Zahid Mughal

Zahid Mughal zahid rasool
الصلوة والسلام عليك يا سيدي يا خاتم النبيين

16/05/2026

درود ابراہیمی

15/05/2026

لبیک اللھم لبیک ماشاءاللہ مشاعر منی الئن

15/05/2026
حمزة علام جو مکہ کے علاقے المسفلة کے سربراہ تھے، مجلة اقرأ کے رپورٹر کو ہاتھ سے وہ جگہیں دکھا رہے ہیں جہاں سنہ 1400 ہجری...
14/05/2026

حمزة علام جو مکہ کے علاقے المسفلة کے سربراہ تھے، مجلة اقرأ کے رپورٹر کو ہاتھ سے وہ جگہیں دکھا رہے ہیں جہاں سنہ 1400 ہجری میں المسجد الحرام میں فتنہ اور جھڑپوں کے واقعات ہوئے تھے۔

28/04/2026

راجپوتوں کا ایک قبیلہ ہے جس کی عورتیں اپنے خاوند کا نام نہیں لیتیں.
مردم شماری ہو رہی تھی ،ان کے ایک گاوّں میں مردم شماری کے لئیے فوجی پہنچا اور دروازے پر دستک دی۔ دروازے کے پیچھے سے خاتونِ خانہ کی آواز آئی کون ؟.
فوجی نے بتایا کہ اہل خانہ کے کوائف لکھنے ہیں اپنے میاں کو باہر بھیجیں.
بیوی نے کہا وہ تو گھر پر نہیں ہیں.
فوجی تو پھر آپ ہی نام وغیرہ لکھوا دیں فوجی نے کہا بتائیے آپ کے خاوند کا نام کیا ہے ؟.
وہ تو میں نہیں بتا سکتی، ہم اپنے شوہر کا نام زبان پر نہیں لاتیں۔ عورت نے جواب دیا.
فوجی نے کہا یہ بہت ضروری ہے ہم نے گھر کے سربراہ کا نام لکھنا ہے۔
عورت بولی ایک طریقہ ہے میں آپ سے سوال کرتی جاتی ہوں آپ جواب دیتے جائیں۔
عورت - مغلیہ خاندان کا بانی کون تھا ؟
فوجی : بابر
عورت- اس کے بیٹے کا جو بادشاہ بنا ؟
فوجی : ہمایوں
عورت- ہمایوں کے بیٹے کا نام جو بعد میں بادشاہ بنا ؟
فوجی : اکبر
عورت- نہیں پورا نام بولو۔
فوجی جلال الدّین محمّد اکبر
عورت بس اس نام کے آخری دو حصّے کاٹ دو باقی نام میرے خاوند کا ہے.
فوجی نے پوچھا -
کیا آپ کی برادری بھی یہیں رہتی ہے۔
عورت- جی ہاں، سارا گاوُں ہماری برادری کا ہی ہے۔
يہ سن کر فوجی نے واپسی کا راستہ لیا
اور بولا پہلے میں تاریخ ہند یاد کر لوں پھر دوبارہ آؤں گا۔
تحریر: سوشل میڈیا پر سے کاپی ہے

پڑھتے جائیں اور غیرت سے زمین میں گڑھتے جائیں۔اب کوئی انسانی حقوق کی تنظیم اس سفاکانہ ظلم کے خلاف نہیں بولے گی۔اور نا ہی ...
24/04/2026

پڑھتے جائیں اور غیرت سے زمین میں گڑھتے جائیں۔
اب کوئی انسانی حقوق کی تنظیم اس سفاکانہ ظلم کے خلاف نہیں بولے گی۔
اور نا ہی کسی لبرل مافیہ کو ان مظلوم خواتین کی اذیت اور کرب نظر آئے گا۔
57 اسلامی ممالک کے حکمرانوں پر اللہ کا غضب نازل ہو جن کی زبانیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف نا بول سکیں۔اور وہ اندھے ،گونگے اور بہرے بن گئے

فلسطینی قیدیوں پر اسرائیلی جنسی تشدد دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ سامنے آ گیا

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کی ایک رپورٹ نے اکتوبر 2023 سے فلسطینی قیدیوں کے خلاف منظم، ریاست کی سرپرستی میں ہونے والے جنسی تشدد کو باقاعدہ دستاویزی شکل دی ہے۔

ایک زندہ بچ جانے والی کی گواہی (شمالی غزہ سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ خاتون، جو سدے تیمان میں قید رہیں):
برہنہ کر کے دھات کی میز سے زنجیروں میں جکڑا گیا
نقاب پوش فوجیوں کے ہاتھوں بار بار اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا
بدسلوکی کے دوران فلمایا گیا
کلائیوں سے لٹکا کر بلیک میلنگ کے لیے وہی فوٹیج دیکھنے پر مجبور کیا گیا

رپورٹ "دیواروں کے پیچھے ایک اور نسل کشی" میں درج ہے:
اجتماعی زیادتی اور جسم میں اشیاء داخل کرنا
تربیت یافتہ فوجی کتوں کے ذریعے حملے
زبردستی برہنہ کرنا اور بلیک میلنگ کے لیے فلم بنانا

اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 تک سیکڑوں گواہیاں جمع کی گئیں

اقوام متحدہ کی انسدادِ تشدد کمیٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ کارروائیاں "درحقیقت ریاستی پالیسی" کے مترادف ہیں تاکہ "پورے فلسطینی عوام کو سزا دی جائے اور تباہ کیا جائے۔"

ٹی آر ٹی ورلڈ
خدارا آواز اٹھائیں یہ نا ہو قیامت والے دن ہمارا نام بھی ظلم پر خاموش رہ کر ظلم کا ساتھ دینے والے ظالموں میں لکھ دیا جائے۔

غازی مرید حسین شہید کا نام مرید حسین تھا اسیر تخلص رکھتے تھے۔ولادت24 فروی1914ء میں کہوٹ قریش قوم کے یہ فرزند بھلہ کریالہ...
24/04/2026

غازی مرید حسین شہید کا نام مرید حسین تھا اسیر تخلص رکھتے تھے۔
ولادت
24 فروی1914ء میں کہوٹ قریش قوم کے یہ فرزند بھلہ کریالہ ضلع چکوال میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام عبد اللہ خان اوروالدہ کا نام غلام عائشہ تھا۔[1]

رام گوپال کا قتل
1936ء میں زمیندار اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ شفاخانہ حیوانات پلول ضلع گڑگاؤں کے انچارج ڈاکٹر رام گوپال نے گستاخی کرتے ہوئے (اس کی حرکت کو میں نہیں لکھ سکتا آپ لوگوں کے دل زخمی ہو جائیںبس اس نے بہت بڑی گستاخی کی یہ جان لیں) ۔ اس خبر کے بعد اپنے مرشد خانہ پر مرشد خواجہ عبد العزیزچشتی کے پاس چاچڑ شریف ضلع سرگودھا گئے۔ اس کے بعد وہ نارنوند گئے کیونکہ رام گوپال پلول سے تبدیل ہو چکا تھا اسے للکار کر کہا "اوہ موذی اٹھ اج محمد دا پروانہ آگیا ای" اور نعرہ تکبیر کے ساتھ خنجر سے ایک ہی وار میں قتل کر دیا یہ واقعہ 8 اگست 1936ء کو ہوا اسے قتل کرنے کے بعد خود ہی گرفتاری پیش کر دی اور شرط یہ رکھی کہ مجھے کوئی مسلمان گرفتار کرے۔ مقدمہ چلا اعتراف قتل کے بعد انھیں سزائے موت ہوئی۔
دوران میں تفتیش اس سوال پر کہ مقتول کا حلیہ کہاں سے معلوم ہوا، اس شہبازِ محبت نے انکشاف کیا:

’’جس عظیم ذات نے مجھے اس کی شناخت کروائی، ان کے حضور تم تو کیا تمھارے خیال کا بھی گذر نہیں ہو سکتا۔ رام گوپال نے میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی کی اور میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کرم فرمایا کہ اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے مجھے چن لیا۔ میری قسمت جاگ اٹھی اور خواب میں آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس گستاخ کی صورت مجھے دکھائی اور میں نے جاگ کر اس کا حلیہ نوٹ کر لیا۔‘‘ اب میں اسے ختم کر چکا ہوں۔ یہ میرے ہنسنے اور ہندوؤں کے رونے کا وقت ہے۔‘‘
شہادت

آپ نے 22 سال کی عمر میں 18 رجب 24 ستمبر 1937ء کو شہادت پائی۔ بھلہ (موجودہ نام غازی محل) میں مدفون ہیں۔کیا کمال ہے کہ خوش نصیبوں کو چن لیا جاتا ہے میں بہت کم آپ لوگوں سے خصوصی طور پر پیغام آگے پہنچانے کو کہتا ہوں کبھی کبھی دل کرتا ہے آپ سے کہنے کو کہ کچھ پیغام دنیا کو بتا دیا کریں کہ گستاخی مسلمان کبھی قبول نہیں کریں گے۔

حوالہ جات
سوانح حیات غازی مرید حسین شہید،رائے محمد کمال ،شہیدان ناموس رسالت پبلیکیشنز چاہ میراں لاہور
"غازی مرید حسین شہیدؒ"۔ 2016-03-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-10-12
شہیدان ناموس رسالت ،محمد متین خالد۔ صفحہ84

1952ء میں پاکستان کو آزاد ہوئے ابھی صرف 5 سال ہوئے تھے۔مراکش فرانسیسی استعمار کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ سلطان محمد پن...
23/04/2026

1952ء میں پاکستان کو آزاد ہوئے ابھی صرف 5 سال ہوئے تھے۔مراکش فرانسیسی استعمار کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ سلطان محمد پنجم نے احمد بالفریج کو اقوام متحدہ بھیجا کہ مراکش کی آزادی کی آواز اٹھائیں۔
لیکن فرانس نے انہیں بولنے سے روک دیا۔ کہا: “تم فرانسیسی کالونی کے شہری ہو، تمہیں UN میں تقریر کا حق نہیں!
اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ کے حکم پر رات کے اندھیرے میں پاکستانی سفارتخانہ نیویارک کھلوایا گیا۔ احمد بالفریج کو فوری پاکستانی شہریت دی گئی اور سفارتی پاسپورٹ جاری کر دیا گیا۔
اگلے دن… بالفریج UN سیکیورٹی کونسل میں پاکستانی شہری کی حیثیت سے کھڑے ہوئے اور فرانسیسی استعمار کے خلاف زبردست تقریر کی۔
اس ایک پاسپورٹ نے مراکش کی آزادی کی تحریک کو عالمی سطح پر نئی جان دی۔
1956 میں مراکش آزاد ہوا۔ احمد بالفریج وزیراعظم بنے۔ اور اپنے دفتر میں اس پاکستانی پاسپورٹ کو فریم کر کے لٹکا رکھا تھا۔ ہر مہمان کو فخر سے بتاتے:
“یہ پاسپورٹ مراکش کی آزادی کا اہم حصہ ہے۔”

سال میں صرف تین سے چار دن بڑے کمال کے ہوتے ہیںوہ خوش نصیب حجاجِ کرام جو پہلی پہلی فلائٹس سے مکہ شریف پہنچتے ہیں انہیں ال...
23/04/2026

سال میں صرف تین سے چار دن بڑے کمال کے ہوتے ہیں
وہ خوش نصیب حجاجِ کرام جو پہلی پہلی فلائٹس سے مکہ شریف پہنچتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ صحنِ کعبہ کی وہ دلکش بہاریں دکھاتے ہیں جو دل کو سکون اور آنکھوں کو تر و تازگی بخشتی ہیں
اس وقت بیت اللہ کے صحن میں رش کا نام و نشان تک نہیں ہوتا ہر طرف سکوت اور خشوع کی چادر بچھی ہوتی ہے
طواف کے ہر ایک چکر میں باآسانی بڑے پیار سے حجرِ اسود کا بوسہ مل جاتا ہے جیسے ربِ کریم خود اپنی رحمت کی آغوش میں لے رہا ہو
واہ کیا عظیم نصیب ہوتا ہے ان لوگوں کا جنہیں اللہ پاک یہ خوبصورت پرامن آنسوؤں بھرا اور یادگار لمحات عطا فرماتا ہے
دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسے مبارک لمحات نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین 🕋💚

Address

Islamabad

Telephone

+923007516712

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zahid Mughal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Zahid Mughal:

Share