24/08/2026
قوم پرستوں اور ریاست دشمنوں نے سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے واقعے کی جس طرح یکطرفہ منظر کشی کی وہ دو سے تین گھنٹوں میں ہوا ہو گئی، تصویر کا دوسرا رخ بھی واضح ہو گیا۔ یہ مکمل طور پرعزت اور غیرت کا معاملہ ہے۔ ہجوم کے حملے کا جواب یہی بنتا ہے جب گالیاں دی جا رہی ہوں، وردی پھاڑی جا رہی ہو۔
اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر ریاست کی اس خیر سگالی اور قومی یک جہتی کی پالیسی کے سامنے سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس میں مختلف قومیتوں کے نوجوانوں کو دوسرے علاقوں بالخصوص پنجاب اور اسلام آباد میں اہلیت نہ ہونے کے باوجود کوٹوں پر داخلے دے رکھے ہیں۔ ایسے نوجوان علاقائی اور نسلی بنیادوں پر دھڑے اور جتھے بنا لیتے ہیں اور تعلیمی اداروں کو نسلی اور علاقائی سیاست کا اکھاڑہ بنا لیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں جتھے کیوں؟ بچے وہاں کلاسز پڑھنے کے لئے جاتے ہیں، سیاست اور بدمعاشی سیکھنے نہیں۔ انہوں نے حقوق کی جدوجہد کرنی ہے تو اپنے علاقوں میں جا کے کریں۔
تعلیمی اداروں میں اس وقت جس طرح سیاست کی حکمرانی ہے، دھڑے بندیاں ہیں ( پنجاب یونیورسٹی کی دیکھ لیجئے ) اب یہاں سخت گیر ایڈمنسٹریٹرز کی ضرورت ہے۔ مجھے یاد ہے کہ انجینیئرنگ یونیورسٹی کو بھی بلیک ایگلز، کیو ایس ایف، جمعیت وغیرہ نے دو عشرے پہلے اسی طرح یرغمال بنا لیا تھا۔ ماں باپ ڈگری لینے بھیجتے تھے اور یہ اس کی جگہ لاش بھیج دیتے تھے۔