16/09/2026
فیڈرل گورنمنٹ ہاؤسنگ اتھارٹی کے ذمہ داران سے ایک دوٹوک اور نہایت اہم گزارش:
آپ نیلامیاں کریں، آمدن کے ذرائع پیدا کریں، پراپرٹیز فروخت کریں اور اپنے مالی معاملات چلائیں، یہ سب اپنی جگہ۔ لیکن خدا کے لیے G-14/1 سیکٹر کے بزرگ الاٹیز کو بھی یاد رکھیں۔ ان کے حق، ان کی عمر اور ان کے بائیس سالہ انتظار کا بھی کچھ خیال کریں۔
G-14/1 کے وہ الاٹیز جو آج ستر، پچھتر اور اس سے بھی زیادہ عمر کے ہو چکے ہیں، وہ اب آپ کے دفاتر کے چکر لگانے، دروازوں پر دستک دینے اور آپ کے وعدوں کے پیچھے بھاگنے کی حالت میں نہیں۔ ان لوگوں نے اپنی زندگی کا ایک قیمتی حصہ اپنے حق کے انتظار میں گزار دیا ہے۔
یہ بزرگ آپ کے لیے بددعائیں نہیں مانگتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ آپ کو ہدایت دے، آپ کے دلوں میں احساس پیدا کرے اور آپ کو توفیق دے کہ آپ ان بزرگ لوگوں کا بائیس سالہ پرانا حق انہیں ان کی زندگی میں دے سکیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟
جب نیلامیوں کی بات آتی ہے تو راستے نکل آتے ہیں۔ جب پراپرٹیز فروخت کرنی ہوں تو طریقہ کار موجود ہوتا ہے۔ جب آمدن حاصل کرنی ہو تو فیصلے بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب ہزاروں الاٹیز کو ان کا جائز حق دینے کی بات آتی ہے تو فائلیں، کمیٹیاں، وعدے، تاخیر اور نئے جواز سامنے آ جاتے ہیں۔
کیا G-14/1 کے الاٹیز کا حق آپ کی ترجیحات میں شامل نہیں؟ کیا ان کا بائیس سالہ انتظار آپ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا؟
اگر G-14/1 کی ترقی میں کوئی قانونی، انتظامی یا مالی رکاوٹ ہے تو اسے واضح طور پر عوام کے سامنے لایا جائے۔ اگر کوئی رکاوٹ نہیں تو پھر عملی پیش رفت کیوں نہیں ہو رہی؟
اور اگر کسی بااثر شخص، سیاسی دباؤ یا کسی مفاداتی گروہ کی وجہ سے یہ معاملہ رکا ہوا ہے تو ذمہ داران کو اس بارے میں بھی واضح جواب دینا چاہیے۔ ہزاروں الاٹیز کے حق سے بڑھ کر کسی فرد، گروہ یا مفاد کی اہمیت نہیں ہونی چاہیے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ G-14/1 کے یہ بزرگ الاٹیز اپنی زندگی کے آخری ایام بھی اسی انتظار میں گزار دیں؟ کیا ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کے حق کی باری آئے گی؟
خدارا، اس معاملے کو محض وعدوں، یقین دہانیوں اور رسمی کارروائیوں تک محدود نہ رکھیں۔
G-14/1 کوئی بھولی ہوئی فائل نہیں ہے۔ یہ ہزاروں خاندانوں کی جمع پونجی، ان کی زندگی بھر کی امید اور ان کا جائز حق ہے۔
آپ لوگ بھی اس دنیا سے جانے والے ہیں۔ ایک دن ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ اس وقت یہ سوال بھی ہوگا کہ جن لوگوں کا حق آپ کے اختیار میں تھا، ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
لہٰذا اب ہمیں صرف زبانی وعدے نہیں چاہییں۔ ہمیں واضح جواب چاہیے:
G-14/1 کی ترقی میں اصل رکاوٹ کیا ہے؟
اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے اب تک کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں؟
ترقیاتی کام کب شروع ہوں گے؟
اور الاٹیز کو واضح اور قابلِ عمل ٹائم لائن کب دی جائے گی؟
ہم کسی احسان یا خیرات کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ ہم اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بالخصوص ان بزرگ الاٹیز کے لیے جو ستر، پچھتر اور اس سے بھی زیادہ عمر کے ہو چکے ہیں اور جنہوں نے اپنی زندگی کے بائیس سال اس انتظار میں گزار دیے ہیں۔
خدارا G-14/1 کو مزید نظرانداز نہ کریں۔ اب وعدے نہیں، عملی اقدام چاہیے۔ اب تسلی نہیں، واضح ٹائم لائن چاہیے۔
G-14/1 کے بزرگ الاٹیز کو ان کی زندگی میں ان کا حق دیں۔