08/05/2026
صفوت غیور شہید ایک بے باک افسر اور حق گوئی کی علامت
تاریخ کے جھروکوں میں کچھ ایسی شخصیات ابھرتی ہیں جو نہ صرف اپنے فرض سے مخلص ہوتی ہیں بلکہ حق بات کہنے سے کبھی گریز نہیں کرتیں۔ صفوت غیور ایک ایسا ہی نام تھا، جنہوں نے اپنی بہادری اور اصول پسندی سے خیبر پختونخوا پولیس کا سر فخر سے بلند کیا۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ان سے منسوب یہ جملہ ایک خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے:
"ہمیں فوجی گاڑیوں کی تلاشی کی اجازت دی جائے، پھر بھی دھماکہ ہو جائے تو مجھے پھانسی دے دینا۔"
اس کے بعد ان کو نامعلوم کے کھاتے میں ڈال کر شہید کردیا۔
یہ الفاظ ایک ایسے افسر کی عکاسی کرتے ہیں جو نظام کی بہتری اور امن و امان کے قیام کے لیے ہر قسم کی مصلحت پسندی کو بالائے طاق رکھنے کا قائل تھا۔ ان کے مداحوں اور ہمدردوں کا ماننا ہے کہ ان کی یہ حق گوئی اور دو ٹوک موقف بعض حلقوں کو ناگوار گزرا، جس کے نتیجے میں انہیں ایک منظم سازش کے تحت راستے سے ہٹا دیا گیا اور اس واقعے کو "نامعلوم افراد" یا دہش-ت گردی کی کارروائی قرار دے کر فائل بند کر دی گئی۔
صفوت غیور کی شہادت 4 اگست 2010 کو پشاور میں ایک خودکش حملے کے ذریعے ہوئی۔ وہ اس وقت بھی فرنٹ لائن پر موجود تھے، جہاں وہ ہمیشہ اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے خود گاڑی چلا کر فیلڈ میں جاتے تھے۔ ان کی شہادت نے بہت سے سوالات چھوڑے، لیکن ان کی جرات آج بھی ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو ملک میں عدل اور انصاف کا نظام دیکھنا چاہتا ہے۔
وہ آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں، لیکن ان کا نام بہادری، ایمانداری اور حق گوئی کی ایک لازوال علامت بن چکا ہے۔