15/08/2026
غازان خان کون تھا؟ عثمان غازی کے ڈرامے میں نام تو سنا ہوگا اج تاریخ پڑھ لیں 👇
منگولوں کے پہلے حکمران ارغون خان کے بیٹے نے اسلام قبول کر لیا تھا اس کا نام غازان تھا وہ مسلمانوں کا بڑا حمایتی اور ہمدرد تھا چنانچہ جب بائیدو نے مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو اس غازان نے بائیدو کے خلاف الم بغاوت کھڑا کر دیا۔ چنانچہ دونوں کے درمیان جنگ شروع ہوئی غازان خان غالب آیا اور بائید و کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔غازان خان ہلاکو خان کی نسل سے بڑا نامور حکمران شمار کیا جاتا تھا۔ اس نے تخت نشین ہوتے ہی اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا اور قراقرم کی منگول حکومت کے تسلط سے بالکل آزاد ہو گیا اس نے منگولوں کا جو لباس تھا وہ بھی بدل دیا دستار زیب سر کی اور راسخ عقیدہ مسلمانوں کے طور طریقے اختیار کئے مملکت میں اس مضمون کے فرمان بھیجے گئے کہ تمام امور مملکت شرعیت اسلامی کی رو سے طے پائیں گے اور زیر دستوں پر کوئی ظلم کا ہاتھ نہیں بڑھائے گا۔اسی سلطان غازان کے زمانے میں متعدد کلیسا اور آتش کدے بے رونق ہو گئے چونکہ منگولوں کے پہلے حکمران عیسائیت کی طرف مائل تھے۔ لہذا منگولوں کی مملکت میں عیسائی غالب رہا کرتے تھے اور مسلمانوں کو ایک طرح سے محکوم سمجھتے تھے لیکن غازان کے دور میں جہاں غازان نے خود اسلام قبول کیا وہاں منگولوں نے بڑی تیزی سے دائرہ اسلام میں داخل ہونا شروع کیا اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے غازان نے عیسائیوں کے لئے یہ حکم دیا کہ وہ زنار پہن کر باہر نکلیں اور یہودی اپنے لباس پر ایک خاص قسم کا پیوند لگا ئیں جن سے ان کی شناخت ہو سکے اس سے عیسائی اور یہودی جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے سخت برافروختہ ہوئے آخر مصلحت انہوں نے زبان سے تو مسلمان ہونے کا اقرار کر لیا لیکن حقیقت میں وہ اپنے ہی مذہب پر قائم رہے۔اسی غازان نے تخت نشین ہونے کے بعد تمام منگول شہزادوں اور سرکردہ خواتین سے اپنی وفاداری کا حلف لیا اس غازان کا ایک نوروز نام کا وزیر تھا وہ مسلمان تھا اس کے مشورے پر غازان نے اپنی مملکت میں مربع سکے کے بجائے گول سکہ جاری کیا اور اپنے سکوں پر اس نے کلمہ شہادت کندہ کرایا اور دوسری طرف خلفاء راشدین کے اسماء بھی درج کرائے۔
اس سلطان غازان کے عہد کا ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ مملکت کی وزارت ایک ایسے شخص کو سونپی گئی جو ماہر تاریخ دان تھا اور عظیم تھا اور عظیم مدبر بھی تھا اس کا نام رشید الدین فضل اللہ تھا۔ مشہور معروف جامع التواریخ اسی کی یادگار ہے۔
سلطان غازان کے بعد اس کا بھائی الجائتو تخت نشین ہوا اس کا نام پہلے الجائتو تھا لیکن اسلام قول کرنے کے بعد اس کا نام محمد خدا بندہ رکھا گیا اب منگولوں پر اس محمد خدا بندہ کی حکومت تھی اور اس نے اپنے بیٹے ابو سعید کو جسے تاریخ کے اوراق میں سلطان ابوسعید کے نام سے یاد کیا گیا ہے اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا۔ ولی عہد بنانے کے ساتھ ساتھ محمد خدا بندہ نے اپنے بیٹے سلطان ابو سعید کو خراسان کا حاکم بھی بنا دیا تھا اور اسے وصیت کی تھی کہ لوگوں کے ساتھ انصاف کرے اس طرح جب منگولوں کے صرف حکمران ہی نہیں منگولوں کی اکثریت بھی دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی اور جوق در جوق گروه در گروه منگول اسلام قبول کرنے لگے تب اناطولیہ میں مسلمانوں کی سلطنتیں جو ابھی اپنے ارتقاء کی طرف جا رہی تھیں انہیں منگولوں کی طرف سے کوئی خطرہ نہ رہا اس لئے کہ منگول اب اسلام قبول کر چکے تھے۔
Mughal Empire