Pakistan Prisoner's Welfare Foundation

Pakistan Prisoner's Welfare Foundation Pakistan Prisoners Welfare Foundation

سلیکون ویلی کا پاکستانی ستارہ: صالح آصف!اگر آپ میرا، ہانیہ عامر،  ہمایوں سعید، اختر لاوا، انجینیر مرزا، چاہت فتح علی خان...
09/06/2025

سلیکون ویلی کا پاکستانی ستارہ: صالح آصف!

اگر آپ میرا، ہانیہ عامر، ہمایوں سعید، اختر لاوا، انجینیر مرزا، چاہت فتح علی خان، خلیل الرحمٰن قمر وغیرہ وغیرہ کو نہیں جانتے تو یقین کیجئے آپ خسارے میں نہیں ہیں، مگر پاکستان کے ہر 15 سے 25 سال کے نوجوان کے لیے صالح آصف کو جاننا ضروری ہے. یہ وہ کہانی ہے، جو کہنے جوگی ہے. صالح، عام پاکستانی شکل و صورت کا وہی لڑکا ہے جو چار سال قبل کراچی کی سڑکوں پر موٹر سائیکل دوڑاتا تھا اور آج سلیکون ویلی میں ایک ڈریگن کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہے. صالح کی تصویر ہر پندرہ، بیس سال کے نوجوان کے بیڈروم میں ہونی چاہیے.

یہ 25 سالہ کراچی کا منڈا آرٹییفشل انٹیلیجنس کے دور میں کوڈنگ کا مستقبل بدل رہا ہے. کرسر اے آئی (Cursor ai) ، جس کا وہ کو فاؤنڈر ہے، بلوم برگ کے مطابق اس کی ویلیویشن 10 ارب ڈالرز (جس کے پاکستانی روپے 3،500 ارب اور ساڑھے تین کھرب ہوتے ہیں) لگائی گئی ہے. ہوسکتا ہے آپ نے اس کا نام پہلی دفعہ سنا ہو، آور اسی لیے میں آپ کو اس کی کہانی سنانا چاہتا ہوں کہ مین سٹریم میڈیا بہت سے بکواسی شغلوں میں مصروف ہے. دس ول میک یور ڈے کہ صالح کی سلیکون ویلی میں موجودگی ہم سب کی موجودگی ہے اور وہاں ہمیں دس ہزار صالح آصف مزید بھیجنے کی ضرورت ہے.

صالح آصف کا سفر، جس کا آغاز کراچی سے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بین الاقوامی ریاضیاتی اولمپیاڈ میں شرکت سے ہوا اورMIT میں کمپیوٹر سائنس کی اعلیٰ تعلیم پر ختم ہوا. ریاضی اولمپیاڈ محض ایک اعزاز نہیں تھا، بلکہ یہ سوچ کی وہ تربیت گاہ تھی جو آج اس کے بنائے ہوئے ٹولز کی بنیاد میں نظر آتی ہے۔

سلیکون ویلی، جہاں ہر دوسرا اسٹارٹ اپ دنیا بدلنے کے فلک شگاف نعرے لگاتا ہے، وہاں صالح آصف جیسے نوجوان کی ٹھوس اور گہری سوچ ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ صالح کا مقصد پروگرامرز اور ڈیولپرز کی جگہ لینا نہیں، بلکہ انہیں ایسے پر عطا کرنا ہے جن سے وہ پہلے سے کہیں زیادہ اونچی پرواز کر سکیں!

صالح آصف، سان فرانسسکو میں قائم کمپنی "اینیسفیئر" (Anysphere) کے شریک بانی ہیں، صالح کی کمپنی کا شاہکار، "کرسر" (Cursor)، محض ایک اور کوڈ ایڈیٹر نہیں؛ یہ ایک ایسا ذہین پلیٹ فارم ہے جس کے رگ و پے میں مصنوعی ذہانت کو ایک اضافی تہہ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک بنیادی ڈیزائن اصول کے طور پر سمویا گیا ہے۔ سادہ الفاظ میں، کرسر استعمال کرنے والا ڈیولپر تنہا کوڈ نہیں لکھتا، بلکہ وہ AI ایجنٹس کے ساتھ مل کر، ان کے ساتھ اشتراک کر کے، کام کرتا ہے۔ یہ ایجنٹس نہ صرف اس کے کام کو سمجھتے ہیں، بلکہ پچھلی ترامیم کو یاد رکھتے ہیں، پروجیکٹ کے پیچیدہ ڈھانچے کو سمجھتے ہیں، اور مبہم ہدایات پر وضاحت کے لیے سوالات بھی پوچھ سکتے ہیں!

اور نتیجہ؟ اوپن اے آئی سے لے کر اسٹرائپ جیسی دیو قامت کمپنیوں تک، دنیا کے بہترین انجینئرز خاموشی سے اس نئے نظام پر منتقل ہو رہے ہیں – کسی مارکیٹنگ کے ڈھول کی وجہ سے نہیں، بلکہ نتائج کی بنیاد پر ۔ یہ محض ایک معمولی بہتری نہیں، بلکہ یہ انسان اور AI کی شراکت داری کے اس نئے دور میں ڈیولپر ٹولز کا ایک نیا جہان آباد کرنا ہے.

صالح کو آپ اس لیے نہیں جانتے کہ وہ سوشل میڈیا، ٹک ٹاک اور پی آر کی بجائے اصل کام پر دھیان دے رہا ہے اور 25 سال کی عمر میں دنیا کی ایک دیوہیکل مشین کی بنیاد رکھ رہا ہے، صالح کی کہانی اوروں کو بھی سنائیں کہ صالح کی شکل میں ہمیں مستقبل کا پاکستان نظر آرہا ہے.

جیو صالح - جیو پاکستان!

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Prisoner's Welfare Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share