Zahid Mughal

Zahid Mughal zahid rasool
الصلوة والسلام عليك يا سيدي يا خاتم النبيين

شیخین کریمین  کے اجسادِ مبارکہ کی طرف بڑھنے والے چالیس افراد کا زمین میں دھنس جاناباب السلام سے مسجد نبوی میں داخل ہوکر ...
20/08/2026

شیخین کریمین کے اجسادِ مبارکہ کی طرف بڑھنے والے چالیس افراد کا زمین میں دھنس جانا

باب السلام سے مسجد نبوی میں داخل ہوکر آگے بڑھیں تو بائیں جانب محراب حنفی آتا ہے اور محراب حنفی سے آگے پہلے اور دوسرے ستون کے درمیان وہ مقام آتا ہے جسے مدینہ منورہ کی روایتی تاریخ میں اس واقعے سے منسوب کیا جاتا ہے جہاں اہل حلب کے ایک گروہ کو زمین نے اپنے اندر لے لیا تھا
یہ واقعہ 561 ہجری کے زمانے سے منسوب کیا جاتا ہے اور قدیم تاریخی کتب میں شیخ شمس الدین صواب اللمطی الموصلیؒ سے منقول ہے جو اس زمانے میں مسجد نبوی ﷺ کے خدام میں شمار ہوتے تھے اور جنہیں محب الدین طبریؒ نے صالح اور فقراء پر بہت شفقت کرنے والا شخص قرار دیا ہے
شیخ شمس الدین صوابؒ بیان کرتے ہیں کہ ان کا ایک ایسا دوست تھا جو امیر کے دربار میں بیٹھتا تھا اور امیر کے حالات سے متعلق خبریں انہیں پہنچاتا رہتا تھا۔ ایک دن وہ ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آج ایک نہایت بڑا اور سنگین معاملہ پیش آیا ہے
اس نے بتایا کہ حلب سے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے ہیں اور انہوں نے امیر کو بہت سا مال پیش کرکے اس بات پر آمادہ کرلیا ہے کہ انہیں حجرہ شریفہ کھولنے اور وہاں سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اجسادِ مبارکہ نکالنے کی اجازت دی جائے
یہ خبر سن کر شیخ شمس الدین صوابؒ پر شدید اضطراب طاری ہوگیا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ امیر کا قاصد انہیں بلانے آیا۔ وہ امیر کے پاس حاضر ہوئے تو امیر نے کہا کہ آج رات کچھ لوگ مسجد کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، تم ان کے لیے دروازہ کھول دینا، انہیں ان کے ارادے سے نہ روکنا اور نہ ان کی مخالفت کرنا
شیخ صوابؒ نے بظاہر امیر کا حکم قبول کرلیا، لیکن ان کا دل انتہائی غمگین تھا۔ وہ پورا دن حجرہ شریفہ کے پیچھے بیٹھے روتے رہے۔ ان کے آنسو رکنے کا نام نہ لیتے تھے اور کسی کو معلوم نہ تھا کہ ان کے دل پر کیا گزر رہی ہے
جب رات ہوئی، عشاء کی نماز ادا کی گئی، لوگ مسجد سے نکل گئے اور مسجد کے دروازے بند کردیے گئے۔ کچھ دیر بعد اس دروازے پر دستک ہوئی جو امیر کے قیام گاہ کے سامنے تھا، یعنی باب السلام
شیخ صوابؒ نے دروازہ کھولا تو چالیس آدمی ایک ایک کرکے مسجد میں داخل ہوئے۔ ان کے ساتھ کدالیں، پھاوڑے، ٹوکریاں، چراغ اور کھدائی و انہدام کے دوسرے آلات تھے۔ اس کے بعد وہ حجرہ شریفہ کی جانب بڑھنے لگے
لیکن ابھی وہ لوگ منبر شریف تک بھی نہ پہنچے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ظاہر ہوئی اور زمین نے ان سب کو ان کے تمام آلات سمیت اپنے اندر لے لیا۔ شیخ صوابؒ کے بیان کے مطابق ان میں سے کسی کا کوئی نشان باقی نہ رہا
یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے روایت کے الفاظ میں یہ تاکید بھی ملتی ہے کہ اللہ کی قسم وہ لوگ منبر تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین میں دھنس گئے اور ان کے ساتھ جو کچھ آلات تھے وہ بھی ان کے ساتھ زمین میں چلے گئے
ادھر امیر ان لوگوں کی واپسی کا انتظار کرتا رہا۔ جب کافی دیر گزر گئی تو اس نے شیخ صوابؒ کو بلایا اور پوچھا کہ کیا وہ لوگ تمہارے پاس نہیں آئے تھے
شیخ صوابؒ نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، وہ آئے تھے لیکن ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آگیا ہے
امیر نے تعجب اور سختی سے کہا کہ دیکھو تم کیا کہہ رہے ہو۔ شیخ صوابؒ نے کہا کہ حقیقت یہی ہے، آپ خود جاکر دیکھ لیجیے کہ ان میں سے کوئی باقی ہے یا ان کا کوئی نشان موجود ہے
اس پر امیر نے انہیں سختی سے متنبہ کیا کہ اس معاملے کو یہیں رہنے دو اور اگر یہ بات تمہاری طرف سے ظاہر ہوئی تو تمہاری جان خطرے میں پڑ جائے گی
اس واقعے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ امام محب الدین طبریؒ نے اسے محض ایک غیر معلوم قصے کے طور پر نقل نہیں کیا بلکہ اس کے سماع کی ایک مزید تائید بھی ذکر کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے ہارون بن شیخ عمر سے یہ حکایت سنی تو اسے اپنے بعض قابلِ اعتماد ساتھیوں کے سامنے بیان کیا۔ ان میں سے ایک شخص نے بتایا کہ وہ خود مدینہ منورہ میں شیخ ابوعبداللہ قرطبی کے پاس موجود تھا جب شیخ شمس الدین صوابؒ خود یہ واقعہ بیان کررہے تھے اور اس نے یہ واقعہ براہِ راست اپنی سماعت سے ان کی زبان سے سنا تھا
بعد کے مدنی مؤرخین نے بھی اس واقعے کو نقل کیا ہے۔ علامہ نور الدین علی بن عبداللہ السمہودیؒ نے اپنی معروف کتاب وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى ﷺ میں امام محب الدین طبریؒ کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے۔ اسی طرح قاضی مؤرخ حسین بن محمد الدیار بکریؒ نے تاریخ الخمیس میں اور برزنجيؒ نے نزهة الناظرين میں بھی اس واقعے کا ذکر کیا ہے
مؤرخ مقریزیؒ نے بھی اپنی کتاب إمتاع الأسماع میں محب طبریؒ کی کتاب الرياض النضرة سے اس واقعے کو نقل کیا ہے، اگرچہ ان کے ہاں سند کے ایک راوی کے نام میں معمولی لفظی اختلاف پایا جاتا ہے
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ واقعہ حدیثِ مرفوع نہیں بلکہ قدیم تاریخی روایت اور حکایت کے طور پر منقول ہے۔ اس لیے اسے حدیثِ نبوی ﷺ کے درجے میں بیان کرنا درست نہیں۔ تاہم اس کی اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ اسے متعدد قدیم مؤرخین نے نقل کیا اور اس کا بنیادی بیان شیخ شمس الدین صواب اللمطیؒ کی طرف منسوب کیا گیا ہے
یہ حکایت اس دور کے مدینہ منورہ کے تاریخی لٹریچر میں حجرہ شریفہ اور اس میں آرام فرما حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے اجسادِ مبارکہ کی حفاظت کے ضمن میں نقل ہوئی ہے اور اہلِ مدینہ کے ہاں اس مقام کی تاریخی نسبت بھی اسی واقعے سے بیان کی جاتی رہی ہے
الرياض النضرة في فضائل العشرة، امام محب الدین احمد بن عبداللہ الطبریؒ، المتوفی 694ھ
وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى ﷺ، علامہ نور الدین علی بن عبداللہ السمہودیؒ، المتوفی 911ھ، جلد 2، صفحہ 438
تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس، قاضی حسین بن محمد الدیار بکریؒ، جلد 3، صفحات 491 تا 492
نزهة الناظرين في مسجد سيد الأولين والآخرين، برزنجيؒ، صفحہ 82
إمتاع الأسماع بما للنبي ﷺ من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع، مقریزیؒ، جلد 14، صفحہ 626
التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة، امام شمس الدین السخاویؒ، جلد 2، صفحہ 248
(تدوین ارادت)

1917ء میں عثمانی فوج القدس سے نکل گئی… مگر ایک سپاہی نے مسجدِ اقصیٰ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ 🥺🕌👇دسمبر 1917ء میں پہلی جنگِ عظی...
18/08/2026

1917ء میں عثمانی فوج القدس سے نکل گئی… مگر ایک سپاہی نے مسجدِ اقصیٰ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ 🥺🕌👇

دسمبر 1917ء میں پہلی جنگِ عظیم کے دوران عثمانی فوج کو یروشلم سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ حالات ایسے تھے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے پاس القدس کو اپنے قبضے میں رکھنے کی فوجی طاقت باقی نہیں رہی تھی۔ لیکن انخلا کے دوران کچھ عثمانی سپاہی شہر میں پیچھے رہ گئے تاکہ لوٹ مار اور بدامنی کو روکا جاسکے۔ انہی میں ایک سپاہی عریف حسن، المعروف اونباشی حسن بھی تھا، جو ترکی کے علاقے اَغدر سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کا تعلق عثمانی فوج کے 20ویں کور، 36ویں بٹالین اور مشین گن یونٹ سے بتایا جاتا ہے۔

لیکن باقی سپاہی وقت کے ساتھ اپنی زندگیوں میں واپس چلے گئے یا دنیا سے رخصت ہوگئے، جبکہ حسن کے بارے میں روایت ہے کہ وہ القدس میں ہی رہ گیا۔ اُس نے مسجدِ اقصیٰ سے اپنا تعلق ختم نہیں کیا۔ فلسطینی عالم اور مسجدِ اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے Anadolu کو بتایا کہ حسن صبح مسجد میں سب سے پہلے آنے والوں میں ہوتا اور رات کو سب سے آخر میں نکلتا، اور دن کے بیشتر حصے میں حرم شریف کے ایک مخصوص مقام پر ایسے کھڑا رہتا جیسے آج بھی اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا ہو۔

پھر 21 مئی 1972ء کو ایک ایسا لمحہ آیا جس نے اس خاموش سپاہی کی داستان کو دنیا کے سامنے پہنچا دیا۔ ترک صحافی اور مورخ İlhan Bardakçı مسجدِ اقصیٰ کے دورے پر تھے کہ اُن کی نظر ایک عمر رسیدہ شخص پر پڑی۔ اُس کے جسم پر پرانی عثمانی فوجی وردی تھی اور وہ مسجد کے صحن میں کھڑا تھا۔ جب Bardakçı نے اُس سے ترکی زبان میں بات کی تو معلوم ہوا کہ وہ کوئی عام بوڑھا شخص نہیں بلکہ عثمانی فوج کا وہ سپاہی حسن تھا جو برسوں پہلے القدس میں تعینات ہوا تھا۔ حسن نے اسے بتایا کہ اُس کے ساتھی ایک ایک کرکے دنیا سے چلے گئے اور اب وہ اکیلا رہ گیا ہے۔

روایت کے مطابق حسن نے اُس ملاقات میں اپنے سابق کمانڈر کا بھی ذکر کیا اور Bardakçı سے ایک امانت پہنچانے کی درخواست کی۔ اُس کا پیغام یہ تھا کہ اُس کے کمانڈر کو بتایا جائے کہ اَغدر کا عریف حسن ابھی تک اُسی جگہ موجود ہے جہاں اسے ڈیوٹی پر چھوڑا گیا تھا۔ یہ جملہ محض ایک بوڑھے سپاہی کی یاد نہیں تھا؛ یہ اُس وفاداری کی تصویر بن گیا جس کے ساتھ اُس نے اپنی زندگی کے آخری حصے کو جوڑ دیا تھا۔ Bardakçı نے بعد میں اس ملاقات کو تحریر کیا اور یوں حسن کی داستان ترک عوام تک پہنچی۔

اور پھر ایک عجیب تاریخی دائرہ مکمل ہوا۔ 1917ء میں عثمانی فوج القدس سے نکلی تھی، لیکن حسن کی داستان 1982ء تک جاری رہی۔ 1982ء میں Bardakçı کو یروشلم سے ایک مختصر پیغام ملا کہ مسجدِ اقصیٰ سے وابستہ آخری عثمانی سپاہی وفات پا گیا ہے۔ Anadolu کی رپورٹ بھی حسن کی وفات 1982ء میں بتاتی ہے، جبکہ شیخ عکرمہ صبری کی گواہی کے مطابق وہ اپنی وفات تک مسجدِ اقصیٰ سے جڑا رہا۔ اسی وجہ سے اسے عام طور پر “مسجدِ اقصیٰ کا آخری عثمانی سپاہی” کہا جاتا ہے۔

اس داستان کا سب سے زیادہ اثر کرنے والا پہلو یہ نہیں کہ ایک سپاہی نے 65 سال تک وردی پہن رکھی تھی؛ اصل بات یہ ہے کہ ایک ایسی سلطنت جس کا اقتدار ختم ہوچکا تھا، اُس کا ایک سپاہی اپنی یاد میں اُس جگہ سے جڑا رہا جسے وہ اپنے فرض کا حصہ سمجھتا تھا۔ سلطنت ختم ہوگئی، عثمانی حکومت ختم ہوگئی، اُس کے ساتھی ایک ایک کرکے دنیا سے چلے گئے، مگر حسن کی نسبت سے بیان کی جانے والی یہ روایت بتاتی ہے کہ اُس کے لیے القدس محض ایک تعیناتی کا مقام نہیں رہا تھا۔

اور یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ آج بھی انسان کو اپنے فرض، وفاداری اور مسجدِ اقصیٰ سے تعلق کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ آج ہمارے پاس بڑی بڑی باتیں کرنے کے ذرائع ہیں، لیکن تاریخ ہمیں کبھی کبھی ایک ایسے خاموش انسان کی طرف متوجہ کرتی ہے جو نہ اقتدار میں تھا، نہ اُس کے پاس سلطنت تھی، نہ دنیا کی توجہ؛ اُس کے پاس صرف اُس کی ذمہ داری اور اُس کی وابستگی تھی۔ وہ تاریخ کے بڑے حکمرانوں میں شامل نہیں تھا، مگر اُس کی خاموش وفاداری نے اُس کا نام تاریخ کے ایک خاص باب میں محفوظ کردیا۔

اور شاید حسن کی داستان کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان کی عظمت ہمیشہ اُس اختیار سے نہیں ہوتی جو اُس کے ہاتھ میں ہو؛ کبھی اُس عہد سے ہوتی ہے جسے وہ اختیار ختم ہوجانے کے بعد بھی نہیں بھولتا۔ سلطان چلے گئے، سلطنت چلی گئی، فوجیں واپس چلی گئیں، لیکن ایک بوڑھے سپاہی کی نسبت سے بیان کی جانے والی یہ داستان آج بھی القدس کے ساتھ عثمانی دور کی ایک عجیب اور دردناک یاد کے طور پر زندہ ہے۔

ٰ #القدس #فلسطین

پاکستان کے پہلے سرکاری شہری علامہ محمد اسد جن کا  اصل نام، لیوپولڈ ویس، تھے۔ انہیں تاریخِ پاکستان میں یہ مقام اس لیے حاص...
14/08/2026

پاکستان کے پہلے سرکاری شہری علامہ محمد اسد جن کا اصل نام، لیوپولڈ ویس، تھے۔ انہیں تاریخِ پاکستان میں یہ مقام اس لیے حاصل ہے کیونکہ 14 اگست 1947ء کو قیامِ پاکستان کے فوراً بعد حکومتِ پاکستان کی جانب سے سب سے پہلا پاکستانی پاسپورٹ انہی کے نام جاری کیا گیا تھا۔ وہ 1900ء میں آسٹریا کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تھے اور بعد میں انہوں نے اسلام قبول کیا۔ علامہ اقبال کی دعوت پر انہوں نے تحریکِ آزادیِ پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ ایک مایہ ناز مسلم سکالر، مترجم اور سفارت کار تھے، جنہوں نے قرآن پاک کا انگریزی میں بہترین ترجمہ بھی کیا۔

شیعہ کا حساب حضرت معاویہ رضی اللّٰه عنه سےشام کا ایک ٹیکسی ڈرائیور بیان کرتا ہے کہ میری ٹیکسی میں ایک مسافر بیٹھا جو وضع...
13/08/2026

شیعہ کا حساب حضرت معاویہ رضی اللّٰه عنه سے
شام کا ایک ٹیکسی ڈرائیور بیان کرتا ہے کہ میری ٹیکسی میں ایک مسافر بیٹھا جو وضع قطع سے شیعہ لگتا تھا۔ میری ٹیکسی میں شام کا ایف ایم ریڈیو "اورینٹ" چل رہا تھا، جس میں حضرت معاویہ رضی اللّٰه عنه کے فضائل بیان کئے جا رہے تھے. مسافر سارے راستے ہی دانت پیستا رہا۔

اپنی منزل پر پہنچ کر وہ ٹیکسی سے اترا اور بولا : دیکھ بھئی میرے کرایہ کا حساب کتاب معاویہ بن ابوسفیان سے کر لینا۔ یہ کہہ کر وہ بھاگ نکلا، چونکہ میں ایک عمر رسیدہ شخص تھا لہٰذا اس کے پیچھے دوڑنے سے معذور تھا اور یہ بات وہ مسافر بھی اچھی طرح جانتا تھا۔ میں نے معاملہ اللّٰه کے سپرد کیا اور گاڑی واپس موڑ لی۔

تھوڑی دیر بعد اچانک پچھلی سیٹ سے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔ میں نے گاڑی سائیڈ پر کر کے پیچھے دیکھا تو ایک جدید ترین قیمتی موبائل پڑا بج رہا تھا۔

میں نے جوں ہی فون ریسیو کیا تو اسی مسافر کی آواز آئی کہ مہربانی کر کے میرا موبائل لوٹا دیں میں کرایہ بھی دوں گا اور کچھ زیادہ بھی دونگا۔ ۔۔

میں نے اسے جواب دیا کہ کرایہ تو میں نے معاویہ بن ابوسفیان (رضی اللّٰه عنھما) سے وصول کر لیا ہے.

اب تم موبائل اپنے امام خمینی سے وصول کر لینا ۔...! 😂

قبائلِ مکہ کا محلِ وقوع1۔ بنو ہاشمبنو ہاشم ہاشم بن عبد مناف کی اولاد سے منسوب قریش کا نہایت معزز خاندان تھا اسی خاندان م...
11/08/2026

قبائلِ مکہ کا محلِ وقوع
1۔ بنو ہاشم
بنو ہاشم ہاشم بن عبد مناف کی اولاد سے منسوب قریش کا نہایت معزز خاندان تھا اسی خاندان میں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت ہوئی بنو ہاشم کو حجاج کرام کی خدمت سقایہ اور رفادہ جیسے اہم منصب حاصل رہے جس کے باعث انہیں قریش میں خصوصی عزت و وقار حاصل تھا ان کی رہائش خانہ کعبہ کے قریب اور شعب ابی طالب کے اطراف میں تھی یعنی مکہ کے مرکزی حصے میں ان کا نمایاں مسکن تھا
2۔ بنو عبد شمس
بنو عبد شمس عبد شمس بن عبد مناف کی اولاد تھے اور اسی خاندان سے آگے چل کر بنو امیہ کا معروف خاندان وجود میں آیا یہ قریش کے بااثر صاحب ثروت اور تجارت پیشہ خاندانوں میں شمار ہوتے تھے اور مکہ کی معاشرتی و تجارتی زندگی میں ان کا اہم کردار تھا ان کی رہائش کعبہ کے مشرقی اور شمال مشرقی حصوں خصوصاً دار الندوہ کے گرد و نواح میں بیان کی جاتی ہے
3۔ بنو مخزوم
بنو مخزوم مخزوم بن یقظہ کی اولاد تھے یہ قریش کے طاقتور مالدار اور جنگجو خاندانوں میں شمار ہوتے تھے مکہ کے دفاع عسکری معاملات اور گھوڑوں سے متعلق امور میں انہیں نمایاں حیثیت حاصل تھی ابوجہل بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتا تھا ان کی بستیاں مکہ کے نشیبی علاقوں بطحاء اور کعبہ کے جنوب مغربی اطراف میں تھیں
4۔ بنو جمح
بنو جمح جمح بن عمرو بن ہصیص کی نسل سے تھے یہ قریش کی قدیم شاخوں میں شمار ہوتے اور مکہ کی تجارت اور اجتماعی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے تھے ان کی رہائش کعبہ کے مغربی جانب اور مکہ کے مغربی حصوں کی طرف تھی جہاں سے پہاڑی دروں اور بیرونی راستوں کی سمت آمدورفت ہوتی تھی
5۔ بنو سہم
بنو سہم سہم بن عمرو بن ہصیص کی اولاد تھے قریش کے اس خاندان کو مکہ میں بعض اہم انتظامی اور معاشرتی ذمہ داریوں سے نسبت حاصل تھی اور زمانہ جاہلیت میں فال کے تیروں سے متعلق بعض امور بھی ان سے منسوب کیے جاتے ہیں ان کی بستیاں کعبہ کے مغربی اطراف اور مکہ کے مغربی حصوں میں بیان کی جاتی ہیں
6۔ بنو عدی
بنو عدی عدی بن کعب کی اولاد تھے یہ قریش کا معزز خاندان تھا اور قریش میں سفارت کاری اور نمائندگی کے امور سے ان کی نسبت بیان کی جاتی ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ان کی رہائش مکہ کے بالائی حصوں خصوصاً شمالی اور شمال مشرقی سمتوں میں بیان کی جاتی ہے
7۔ بنو تیم
بنو تیم تیم بن مرہ کی اولاد تھے یہ قریش کے معزز خاندانوں میں شمار ہوتے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تعلق اسی خاندان سے تھا تجارت کے علاوہ دیت اور باہمی نزاعات کے معاملات میں بھی اس خاندان کو سماجی اعتبار حاصل تھا ان کا مسکن خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی حصے اور کوہ ابوقبیس کے دامن کی جانب بیان کیا جاتا ہے
8۔ بنو زہرہ
بنو زہرہ زہرہ بن کلاب کی اولاد تھے اور قریش کے قدیم و معزز خاندانوں میں شمار ہوتے تھے حضرت آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا والدہ رسول اکرم ﷺ کا تعلق بھی بنو زہرہ سے تھا یہ خاندان مکہ میں اپنی شرافت وقار اور باہمی تعلقات کے اعتبار سے ممتاز تھا ان کی رہائش مکہ کے شمالی اور شمال مغربی دامن کی طرف شعب بنی زہرہ کے علاقے میں بیان کی جاتی ہے
9۔ بنو اسد
بنو اسد اسد بن عبد العزیٰ کی اولاد تھے یہ قریش کے بااثر اور معزز خاندانوں میں شمار ہوتے تھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تعلق بھی بنو اسد سے تھا جس سے اس خاندان کی معاشرتی حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے ان کی رہائش کعبہ کے شمال مشرقی حصے اور دار الندوہ کے اطراف میں بیان کی جاتی ہے
10۔ بنو حارث بن فہر
بنو حارث بن فہر حارث بن فہر بن مالک کی اولاد تھے اور قریش کی قدیم شاخوں میں شمار ہوتے تھے یہ خاندان مکہ کے مرکزی قبائل سے قریبی تعلق رکھتا تھا اور قریش کی اجتماعی زندگی میں اس کی اپنی حیثیت تھی ان کی رہائش مکہ کے درمیانی حصوں اور مشرقی جانب جانے والے راستوں کے قریب بیان کی جاتی ہے
11۔ بنو کنانہ
بنو کنانہ کنانہ بن خزیمہ کی اولاد تھے قریش کا نسب بھی کنانہ کے وسیع قبائلی سلسلے سے جڑا ہوا ہے تاہم بنو کنانہ کو قریش سے وسیع تر قبائلی دائرے میں سمجھنا چاہیے ان کی آبادیاں صرف مکہ کے مرکزی شہر تک محدود نہیں تھیں بلکہ حجاز کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی تھیں مکہ کے بیرونی مضافات وادیوں اور جنوبی و مشرقی پہاڑی راستوں کی طرف ان کی آبادیاں اور قبائلی مراکز پائے جاتے تھے
12۔ بنو عامر بن صعصعہ
بنو عامر بن صعصعہ قیس عیلان کے وسیع قبائلی سلسلے سے تعلق رکھنے والا ایک بڑا عدنانی قبیلہ تھا یہ قریش کا اندرون مکہ رہنے والا خاندان نہیں تھا بلکہ حجاز اور نجد کے وسیع علاقوں میں اپنی قبائلی آبادیاں اور چراگاہیں رکھتا تھا مکہ مکرمہ کے بیرونی اطراف سے آگے خصوصاً شمال مشرقی سمت حجاز و نجد کے درمیانی صحرائی علاقوں میں ان کی قبائلی موجودگی تھی
الازرقی اخبار مکہ جلد 2 باب منازل قریش حول الکعبہ
(تدوین ارادت)

10/08/2026
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے قریب واقع پوسٹ آفس کی عمارت کی زمین ایک نیلامی میں فروخت ہو گئی، جس نے جائیداد کی دنیا میں ...
09/08/2026

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے قریب واقع پوسٹ آفس کی عمارت کی زمین ایک نیلامی میں فروخت ہو گئی، جس نے جائیداد کی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ یہ زمین منارۃ طیبہ نیلامی کے دوران ایک نمایاں پراپرٹی انویسٹمنٹ کمپنی نے حاصل کی، جو مسجد نبوی کے مغرب میں مرکزی علاقے میں واقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ زمین 462 ملین ریال کی خطیر رقم میں فروخت ہوئی، جس میں فی مربع میٹر قیمت 186 ہزار ریال مقرر کی گئی، جبکہ کل رقبہ 2486 مربع میٹر پر مشتمل تھا۔ یہ سودا مدینہ منورہ کے مرکزی علاقے میں جائیداد کی بڑھتی ہوئی مالیت اور اس مقدس شہر میں سرمایہ کاری کی بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں مسجد نبوی سے قربت کسی بھی زمین کی قدر کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔

Address

Islamabad

Telephone

+923007516712

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zahid Mughal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Zahid Mughal:

Shortcuts

Share