Weish-D

Weish-D WEISH-D came into being with a mission of Human Development and community building.

08/06/2025
08/06/2025

قانونی مشورے اور قانونی معلومات کے درمیان فرق

1. قانونی مشورہ:
* **ذاتی رہنمائی**:
قانونی مشورہ ایک فرد کی مخصوص صورتحال کے مطابق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
* **پیشہ ورانہ رائے**:
یہ ایک وکیل کا قانون کی تشریح، اسے مخصوص حقائق پر لاگو کرنا، اور اس پر عمل کرنے کی سفارشات پیش کرنا شامل ہے۔
* **موکل کا تعلق**:
قانونی مشورہ عام طور پر وکیل-موکل تعلق قائم کرتا ہے، جو وکیل کے لیے رازداری اور اخلاقی ذمہ داریوں کو جنم دیتا ہے۔
* **فیصلہ سازی**:
یہ قانونی فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور اکثر حکمت عملی پر غور کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، کسی کو مقدمہ دائر کرنے کے بارے میں مشورہ دینا، کسی مخصوص صورتحال کے لیے معاہدے کی شرائط کی تشریح کرنا، یا قانونی تنازعہ کو کیسے سنبھالنا ہے۔

2. قانونی معلومات:
* **عام معلومات**:
قانونی معلومات قانون اور قانونی عمل کے بارے میں عمومی حقائق فراہم کرتی ہیں بغیر انہیں کسی فرد کی مخصوص صورتحال کے مطابق بنائے۔
* **تشریح نہیں**:
اس میں قانون کی تشریح یا کسی کو کیا کرنا چاہیے اس پر رائے شامل نہیں ہوتی۔
* **کوئی موکل کا تعلق نہیں**:
قانونی معلومات کا اشتراک وکیل-موکل تعلق قائم نہیں کرتا۔
یہ عوام کو آگاہ کرنے اور لوگوں کو قانونی اصولوں اور طریقہ کار کو سمجھنے میں مدد دینے کے لیے ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، کسی معاہدے کی وضاحت کرنا، دیوالیہ پن کے لیے فائل کرنے کے مراحل کا خلاصہ دینا، یا کرایہ داروں کے بنیادی حقوق کا خاکہ پیش کرنا۔

اس طرح، قانونی مشورہ مخصوص اور ذاتی نوعیت کا ہوتا ہے، جس کے لیے قانونی مسائل کا پیشہ ورانہ جائزہ ضروری ہوتا ہے، جبکہ قانونی معلومات عمومی اور تعلیمی ہوتی ہیں، جن کا مقصد افراد کو قانون سمجھنے میں مدد دینا ہوتا ہے۔
For legal advice please contact
03474381909

08/06/2025

خلع کی صورت میں شوہر پر مہر کی ادائیگی کا حکم

سوال

خلع لینے پر حق مہر شوہر کو ادا کرناپڑےگا کیا؟

جواب

واضح رہے کہ خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر میاں بیوی کی رضامندی سے خلع ہوا تو اس میں جو عوض طے ہو وہی بیوی پر شوہر کو ادا کرنا ذمے میں لازم ہوگا، اگر خلع مہر کے عوض ہوا ہو اور شوہر نے اب تک مہر ادا نہ کیا ہو تو شوہر پر مہر ادا کرنا لازم نہیں ہوگا اور اگر شوہر نے مہر ادا کر دیا ہو تو بیوی پر صرف شوہر کا ادا کیا ہوا مہر لوٹانا ضروری ہو گا، ورنہ جس چیز کے عوض خلع کیا گیا ہو اس کی ادائیگی بیوی کے ذمے لازم ہو گی۔
اسی طرح شوہر اگر خلع قبول کرلے، اور اس کے باوجود مہر ادا کردے یا دیا ہوا مہر واپس نہ لے تو یہ اس کا اختیار ہے، بغیر عوض لیے بھی خلع ہوجائے گا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.
إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.
وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان."
(کتاب الطلاق , الباب الثامن فی الخلع وما فی حکمه جلد 1 ص: 488 ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144410100896

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

08/06/2025

PLD 2024 SC 291

ایسا اقرار نامہ جو والدہ کے اپنے بچوں کے حق حضانت سے دستبرداری کی بابت ہو سراسر غیر قانونی ہے
The delivery of Mahr is one such right, the dutY of which is bestowed upon the husband for the financial support and stability of his wife. Such entitlement to dower has the origin in the HoIy Quran, and the inspiration of the same entitlement has been made part of the statutory law.

Para 352 (5) of the Muhammadan Law provides that the mother is entitled to the custody (Hizanat) of her male child until he has completed the age of seven years and of her female child until she has attained puberty. These rights cannot be denied to her as any such action would be contrary to law. Any agreement related to the custody of minor child would be violative of law and cannot be enforced by a Court of law. This Court in a reported case titled Mst. Beena v. Raja Muhammad and others [PLD 2020 SC 508], at paragraph 8, held that the agreement where mother surrendered the custody of her child or the agreement which stopped the mother to claim his custody is not lawful; it is contrary to the Islamic principles governing Hizanat and the law determining the custody of minors and thus forbidden. An agreement the object or consideration of which is against public policy is void, as stipulated in section 23 of the Contract Act.

It is imperative that the wife must be made a party to the agreements concerning her rights. A wife enjoys exclusive and absolute right over her dower and the same could not be waived via lqrarnama/ Agreement/Compromise and any such document, registered or unregistered, attempting to compromise the wife’s right to dower, especially in the context of familial dissolution, lacks legal validity. Further, any Iqrarnama/ Agreement/Compromise made by the mother waiving her statutory right of Hizanat of a minor child would be violative of law and cannot be enforced by a Court of law.

Family/Maintenance Allowance
C.A.1227/2016
Mst. Haseena Bibi v. Abdul Haleem & others

Address

Power Market, G10/4
Islamabad
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Weish-D posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Weish-D:

Share