Legal Talk

Legal Talk Legal Services| Legal Awareness| Social justice|Empower voice for young lawyers

06/07/2026

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ حکومت عوامی مفاد میں مالک کی رضامندی کے بغیر بھی زمین حاصل کر سکتی ہے،

تاہم یہ اختیار آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت محدود ہے۔ عدالت نے کہا کہ زمین کے مالک کو منصفانہ معاوضہ دیا جانا چاہیے، جو صرف سرکاری ریٹ نہیں بلکہ مارکیٹ ویلیو، ممکنہ استعمال اور مستقبل کی ترقی کو مدنظر رکھ کر طے کیا جائے۔

فیصلے کے مطابق اگر زمین کے حصول میں تاخیر ہو تو افراطِ زر اور قیمتوں میں اضافے کو بھی معاوضے میں شامل کیا جائے۔ یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔

05/07/2026

فوت شدہ شخص کے خلاف دائر مقدمہ ابتدا ہی سے باطل، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی سول مقدمہ ایسے شخص کے خلاف دائر کیا جائے جو مقدمہ دائر ہونے سے پہلے ہی وفات پا چکا ہو، تو ایسا مقدمہ قانون کی نظر میں ابتدا ہی سے باطل (Void Ab Initio)، غیر مؤثر (Nullity) اور Still Born Suit ہوتا ہے۔ بعد میں قانونی ورثاء کو فریق بنانے سے بھی یہ بنیادی قانونی نقص دور نہیں کیا جا سکتا۔

مقدمے میں مدعیان نے 2 ستمبر 1996 کو معاہدہ بیع کی بنیاد پر تعمیلِ مختص (Specific Performance) کا دعویٰ دائر کیا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ مدعا علیہ عبدالعزیز تو تقریباً سات سال پہلے، 6 دسمبر 1989 کو وفات پا چکے تھے۔ اگرچہ بعد ازاں ان کے قانونی ورثاء کو مقدمے میں شامل کیا گیا اور ٹرائل و اپیلیٹ عدالتوں نے مدعیان کے حق میں فیصلہ دیا، لیکن لاہور ہائیکورٹ نے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ وفات کے بعد کسی شخص کی قانونی شخصیت (Juristic Personality) ختم ہو جاتی ہے، اس لیے نہ اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی قانونی کارروائی کا فریق بن سکتا ہے۔ جب مقدمہ ہی ایک فوت شدہ شخص کے خلاف دائر کیا گیا ہو تو عدالت کے سامنے کوئی قانونی تنازع (Lis) وجود میں نہیں آتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر مدعی کو اس وقت یہ علم نہ بھی ہو کہ مدعا علیہ فوت ہو چکا ہے، تب بھی اس کی لاعلمی مقدمے کو قانونی حیثیت نہیں دیتی۔ عدالت کا دائرۂ اختیار (Jurisdiction) فریقین کی معلومات پر نہیں بلکہ مقدمہ دائر ہونے کے وقت موجود قانونی حقائق پر منحصر ہوتا ہے۔

فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ آرڈر I رول 10 اور آرڈر XXII ضابطہ دیوانی (CPC) صرف ان مقدمات پر لاگو ہوتے ہیں جو ابتدا ہی سے قانونی طور پر درست دائر کیے گئے ہوں۔ یہ دفعات کسی ایسے مقدمے کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتیں جو ابتدا ہی سے مردہ شخص کے خلاف دائر کیا گیا ہو۔

عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے موت کے سرٹیفکیٹ اور آرڈر VII رول 11 CPC کے تحت اٹھائے گئے بنیادی قانونی اعتراض کو نظر انداز کر کے قانونی غلطی اور اختیار کے غلط استعمال کا ارتکاب کیا۔ ایسے حالات میں ہائیکورٹ کو متفقہ (Concurrent) فیصلوں میں بھی مداخلت کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔

اہم قانونی اصول: اگر کوئی مقدمہ ایسے شخص کے خلاف دائر کیا جائے جو پہلے ہی وفات پا چکا ہو، تو وہ مقدمہ ابتدا ہی سے قانوناً وجود نہیں رکھتا۔ بعد میں قانونی ورثاء کو شامل کرنے سے بھی اس بنیادی نقص کا ازالہ نہیں ہو سکتا، اور ایسا مقدمہ ناقابلِ سماعت قرار دیا جائے گا۔

02/07/2026

Muhammad Dilawar vs State – 2026 PCrLJ 824
مقتول کی لاش کی شناخت ثابت نہ ہونا –

1. کیس کا پس منظر
- ملزمان پر شکایت کنندہ کے بھائی کے قتل کا الزام تھا۔

2. لاش کی برآمدگی اور پوسٹ مارٹم
1. پولیس نے مقتول کی لاش 03.11.2019 کو برآمد کی۔
2. اسی دن لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کر دیا گیا۔
3. شکایت کنندہ کو اطلاع اور شناخت کا طریقہ*
1. شکایت کنندہ اور گواہ کو مقتول کی موت کا علم 16.11.2019 کو ہوا، جب وہ تھانے گئے۔
2. انہوں نے پولیس ریکارڈ میں موجود تصویروں سے مقتول کی شناخت کی۔
3. اسی دن شکایت کنندہ نے تحریری درخواست دی جس کی بنیاد پر FIR درج ہوئی۔
4. استغاثہ کی کمزوریاں*
1. تدفین تسلیم شدہ بات ہے کہ مقتول کی لاش پولیس کی نگرانی میں دفن کی گئی تھی۔
2. *شناخت کی کوشش نہ ہونا:* استغاثہ نے کسی بھی طریقے سے لاش کی شناخت کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔
3. *ٹھوس شہادت نہ ہونا:* لاش کی شناخت کے متعلق کوئی ٹھوس اور پختہ شہادت ریکارڈ پر نہیں لائی گئی کہ یہ لاش مقتول کی ہی تھی یا کسی اور کی۔
5. عدالت کے نتائج
1. *سنی سنائی شہادت:* شکایت کنندہ اور گواہ کی پوری کہانی سنی سنائی باتوں پر مبنی تھی۔
2. *ملزمان سے تعلق نہ جڑنا:* لاش کی شناخت ثابت نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان کا جرم سے تعلق نہیں جوڑا جا سکا۔

اگر پولیس لاش برآمد کر کے خود ہی دفنا دے، اور استغاثہ لاش کی شناخت کے لیے کوئی کارروائی نہ کرے، تو صرف تصویروں سے 13 دن بعد کی گئی شناخت ناقابلِ اعتبار ہے۔ ایسی صورت میں سنی سنائی شہادت پر سزا نہیں ہو سکتی۔

01/07/2026

لاہور ہائیکورٹ نے مقدمہ میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض کسی واٹس ایپ گروپ کا ممبر، خالق (Creator) یا ایڈمن (Administrator) ہونا کسی شخص کو خود بخود اس گروپ میں شیئر ہونے والے ہر پیغام یا پوسٹ کا مجرم نہیں بنا دیتا۔ فوجداری ذمہ داری اسی صورت پیدا ہوتی ہے جب ابتدائی طور پر ایسا قابلِ اعتماد مواد موجود ہو جو یہ ظاہر کرے کہ ملزم نے خود قابلِ اعتراض مواد اپ لوڈ، فارورڈ، شیئر یا پھیلایا، یا اس عمل میں جان بوجھ کر معاونت، سازش یا اکسانے کا کردار ادا کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ Prevention of Electronic Crimes Act, 2016 (PECA) کا سیکشن 11 اس شخص پر لاگو ہوتا ہے جو کسی انفارمیشن سسٹم یا ڈیوائس کے ذریعے ایسا مواد تیار یا پھیلائے جو بین المذاہب، فرقہ وارانہ یا نسلی نفرت کو فروغ دیتا ہو۔ اگرچہ اس دفعہ میں لفظ "ارادتاً" استعمال نہیں ہوا، لیکن عدالت نے واضح کیا کہ مواد تیار کرنا یا پھیلانا اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک رضاکارانہ (Volitional) عمل ہے، لہٰذا صرف کسی گروپ میں موجود ہونا یا پیغام وصول کر لینا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 109 کے تحت معاونتِ جرم (Abetment) ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملزم نے کسی کو جرم پر اکسایا ہو، جرم کی سازش میں شریک ہوا ہو یا جان بوجھ کر جرم میں مدد فراہم کی ہو۔ صرف واٹس ایپ گروپ بنانا، اس کا ایڈمن ہونا یا اس میں بطور ممبر شامل رہنا دفعہ 109 کے تحت فوجداری ذمہ داری پیدا نہیں کرتا، جب تک اس کے ساتھ کوئی واضح مجرمانہ عمل یا نیت ثابت نہ ہو۔

عدالت نے مختلف بھارتی ہائی کورٹس اور پاکستانی عدالتی نظائر کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ واٹس ایپ ایڈمن کے پاس صرف ممبرز کو شامل یا خارج کرنے کا اختیار ہوتا ہے، وہ ہر پیغام کو پہلے سے کنٹرول یا سینسر نہیں کر سکتا، اس لیے محض ایڈمن ہونے کی بنیاد پر کسی دوسرے ممبر کی پوسٹ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، الا یہ کہ شواہد سے ثابت ہو کہ اس نے خود جرم میں حصہ لیا، اس کی حوصلہ افزائی کی یا مجرمانہ سازش کا حصہ تھا۔

عدالت نے واٹس ایپ گروپ سے متعلق ذمہ داری کی مختلف صورتیں بھی واضح کیں۔ اگر کوئی شخص صرف گروپ کا خالق یا ایڈمن ہے تو وہ صرف اسی صورت ذمہ دار ہوگا جب وہ خود غیر قانونی مواد پھیلانے میں شریک ہو یا اس مقصد کے لیے گروپ قائم کیا گیا ہو۔ اگر کوئی شخص صرف عام ممبر ہے تو صرف ممبرشپ یا پیغامات وصول کرنا جرم نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص خود قابلِ اعتراض مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرے تو اس کی ذمہ داری براہِ راست اس کے اپنے فعل پر قائم ہوگی، نہ کہ کسی دوسرے شخص کے عمل پر۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ صرف کسی پوسٹ پر ایموجی بھیج دینا، مختصر ردِعمل دینا یا خاموش رہنا ہر صورت میں جرم نہیں بنتا۔ اسی طرح کسی ایڈمن کا قابلِ اعتراض مواد حذف نہ کرنا بھی اس وقت تک جرم نہیں ہوگا جب تک قانون اس پر ایسی ذمہ داری عائد نہ کرے یا دیگر شواہد سے یہ ثابت نہ ہو کہ اس نے جان بوجھ کر جرم میں سہولت فراہم کی یا معاونت کی۔

موجودہ مقدمہ میں عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف الزام صرف واٹس ایپ گروپ کی ممبرشپ پر مبنی نہیں بلکہ اس کے قبضے سے برآمد ہونے والے Vivo Y22 موبائل فون کی فرانزک جانچ میں تین واٹس ایپ اکاؤنٹس فعال پائے گئے اور مبینہ توہین آمیز مواد واٹس ایپ کے Sent Folder سے برآمد ہوا، جس سے بادی النظر میں اس کا تعلق اس مواد کی ترسیل سے ثابت ہوتا ہے۔

عدالت نے یہ اعتراض بھی مسترد کر دیا کہ موبائل فون قبضہ میں لینے اور فرانزک رپورٹ تیار ہونے کے درمیان تقریباً پانچ ہفتوں کا وقفہ تھا، اس لیے رپورٹ ناقابلِ اعتماد ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ محض وقت گزر جانے سے یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ موبائل فون میں چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ چونکہ ریکارڈ کے مطابق موبائل فون سیل شدہ حالت میں چین آف کسٹڈی (Chain of Custody) کے ذریعے فرانزک ماہر کے حوالے کیا گیا تھا اور کسی غیر مجاز رسائی یا ردوبدل کا کوئی ابتدائی ثبوت موجود نہیں، اس لیے اس مرحلے پر فرانزک رپورٹ کو ناقابلِ اعتبار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ان تمام وجوہات کی بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف بادی النظر کافی شواہد موجود ہیں، اس لیے یہ مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت مزید تفتیش (Further Inquiry) کا نہیں بنتا۔ چنانچہ بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ تمام مشاہدات صرف ضمانت کی درخواست کے فیصلے تک محدود ہیں اور ٹرائل کورٹ مقدمہ کا فیصلہ آزادانہ طور پر دستیاب شہادت کی بنیاد پر کرے گی۔

لاہور ہائیکورٹ نے اس مقدمہ میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض کسی واٹس ایپ گروپ کا ممبر، خالق (Creator) یا ایڈمن (Administrator) ہونا کسی شخص کو خود بخود اس گروپ میں شیئر ہونے والے ہر پیغام یا پوسٹ کا مجرم نہیں بنا دیتا۔ فوجداری ذمہ داری اسی صورت پیدا ہوتی ہے جب ابتدائی طور پر ایسا قابلِ اعتماد مواد موجود ہو جو یہ ظاہر کرے کہ ملزم نے خود قابلِ اعتراض مواد اپ لوڈ، فارورڈ، شیئر یا پھیلایا، یا اس عمل میں جان بوجھ کر معاونت، سازش یا اکسانے کا کردار ادا کیا۔

30/06/2026

*خفیہ آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ، حقِ رازداری اور شہادت کی قابلیت ۔*
*PLJ 2026 SC (Cr.C.) 175.*

فوجداری پٹیشن
بشارت علی چوہدری بنام صابر علی وغیرہ

سپریم کورٹ پاکستان نے حقِ رازداری اور نجی ریکارڈنگ کو بطور شہادت پیش کرنے کے حوالے سے ایک اصولی فیصلہ سنایا۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:

1. ریکارڈنگ کی 2 بنیادی اقسام
الف) خود فریق ہونے کی صورت:
اگر گفتگو میں شامل شخص خود ریکارڈنگ کرے تو یہ عام طور پر غیر قانونی وائر ٹیپنگ نہیں مانا جائے گا، چاہے دوسرا فریق لاعلم ہو۔

ب) تیسرے فریق کی ریکارڈنگ:
دو افراد کی نجی گفتگو کو ان کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر ریکارڈ کرنا غیر قانونی نگرانی اور جاسوسی کے زمرے میں آتا ہے۔

2. ریکارڈنگ بطور شہادت کب قابلِ قبول ہے؟
عدالت نے 3 شرائط لازم قرار دیں:
1. قانونی طریقہ:* ریکارڈنگ قانون کے مطابق حاصل کی گئی ہو۔
2. مقدمے سے تعلق:* مواد کا کیس سے براہِ راست تعلق ہو۔
3. حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو:* آئینی حقِ رازداری کی پامالی نہ ہو۔

صرف "خفیہ ریکارڈنگ موجود ہے" کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی، کیونکہ خود ریکارڈنگ کا عمل غیر قانونی ہو سکتا ہے۔

3. نجی ریکارڈنگ کا غلط استعمال = جرم
عدالت نے واضح کیا کہ کسی کی آواز، تصویر یا گفتگو کو اجازت کے بغیر خفیہ طور پر حاصل کر کے:
- بلیک میلنگ
- بھتہ خوری
- دباؤ ڈالنے
- یا کسی ناجائز مقصد
کے لیے استعمال کرنا PECA 2016 کی دفعہ 23 کے تحت جرم ہے۔

4. سرکاری نگرانی vs نجی جاسوسی
سرکاری CCTV/سیکیورٹی سسٹم:* اگر قانونی تقاضے پورے ہوں اور فرانزک تصدیق ہو، تو یہ قابلِ قبول شہادت بن سکتی ہے۔ مثال: زاہر جعفر کیس 2025 SCP 220۔

نجی خفیہ ریکارڈنگ:* بدنیتی پر مبنی نجی ریکارڈنگ نجی زندگی میں غیر قانونی مداخلت ہے اور قابلِ قبول شہادت نہیں۔

5. جو خود جاسوسی کرے وہ متاثرہ نہیں رہتا
اگر مدعی خود غیر قانونی نگرانی یا جاسوسی کا سہارا لیتا ہے تو وہ قانون شکن بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں جس کی ریکارڈنگ کی گئی، وہی اصل متاثرہ فریق تصور ہوگا۔

6. اسلامی و آئینی بنیاد
عدالت نے حقِ رازداری کی اہمیت قرآن کی آیت *"وَلَا تَجَسَّسُوا"* اور حضرت عمرؓ کے واقعے سے واضح کی: محض شک کی بنیاد پر بھی کسی کی نجی زندگی اور گھر کے تقدس کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔

7. عدالت کی وارننگ
اگر ہر شہری کو بغیر وارنٹ کے دوسرے کی جاسوسی کی اجازت دے دی جائے تو معاشرے میں خوف، بے اعتمادی اور آئینی آزادیاں تباہ ہو جائیں گی۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ نجی نگرانی کو عدالتی تحفظ حاصل نہ ہو۔

ریکارڈنگ تب ہی شہادت بنے گی جب وہ قانونی ہو۔ نجی جاسوسی کر کے حاصل کیا گیا مواد نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ کرنے والا خود مجرم بن جاتا ہے۔

Know the difference then approach to the concerned departments if any kind of unwanted situation occur.
29/06/2026

Know the difference then approach to the concerned departments if any kind of unwanted situation occur.

28/06/2026

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ۔
*مائکرو فنانس بینک کو دئیے گئے چیک پرسیکشن 489-F PPC کے تحت FIR درج نہیں ہو سکتی۔*
مائیکرو فنانس بینکوں کے جاری کردہ قرضوں پر 489-Fلاگو نہیں ہوتا ہے۔پرچہ خارج کرنے کا حکم۔

FIO
سیکشن 7 کے تحت، بینکنگ کورٹ کو ایسے معاملات پر خصوصی دائرہ اختیار حاصل ہے۔ درخواست گزار کے خلاف کوئی بھی قانونی چارہ جوئی FIO کے تحت مقرر کردہ بینکنگ کورٹ کے سامنے شکایت کے
ذریعے شروع کی جاسکتی ہے۔

2026 CLD 303

27/06/2026

*2021 PCrLJ 1457 - _Lahore High Court - FIA vs XYZ*_

یہ لاہور ہائی کورٹ کا کیس ہے جو آن لائن فراڈ اور PECA 2016 کے اطلاق پر اہم فیصلہ ہے۔

1. کیس کا پس منظر
مدعی نے FIA سائبر کرائم ونگ میں شکایت دی کہ XYZ نے اسے فیک انویسٹمنٹ سکیم کا جھانسا دے کر آن لائن بینک ٹرانسفر اور ایزی پیسہ کے ذریعے لاکھوں روپے لیے اور پھر نمبر بند کر دیا۔
FIA نے تفتیش کے بعد ملزم کے خلاف PECA 2016 کے سیکشن 13 یعنی الیکٹرانک فراڈ اور PPC کے سیکشن 420 کے تحت مقدمہ درج کیا۔

ملزم نے لاہور ہائی کورٹ میں کواشمنٹ پٹیشن دائر کی کہ یہ معاملہ سول نوعیت کا ہے اور FIA کو دائرہ اختیار نہیں۔

2. لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
ہائی کورٹ نے ملزم کی درخواست خارج کر دی اور کہا:

*الف) PECA 2016 کا اطلاق*
جب پیسے آن لائن ٹرانسفر، موبائل والٹ، یا بینکنگ چینل کے ذریعے لیے جائیں اور بعد میں فراڈ ثابت ہو تو یہ محض سول معاملہ نہیں رہتا۔ یہ PECA 2016 کے سیکشن 13 کے تحت الیکٹرانک فراڈ بنتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ قانون کا مقصد ہی سائبر سپیس میں ہونے والے مالی جرائم کو روکنا ہے۔

*ب) الیکٹرانک شواہد کی اہمیت*
عدالت نے قرار دیا کہ واٹس ایپ چیٹ، کال ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹ، ایزی پیسہ ٹرانزیکشن ہسٹری سب Qanun-e-Shahadat کے تحت قابلِ قبول شواہد ہیں۔
صرف اس لیے کہ کوئی دستاویزی معاہدہ نہیں، کیس کمزور نہیں ہوتا۔

*ج) FIA کا دائرہ اختیار*
چونکہ فراڈ آن لائن ہوا اور ٹرانزیکشنز مختلف شہروں میں ہوئیں، اس لیے یہ انٹر پروونس معاملہ بنا اور FIA کو تفتیش کا اختیار حاصل ہے۔

3. فیصلے کے اہم نکات
1. آن لائن فراڈ میں محض یہ کہہ کر بچا نہیں جا سکتا کہ "یہ کاروباری نقصان تھا"۔ اگر شروع سے ہی نیت دھوکہ دینے کی تھی تو 420 PPC بھی لگے گا۔

2. PECA 2016
کے تحت سزا 2 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہے، جبکہ 420 PPC پر 7 سال تک قید ہو سکتی ہے۔

3. FIA
سائبر کرائم ونگ اب ایسے کیسز میں فوری طور پر موبائل نمبر، بینک اکاؤنٹ اور سم ڈیٹا منگوا کر تفتیش شروع کر دیتی ہے۔

26/06/2026

*تین بار سزاۓ موت اور دس سال قید کی اپیل سپریم کورٹ نے خارج کر دی گئی اور سزاؤں کو برقرار رکھا*

*سپریم کورٹ آف پاکستان*
*اپیلی اختیار*
*بینچ:*
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ
جسٹس صلاح الدین پنہور
جسٹس اشتیاق ابراہیم

*جیل پیٹیشن نمبر 178/2025*
لاہور ہائیکورٹ، ملتان بینچ کے فیصلہ مورخہ 22.05.2025 کے خلاف
فوجداری اپیل نمبر 622-جے/2020 اور قتل ریفرنس نمبر 35/2020 میں

*خدا بخش* ... درخواست گزار
*بمقابلہ*
*ریاست* ... مدعی

*درخواست گزار کی جانب سے:* ملک متیع اللہ، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ
*ریاست کی جانب سے:* رائے اختر حسین، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب
*معاونت:* محمد سبحان ملک، جوڈیشل لاء کلرک، سپریم کورٹ
*سماعت کی تاریخ:* 13.05.2026

*فیصلہ*

*جسٹس صلاح الدین پنہور:*
اس جیل پیٹیشن کے ذریعے درخواست گزار خدا بخش نے لاہور ہائیکورٹ، ملتان بینچ کے فیصلہ مورخہ 22.05.2025 کو چیلنج کیا ہے۔ جس میں اس کی فوجداری اپیل نمبر 622-جے/2020 مسترد کی گئی، قتل ریفرنس نمبر 35/2020 کی توثیق کی گئی، اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے دفعہ 302(ب)، 324 اور 337-F(iii) تعزیرات پاکستان کے تحت دی گئی سزاؤں کو برقرار رکھا گیا۔

*2.* مختصراً، استغاثہ کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 850/2019 مورخہ 15.10.2019 کے مطابق ہے، جو تھانہ سٹی شجاع آباد، ضلع ملتان میں دفعہ 302/324 ت پ کے تحت درج ہوئی۔ واقعہ 14/15 اکتوبر 2019 کی درمیانی رات تقریباً 11:45 بجے پیش آیا۔ درخواست گزار 30 بور پستول سے لیس ہو کر مدعیہ الطاف بی کے گھر داخل ہوا اور اپنے بیٹے محمد عمران، بیٹی فوزیہ بی اور کمسن پوتے محمد مدنی پر مسلسل فائر کیے۔ تینوں موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ درخواست گزار کا دوسرا بیٹا محمد رضوان بھی فائرنگ سے زخمی ہوا۔ واقعہ رات کے وقت گھر کے اندر پیش آیا۔ تفتیش مکمل ہونے پر چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے ٹرائل مکمل ہونے پر درخواست گزار کو درج ذیل سزائیں سنائیں:

*دفعہ 302(ب) ت پ کے تحت:*
محمد عمران، فوزیہ بی اور کمسن محمد مدنی کے قتل پر تین بار سزائے موت بطور تعزیر، ہر مقتول کے ورثاء کو 3,00,000 روپے ہرجانہ دفعہ 544-A ض ف کے تحت، اور عدم ادائیگی پر ہر جرم پر 6 ماہ قید بامشقت۔

*دفعہ 324 ت پ کے تحت:*
10 سال قید بامشقت اور 50,000 روپے جرمانہ، عدم ادائیگی پر 3 ماہ قید بامشقت۔

*دفعہ 337-F(iii) ت پ کے تحت:*
3 سال قید بامشقت بطور تعزیر اور 50,000 روپے دمان زخمی محمد رضوان کو ادا کرنا، عدم ادائیگی پر رقم وصولی تک جیل میں رکھا جائے۔

دفعہ 324 اور 337-F(iii) کے تحت دی گئی سزاؤں میں درخواست گزار کو دفعہ 382-B ض ف کا فائدہ دیا گیا۔

*3.* ہم نے درخواست گزار کے وکیل اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کو سنا اور ان کی معاونت سے ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ درخواست گزار کے وکیل کوئی ایسا مواد سامنے نہ لا سکے جو شہادت کے غلط پڑھنے یا نہ پڑھنے پر دلالت کرے اور جس کی بنیاد پر مداخلت کی جائے۔ استغاثہ کا مقدمہ عینی شہادت پر مبنی ہے جو الطاف بی مدعیہ، اللہ بخش اور زخمی گواہ محمد رضوان نے دی۔ ان کی موقع پر موجودگی فطری اور ممکن تھی۔ واقعہ رات کے وقت گھر کے اندر پیش آیا۔ الطاف بی درخواست گزار کی بیوی اور مقتولین کی ماں/دادی تھیں، محمد رضوان زخمی گواہ اور درخواست گزار کا بیٹا تھا، اور اللہ بخش بھی اس وقت گھر میں موجود تھا۔ ایسے حالات میں ان کی موجودگی کو مصنوعی یا مشکوک نہیں کہا جا سکتا۔

*4.* گواہوں کا مقتولین سے رشتہ دار ہونا ان کی گواہی کو مشکوک نہیں بناتا۔ یہ احتیاط کا اصول ہے، مسترد کرنے کا نہیں۔ رشتہ دار گواہ بھی قابلِ قبول ہوتے ہیں اور جب ان کی گواہی اعتماد بخش ہو، بنیادی نکات پر مستقل ہو، اور میڈیکل و فرانزک شہادت سے تائید شدہ ہو، تو اس پر سزا برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ اس مقدمہ میں گواہان وقت، جگہ، وقوعہ کے طریقہ، ملزم کی شناخت، استعمال شدہ ہتھیار، مقتولین کی تعداد اور فائرنگ کے تسلسل پر مستقل رہے۔ جرح میں دفاع کے حق میں کچھ نہ نکل سکا۔ کوئی معقول وجہ بھی پیش نہ کی گئی کہ درخواست گزار کی بیوی، بیٹا اور بہنوئی اسے جھوٹا ملزم کیوں بنائیں گے، خاص طور پر جب ایک ہی واقعہ میں تین افراد قتل اور ایک زخمی ہوا ہو۔

*5.* میڈیکل شہادت بھی عینی شہادت کی تائید کرتی ہے۔ ڈاکٹر محمد یونس صدیقی نے محمد مدنی اور محمد عمران کا پوسٹ مارٹم کیا اور جسم کے حساس حصوں پر فائر آرم زخم پائے۔ ڈاکٹر انعم شبیر نے فوزیہ بی کا پوسٹ مارٹم کیا اور فائر آرم زخم پائے جو فطرتاً موت کا سبب بن سکتے تھے۔ ڈاکٹر اقراء حنیف نے محمد رضوان کا معائنہ کیا اور اس پر فائر آرم زخم پایا۔ زخموں کی جگہ، نوعیت اور وقت استغاثہ کے بیان سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔

*6.* فرانزک شہادت بھی استغاثہ کی تائید کرتی ہے۔ موقع سے 30 بور پستول کے 6 خ*ل برآمد ہوئے اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھیجے گئے۔ رپورٹ مثبت آئی، خ*ل درخواست گزار کی نشاندہی پر برآمد شدہ پستول سے میچ کر گئے۔ اس طرح عینی، میڈیکل اور فرانزک شہادت ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں اور درخواست گزار کی مجرمیت پر کوئی معقول شک باقی نہیں رہتا۔

*7.* پولیس کو اطلاع میں تاخیر بھی مہلک نہیں۔ واقعہ رات 11:45 بجے پیش آیا اور اطلاع رات 1:10 بجے دی گئی۔ تھانہ 10 میل دور تھا۔ مدعیہ نے ایک ہی رات میں بیٹا، بیٹی اور پوتے کو کھو دیا اور دوسرا بیٹا زخمی تھا۔ ایسے صدمہ اور غم کی حالت میں پولیس تک پہنچنے میں کچھ تاخیر فطری ہے۔ تاخیر نہ زیادہ تھی، نہ غیر وضاحت شدہ، اور نہ ہی یہ ثابت ہوا کہ اسے مشاورت یا جھوٹی سازش کے لیے استعمال کیا گیا۔

*8.* محرک کا ثابت نہ ہونا بھی استغاثہ کے مقدمہ کو کمزور نہیں کرتا۔ محرک اہم ہوتا ہے، لیکن جہاں عینی شہادت فطری، اعتماد بخش اور میڈیکل و فرانزک شہادت سے تائید شدہ ہو، وہاں محرک کا ثابت نہ ہونا زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ یہ کوئی ایسا کیس نہیں جہاں ملزم نامعلوم ہو اور محرک شناخت کے لیے ضروری ہو۔

*15.* عدالت نے تخفیف سزا کے ممکنہ عوامل کا جائزہ لیا:
ا۔ محرک خاص طور پر ثابت نہ ہونا
ب۔ گواہان کا مقتولین سے رشتہ دار ہونا
ج۔ پولیس کو اطلاع میں تقریباً 1 گھنٹہ 25 منٹ کی تاخیر
د۔ محلہ سے کوئی آزاد گواہ پیش نہ کرنا
ہ۔ درخواست گزار کا برآمدگی سے انکار اور جھوٹی گرفتاری کا دعویٰ

ان میں سے کوئی بھی عامل انفرادی یا اجتماعی طور پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں۔

*22.* درخواست گزار ان مقدمات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا جہاں استغاثہ کا مقدمہ مشکوک ہونے کی وجہ سے سزا کم کی گئی ہو۔ یہ کیس مکمل طور پر مختلف ہے۔ یہ براہ راست شہادت، زخمی گواہ، میڈیکل مطابقت اور مثبت فرانزک تائید پر مبنی ہے۔ یہ مشکوک کیس نہیں اور نہ ہی مجرمیت میں کمی کا کیس ہے۔

*23.* کیا قید کی مدت سزا میں کمی کا جواز بن سکتی ہے؟ درخواست گزار اکتوبر 2019 میں گرفتار ہوا۔ اس کی قید اتنی نہیں کہ عمر کے اصول پر غور کیا جائے۔ بہرحال، تاخیر یا قید خود بخود تخفیف کا جواز نہیں بنتی، خاص طور پر جب ایک ہی واقعہ میں متعدد خاندانی افراد کا، بشمول کمسن بچے کا، بار اور بے رحمانہ قتل ہو۔

*24.* درخواست گزار کی سابقہ مجرمانہ سرگرمیوں کا مواد بھی پیش کیا گیا، جس میں دفعہ 302 اور 324 ت پ کے مقدمات شامل ہیں۔ لیکن ہم نے اس مواد کو سزا کی بنیاد نہیں بنایا، کیونکہ محض ملوث ہونا، جب تک سزا نہ ہو، احتیاط سے دیکھا جاتا ہے۔ اس مواد کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے تب بھی موجودہ جرم کے حالات خود سزائے موت کے لیے کافی ہیں۔

*25.* یہ کیس اس محدود زمرے میں آتا ہے جہاں عمر قید ناکافی ہوگی، کیونکہ یہ "نادر از نادر" کیس ہے۔ درخواست گزار نے کسی اجنبی کو اچانک جھگڑے میں قتل نہیں کیا۔ اس نے اپنے ہی گھر میں اپنے خاندانی افراد پر فائر کھولا، تین افراد کو قتل کیا جن میں ایک کمسن بچہ بھی شامل تھا، اور ایک بیٹے کو زخمی کیا۔ یہ عمل بے رحم، بار، سرد مہری سے کیا گیا اور بنیادی خاندانی اعتماد کو تباہ کر دیا۔ یہ نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ انصاف کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑتا ہے۔ سزا کم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔

*26.* ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کیا شہادت کے دوبارہ جائزے کے لیے رخصت دی جائے۔ دونوں ماتحت عدالتوں کے متفقہ نتائج فطری عینی شہادت، زخمی گواہ، میڈیکل مطابقت اور مثبت فرانزک تائید پر مبنی ہیں۔ شہادت میں کوئی مادی تضاد، قانونی نقص، غلط فہمی یا نظر اندازی نہیں دکھائی گئی۔ ہائیکورٹ نے تاخیر، گواہوں کے تعلق، محرک کی عدم موجودگی، میڈیکل اور فرانزک شہادت اور سزا کے سوال پر غور کیا۔ اس کا نتیجہ نہ خودسرانہ ہے نہ بے بنیاد۔

*27.* مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر ہم مطمئن ہیں کہ استغاثہ نے درخواست گزار کے خلاف اپنا مقدمہ شک سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ کوئی تخفی یا نرم کرنے والا عنصر ثابت نہیں ہوا جو سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا جواز بنے۔ تشدیدی حالات تخفی حالات پر غالب ہیں۔ درخواست گزار کو دفعہ 302(ب) ت پ کے تحت تین بار دی گئی سزائے موت سمیت تمام سزائیں برقرار رکھی جاتی ہیں۔ لہٰذا درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ یہ جیل پیٹیشن خارج کی جاتی ہے۔

Address

Legal Talk
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Talk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share