Heart Cleanse

Heart Cleanse Soft vibes • Deep thoughts • Pure feelings
Where hearts find comfort 💛
✨ Heart Creation

09/12/2025

دوسری شادی کرنا بالکل جائز ہے سنیں

09/12/2025

4 جوان عورتوں نے اپنے بڈھے شوہر کی شکایت کر دی اگے کیا ہوا سنیں

“جاپان کے علاقے پلانیٹ جاپان میںہر سال 30 ہزار سے زیادہ بوڑھے لوگگھر میں اکیلے مر جاتے ہیںاور ان کی لاشیں مہینوں تک گلتی...
09/12/2025

“جاپان کے علاقے پلانیٹ جاپان میں
ہر سال 30 ہزار سے زیادہ بوڑھے لوگ
گھر میں اکیلے مر جاتے ہیں
اور ان کی لاشیں مہینوں تک گلتی سڑتی رہتی ہیں
اس سے پہلے کہ کسی کو ان کی موت کا پتا چلے!!

یہ بوڑھے لوگ مر تو جاتے ہیں لیکن تنہائی میں،
نہ کوئی خاندان والا ہوتا ہے
نہ کوئی پوچھنے والا۔
اس دردناک صورتِ حال کو ‘کودوکوشی’ (Kodokushi) کہا جاتا ہے۔

ایک افسوسناک واقعہ یہ ہے:
اوساکا کے 91 سالہ شخص کو فالج تھا۔
ان کی بیوی جو ان کی دیکھ بھال کرتی تھی، وہ پہلے مر گئی۔
پھر وہ خود بھوک سے مر گئے اور دونوں کی لاشیں سڑنے لگیں۔
ہفتوں بعد جا کر ان کی موت کا پتا چلا۔
ان کا بیٹا جو بہت پہلے یوکوہاما چلا گیا تھا،
اس نے کبھی فون تک نہیں کیا
اور نہ ہی اپنے والدین اسکے مرنے بعد رسم و رواج میں شریک ہوا…”

کیا اب آپ سمجھتے ہیں
کہ رحم (رشتہ داری) کے رشتے کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“تو کیا تم یہ چاہتے ہو کہ زمین میں فساد پھیلاؤ
اور رشتوں کو کاٹو؟
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی،
ان کو بہرا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا…اسلام کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کیا کریں جس کو بھی اللہ اپنے بندوں کو ایمان اسلام کے نعمت سے نواز ہو۔ 💖💖

09/12/2025

ایک آ دمی جو روز اللہ تعالیٰ سے موت کی دعا کرتا تھا اس کے ساتھ کیا ہوا سنیں

09/12/2025

ایک تبلیغی مولوی صاحب جن کو کلمے نھیں آتے تھے انکے ساتھ کیا ہوا لاسٹ تک سنیں

08/12/2025

گدھا بیچنے والے کے ساتھ کیا ہوا سنیے 😂😂

ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تین بار شادی کی کوشش کی وہ  ہر رشتہ سے پہلی گفتگو کے بعد انکار کر دیتا تھا۔  آخر کار، والد نے...
08/12/2025

ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تین بار شادی کی کوشش کی وہ ہر رشتہ سے پہلی گفتگو کے بعد انکار کر دیتا تھا۔ آخر کار، والد نے بیٹے کو تنگ آ کر محل سے نکال دیا۔

بیٹا شہر سے باہر کام کی تلاش میں نکل گیا اور ایک مالدار شخص کے ہاں بکریاں چرانے کا کام ملا۔ وہ شخص نوجوان سے بہت متاثر ہوا۔ اس مالدار شخص کی ایک ہی بیٹی تھی اور اس نے سوچا کہ اسے نوجوان سے شادی کروا دے تاکہ وہ ان کے ساتھ رہے۔

اس نے اپنی بیٹی کو یہ بات بتائی، تو بیٹی نے کہا کہ وہ اس نوجوان سے شادی نہیں کرے گی جب تک کہ وہ اس کے ساتھ سفر نہ کرے اور اس کی حقیقت کو جان نہ لے۔

مالک نے نوجوان سے کہا کہ کل تم بکریاں چرنے نہ لے جاؤ، ہم کچھ دنوں کے لیے سفر کریں گے تاکہ کچھ کام نمٹایا جا سکے۔

سفر کے دوران، وہ دونوں ایک گلہ بکریوں کے پاس سے گزرے۔ نوجوان نے کہا، "کتنی زیادہ ہیں اور کتنی کم ہیں۔" مالک حیران ہوا لیکن کچھ نہ بولا۔

پھر وہ ایک اور گلہ بکریوں کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "کتنی کم ہیں اور کتنی زیادہ ہیں۔" مالک نے دل میں سوچا کہ یہ نوجوان بیوقوف ہے، اس لیے میری بیٹی نے مجھے اس کے ساتھ سفر کرنے کو کہا تھا۔

پھر وہ ایک قبرستان کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "تم میں زندہ بھی ہیں اور مردہ بھی۔"

پھر وہ ایک خوبصورت باغ کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "مجھے نہیں معلوم کہ یہ باغ ہرا بھرا ہے یا سوکھا ہوا ہے۔" مالک بہت حیران ہوا لیکن کچھ نہ بولا۔

پھر وہ ایک گاؤں میں پہنچے اور پانی طلب کیا، لوگوں نے انہیں دودھ دیا۔ نوجوان نے خود پیا اور پھر مالک کو دیا۔

پھر وہ ایک اور گاؤں میں پہنچے اور پانی طلب کیا، لوگوں نے انہیں پانی دیا۔ نوجوان نے پہلے مالک کو دیا اور پھر خود پیا۔

مالک نے دل میں سوچا کہ نوجوان نے مجھے دودھ دینے میں بے احترامی کی اور پانی دینے میں عزت دی۔

واپس سفر سے آ کر مالک نے اپنی بیٹی کو سارا ماجرا سنایا۔ بیٹی نے کہا کہ وہ نوجوان بہت اچھا انسان ہے۔

مالک نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیسے؟

بیٹی نے جواب دیا:
پہلا گلہ بکریوں کا، اس میں مینڈھے زیادہ تھے اور بکریاں کم۔
دوسرا گلہ بکریوں کا، اس میں بکریاں زیادہ تھیں اور مینڈھے کم۔
قبرستان، جس نے اولاد چھوڑی وہ زندہ ہے اور جس نے نہیں چھوڑی وہ مردہ۔
باغ، اگر مالک نے اپنے پیسوں سے بنایا ہے تو ہرا بھرا ہے اور اگر قرضے سے بنایا ہے تو سوکھا ہوا ہے۔
دودھ جب برتن میں ڈالا جاتا ہے تو دودھ نیچے بیٹھ جاتا ہے اور پانی اوپر آ جاتا ہے، اس نے پہلے پانی پیا اور آپ کو دودھ دیا۔
کنویں کا پانی، صاف پانی اوپر آتا ہے، اس نے آپ کو پہلے دیا۔

مالک نے بیٹی کی باتیں سن کر نوجوان سے اپنی بیٹی کی شادی کروا دی۔

شادی کے بعد جب نوجوان اپنی بیوی کے پاس آیا تو اس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا، "یہ سر کس کا ہے؟"
بیوی نے جواب دیا، "یہ میرا سر تھا اور اب تمہارا ہے۔"
نوجوان نے کہا، "سفر کے لیے تیار ہو جاؤ، میں بکریاں چرانے والا نہیں ہوں، میں بادشاہ کا بیٹا ہوں اور میں تمہاری تلاش میں نکلا تھا۔

نصر نامی اس آدمی نے اپنی اس چھوٹی سی بیٹی کو لے کر نہر میں چھلانگ لگا دی۔ دونوں کی میتیں مل چکی ہیں، رونا دھونا کر کے لا...
07/12/2025

نصر نامی اس آدمی نے اپنی اس چھوٹی سی بیٹی کو لے کر نہر میں چھلانگ لگا دی۔ دونوں کی میتیں مل چکی ہیں، رونا دھونا کر کے لاشیں دفنا دی جائیں گی۔

لیکن اصل مسئلہ اسباب پہ بات کرنے کا ہے۔ آپ دکھی ہو سکتے ہیں کہ ایک باپ جانے کتنا مجبور ہوا ہو گا، کتنی تکلیف میں ہو گا کہ اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر نہر میں چھلانگ لگا دی۔

آپ غصہ ہو سکتے ہیں کہ کیسا ظالم انسان تھا، اپنی جان لینی ہی تھی تو اپنی بچی کو تو بخش دیتا۔ اس ناسمجھ کو اس طرح تکلیف دے کر اس کی جان کیوں لی۔

دونوں احساسات ہی سچے ہیں لیکن دیکھنا یہ چاہیے کہ یہ آدمی جاہل تھا، ظالم تھا یا جو بھی تھا اس نہج تک کیسے پہنچا۔

گھر والوں کو، دوستوں کو اس بات کی خبر رکھنی چاہیے تھی کہ ان کا کوئی پیارا اتنی تکلیف یا بےبسی کا شکار ہو رہا ہے کہ جان لینے تک بات آ گئی ہے۔ انھیں پتا ہونا چاہیے تھا کہ ان کے پیارے کو ان کو مدد کی ضرورت ہے۔ جو بھی پریشانی تھی، مشکل تھی انھیں اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا ، اس کا حوصلہ بننا چاہیے تھا، اس کی مدد کرنی چاہیے تھی، اسے وہ مالی مدد ہوتی، معاشی یا جذباتی۔

زندگی بہت ظالم ہے، اپنے پیاروں کو تنہا نہ ہونے دیں ورنہ یہ زندگی ان کو آپ سے چھیننے کی پوری طاقت رکھتی ہے۔ بعد کیں روتے رہنا لاحاصل ہے، پہلے اس بات کا احساس کرنا ضروری ہے کہ اسے آپ کی ضرورت ہے۔

یہ انسان بچی کی جان لینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا تھا، ایسا کرنا انتہائی گھٹیا فعل اور ظالمانہ اقدام ہے۔
اگر یہ ذہنی طور پہ ٹھیک تھا تو ایسا ظلم سمجھ سے باہر ہے۔ بچی کی ماں یا کسی دوسرے کو زیادہ تکلیف دینے کے لیے بھی اتنا ظالم نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اگر یہ نفسیاتی مسائل کا شکار تھا تو اسے بہت پہلے اپنا علاج کروا لینا چاہیے تھا۔ اس کے گھر والوں کو اس کا علاج کروانا چاہیے تھا۔

اگر آپ کو لگے کہ آپ شدید دباؤ میں ہیں یا کسی کو تکلیف اور نقصان پہنچانے کا سوچ کر آپ کو خوشی اور سکون مل رہا ہے تو یہ نارمل نہیں ہے۔ اپنا علاج کروائیے ، مدد لیجیے ، اس سے پہلے کہ آپ کوئی بہت بڑا ظلم کر بیٹھیں۔

اور اگر آپ کا کوئی اپنا اس رویے کا شکار ہے تو اسے مدد لینے پہ آمادہ کیجیے، اس کے لیے کوئی بہتری کا ، علاج کا طریقہ ڈھونڈیے ورنہ وہ آپ کو ایسا گھاؤ دے جائے گا کہ جسے آپ کبھی بھر نہیں سکیں گے۔

--------------------------------------

اپڈیٹ : یہ پرائیویٹ سکول کے پرنسپل تھے ، کچھ ماہ قبل بیوی سے علیحدگی ہوگئی تھی ، بچی باپ کے پاس تھی، اس ہفتے کورٹ نے بچی کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا ، باپ نے بچی سمیت نہر میں چھلانگ لگا دی ۔ باپ کی لاش تو 4 گھنٹے بعد مل گئی بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد ملی.

یہ کہانی ہے یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی جس کے منگیتر نے انجانے میں اپنی فیمیل ٹیچر کو آڈلٹ جوک بھیج دیا۔یہ ایک فاش غلطی تھ...
07/12/2025

یہ کہانی ہے یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی جس کے منگیتر نے انجانے میں اپنی فیمیل ٹیچر کو آڈلٹ جوک بھیج دیا۔
یہ ایک فاش غلطی تھی مگر انجانے میں بلکہ غلط فہمی سے سرزد ہو گئی۔
اس مسئلے کی انکوائری کرنے والا پروفیسر اصولوں کا پکا دیانت دار انسان ہے۔
طالبہ جانتی ہے اس کے منگیتر کو سزا ملے گی تو یونیورسٹی سے نکال دیا جائے گا۔اپنے محبوب منگیتر کو بچانے کیلئے وہ پروفیسر کے پاس جاتی ہے اسے معاملہ ختم کرنے کی درخواست کرتی ہے مگر پروفیسر صاحب انکار کر دیتے ہیں۔
جب طالبہ کو دال گلتی نظر نہیں آتی تو اسی پروفیسر پہ بدکاری کا جھوٹا الزام لگا دیتی ہے۔

اس الزام کے لگتے ہی پروفیسر کی زندگی جہنم بن جاتی ہے۔
پوری یونی میں وہ شخص بدنام ہو جاتا ہے ،نوکری سے نکال دیا جاتا ہے ۔ہر شخص تھو تھو کرنے لگتا ہے۔ جہاں جاتا ہے نفرت حقارت اس کا پیچھا کرتی ہے۔
اس کی ننھی بیٹی کیلئے سکول اور بیوی کیلئے کالونی میں رہنا عذاب بن جاتا ہے۔
پروفیسر صاحب کے پاس خود کو نردوش ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ۔لوگوں کے رویئے اسے اس قدر دل برداشتہ کر دیتے ہیں کہ جینے سے موت کہیں بہتر آپشن نظر آنے لگتا ہے اور ایک پروفیسر ،ایک شوہر ،ایک باپ خودکشی کر لیتا ہے۔
آپ کو لگتا ہے پروفیسر کے مرتے ہی کہانی ختم ہو جاتی یے؟
بالکل نہیں ۔۔۔
اصل کہانی تو اب شروع ہوتی ہے۔

اس طرح کے الزامات کی وجہ سے مرنے والے کیساتھ نہ کہانیاں ختم ہو جاتی ہیں نا پیچھے رہ جانے والوں کی اذیت اور اذیت ناک امتحان ۔
عمومی زندگی میں بھی یہی ہوتا ہے اور اس کہانی میں بھی یہی ہوا۔
پروفیسر مرا تھا لوگوں کی نفرت نہیں۔ اور اس نفرت کا پہلا عملی مظاہرہ یوں کیا گیا کہ
کوئی عزیز رشتہ دار کوئی محلے والا اس پروفیسر کی میت پہ پرسہ دینے کو تیار نہیں یہاں تک کہ
اس کے جنازے کو کاندھا دینے کیلئے بھی چار لوگ موجود نہیں تھے۔
تھک ہار کر صدمے سے نڈھال بیوی کو خود اپنے شوہر کی میت کو کاندھا دینا پڑ گیا۔
وہ عورت جس کا کچھ بھی کہیں بھی قصور نہیں تھا تمام لوگوں کی نفرت کی اکیلی وارث ٹھہری جبکہ اس سارے قصے میں (جو کہ پہلے سے ہی جھوٹ پر مبنی تھا) اس عورت کا مو برابر حصہ بھی نہیں تھا مگر پھر بھی اسے شوہر کے ناکردہ گناہ کا بوجھ اٹھانا پڑ گیا۔
شوہر کی موت جیسا عظیم سانحہ اور نقصان تو برداشت کرنا ہی تھا مگر اس سے بڑا نقصان اور صدمہ یہ کہ ساری عمر بدکردار کی بیوی کے الزام کیساتھ زندگی گزارنی تھی اور یہ اس سے بھی بڑا صدمہ اور عذاب بن گیا۔
جہاں جاتی لوگ نفرت سے منہ پھیر لیتے۔گھر کی دیواروں پر گھٹیا گھٹیا تبصرے لکھے جاتے ،آوازے کسے جانے لگے۔
رشہ دار ،دوست احباب سب نے ہی کنارا کر لیا۔
آخر کون اور کیوں کسی بدکردار مرد کی فیملی سے تعلق رشتہ داری جوڑتا؟
اس الزام نے سماجی طور پر اس خاندان کو نہ صرف تنہا کر دیا بلکہ ایسی شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا جس کا کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا تھا۔
اس اذیت ناک ذہنی دباؤ نے اس ماں بیٹی کو جیتے جی مار ڈالا۔

ایک طرف گھر کے سربراہ ،ایک ساتھی ،ایک باپ کے منوں مٹی تلے جا سونے کا غم عظیم اور دوسری طرف بدکرداری کا داغ تیسری طرف سماجی قطع تعلقی۔۔۔
غرض تکلیف در تکلیف ،اذیت در اذیت۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
جناب! یہ محض ایک کہانی ایک ڈرامہ نہیں تھا ہمارے معاشرے میں ایسے کرداروں کی کرب ناک حقیقی زندگی کا وہ عکس تھا جسے ہم دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دیتے ہیں۔
اپنے اردگرد نظر دوڑائیے کسی بھی مرد یا عورت پہ بدکرداری کے الزام کے بعد اس کے خاندان کیساتھ دنیا کیسا سلوک کرتی ہے یقیناً نظر آ جائے گا بلکہ شاید آپ نے اپنی آنکھوں سے ایسے خاندانوں کو دیکھا ہو۔
جس خاندان کے کسی بھی ایک فرد پہ بدچلنی کا الزام لگ چکا ہو تو کئی نسلیں اس داغ کو مٹانے میں مٹ جاتی ہیں مگر یہ داغ تب بھی مٹ نہیں پاتا۔
وہ جو ایسے کیسز میں (اگر مجرم کو سزا مل جائے )کہتے ہیں
مقتول/ مقتولہ پہ بدکرداری کا الزام لگ بھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے مجرم کو تو قرار واقعی سزا سنا دی گئی ہے۔

انہیں معلوم ہونا چاہیئے ایسے الزامات زندگیاں نگل جاتے ہیں۔

07/12/2025

یہ دنیا دیکھاتی کچھہ اور ھے ھوتا کچھ اور ھے سنیں کیا ھوا ایک آدمی کے ساتھ

دنیا میں ہونے والا انوکھا کامآج کی دنیا میں کچھ لوگ موت کے بعد دوبارہ جینے کی امیدپر خود کو فریز کروا رہے ہیں۔سے زائد اف...
07/12/2025

دنیا میں ہونے والا انوکھا کام
آج کی دنیا میں کچھ لوگ موت کے بعد دوبارہ جینے کی امید
پر خود کو فریز کروا رہے ہیں۔
سے زائد افراد اپنی لاشیں منفی درجہ حرارت پر 650 5,400 سے زیادہ لوگ اس عمل محفوظ کروا چکے ہیں، اور کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔
اس عمل کو کرائنکس کہا جاتا ہے۔
مگر اسلامی نقطۂ نظر اس بارے میں کیا کہتا ہے ؟
اسلام کی نظر میں موت ایک حقیقت ہے، ٹالنے کی چیز . نہیں
الله تعالیٰ فرماتا ہے
ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے "
185 آل عمران
اسلام کے مطابق موت سے بچا نہیں جا سکتا۔
نہ فریز ہو کر نہ چھپ کر نہ سائنس کی مدد سے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا طے شدہ نظام ہے۔
دوباره زندگی کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے قرآن کہتا ہے

اور وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے "

56 (یونس

سائنس اگر ہزاروں کوششیں کر لے، روح نہیں بنا سکتی۔

اور جسم بغیر روح کے صرف ایک لاش ہے، زندگی نہیں۔
... كرائنكس صرف جسم محفوظ رکھتا ہے روح واپس اللہ کے امر سے ہی آتی ہے، انسان کے ہاتھ میں نہیں۔
.. چاہے انسان پوری دنیا کی ٹیکنالوجی جمع کر لے ۔

لیکن دوباره زندگی ،قیامت اور اٹھایا جانا صرف اور صرف....
الله کا نظام ہے۔
سائنس جسم کو محفوظ رکھ سکتی ہے لیکن زندگی واپس نہیں دے سکتی۔
یہ عقیدے کے خلاف بھی نہیں بس ایک واضح حقیقت ہے کہ انسان کی طاقت محدود ہے۔
اسلام ہمیں یہ سوچ دیتا ہے ۔
زندگی ہمیشہ کی ہے لیکن دنیا میں نہیں

آخرت میں۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم دنیا میں دیر تک جئیں بلکہ یہ ہے کہ اچھا جئیں تاکہ آخرت بہتر ہو۔

خوبصورت بچیوں کو قتل کرنے والی خاتون گرفتار: ’خوف تھا کہ یہ بڑی ہو کر مجھ سے زیادہ خوبصورت ہو جائیں گی‘😭🌴خاندان میں شادی...
07/12/2025

خوبصورت بچیوں کو قتل کرنے والی خاتون گرفتار: ’خوف تھا کہ یہ بڑی ہو کر مجھ سے زیادہ خوبصورت ہو جائیں گی‘😭🌴
خاندان میں شادی تھی اور یکم دسمبر کو گھر کے مرد بارات
کے ساتھ روانہ ہو گئے تھے۔ کافی وقت گزر گیا تھا مگر چھ سال کی ویدھی گھر میں کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے اسے ہر جگہ تلاش کرنا شروع کیا۔ پھر گھر والوں کو ویدھی اپنے ہی گھر کی پہلی منزل پر ایک سٹور روم میں مردہ حالت میں ملی۔

اُس کی لاش پانی سے بھرے ہوئے ایک ٹب میں ملی۔ ویدھی کا سر پانی میں ڈوبا ہوا تھا اور پیر ٹب سے باہر تھے۔ جہاں لاش ملی وہ سٹور روم باہر سے بند تھا۔

چھ برس کی ویدھی اپنے والدین کے ساتھ ہریانہ کے سونی پت کے ایک گاؤں میں 30 نومبر کو اپنے دادی دادا کے یہاں آئی تھی۔
وہ پاس کے ایک گاؤں نولتھا میں ایک رشتے دار کی شادی میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ ویدھی کے دادا کے گھر اس کے رشتے کی ایک چچی پونم بھی آئی تھیں۔

پولیس کی ایک ٹیم نے اس معاملے کی ہر زاویے سے تفتیش شروع کی اور تین دسمبر کو پولیس نے ویدھی کی چچی پونم کو اس کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
اپنے بچے سمیت مزید تین بچوں کے قتل کا اعتراف
پونم کی گرفتاری کے بعد پولیس نے تفتیش کی تو انکشاف کیا کہ ’جب گھر کے لوگ شادی میں چلے گئے اس وقت پونم ویدھی کو کسی بہانے سٹور روم میں لے گئیں اور مبینہ طور پر اسے ٹب میں ڈبو کر قتل کر دیا۔‘

’پونم اسے پانی میں ڈبونے کے بعد سٹور روم کا دروازہ باہر سے بند کر کے نیچے آ گئیں اور بالکل معمول کے طریقے سے بات چیت اور ہنسی مزاق میں مشغول ہو گئی۔‘
پونم کے شوہر اور مقتولہ ویدھی کے والد چچاذاد بھائی ہیں۔
پانی پت کے پولیس سپرینٹنڈنٹ (ایس پی ) بھوپندر سنگھ نے پونم کی گرفتاری کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ خاتون نے پوچھ گچھ کے دوران اپنے خاندان کے مزید تین بچوں کے قتل کا اعتراف کیا ہے جن میں خود ان کا اپنا ایک بیٹا بھی شامل ہے۔
اس خبر کے بعد ملزمہ کے رشتے دار سکتے میں آ گئے ہیں۔

قتل کا سلسلہ کہاں سے شروع ہوا؟

ویدھی کے موت سے ایک بڑے راز سے پردہ اٹھا تو پتہ چلا ہے پونم نے سب سے پہلا قتل سونی پت کے بھاوڑ گاؤں میں 2023 میں اپنے ہی گھر میں کیا تھا۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں مبینہ طور پر پونم نے اپنی نو سالہ بھتیجی کو پانی کی ٹینکی میں ڈبو کر مار دیا تھا۔
پولیس کے مطابق ’کسی کو ان پر شک نہ ہو اس لیے انھوں نے خود اپنے تین سالہ بیٹے کو بھی اسی ٹینکی میں ڈبو کر قتل کر دیا تاکہ لوگ اسے محض ایک حادثہ سمجھیں۔‘
پونم نے اگست 2025 میں سیواہ گاؤں میں اپنی ماموں زاد بہن کی چھ سالہ بیٹی کو بھی اسی طرح پانی کی ٹینکی میں ڈبو کرقتل کیا تھا۔
پولیس کے مطابق ’ان تینوں وارداتوں کو رشتے داروں نے حادثہ سمجھ کر صبر کر لیا تھا۔ انھیں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہوا تھا اس لیے کوئی پولیس رپورٹ وغیرہ بھی نہیں درج کروائی گئی تھی۔‘

ایس پی بھوپیندر سنگھ نے بتایا کہ کڑی پوچھ گچھ کے دوران پونم نے معصوم بچیوں کے قتل کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ ’خوبصورت بچیوں سے اسے نفرت ہوتی ہے۔‘
انھوں نے پونم کے حوالے سے بتایا کہ ’وہ جیسے ہی کسی اچھی شکل کی لڑکی کو دیکھتی اسے یہ حسد ہونے لگتا تھا کہ بڑی ہو کر یہ اس سے زیادہ خوبصورت ہو جائے گی۔‘
’وہ چاہتی تھیں کہ ان کے خاندان میں کوئی دوسری لڑکی ان سے خوبصورت نہ ہو۔ حسد نے انھیں ایک نفسیاتی قاتل بنا دیا۔‘
’وہ ہر قتل سے پہلے بہت خاموش اور اکیلے رہتی‘

پولیس نے بتایا کہ 32 سالہ پونم ایک تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔
انھوں نے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا ہے اور ٹیچنگ کے لیے پیشہ وارانہ بی ایڈ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ تاہم وہ ملازمت نہیں کرتی تھی تھیں۔
انھوں نے 2019 میں شادی کی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش سے ملزمہ کی ایک ’سائیکو کلر‘ کی شبیہ ابھر رہی ہے۔
’انھوں نے یہ قتل اچانک نہیں کیے۔ بلکہ مبینہ طور پر قتل کی ان وارداتوں کو انجام دینے اور انھیں ایک حادثے کی شکل دینے کے لیے بہت سوچ سمجھ کر پلاننگ کی تھی۔‘
بعض قریبی رشتے داروں کا کہنا ہے کہ ’پونم قتل سے پہلے بہت خاموش اور اکیلے رہنے کی کوشش کرتیں۔‘

مقامی لوگوں نے بتایا ہے گذشتہ ہفتے ویدھی کے قتل کے بعد پونم معمول کی سرگرمیوں میں مشغول ہو گئیں اور شادی کے فنکشن میں معمول کی طرح حصہ لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ’اس برتاؤ سے بظاہر ایسا لگتا کہ قتل کے بعد ملزمہ کو کسی طرح کا کوئی احساس جرم یا افسوس نہیں ہوتا تھا۔‘
پولیس کے مطابق پونم نے اپنی بھتیجی کے قتل کو حادثے کا رنگ دینے کے لیے اپنے بیٹے کو بھی پانی میں ڈبو کر قتل کیا تھا۔
ایس پی بھوپندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’پونم نے جس طرح اور جس وجہ سے ان معصوم بچوں کا قتل کیا ہے اس سے یہ ایک سائیکو کلر کا کیس نظر آتا ہے۔‘
پولیس نے پونم کو جوڈیشل حراست میں لے لیا ہے اور ان سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
..کاپیڈ...

Address

Islamabad

Telephone

+923466088858

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Heart Cleanse posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Heart Cleanse:

Share