیے مختلف حیثیت رکھتی ہے۔

دو ایسی قوموں کو ایک نظامِ سلطنت میں جمع کر دینا جہاں ایک قوم عددی لحاظ سے اقلیت ہو اور دوسری اکثریت ہو، نہ صرف باہمی مناقشت کو بڑھائے گا بلکہ بالآخر اس نظام کی بربادی کا باعث ہو گا جو ایسے ملک کی حکومت کے لیے وضع کیا جائے گا۔ مسلمان ہر اعتبار سے ایک قوم ہیں اور انہیں ان کا الگ وطن، ان کا اپنا علاقہ، اور اپنی حکومت ملنی چاہیے۔‘‘

14 اگست 1947ء کو مسلمانانِ ہندوستان کی آزادی کا وہ سورج طلوع ہوا جس نے انھیں پیارا وطن پاکستان دیا۔ ہم اسی لیے قراردادِ پاکستان کا جشن ہر سال مناتے ہیں اور رہتی دنیا تک ہر سال اس موقع پر اپنے راہ نماؤں کی سیاسی بصیرت پر انھیں‌ خراجِ تحسین پیش کرتے رہیں‌ گے۔

آج ہم کسی کے غلام نہیں بلکہ آزاد قوم ہیں اور پاکستان میں ہر فرد اپنی مرضی اور عقیدے کے مطابق زندگی بسر کررہا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کے اصولوں پر عمل کر کے ہم نے اپنی منزل حاصل کی تھی اور آج ہمارا فرض ہے کہ اپنے ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے کام کریں اور آپس میں پیار محبت کی فضا کو پروان چڑھائیں، ملک میں امن اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Janasheen E Pakistan Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share