03/07/2026
پاکستان کا تعلیمی بحران اسکول کی بنیادی سطح سے شروع ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں **2 کروڑ 60 لاکھ (26 ملین)** بچے اسکول نہیں جا رہے۔ ریاضی (Maths) میں بچوں کی کارکردگی 50 فیصد سے بھی کم ہے، اور 10 سال کے ہر 10 میں سے 7 بچے ایک سادہ جملہ تک پڑھنے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ، 37 فیصد بچے ناقص غذائیت کی وجہ سے جسمانی و ذہنی نشوونما میں پیچھے رہ جاتے ہیں، جس کا اثر ان کی سیکھنے کی صلاحیت پر براہِ راست پڑتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم راجن پور کے ایک گاؤں میں رہنے والے بچے کو وہی نصاب اور اسی مشکل زبان میں پڑھا رہے ہیں جو لاہور یا اسلام آباد کے بچے کو پڑھایا جاتا ہے، اور اسے ہم "مساوات" کا نام دیتے ہیں۔
حقیقی مساوات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بچوں کو وہاں سے پڑھانا شروع کریں جہاں وہ کھڑے ہیں، نہ کہ یہ فرض کر لیں کہ سب کے حالات اور سہولیات ایک جیسی ہیں۔
اگرچہ تعلیم اب صوبوں کے پاس ہے، لیکن اختیارات کی منتقلی صرف صوبائی سطح تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ نصاب، زبان، اور پڑھانے کا طریقہ کار بچے کی مقامی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے، اور اس کے نفاذ کی ذمہ داری ان مقامی حکومتوں کے پاس ہونی چاہیے جو اپنے علاقے کے حالات اور مشکلات کو زمینی سطح پر سمجھتی ہیں۔