Suleman Zaffar

Suleman Zaffar Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Suleman Zaffar, Nonprofit Organization, Islamabad.

.   *وہـی رسـی وہـی مـکـان* ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ--»»   ( مـکافـاتِ عـمـل)   ««--اس کی ما...
24/03/2026

. *وہـی رسـی وہـی مـکـان*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
--»» ( مـکافـاتِ عـمـل) ««--

اس کی ماں بار بار مجھ سے اجازت مانگ رہی تھی کہ وہ اپنے بچے کو پانی پلا لے ؟ مگر مجھے پتہ نہیں کس بات کا غصہ تھا میں نے اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑا اور جھٹک کر دیوار پہ دے مارا تھا اسے کہا تھا کہ تمہارا بچہ مر نہیں جائے گا وہ سہم کر واپس چلی گئی تھی میں اس دس گیارہ سال کے بچے کو دوبارہ جوتوں کے ساتھ مارنے لگ گیا تھا بچہ درد کی شدت سے بار بار اپنی ماں کو پکار رہا تھا اس کی ماں بے بس تھی کیونکہ وہ میری ذاتی ملازمہ تھی وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی جب اسے اور کی صورت نظر نہ ائی تو اس نے اپنے بچے سے کہا تھا کہ بیٹا اللہ کو پکارو اللہ تمہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے اور خود جھاڑو دینے لگ گئی تھی بچہ مار سہتے سہتے بے ہوش ہو گیا مگر اس کی ماں پر میں جو دھاڑا تھا اس دھاڑ کا اتنا اثر باقی تھا کہ اس کی ماں اب بھی پانی لے کر نہیں ائی تھی میں تسلی سے اٹھا تھا بچے کو گھسیٹ کر ایک کمرے میں پھینکا تھا اس کمرے میں پہلے چھت سے میں نے رسی لٹکا رکھی تھی عموما اس سے کوئی نہ کوئی چیز بندھی رہتی تھی لیکن اج میں نے اس ہوش و حواس سے عاری بچے کو اس کے ساتھ باندھ کر لٹکایا اور خود باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔

میرا نام بخت جمال تھا اور میرے نام کی تاثیر مجھ میں بہت زیادہ تھی میری قسمت بہت اچھی تھی اور حسن بھی مجھ پہ کمال کا تھا میری جوانی پہ مجھ پر میرے گاؤں کی کئی لڑکیاں دیوانی تھیں اگر بخت کی بات کی جائے تو میرے پاس میرے والد صاحب کی سینکڑوں ایکڑ زمین ائی تھی اور میری والدہ کو بھی میرے ننہیال کی طرف سے بیسیوں ایکڑ ملے تھے اس کے علاوہ میرے والد صاحب نے ایک چھوٹی سی کنسٹرکشن کمپنی میں بھی حصہ ڈال رکھا تھا میرے والد صاحب کا انتقال ہونے کے بعد یہ سب کچھ میرے ہاتھ ا گیا تھا مجھے کاروبار سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی میرے پاس زمین جائیداد اتنی تھی میں اپنی کھیتی بڑی کا ہی کام کرتا تھا اس کے علاوہ میں نے کاروبار کے لیے کچھ پالتو جانور رکھ دیے تھے پھر اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے میں نے دودھ کا کام بنا دیا اللہ تعالی نے مجھے اس سے بھی بہت منافع دیا تو اس کے بعد میں نے گوشت کے لیے بھی جانوروں کو پالنا شروع کر دیا اگر بات روپے پیسے کی کی جائے تو میں اسان الفاظ میں اپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ مجھے ایک گاڑی پسند ا گئی تھی اس گاڑی کے لیے میں نے ایک بھی پیسہ اپنے اکاؤنٹس یا گھر سے نہیں لیا تھا میرے پاس اتنے جانور تیار کھڑے تھے جن کو بیچ کر میں نے وہ گاڑی خرید لی تھی یوں ہی مجھے جب بھی کوئی بڑی ضرورت پیش ائی میں نے ہمیشہ اپنا کوئی نہ کوئی جانور بیچ دیا مجھے کبھی اپنی محفوظ کی گئی رقم سے پیسہ لگانے کی ضرورت نہیں پڑی اس سے اپ اندازہ لگا لیں کہ مجھ پر اللہ تعالی کا کتنا کرم تھا لیکن مجھ میں ایک خامی تھی ایک نقص تھا کہ میں ظالم تھا میں لوگوں کو اذیت میں دیکھ کر لذت محسوس کرتا تھا اج ہی کا واقعہ دیکھ لیں کہ

میرے گھر میں ایک بیوہ عورت ملازمہ کے طور پہ کام کرتی ہے اس کا ایک چھوٹا سا بچہ ہے جس کو زیادہ تر وہ گھر چھوڑ کر اتی ہے اگر کبھی گھر میں کام زیادہ ہو تو وہ اس بچے کو لے کر اتی ہے وہ بھی ہمارے کہنے پر کیونکہ بوقت ضرورت ہم خود اس بچے کو بلوا لیتے تھے وہ پیغام رساں کا کام کرتا ہے کسی ملازم کو بلانا ہو کہیں سے کوئی برتن وغیرہ اٹھوانا ہو یا کسی ملازم کو کوئی پیغام بھجوانا ہو تو ہم اس بچے کو کہہ کر بھیج دیتے ہیں اور عام طور پر ایسا خوشی غمی پر یا کسی بھی فنکشن کے موقع پہ کرنا پڑ جاتا ہے
نہ جانے اج کیوں وہ بچہ اپنی ماں کے ساتھ ہمہارے گھر ایا ہوا تھا اس کی ماں جب گھر کے کام کاج کر رہی تھی تو اس بچے کی نظر میری اولاد کے کھلونا پر پڑ گئی اس نے ان میں سے خوبصورت سا کھلونا اٹھا لیا اور اس کے ساتھ کھیلتے کھیلتے اسے توڑ دیا جب میرے بچوں نے ٹوٹا ہوا کھلونا دیکھا تو وہ رونے لگے اپنے بچوں کو روتا دیکھ کر مجھے ملازمہ کے اس بیٹے پہ بہت غصہ ایا میں نے اسے پکڑ کر مارنا شروع کر دیا میری ملازمہ نے ایک دو بار مجھے روکنا چاہا مگر جب اسے میرے لہجے کا اندازہ ہو گیا تو وہ خاموش ہو گئی اس کا بچہ جب اسے روتے ہوئے پکار رہا تھا تو اس نے صرف اتنا اپنے بچے سے کہا تھا کہ اللہ تعالی کو پکارو اور وہ خود چپ چاپ اپنا کام کرنے لگی تھی میں جب بچے کو مار مار کے تھک گیا تو وہ بے ہوش ہو چکا تھا میں نے اسے رسی کے ساتھ بند کمرے میں لٹکایا اور گھر سے چلا گیا
میں باہر اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا میرے ذہن سے یہ بات نکل گئی کہ میں اس بچے کو گھر کے کمرے میں لٹکا کر ایا ہوں جب میرے ذہن میں یہ بات ائی تو میں گھر کے لیے چل پڑا اور سوچا کہ گھر جا کر ایک بار پھر اس بچے کو ماروں پیٹوں گا سزا دوں گا اور پھر چھوڑ دوں گا لیکن جب میں گھر ایا تو تب بھی وہ بچہ رسی سے الٹا لٹکا ہوا تھا اور اس کی سانس رکی ہوئی تھی میں نے رسی کو اچانک ڈھیلا کیا بچہ دھڑام سے زمین پہ گرا اس کی ماں جو میرے انتظار میں بیٹھی تھی کہ میں کب اؤں گا اور کمرے کا دروازہ کھولوں گا تو وہ اپنے بچے کو مل سکے گی وہ دوڑ کر پانی لائی مگر شاید اب اس کے بچے کی پیاس بجھ چکی تھی اس نے اپنے بچے کے منہ میں پانی ڈالنا چاہا مگر وہ پانی واپس باہر کو نکل ایا اس نے مجھے کہا کہ بچے کو دیکھیں یہ پانی کیوں نہیں پی رہا تب مجھے بھی اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا لیکن میں اب بھی معاملے کو دبانا چاہتا تھا لہذا اسے جھڑک دیا اور کہا کہ تیرے سر سے یہ بوجھ ہٹ گیا ہے اس نے صرف اتنا کہا کہ اولاد بوجھ نہیں ہوتی اور رونے لگی میں ایک بار پھر اس پر چیخا چلایا اور دھاڑا میں نے کہا کہ تمہارے لیے یہ بوجھ ہی تھا اگر میں تمہارے ساتھ تعاون نہ کروں تو تم اسے دفن بھی نہیں کر سکتی کیونکہ مجھے اس کی مالی حیثیت کا اندازہ تھا وہ ماں تھی اپنے انسوؤں پہ قابو نہ رکھ سکی مگر خاموش ہو گئی میں نے اس پر یہ احسان کیا کہ اس کے بچے کی تدفین کا انتظام کروا دیا اور مشہور کروا دیا کہ اس کا بچہ میرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اچانک گرا اور شاید سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے مر گیا میرے خوف سے اس نے کسی شخص کو حقیقت نہ بتائی اپنی اولاد کے انتقال کے صرف ایک ہفتہ بعد دوبارہ وہ کام پر آ گئی وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا میں اس واقعہ کو بھول گیا مگر شاید میری تقدیر نہیں بھولی تھی میری اولاد جوان ہو گئی

میرے بیٹے کو ہمارے علاقے کی کوئی لڑکی پسند اگئی جو خاندانی طور پر ہمارے برابر کی نہیں تھی میں نے اپنے بیٹے کو شادی سے منع کر دیا میرے بیٹے کو میرا منع کرنا اتنا برا لگا کہ میرے بیٹے نے مجھے اسی طرح مارا جس طرح میں نے اس معصوم بچے کو مارا تھا کتنی دہائیوں بعد وقت بدلا تھا تب وہ بچہ کمزور تھا اور اج میں کمزور تھا تب اس بچے کی ماں بے بسی سے دیکھ رہی تھی اور اج میری بیوی مجھے میرے بیٹے کے ہاتھوں پٹتے ہوئے بے بسی سے دیکھ رہی تھی میری بیوی نے ایک بار میرے بچے کو روکنے کی کوشش کی تھی تو میرے بیٹے نے دھاڑتے ہوئے اسے دھکا دے کر دیوار سے لگا دیا تھا سب کچھ ویسا ہی تھا بس رسی بدل گئی تھی میرے بیٹے نے مجھے مار مار کر بیہوش کر دیا جب میں بے ہوش ہو گیا تو اسی رسی سے لٹکا دیا تھا مگر اب وہ رسی بدل چکی تھی جگہ اور مقام وہی تھا کمرہ وہی تھا جب مجھے وہاں لٹکایا گیا تو پتہ نہیں کتنی دیر میں بھی بے ہوش وہاں لٹکا رہا ہوں گو کہ اس بچے پر تقدیر کو رحم اگیا تھا مگر مجھ پر نہیں ایا وہ بچہ مر گیا تھا مگر میں زندہ رہا میرے بیٹے نے ا کر مجھے رسی سے اتارا اور ایک بار پھر مارا پیٹا پھر نہ جانے کس کے کہنے پر اس نے میری جان بخش دی مجھے میرے ایک ملازم کے حوالے کر دیا اور میرا ملازم مجھے اپنے گھر لے گیا اس کے بعد پلٹ کر میرے بیٹے نے کبھی میری خبر نہیں لی میرا میرے ملازمین کے ساتھ جیسا رویہ تھا اس کے عین مطابق میرا ملازم بھی مجھ پر کوئی توجہ نہیں دیتا کیونکہ میرے بیٹے نے کبھی میرے بارے میں نہیں پوچھا البتہ میں اج بھی زندہ ہوں اسی ملازم کے گھر رہتا ہوں میں اس کا اتنا شکر گزار ہوں کہ وہ مجھے دن میں ایک یا دو وقت روٹی دے دیتا ہے چند دن پہلے میں نے اپنے اس ملازم سے کہا تھا کہ مجھ سے روٹی نہیں چبائی جاتی تو اس نے میرا ہی جوتا اٹھا کے میرے منہ پہ مارا تھا اس کے بعد کبھی میں کچھ شکایت نہیں کر پایا میں نے زندگی میں جتنے ظلم کیے ان سب کا مکافات عمل دیکھ رہا ہوں اور پتہ نہیں مجھے کتنا دیکھنا ہے لیکن میں اپنے پڑھنے والوں کو یہ ضرور بتانا چاہوں گا اپ پر جتنا بھی اچھا وقت ا جائے آپ طاقتور ہو جاؤ مگر کبھی کسی پر ظلم نہ کرنا اپ میں جتنی بھی اچھائیاں ہوں گی اگر اپ ظالم ہوں گے تو وہ اپ کے ظلم کے سامنے ماند پڑ جائیں گی

اختتام

WhatsApp Group Invite

21/02/2026

Mini jecket Rabbit's 🐇 Available.

21/02/2026

Mini jecket rabbit available.

21/02/2026

*اللّٰھُمَّ بَلِغْنَا رَمَضَانْ بِالصَّحَتہ وَالعَافِیَتہ وَالإِیمَان* اے اللہ ! ہمیں رمضان تک پہنچا، صحت کے ساتھ ، اور ...
19/02/2026

*اللّٰھُمَّ بَلِغْنَا رَمَضَانْ بِالصَّحَتہ وَالعَافِیَتہ وَالإِیمَان*

اے اللہ ! ہمیں رمضان تک پہنچا، صحت کے ساتھ ، اور عافیت و ایمان کے ساتھ

اپنے گھروں کو "بڑا" کیجیےگھر کو بڑا کرنے کا مطلب دیواریں گرانا یا نیا فلور بنانا نہیں ہے، بلکہ اسے انوارِ الٰہی سے بھر د...
31/01/2026

اپنے گھروں کو "بڑا" کیجیے

گھر کو بڑا کرنے کا مطلب دیواریں گرانا یا نیا فلور بنانا نہیں ہے، بلکہ اسے انوارِ الٰہی سے بھر دینا ہے۔ جب کسی گھر میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے، تو:
*فرشتوں کا نزول:* فرشتے اس گھر میں ڈیرے ڈال لیتے ہیں اور شیاطین وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔
*آسمانی چمک:* جس طرح زمین والوں کو آسمان کے ستارے چمکتے نظر آتے ہیں، اہل آسمان (فرشتوں) کو وہ گھر زمین پر ستاروں کی طرح چمکتے نظر آتے ہیں جن میں قرآن پڑھا جاتا ہے۔
*وسعتِ رزق و برکت:* تلاوتِ قرآن سے گھر کی برکت میں اتنا اضافہ ہوتا ہے کہ تھوڑی چیز بھی سب کے لیے کافی ہو جاتی ہے اور دلوں کی تنگی ختم ہو کر وہاں فراخی پیدا ہو جاتی ہے۔
*ایک خوبصورت نصیحت*
اپنے گھروں کو صرف اینٹ گارے کا ڈھیر نہ بننے دیں بلکہ انہیں "زندہ" رکھیں۔ روزانہ کی بنیاد پر قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام کریں، چاہے وہ چند آیات ہی کیوں نہ ہوں۔ یاد رکھیے! جس گھر سے تلاوت کی آواز بلند ہوتی ہے، اس گھر کی دیواریں نہیں، بلکہ اس کے رہنے والوں کے نصیب بلند ہو جاتے ہیں۔
*آئیے عہد کریں:* ہم اپنے گھروں کو ذکرِ الٰہی سے منور کر کے انہیں واقعی "بڑا" بنائیں گے۔

 ゚viralシ
10/01/2026

゚viralシ

09/01/2026

کسی کو گناہ کرتے دیکھے تو نہایت متانت اور نرمی کے ساتھ اسے منع کرے اور اسے اچھی طرح سمجھائے۔ پھر اگر اس طریقہ سے کام نہ چلا وہ شخص باز نہ آیا تو اب سختی سے پیش آئے ۔ اس کو سخت الفاظ کہے مگر گالی نہ دے، نہ فحش لفظ زبان سے نکالے اور اس سے بھی کام نہ چلے تو جو شخص ہاتھ سے کچھ کر سکتا ہے کرے مثلاً وہ شراب پیتا ہے تو شراب بہادے برتن توڑ پھوڑ ڈالے۔ گانا بجاتا ہے تو باجے توڑ ڈالے ۔
(عالمگیری)

لوگ بدلنے لگے ہیں لیکن بہتر نہیں  اب سچ بولنے والا بیوقوف لگتا ہے  اور جھوٹ بولنے والا سمجھدار* ہم سب معاشرے کو بہتر دیک...
08/01/2026

لوگ بدلنے لگے ہیں لیکن بہتر نہیں
اب سچ بولنے والا بیوقوف لگتا ہے
اور جھوٹ بولنے والا سمجھدار*

ہم سب معاشرے کو بہتر دیکھنا چاہتے ہیں
مگر خود کو بہتر بنانے کا جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے

آئیے ہم وہ نہ بنیں جو صرف دوسروں کو سنوارنے کی بات کرے
بلکہ وہ بنیں جو اپنے عمل سے مثال بن جائے.

14/10/2025

*اپنی بیٹی ہو یہ بیٹا کو کبھی* *کسی سہیلی کے گھر نہ چھوڑو*
*نہ پڑھائی کے بہانے نہ دوستی کے نام پر*

▪️ *اپنے بیٹے کو ایسا موبائل مت دو جس کا استعمال تم خود نہیں جانتے*

▪️اپنے بچوں سے پہلے کبھی مت سو جانا
▪️جب تک وہ سو نہ جائیں تم جاگتے رہو

▪️رات کے دس بجے سے زیادہ کا وقت گھر سے باہر رہنے کی اجازت مت دو
یہی حد ہونی چاہیے

▪️اپنے بچوں کو سکھاؤ کہ صبح فجر کیلئے اٹھنا زندگی کی عادت ہے نہ کہ سزا

▪️اپنی بیوی کی عزت بچوں کے سامنے کبھی نہ توڑو
ورنہ وہ اس کی نہیں اپنی ماں کی قدر کھو دیں گے

▪️آج کل کے کیفے اور کھیل کے میدان اکثر بگاڑ کے اڈے بن چکے ہیں
▪️اپنے بچوں کو اکیلا وہاں نہ بھیجو
ان کے ساتھ رہو ان کی نگرانی کرو

▪️اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری بیٹی کسی غیر کے میٹھے لفظوں میں نہ بہکے
تو خود اسے سب سے پہلے پیار اور تعریف دو
تاکہ وہ کسی باہر والے سے یہ تلاش نہ کرے

▪️بیٹی تمہارا سکون اور تمہاری پناہ ہے
اس پر سختی مت کرو
ماں کو تربیت کرنے دو اور خود رہنمائی اور محبت کا کردار ادا کرو

▪️بیٹے کا دوست اس کا مستقبل ہے
اس کے دوستوں کے انتخاب میں خود شریک رہو چاہے دخل دینا پڑے

▪️تمہارے بیٹے یا بیٹی کے موبائل کا پاس ورڈ تمہیں معلوم ہونا چاہیے
*یہ بدگمانی نہیں بلکہ حفاظت ہے*

▪️ان کے فون اور سوشل میڈیا پر اچانک نظر ڈالنا کبھی کبھار ضروری ہے
*مگر ایسا خفیہ رکھو تاکہ اعتماد قائم رہے*

▪️بچوں کے ساتھ دوستی رکھو
زیادہ سختی سے وہ دور بھاگتے ہیں
مگر عزت اور ادب کی لکیر ہمیشہ واضح رکھو

▪️اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری بیٹی پڑھائی میں کامیاب ہو
*تو اسے ہمیشہ حوصلہ دو*
*کیونکہ لڑکیوں کے لیے حوصلہ ہی دوا ہے*
*انہیں مارنا نہیں محبت سے سوارنا ہے*

▪️یاد رکھو تم اپنی فیملی کے لیے جیتے ہو
تو فیملی کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لو
▪️اپنے بچوں کو ایسے تربیت دو کہ وہ تمہاری زندگی کے بعد بھی تمہارا صدقہ جاریہ بن جائیں
اور لوگ تمہیں تمہاری اچھی اولاد کے اخلاق سے پہچانیں

اللہم صل وسلم وبارك على سيدنا محمد

*بچوں کو وقت دو کیونکہ کل وقت تمہیں بچے نہیں دے گا*

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Suleman Zaffar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Suleman Zaffar:

Share